وہ غذائیں جو بڑھتی عمر کے باوجود آپ کی جِلد کو جوان رکھتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images/ BBC
- مصنف, میلیسا ہوگنبوم
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
جلد ہمارے جسم کا سب سے بڑا عضو ہے اور اسے زندگی بھر ہمارا ساتھ دینا ہوتا ہے۔ جلد کی اچھی دیکھ بھال نہ صرف ہمیں جوان اور تروتازہ نظر آنے میں مدد دیتی ہے بلکہ یہ ہماری مجموعی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔
جِلد ہمارے جسم اور جس ماحول میں ہم رہتے ہیں، اس کے درمیان ایک حفاظتی دیوار بھی ہے۔ اور اسی لیے اسے مختلف عوامل سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔
’لیبنز ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار انوائرنمنٹل میڈیسن‘ میں جلد کے امراض کے پروفیسر ژاں کروٹمین کے مطابق ’فضائی آلودگی اور بدلتا ہوا موسم بھی جلد کی ساخت کو ترتیب دینے میں کردار ادا کرتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’کئی دہائیوں تک ہم سمجھتے رہے کہ سورج سے نکلنے والی الٹرا وائلٹ (یو وی) شعاعیں ہماری جلد کی ظاہری حالت بدلنے عمر بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ ہیں، لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔‘
تاہم، پروفیسر کروٹمین کے مطابق سورج کی روشنی میں موجود دوسری شعاعیں جلد کو منفی انداز میں متاثر کر سکتی ہیں۔ ان میں انفراریڈ شعاعیں بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’درجہ حرارت میں اضافہ بھی جلد پر منفی اثر ڈالتا ہے۔‘
انسانی عمر کا بڑھنا بھی جلد میں تبدیلیوں کی ایک اہم وجہ ہے۔ کسی انسان کی عمر بڑھنے کے ساتھ جلد میں کولیجن نامی پروٹین کی مقدار بتدریج کم ہونے لگتی ہے۔ کولیجن نامی یہی پروٹین جلد کو ساخت فراہم دیتا ہے، اسے مضبوط بناتا ہے اور جھریاں پڑنے اور ڈھلکنے سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔
لیکن جلد کو صحتمند اور بہتر حالت میں رکھنے کے ایک اہم پہلو پر اکثر توجہ نہیں دی جاتی اور وہ ہے ہماری خوراک۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صحت مند چکنائیوں سے لے کر خمیر شدہ غذاؤں تک، بعض کھانے جلد کی صحت برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تو اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی جلد زیادہ عرصے تک صحت مند، تروتازہ اور شاداب نظر آئے، تو یہ جاننا اہم ہے کہ آپ کی خوراک اس میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔
1۔ رنگ برنگے پھل اور سبزیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
متعدد تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ پودوں سے حاصل ہونے والی غذاؤں سے بھرپور خوراک جلد کو صحتمند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
رنگ برنگے پھل اور سبزیاں کھانے کی کوشش کریں، کیونکہ اُن میں ایسے طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو جلد کو فضائی آلودگی اور سورج کی روشنی سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔
گاجر، شملہ مرچ اور ٹماٹر میں کیروٹینائڈز نامی اجزا وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں لیوٹین، لائیکوپین اور بیٹا کیروٹین بھی شامل ہیں۔
جرمنی کی فریڈرک شِلر یونیورسٹی جینا میں غذائیت کے پروفیسر وولکر بوم کے مطابق ’یہ اجزا جسم کی چربی والے بافتوں میں جمع ہوتے ہیں اور جلد کو الٹرا وائلٹ (یو وی) شعاعوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’دھوپ سے بچانے والی کریم (سن سکرین) کا استعمال اب بھی اہم ہے، لیکن لوگ عموماً اسے اس وقت لگاتے ہیں جب انھیں طویل وقت باہر دھوپ میں گزارنا ہو، نہ کہ ہر روز۔ اس کے برعکس، کیروٹینائڈز سے بھرپور غذائیں باقاعدگی سے کھانے سے سال بھر جلد کو یو وی شعاعوں کے خلاف ایک بنیادی سطح کا تحفظ ملتا رہتا ہے۔‘
ٹماٹر یا گاجر کے ساتھ زیتون کے تیل جیسی صحتمند چکنائی کی تھوڑی سی مقدار شامل کرنے سے جسم کو ان غذاؤں میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جذب کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
بیٹا کیروٹین جسم میں وٹامن اے میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہ وٹامن جلد کے خلیوں کی نشوونما اور جلد کو انفیکشن سے بچانے کے لیے اہم ہے۔
کیروٹینائڈز جلد کے خلیوں کو ہائیلورونک ایسڈ بنانے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔ یہ مادہ جلد کی مضبوطی اور لچک برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اسی لیے بہت سی موئسچرائزر اور عمر کے اثرات کم کرنے والی کریموں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
یہی رنگ دار اجزا کولیجن کی مقدار بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی تحقیق میں ایسی خواتین کی جلد میں کولیجن اور ایلاسٹن کی مقدار بہتر دیکھی گئی جنھوں نے دس ماہ تک روزانہ کیروٹینائڈز کے سپلیمنٹ استعمال کیے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ اجزا کولیجن کو ٹوٹ پھوٹ سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، رنگ برنگے پھل اور سبزیاں زیادہ کھانے سے جلد کی رنگت اور مجموعی ظاہری کیفیت بھی بہتر نظر آ سکتی ہے، جس سے جلد پر صحتمند چمک دکھائی دیتی ہے۔
تاہم، ان فوائد کے لیے ان غذاؤں کو مستقل بنیادوں پر کھانا ضروری ہے۔
پروفیسر ژاں کروٹمین کے مطابق ’کسی بھی اینٹی آکسیڈنٹ سے ماحول کے مضر اثرات کے خلاف قابلِ پیمائش تحفظ حاصل کرنے میں عموماً آٹھ سے دس ہفتے لگتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آم جیسے پھل کو عمر بڑھنے کے باوجود جلد کو جوان دکھائی دینے میں مددگار پایا گیا ہے۔
کیلیفورنیا یونیورسٹی ڈیوس کی محقق ویوین فام کی سربراہی میں سنِ یاس سے گزرنے والی خواتین پر ایک تحقیق کی گئی۔ اس میں شامل خواتین نے 16 ہفتوں تک ہفتے میں چار مرتبہ 85 گرام آم کھائے۔
محققین نے پایا کہ اس معمول سے جلد پر پہلے سے موجود جھریوں کا حجم کم ہوا، جبکہ نئی جھریوں کی تعداد میں بھی کمی آئی۔
اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم محققین کا خیال ہے کہ آم کے یہ فوائد اس میں موجود کیروٹینائڈز کے علاوہ فلیوونائڈز اور مینگیفیرن نامی اینٹی آکسیڈنٹس کی وجہ سے ہو سکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ روزانہ تقریباً 250 گرام آم کھانے سے جھریوں میں اضافہ ہوا۔
اس تحقیق کے شریک مصنف اور کیلیفورنیا یونیورسٹی ڈیوس میں غذائیت کے پروفیسر رابرٹ ہیکمین کہتے ہیں کہ اس کی وجہ واضح نہیں، تاہم ممکن ہے کہ آم میں قدرتی شکر کی زیادہ مقدار اس کا سبب ہو۔
ہیکمین کے مطابق ’اگرچہ یہ تحقیق محدود پیمانے پر کی گئی تھی، لیکن بعد میں کی گئی ایک اور تحقیق میں بھی یہی نتائج سامنے آئے۔ تاہم، اس دوسری تحقیق کے نتائج ابھی شائع نہیں ہوئے۔‘
آم اور ترش پھلوں میں وٹامن سی بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یہ وٹامن جسم میں کولیجن بنانے میں مدد دیتا ہے اور اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر بھی کام کرتا ہے، جو جلد کو دھوپ سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔
تحقیقات سے اشارہ ملتا ہے کہ وٹامن سی جلد میں نمی برقرار رکھنے اور اس کی رنگت میں غیر یکسانیت کم کرنے میں بھی مددگار ہو سکتا ہے۔ پروفیسر ژاں کروٹمین کے مطابق ’اسی وجہ سے وٹامن سی جلد کی دیکھ بھال کی مصنوعات اور غذائی سپلیمنٹس میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔‘
2۔ صحتمند چکنائیاں
مغزیات اور بیجوں کا زیادہ استعمال جلد کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
ایک محدود پیمانے پر کی گئی تحقیق میں شرکا کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروہ نے 16 ہفتوں تک ہلکی بھوک مٹانے کے لیے بادام کھائے، جبکہ دوسرے گروہ نے اس کے بجائے کوئی اور چیز کھائی۔ تحقیق کے نتائج سے پتا چلا کہ بادام کھانے والے افراد کی جلد پر جھریاں نسبتاً کم نمایاں تھیں۔
مغزیات اور بیجوں میں وٹامن ای بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، جو جلد کے خلیوں کو نقصان اور عمر بڑھنے کے اثرات سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس وٹامن کی کمی جلد کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے اور زخم بھرنے کا عمل بھی سست ہو سکتا ہے۔ بادام، ہیزل نٹس، چلغوزے اور بیجوں سے حاصل ہونے والے کئی تیل وٹامن ای کے اچھے ذرائع ہیں۔
مغزیات میں اومیگا 6 فیٹی ایسڈز بھی پائے جاتے ہیں، جو جلد کی حفاظتی تہہ کو مضبوط بنانے اور اس میں نمی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
صحتمند چکنائی کی ایک اور قسم اومیگا 3 ہے، جو مچھلیوں میں پایا جاتا ہے۔
اومیگا 3 سے بھرپور مچھلیوں میں سالمن، سارڈین اور میکریل شامل ہیں۔ محدود پیمانے پر کی گئی بعض تحقیقات سے اشارہ ملتا ہے کہ ان مچھلیوں کا استعمال جلد کی دھوپ کے لیے حساسیت کم کر سکتا ہے اور یوں سورج کی شعاعوں سے ہونے والے نقصان کے خلاف تحفظ میں مدد دے سکتا ہے۔
چکنائی والی مچھلیاں جلد میں پہلے سے موجود کولیجن کو برقرار رکھنے اور سوزش کم کرنے میں بھی مددگار ہو سکتی ہیں۔ کولیجن وہ پروٹین ہے جو جلد کو مضبوطی اور ساخت فراہم کرتا ہے۔
3۔ ایسی غذائیں جو آنتوں کی صحت بہتر بنائیں

،تصویر کا ذریعہGetty
جب ہم تازہ پھلوں اور سبزیوں، مغزیات اور بیجوں سے بھرپور متنوع غذا کھاتے ہیں تو اس سے نہ صرف ہماری آنتوں میں موجود مفید جراثیم کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ جلد کی صحت بھی بہتر ہو سکتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ آنتوں کی صحت اور جلد کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ محققین اس تعلق کو ’گٹ سکن ایکسس‘ یعنی آنتوں اور جلد کے درمیان تعلق کا نام دیتے ہیں۔
غذائیت کے پروفیسر رابرٹ ہیکمین کے مطابق ’جب ہم مختلف اقسام کی نباتاتی غذائیں کھاتے ہیں تو آنتوں میں موجود جراثیم ایسے مرکبات خارج کرتے ہیں جن میں سوزش کم کرنے اور خلیوں کو نقصان سے بچانے کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ یہ مرکبات جلد پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔‘
آنتوں میں موجود مفید جراثیم کے نظام کو صحتمند رکھنے سے مدافعتی نظام کو بھی تقویت مل سکتی ہے، جس کے نتیجے میں جلد کے بعض مسائل بہتر ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس مقصد کے لیے مختلف اقسام کی نباتاتی غذائیں کھانا مفید ہے۔ ان میں پھل، سبزیاں، دالیں، پھلیاں، ثابت اناج، جڑی بوٹیاں اور مصالحے شامل ہیں۔
ایسی خوراک ذہنی دباؤ کم کرنے، نیند بہتر بنانے اور جلد کی بعض بیماریوں سے بچاؤ میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ ان بیماریوں میں چنبل (سوریاسس) شامل ہے، جس میں جلد پر خشک، چھلکے دار، خارش والے اور تکلیف دہ دھبے بن سکتے ہیں۔
خمیر شدہ غذائیں بھی آنتوں میں موجود مفید جراثیم کی افزائش کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ہیں۔ ان میں ساورکراوٹ (خمیر شدہ بند گوبھی)، کِمچی، کمبوچا اور دہی شامل ہیں۔
ممکن ہے کہ آپ ہمیشہ 30 سال کے دکھائی نہ دیں، لیکن فائدہ مند غذا کا انتخاب کر کے آپ اپنی جلد کو آنے والے برسوں میں صحت مند رکھنے کے امکانات بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ دھوپ سے بچانے والی کریم (سن سکرین) کا استعمال بھی اہم ہے۔




















