6.3 ارب ڈالر کی ’تاریخی‘ کرپٹو ہیکنگ: بائنانس کے والٹ سے کھربوں روپے کے اثاثے کیسے چوری ہوئے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, آسمونڈ چیا، انگس تھامسن
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
کرپٹو کرنسی کی بڑی کمپنی بائنانس نے جمعرات کو کہا ہے کہ 6.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے ایک ایسے سائبر حملے سے متاثر ہوئے ہیں جو ممکنہ طور پر تاریخ کا سب سے بڑا کرپٹو ہیک ہو سکتا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج نے بتایا کہ متاثرہ اثاثوں میں سے تقریباً نصف کو دیگر پلیٹ فارمز کے تعاون سے منجمد کر دیا گیا ہے، جبکہ کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ’تمام نقصانات کا ازالہ کرے گی۔‘
بائنانس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر کمپنی کے ایک انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں حملہ آور کو غیر مجاز طور پر رقوم منتقل کرنے کا موقع ملا۔
دو کرپٹو تجزیاتی اداروں نے اس حملے کا تعلق شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر سے جوڑا ہے۔ یہ حملہ 2025 میں بائی بٹ ایکسچینج سے 1.5 ارب ڈالر کی کرپٹو چوری کے ریکارڈ سے بھی بڑا بتایا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیقاتی کمپنی ٹی آر ایم لیبز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بائنانس پر حملے کی کئی خصوصیات ماضی کے شمالی کوریا سے منسلک سائبر حملوں، بشمول بائی بٹ ہیک، سے مشابہت رکھتی ہیں۔
ٹی آر ایم لیبز کے عالمی سربراہ برائے پالیسی ایری ریڈبورڈ نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ بائنانس پر حملہ ’ایک اہم موڑ‘ ہے اور اس نوعیت کا واقعہ ماضی میں کرپٹو صنعت نے نہیں دیکھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آری ریڈبورڈ نے مزید کہا کہ حملہ آور کے پاس اب بھی چوری کیے گئے اثاثوں کی ایک بہت بڑی مقدار موجود ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان رقوم کا سراغ لگانے اور انھیں واپس حاصل کرنے کی کوششیں ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔
2017 میں چین میں قائم کی جانے والی بائنانس صارفین کو ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت کی سہولت فراہم کرتی ہے، اور اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں اس کے رجسٹرڈ صارفین کی تعداد 30 کروڑ سے زیادہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمپنی نے 2024 میں کہا تھا کہ اس کے پاس 160 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے اثاثے موجود ہیں۔
یہ ایکسچینج دنیا بھر میں ریگولیٹری جانچ پڑتال کی زد میں بھی رہی ہے۔
کرپٹو تجزیاتی کمپنی چین اینالیسس نے بھی کہا ہے کہ اسے ’بھرپور یقین‘ ہے کہ اس ہیکنگ کے پیچھے شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والا گروہ ملوث ہے۔
گذشتہ چند برسوں کے دوران شمالی کوریا سے منسلک عناصر نے بڑی مقدار میں ڈیجیٹل ٹوکن چرانے کے لیے کرپٹو کرنسی کمپنیوں کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔
مغربی سکیورٹی ادارے اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ چوری کی گئی رقوم شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں اور میزائل پروگراموں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
شمالی کوریا کی حکومت ماضی میں ہیکنگ کے واقعات میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کرتی رہی ہے۔
چین اینالیسس کے سربراہ برائے تحقیق ایرک جارڈین نے تمام کرپٹو ایکسچینجز کو چوکس رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پلیٹ فارمز پر موجود اثاثوں کی بھاری مالیت انھیں ہیکرز کے لیے انتہائی پرکشش ہدف بناتی ہے۔
بائنانس نے بی بی سی کے ان سوالات کا براہ راست جواب نہیں دیا جن میں حملے کے شمالی کوریا سے ممکنہ تعلق کے بارے میں پوچھا گیا تھا، تاہم کمپنی نے کہا ’ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں تاکہ ان مجرموں کی شناخت کی تصدیق کی جا سکے اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔‘
یہ واقعہ بائنانس ڈاٹ کام سے متعلق ہے، جبکہ نسبتاً چھوٹے پلیٹ فارم بائنانس ڈاٹ یو ایس نے کہا ہے کہ امریکی صارفین کو خدمات فراہم کرنے والا اس کا پلیٹ فارم اس حملے سے متاثر نہیں ہوا۔

بائنانس کے شریک چیف ایگزیکٹو افسر رچرڈ ٹینگ نے کہا ہے کہ کمپنی کی ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیکنگ کا آغاز ایک انجینیئر کے متاثرہ لیپ ٹاپ سے ہوا تھا۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں حملہ آور کو ایک سروس کنٹینر تک رسائی حاصل ہو گئی، جہاں سے اس نے غیر مجاز رقوم نکالنے کی منظوری دی۔
تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ’حملہ آور نے محض ایک انجینیئر کی اجازتوں کا استعمال نہیں کیا تھا اور نہ ہی یہ کوئی ایک کلک سے انجام پانے والی کارروائی تھی۔ اس میں حملے کا کہیں زیادہ پیچیدہ طریقۂ کار شامل تھا۔ ہماری تحقیقات میں اب تک کسی ایک فرد کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا ہے۔ اب تک ہمیں کسی بھی والٹ کی ’پرائیوٹ کی‘ کے افشا ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بعد ازاں کمپنی کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے ایک اور بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ سکیورٹی بریچ میں صرف ایک جگہ سے نہیں ہوا۔ ’ہم اب بھی حقائق جمع کر رہے ہیں اور جیسے ہی مزید معلومات حاصل ہوں گی، انھیں براہِ راست شیئر کیا جائے گا۔‘
چیک پوائنٹ کے جیانت ڈیو کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ستمبر میں کرپٹو ایکسچینج پلیٹ فارم بٹ گیٹ پر ہونے والی ہیکنگ سے بھی مشابہت رکھتا ہے، جس میں 388 ملین ڈالر (289 ملین پاؤنڈ) کا نقصان ہوا تھا۔ ان کے مطابق، ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کو اب والٹ کی کیز تک رسائی کی ضرورت نہیں رہی۔ وہ ان نظاموں اور افراد کو نشانہ بناتے ہیں جن کے پاس ان کیز کو استعمال کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔‘
بائنانس کی شریک چیف ایگزیکٹو یی ہی نے متعدد پوسٹس میں مختلف کرپٹو کرنسی جاری کرنے والے اداروں کا اثاثے منجمد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے کہا ’تحفظ اولین ترجیح ہے، اس لیے رقوم نکلوانے کی سہولت فی الحال اس وقت تک معطل رہے گی جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ نظام محفوظ ہے۔‘
کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں بتایا ہے کہ بلاک چین کے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر متاثرہ اثاثوں کو منجمد کرنے کے لیے کام کیا ہے، اور چوری شدہ اثاثوں میں سے اب تک تقریباً تین ارب ڈالر مالیت کے اثاثے بلاک چین پر منجمد کیے جا چکے ہیں۔
بائنینس نے ایکس پر جاری ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے ’صارفین کے متاثرہ اثاثوں کی ریکوری کا عمل شروع کر دیا ہے۔‘
کمپنی کا مزید کہنا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر ’مزید رقوم کا سراغ لگانے، انھیں منجمد کرنے اور واپس حاصل کرنے‘ کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
بائیننس کے مطابق اس نے پہلے ہی چوری شدہ رقم کے ازالے کے لیے 6.3 ارب ڈالر (4.7 ارب پاؤنڈ) سے زیادہ رقم مختص کر دی ہے۔
کرپٹو کے دو دیگر بڑے پلیٹ فارمز، ٹیتھر اور سرکل، نے کہا کہ انھوں نے بائنانس پر ممکنہ ہیکنگ کے ردِعمل میں مجموعی طور پر تقریباً 2.4 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان سے منسلک ایک کرپٹو کمپنی ہے، نے کہا کہ اس نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر چوری شدہ رقوم منجمد کرنے کے لیے کام کیا ہے۔
کرپٹو ایکسچینج کوائن بیس نے کہا کہ وہ اس واقعے سے متاثر نہیں ہوئی اور صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
بائنانس کی جانب سے سکیورٹی مسئلے کی تصدیق کیے جانے سے کئی گھنٹے قبل ہی کرپٹو صنعت کے متعدد مبصرین نے ممکنہ ہیکنگ کے بارے میں خدشات ظاہر کیے تھے۔




















