روس اور یوکرین دعویٰ کہ ان کے ایمرجنسی وارننگ سسٹمز پر سائبر حملے کیے گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس اور یوکرین دونوں نے کہا ہے کہ ان کے ہنگامی انتباہی نظاموں کو سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ماسکو میں روسی وزارتِ ہنگامی حالات نے کہا کہ اس کے الرٹ ایپ پر ہونے والا ’بڑے پیمانے کا سائبر حملہ‘ حملہ آوروں کو جعلی اطلاعات بھیجنے کے قابل بنا سکتا تھا۔ تاہم وزارت نے واضح کیا کہ عوامی انتباہی نظام معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت اس واقعے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے جب یوکرین کی فضائی حملوں سے آگاہ کرنے والی ایپ نے ایک بظاہر ہیکنگ کے بعد غلط انتباہات جاری کر دیے تھے۔
بی بی سی کے یوکرین رپورٹر عبدالجلیل عبدالرسولوف کے مطابق، یہ غلط انتباہات یوکرین کے محاذی علاقے خرسون میں مقامی جنگ بندی کے خاتمے سے صرف چند منٹ پہلے جاری کیے گئے تھے۔
دونوں واقعات نے جنگ کے دوران سائبر سکیورٹی اور عوامی انتباہی نظاموں کی حفاظت کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے، کیونکہ ایسے حملے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور ہنگامی حالات میں غلط معلومات پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
جنگ بندی ختم ہونے سے چند منٹ پہلے جھوٹے انتباہات جاری
یوکرین کے شہر اولیشکی، جو 2022 سے روسی قبضے میں ہے، میں جنگ بندی کے خاتمے سے صرف چند منٹ قبل جعلی انتباہی پیغامات جاری کیے گئے۔ یہ انتباہات ایک مبینہ سائبر حملے کے بعد سامنے آئے تھے۔
چھ روزہ جنگ بندی کے دوران سینکڑوں افراد کو اولیشکی سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا موقع ملا۔ یہ معاہدہ امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ اور پوپ لیو چہاردہم کی مدد سے طے پایا تھا۔
روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد یہ سب سے طویل جنگ بندی قرار دی جا رہی ہے۔
تاہم امکان ہے کہ اولیشکی میں دوبارہ لڑائی شروع ہو جائے، کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں کہ انھوں نے جنگ بندی کے دوران اپنی محاذی پوزیشنوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔
اس کے باوجود اس انسانی ہمدردی کے مشن نے کچھ امید بھی پیدا کی ہے۔
کیئو کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ’مستقل حل‘ کی جانب لے جا سکتی ہے اور ’امن عمل میں مزید اقدامات کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔‘
روس کی جانب سے اولیشکی آپریشن کی رابطہ کار یانا لانتراتوا نے کہا کہ دونوں ممالک ’باقاعدہ انسانی ہمدردی کے مشنز‘ جاری رکھنے پر متفق ہوئے ہیں۔
تاہم روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان کے مطابق کریملن ایسے انسانی مشنز کو امن مذاکرات سے الگ معاملہ سمجھتا ہے۔

