لائیو , ترکی کی پارلیمنٹ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی: ’اس کا مقصد کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنا نہیں‘

ترکی کی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے مطابق یہ اتحاد مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنا نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ترکی کی حکومت نے 16 شق پر مبنی مکہ معاہدے کا متن 20 اکتوبر کو توثیق کے لیے پارلیمان میں جمع کروایا تھا۔

خلاصہ

  • اپنے موبائل فون یا ٹیبلٹ پر بی بی سی اردو تک براہِ راست رسائی کے لیے BBC WORLD SERVICE ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے BBC News اردو ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں
  • پاکستان میں پیٹرول 9.41 روپے اور ڈیزل 5.56 روپے فی لیٹر سستا کر دیا گیا
  • پاکپتن میں بس اور ٹرک میں تصادم، 11 افراد ہلاک، 33 زخمی
  • سعودی فوجی اتحاد کا مدینہ کی جانب داغا گیا میزائل مار گرانے کا دعویٰ، حوثیوں کی مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی تردید
  • ہفتے میں دوسری مرتبہ یورپی مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں، متعدد پروازوں کا رخ متبادل اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا

لائیو کوریج

  1. سعودی عرب نے وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ مسترد کر دی،’یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت موجود ہے‘

    Houthis and SA flags

    سعودی عرب نے وال سٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حوثیوں نے کارروائیاں روکنے کے بدلے 51 ارب ڈالر اور یمن میں اپنی حکمرانی کو تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سعودی عرب کے نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر رائد کریملی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنی پوسٹ میں ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’یاد رکھنا چاہیے کہ یمن کی ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت موجود ہے۔‘

    یاد رہے کہ وال سٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب سے اپنی کارروائیاں روکنے کے بدلے 51 ارب ڈالر اور یمن پر اپنی حکمرانی کو تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    رائد کریملی نے کہا کہ ’میں وال سٹریٹ جرنل میں شائع ان دعوؤں کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہوں۔ یہ سب یا تو لکھنے والوں کی یا ان کے مبینہ ذرائع کی من گھڑت کہانی ہے۔‘

    ان کے مطابق ’حوثیوں نے یمن کی حکومت کے خلاف بغاوت کی، یمنی عوام کو قحط اور مشکلات سے دوچار کیا اور ملک کو ایسے تنازعات میں دھکیل دیا جو یمن اور اس کے عوام کے مفاد میں نہیں۔‘

    رائد کریملی کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں، شہری تنصیبات اور معاشی اہداف کو نشانہ بنایا اور امن کی تمام کوششوں کو مسترد کیا۔

  2. وائٹ ہاؤس کی پیٹ ہیگستھ اور مارکو روبیو کے عہدے چھوڑنے سے متعلق خبروں کی تردید

    Pics

    وائٹ ہاؤس نے انتخابی شکست کے بعد امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے عہدے چھوڑے جانے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق پیٹ ہیگستھ کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں، خاص طور پر ایران کی جنگ سے نمٹنے کے ان کے کردار پر تنقید کی جا رہی ہے۔

    بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی کارکردگی کو متاثر کیا۔

    کانگریس سے رخصت ہونے والے ایک ریپبلکن رکن نے کہا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر اگلے ہفتے ہی ہیگستھ کے مواخذے کے لیے ووٹنگ کی کوشش کریں گے۔

    اس تنقید کے جواب میں ہیگستھ نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے اپنی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ مجھ پر اور ہم سب پر وار اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہم مؤثر ہیں۔ تاہم یہ کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

    دوسری جانب مارکو روبیو نے بھی اپنے ایک بیان میں ان خبروں کو مسترد کیا ہے کہ وہ 2028 کے صدارتی انتخاب کی تیاری کے لیے اپنا عہدہ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔

    نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں روبیو نے کہا کہ ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک ان کے ساتھ کام کرنا ’ہمیشہ سے میرا منصوبہ‘ رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے اپنا کام پسند ہے۔ جب لوگ کہتے ہیں کہ وہ ملازمت چھوڑنے والے ہیں تو میں پوچھتا ہوں: کون سی ملازمت؟‘

    وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمۂ خارجہ نے بھی ان خبروں کو مسترد کیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی ناکامی کے بعد روبیو مستعفی ہو سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس دونوں نے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکستوں کا ذمہ دار ایران کی جنگ کو قرار دیا ہے۔

    اے بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انھیں ہیگستھ کے بارے میں شکایات موصول ہوئی ہیں، تاہم ان کا انھیں عہدے پر برقرار رکھنے کا ارادہ ہے۔

    بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’پیٹ ہیگستھ نے شاندار کام کیا ہے۔‘

    انھوں نے ہیگستھ کی جن کامیابیوں کا ذکر کیا ان میں وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی جنوری میں گرفتاری اور ایران کی جنگ شامل تھی، جو اب اپنے نویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔

  3. ترکی کی پارلیمنٹ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی

    pic
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ترکی کی پارلیمان نے سعودی عرب اور پاکستان پر مشتمل مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔

    ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین فواد اوکتائے نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ اتحاد مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنا نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان یہ ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے۔

    ترک خبر رساں ادارے کے مطابق اس اقدام کے بعد یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے تناظر میں انقرہ کے لیے ریاض کو فوجی معاونت فراہم کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    جمعے کی صبح ترک ارکانِ پارلیمان کی منظوری کے بعد نافذ ہونے والے اس معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    600 رکنی پارلیمان میں یہ معاہدہ 119 کے مقابلے میں 279 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔

    یہ معاہدہ سات اگست کو سعودی عرب کے شہر مکہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، صدر رجب طیب اردوغان اور پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دستخط کر کے طے کیا تھا۔

    معاہدے میں اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے، دفاعی تعاون کو فروغ دینے اور خطے سمیت دنیا میں امن و استحکام کے قیام کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔

    ترک پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین فواد اوکتائے نے اس موقع پر واصح کیا کہ ’ترکی کو اس کی مرضی کے خلاف کسی غیر متوقع عمل کا حصہ نہیں بنایا جائے گا جبکہ مستقبل میں فوجی دستوں کی تعیناتی صرف پارلیمان کی منظوری سے ہی ممکن ہو گی۔

    اس اتحاد میں شامل ممالک کے وزرا اب تک دو بار، ایک مرتبہ استنبول اور ایک مرتبہ ریاض میں، ملاقات کر چکے ہیں۔

    گزشتہ ماہ تینوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے تہران میں بھی مذاکرات کیے تھے تاکہ ایران کے خلاف امریکی جنگ کے تناظر میں دوبارہ لڑائی کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔

    معاہدے کے مطابق اتحاد کا سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم ہو گا۔ ریٹائرڈ پاکستانی جنرل نعمان محمود کو اس کا پہلا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا ہے۔ وہ ممکنہ طور پر تین سال کی مدت کے لیے اس عہدے پر خدمات انجام دیں گے۔

    یہ معاہدہ فریقین کو 10 سال کے لیے پابند بناتا ہے، جس کے بعد کسی بھی رکن کو اس سے علیحدگی اختیار کرنے کے لیے تین ماہ قبل نوٹس دینا ہو گا۔

  4. اہم علاقائی معاملات پر پوتن سے مشاورت کی گئی: محسن رضائی

    pic

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ماسکو کے اپنے حالیہ دورے کے دوران انھوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ اہم علاقائی معاملات، جنگ کے بعد کی صورتحال اور خطے کے سکیورٹی انتظامات پر تبادلہ خیال کیا۔

    اس سے قبل ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ محسن رضائی نے ماسکو میں ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے دوران ایران کے رہبر مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام بھی روسی صدر تک پہنچایا۔

    خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق محسن رضائی نے ملاقات کے بعد کہا کہ روسی صدر کے ساتھ اہم علاقائی امور، جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور خطے کے سکیورٹی انتظامات پر گفتگو اور مشاورت کی گئی۔

    مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام پوتن تک پہنچانے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ایران کے رہبر چاہتے تھے کہ یہ پیغام جلد از جلد روسی صدر تک پہنچ جائے۔

    محسن رضائی نے یہ بھی بتایا کہ ملاقات میں روس سے ایران تک گیس پائپ لائنوں کی تعمیر پر بات چیت ہوئی تاکہ ایک طرف ایران اپنی گیس کی کمی پوری کر سکے اور دوسری جانب روسی گیس کو پڑوسی ممالک کو فروخت کیا جا سکے۔

    یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب دونوں رہنماؤں نے پیر کے روز ٹیلیفون پر بھی علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

  5. پاکپتن میں بس اور ٹرک میں تصادم، 11 افراد ہلاک، 33 زخمی

    accident

    پنجاب کے علاقے پاکپتن کے قریب دیپالپور روڈ پر ایک مسافر بس اور ٹرک کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک جبکہ 33 زخمی ہو گئے ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق حادثہ جمعرات کی شام پیش آیا اور اطلاع موصول ہونے کا وقت شام چھ بج کر 38 منٹ تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجہ ایک موٹرسائیکل کو اوورٹیک کرتے ہوئے بس کی تیز رفتار تھی۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق آٹھ افراد کو معمولی زخم آئے، جبکہ 25 زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال پاکپتن منتقل کیا گیا۔

  6. پیٹرول 9.41 روپے اور ڈیزل 5.56 روپے فی لیٹر سستا کر دیا گیا

    Petrol stations

    اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں نو روپے 41 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 352 روپے 59 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    اسی طرح ہائی سپیڈ ڈیزل پانچ روپے 56 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 382 روپے 25 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

  7. اہم خبروں کی جھلکیوں پر ایک نظر

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم جمعےکے روز خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے قبل گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جاری تنازع میں ایران کے ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔
    • پاکستان کے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کراچی میں سائبر کرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائیوں کے دوران 100 سے زائد خواتین سمیت 275 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
    • پاکستان کے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے جاری کردی احکامات کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔
    • پاکپتن کے قریب دیپالپور روڈ پر ایک مسافر بس اور ٹرک کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک جبکہ 33 زخمی ہو گئے ہیں۔
    • روم کے ہوائی اڈوں کا انتظام چلانے والے ادارے ایروپورتی دی روما کے مطابق آج صبح روم آنے والی دو پروازوں کے خلاف موصول ہونے والی جھوٹی بم دھمکی ای میل کے ذریعے بھیجی گئی تھی، جس کی سبجیکٹ لائن ’تھریٹ نوٹیفکیشن‘ تھی۔ یاد رہے کہ ہفتے میں دوسری مرتبہ یورپی مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کے بعد متعدد پروازوں کا رخ متبادل اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔
    • عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے خبر دی ہے کہ ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا ہے۔
    • فرانس میں پانچ ٹریڈ یونینز کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کے اعلان کے بعد احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل فرانس میں ہائی سکول کے طلبہ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تنقید کرنے والے دیگر افراد بھی مظاہرے کر رہے ہیں۔
  8. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں آپ سب کو خوش آمدید!

    اس صفحے پر ہم آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے تازہ ترین خبریں اور اہم تجزیے پیش کرتے ہیں۔

    اگر آپ 05 نومبر کی خبروں کو پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔