’اسی لیے پاکستان خوشی کے انڈیکس میں اُوپر ہے‘: ہانگ کانگ سکسز میں انڈیا کو ہرانے پر شہباز شریف کی ’پُر جوش مبارکباد‘ طنز و مزاح کی زد میں

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ کا مقابلہ اپنی سنسنی اور سخت رقابت کے لیے پہچانا جاتا ہے۔ لیکن دونوں ٹیموں کے درمیان حالیہ میچ ایک بالکل مختلف ماحول میں کھیلا گیا۔

یہ مقابلہ ہانگ کانگ سکسز 2026 میں ہوا، جو آئی سی سی کے بڑے ٹورنامنٹس کے بجائے چھ، چھ کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیموں کے درمیان کھیلا جانے والا ایک خصوصی مقابلہ ہے۔

پاکستان نے جمعے کو مونگ کوک کے مشن روڈ گراؤنڈ میں انڈہا کو چار وکٹوں سے شکست دی۔

تاہم یہ نتیجہ بین الاقوامی کرکٹ کی اعلیٰ ترین سطح پر دونوں ٹیموں کے درمیان ہونے والے معمول کے مقابلوں سے کافی مختلف تھا۔

پاکستان کی اس فتح پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جوش و خروش کے ساتھ ردِعمل دیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹیم کو مبارک باد دی۔

شہباز شریف نے ایکس پر لکھا: ’ہانگ کانگ سکسز 2026 کے پہلے مقابلے میں انڈیا کے خلاف شاندار چار وکٹوں سے فتح پر ہمارے کھلاڑیوں کو مبارک باد! یہ کرکٹ کا ایک اچھا مقابلہ تھا۔‘

اور تو اور انھوں نے اُنھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کی کوششوں کا بھی شکریہ ادا کر ڈالا۔

شہباز شریف نے کھلاڑیوں کی تیاری اور اس کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

تاہم، وزیرِ اعظم کی جانب سے بظاہر ایک غیر اہم فتح پر عوامی سطح پر جشن منانا سب کو پسند نہیں آیا۔

کرکٹ شائقین نے انھیں یاد دلانے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا کہ یہ صرف ہانگ کانگ سکسز تھا، ورلڈ کپ نہیں۔

یہ ٹورنامنٹ ہے کیا ؟

ہانگ کانگ سکسز کرکٹ کا ایک منفرد، مختصر اور انتہائی تیز رفتار ٹورنامنٹ ہے، جس میں روایتی کرکٹ کی طرح 11 نہیں بلکہ صرف 6 کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔

اس ٹورنامنٹ کا انعقاد ہانگ کانگ میں کیا جاتا ہے اور اسے کرکٹ ہانگ کانگ کے زیر انتظام کھیلا جاتا ہے جو کرکٹ کا سرکاری انتظامی ادارہ ہے۔

اس ٹورنامنٹ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کی منظوری بھی حاصل ہے۔

اس فارمیٹ میں ہر ٹیم کو صرف 6 اوورز کھیلنے کا موقع ملتا ہے، جس کی وجہ سے کھیل نہایت تیز رفتار اور سنسنی خیز ہوتا ہے۔ بلے باز شروع سے ہی جارحانہ انداز اپناتے ہیں اور چھکوں چوکوں کی بھرمار دیکھنے کو ملتی ہے۔ اکثر ٹیمیں صرف 6 اوورز میں 100 یا اس سے زیادہ رنز بنا لیتی ہیں۔

اس ٹورنامنٹ کے قوانین بھی عام کرکٹ سے مختلف ہیں۔ اگر کوئی بلے باز 50 رنز بنا لے تو اسے ریٹائر ہونا پڑتا ہے، جبکہ ہر فیلڈر کو وکٹ کیپر کے علاوہ کم از کم ایک اوور کرانا ہوتا ہے۔ اس فارمیٹ کا مقصد کھیل کو زیادہ تیز، دلچسپ اور شائقین کے لیے پرجوش بنانا ہے

ہانگ کانگ سکسز کا آغاز 1992 میں ہوا تھا اور اس میں پاکستان، انڈیا، آسٹریلیا، انگلینڈ، جنوبی افریقہ اور سری لنکا سمیت کئی بڑی کرکٹ ٹیمیں شرکت کر چکی ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ چند سال کے وقفے کے بعد 2024 میں دوبارہ شروع ہوا اور اب بھی کرکٹ کے منفرد اور تفریحی مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

سادہ الفاظ میں، ہانگ کانگ سکسز کرکٹ کا ایک مختصر اور انتہائی جارحانہ فارمیٹ ہے، جہاں ہر گیند اہم ہوتی ہے اور شائقین کو کم وقت میں بھرپور تفریح دیکھنے کو ملتی ہے۔

شہباز شریف کی پوسٹ پر کرکٹ شائقین کے طنزیہ ردِعمل

دلچسپ ترین ردِعمل میں سے ایک سابق انڈین کرکٹر اجے جڈیجا کے پیروڈی اکاؤنٹ کی جانب سے آیا۔

اس اکاؤنٹ نے طنزیہ انداز میں پاکستان کو مبینہ ’ہانگ کانگ سکسز ورلڈ کپ‘ جیتنے پر مبارک باد دی۔

پیروڈی اکاؤنٹ نے لکھا: ’انڈیا کے خلاف ہانگ کانگ سکسز ورلڈ کپ کا مقابلہ جیتنے پر مبارک باد۔ اب فتح کی پریڈ کا وقت ہے۔‘

سینئر سپورٹس صحافی وکرانت گپتا بھی شہباز شریف کی پوسٹ دیکھ کر حیران رہ گئے۔

اُنھوں نے سوالیہ انداز میں لکھا کہ ’کیا واقعی؟‘

ایک افغان صارف اجمل زدران نے لکھا: ’ایک وقت ایسا آئے گا جب یہ ٹاس جیتنے پر بھی ٹویٹ کریں گے۔‘

ایک پاکستانی صارف نے بھی شہباز شریف کی مبارک باد پر طنز کیا۔

لاہوری گائے نامی صارف نے لکھا: ’براہِ کرم ہمیں شرمندہ کرنا بند کریں۔‘

اُنھوں نے لکھا کہ ’گذشتہ پانچ سال میں آئی سی سی کے ہر مقابلے میں انڈیا کے خلاف پاکستان کو بری طرح شکست ہوئی ہے اور اب ہانگ کانگ سکسز کی ایسی فتح کا جشن منا رہے ہیں جس کی کوئی اہمیت نہیں۔‘

خیال رہے کہ ون ڈے اور ٹی 20 ورلڈ کپ مقابلوں میں انڈیا کا پاکستان کے خلاف ریکارڈ مضبوط رہا ہے۔ ون ڈے ورلڈ کپ میں انڈیا نے پاکستان کو آٹھ مرتبہ شکست دی ہے جبکہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچز میں بھی انڈیا نے آٹھ مرتبہ پاکستان کو شکست دی۔

پاکستان کو واحد کامیابی سنہ 2021 کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں ملی تھی، جب بابر اعظم کی قیادت میں پاکستان کی ٹیم نے دبئی میں انڈیا کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی۔

سپورٹس صحافی گورو کالرا نے بھی اس پر ردِعمل دیا۔

اُنھوں نے اس ردِعمل کا موازنہ پیرس اولمپکس 2024 میں نیرج چوپڑا سے آگے نکل کر پاکستان کے ارشد ندیم کے گولڈ میڈل جیتنے کے وقت آنے والے ردِعمل سے کیا۔

کالرا نے لکھا: ’بہت بڑا۔ اتنا ہی بڑا جتنا ارشد کا نیرج کو ہرا کر اولمپک گولڈ جیتنا۔ شاید اس سے بھی بڑا۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہم سب کسی سیمولیشن میں جی رہے ہیں۔‘

کشمیری کے نام سے ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہیپینیس انڈیکس‘ میں اُوپر آتا ہے، جب آپ خوش فہمی کی اس حد تک پہنچ جائیں تو معمولی کارکردگی بھی ورلڈ کپ جیسی لگتی ہے۔ ‘

ایک اور صحافی بھرت رام راج نے وزیرِ اعظم کی جانب سے اس فتح کا جشن منانے پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا: ’ایک وزیرِ اعظم ہانگ کانگ سکسز کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘

کھیلوں کے اعداد و شمار پر کام کرنے والے صحافی عظیم صدیقی نے لکھا: ’کسی کو وزیرِ اعظم شہباز شریف کو بتانا چاہیے کہ ہانگ کانگ سپر سکسز کوئی سنجیدہ ٹورنامنٹ نہیں ہے۔ براہِ کرم ٹیم کو مبارک باد دینا بند کریں۔‘

آخر میں ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں تصدیق کی کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم کی پوسٹ کوئی پیروڈی نہیں تھی۔

اُنھوں نے لکھا: ’نہیں، یہ کوئی پیروڈی اکاؤنٹ نہیں ہے۔‘

ورون کمار رانا نامی صارف نے لکھا کہ ’مجھے تو گوگل کرنا پڑا کہ دیکھوں کہ یہ ہانگ کانگ سکسز ہوتا کیا ہے؟ یہ تو بہت بڑی کامیابی ہے، آپ اس خوشی میں ایک ہفتے کی تعطیلات کا بھی اعلان کر دیں۔‘

انڈیا کی کارکردگی

ہانگ کانگ سکسز کپ کے سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے انڈیا کو اپنے گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا ہوگی۔

گروپ مرحلے میں انڈیا کا ایک میچ سنیچر 31 اکتوبر کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے خلاف باقی ہے۔

یو اے ای پہلے ہی پاکستان کو ایک وکٹ سے شکست دے چکا ہے، جبکہ پاکستان نے اس شکست کے بعد واپسی کرتے ہوئے انڈیا کو چار وکٹوں سے ہرایا۔

اسی وجہ سے گروپ سی میں تینوں ٹیمیں مختلف پوزیشنز حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

یو اے ای کے خلاف فتح کی صورت میں انڈیا کو دو پوائنٹس ملیں گے اور تینوں ٹیمیں پوائنٹس کے اعتبار سے برابر ہو جائیں گی۔