لائیو , آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر پھٹ گئے: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس کے شعبۂ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر مبینہ طور پر ’غیر مجاز راستے‘ سے گزر رہے تھے، جہاں وہ سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے اور دھماکوں کا شکار ہو گئے۔

لائیو کوریج

  1. روس اور یوکرین دعویٰ کہ ان کے ایمرجنسی وارننگ سسٹمز پر سائبر حملے کیے گئے

    گیٹی امیج

    روس اور یوکرین دونوں نے کہا ہے کہ ان کے ہنگامی انتباہی نظاموں کو سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    ماسکو میں روسی وزارتِ ہنگامی حالات نے کہا کہ اس کے الرٹ ایپ پر ہونے والا ’بڑے پیمانے کا سائبر حملہ‘ حملہ آوروں کو جعلی اطلاعات بھیجنے کے قابل بنا سکتا تھا۔ تاہم وزارت نے واضح کیا کہ عوامی انتباہی نظام معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔

    یہ پیش رفت اس واقعے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے جب یوکرین کی فضائی حملوں سے آگاہ کرنے والی ایپ نے ایک بظاہر ہیکنگ کے بعد غلط انتباہات جاری کر دیے تھے۔

    بی بی سی کے یوکرین رپورٹر عبدالجلیل عبدالرسولوف کے مطابق، یہ غلط انتباہات یوکرین کے محاذی علاقے خرسون میں مقامی جنگ بندی کے خاتمے سے صرف چند منٹ پہلے جاری کیے گئے تھے۔

    دونوں واقعات نے جنگ کے دوران سائبر سکیورٹی اور عوامی انتباہی نظاموں کی حفاظت کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے، کیونکہ ایسے حملے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور ہنگامی حالات میں غلط معلومات پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    جنگ بندی ختم ہونے سے چند منٹ پہلے جھوٹے انتباہات جاری

    یوکرین کے شہر اولیشکی، جو 2022 سے روسی قبضے میں ہے، میں جنگ بندی کے خاتمے سے صرف چند منٹ قبل جعلی انتباہی پیغامات جاری کیے گئے۔ یہ انتباہات ایک مبینہ سائبر حملے کے بعد سامنے آئے تھے۔

    چھ روزہ جنگ بندی کے دوران سینکڑوں افراد کو اولیشکی سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا موقع ملا۔ یہ معاہدہ امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ اور پوپ لیو چہاردہم کی مدد سے طے پایا تھا۔

    روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد یہ سب سے طویل جنگ بندی قرار دی جا رہی ہے۔

    تاہم امکان ہے کہ اولیشکی میں دوبارہ لڑائی شروع ہو جائے، کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں کہ انھوں نے جنگ بندی کے دوران اپنی محاذی پوزیشنوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔

    اس کے باوجود اس انسانی ہمدردی کے مشن نے کچھ امید بھی پیدا کی ہے۔

    کیئو کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ’مستقل حل‘ کی جانب لے جا سکتی ہے اور ’امن عمل میں مزید اقدامات کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔‘

    روس کی جانب سے اولیشکی آپریشن کی رابطہ کار یانا لانتراتوا نے کہا کہ دونوں ممالک ’باقاعدہ انسانی ہمدردی کے مشنز‘ جاری رکھنے پر متفق ہوئے ہیں۔

    تاہم روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان کے مطابق کریملن ایسے انسانی مشنز کو امن مذاکرات سے الگ معاملہ سمجھتا ہے۔

  2. خلیجی تعاون کونسل کی قطر کے گیس بردار جہاز پر حملے کی مذمت

    خلیجی تعاون کونسل (GCC) نے قطر کے مائع گیس بردار جہاز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’کشیدگی میں خطرناک اضافہ‘ قرار دیا ہے۔

    کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے ایک بیان میں کہا کہ ایسے حملے علاقائی استحکام اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے خطرہ ہیں۔

    قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعے کی شام گیس بردار جہاز المعیدہ خلیج فارس سے گزر رہا تھا جب اسے ایک ’نامعلوم شے‘ نے نشانہ بنایا۔

    البدیوی نے خبردار کیا کہ تیل اور گیس بردار جہازوں پر حملے عالمی توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ، منڈیوں میں عدم استحکام اور سمندری ماحول کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

  3. آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر پھٹ گئے: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس کے شعبۂ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر مبینہ طور پر ’غیر مجاز راستے‘ سے گزر رہے تھے، جہاں وہ سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے اور دھماکوں کا شکار ہو گئے۔

    بیان کے مطابق ان میں سے ایک جہاز ایک ’بہت بڑا آئل ٹینکر‘ تھا، جو شدید دھماکے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا اور جل رہا ہے۔

    سپاہ پاسداران نے اپنے سابقہ بیانات کی طرح ان جہازوں پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کر رکھے تھے اور وہ ’خفیہ طور پر‘ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے چند گھنٹے قبل ایک جہاز کو ایک ’نامعلوم پرتابی شے‘ کے نشانہ بننے کی اطلاع دی تھی۔

    عالمی بحری آمدورفت کی نگرانی کرنے والے ادارے وینگارڈ کے مطابق متاثرہ جہازوں میں سے ایک پاناما کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا۔ دھماکے اور آگ لگنے کے بعد اس کا کچھ حصہ پانی میں ڈوب گیا ہے۔

    دوسری جانب، حالیہ ہفتوں میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا رہے ہیں۔ امریکی فوج کا موقف ہے کہ ایران ان جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کر رہا ہے۔

  4. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • برطانیہ میں فارمیسیز کی نمائندہ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث بعض اہم ادویات کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس سے ادویات کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
    • پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان سرحدی پوسٹوں سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، جس کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد افغان سرحدی پوسٹوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔
    • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران مذاکرات اور سفارتی معاملات میں اپنی پہلے سے اعلان کردہ سات شرائط پر بدستور قائم ہے۔ واضح رہے کہ ایران کی امریکہ کے لیے سات شرائط میں پابندیوں کا خاتمہ، منجمد فنڈز کی رہائی اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی سمیت دیگر نکات شامل تھے۔
    • وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے آئل ریفائنریز کو ہدایت کی ہے کہ درآمدی قیمت اور ریفائنری کی سطح پر مقررہ قیمت کے درمیان فرق سرکاری خزانے میں جمع کرایا جائے، جبکہ اس سے حاصل ہونے والا مالی فائدہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کی صورت میں عوام کو منتقل کیا جائے گا۔
    • امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدوں اور سکیورٹی وعدوں کا پابند ہے اور آئندہ بھی ان پر عمل کرتا رہے گا، خاص طور پر دفاعی نوعیت کے وعدوں پر۔