آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اکتوبر میں ریاض ایئرپورٹ پر 20 حملے ہوئے، حوثیوں نے کشیدگی میں کمی کے لیے ملاقات کی تجویز مسترد کر دی: سعودی حکام

سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کی جانب سے 7 اور 11 اکتوبر کو کیے گئے حملوں میں17 افراد ہلاک اور 333 لوگ زخمی ہوئے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ میں نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر راید کریملی کا کہنا ہے کہ ریاض کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے مقصد سے مسقط میں ملاقات کی درخواست حوثیوں نے مسترد کر دی ہے۔

خلاصہ

  • تہران سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی حالیہ کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے: سعودی وزارتِ خارجہ کا الزام
  • یمنی حکومتی فورسز کا تعز میں واقع جبلِ ہان پر حوثیوں کا حملہ پسپا کرنے کا دعویٰ
  • صدر ٹرمپ نے نضال حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا
  • پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کردی
  • پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع نجی سکول کی چھت گرنے کے واقعے میں 33 طلبا اور ایک خاتون ٹیچر ہلاک ہوئے ہیں۔ مارے جانے والے بچوں کی عمریں چھ سے 14 سال کے درمیان ہیں
  • پشاور سکول حادثے میں ہلاک ہونے والے 16 بچوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، جس میں شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی
  • اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رُکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گورنر خیبرپختونخوا سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے

لائیو کوریج

  1. ایرانی وزیر خارجہ کی لبنانی صدر سے گفتگو، اسرائیلی حملے روکنے پر زور

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان کے صدر جوزف عون سے علاقائی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے لبنان پر اسرائیلی حملے روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان بدھ کو ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی، جس میں لبنان اور خطے کی مجموعی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    گفتگو کے دوران عباس عراقچی نے لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں اور جارحیت پر ایران کی خصوصی تشویش کا اظہار کیا اور جنوبی لبنان میں جارحیت اور قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

    انھوں نے لبنانی صدر کو حالیہ دنوں اور ہفتوں کے دوران ایران کی سفارتی کوششوں اور اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

    دوسری جانب صدر جوزف عون نے علاقائی بحرانوں کے حل کے لیے سفارتی طریقوں کو ترجیح دینے اور ان کی ضرورت پر زور دیا۔

    دونوں رہنماؤں نے ایران اور لبنان کے دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے حکام کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

  2. ریاض اور الخرج میں خطرے کی وارننگ واپس لے لی گئی، سعودی عرب کا حوثی بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

    سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے بدھ کو ریاض شہر اور الخرج گورنریٹ کے لیے پہلے جاری کی گئی خطرے کی وارننگ واپس لے لی ہے۔

    محکمہ شہری دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ریاض شہر میں خطرہ ٹل گیا ہے۔‘ اس نے الخرج گورنریٹ کے لیے بھی اسی نوعیت کا اعلان کیا۔

    دوسری جانب یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بدھ کو سوشل میڈیا پر کہا کہ ریاض کو نشانہ بنانے کے لیے داغا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔

  3. آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے پرچم بردار جہازوں پر حملے، ایک سمندر میں ڈوب گیا: انتظامیہ

    سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سنگاپور کے پرچم بردار دو مال بردار بحری جہازوں کو 13 اور 14 اکتوبر کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا۔

    ادارے کے مطابق، جہاز ’جی ایف ایس پرائیڈ‘ سے پروجیکٹائل ٹکرانے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور جہاز ڈوب گیا۔

    سنگاپور کا کہنا ہے کہ جہاز پر سوار عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

    اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے بھی کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ’خلاف ورزی کرنے والا کنٹینر بردار جہاز‘ بحری ’بارودی سرنگ‘ سے ٹکرا گیا جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اُٹی اور بعد ازاں وہ ڈوب گیا۔

    پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق یہ جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں ڈوبا۔ تاہم، بیان میں جہاز کے مالک ملک کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔

    سنگاپور کے مطابق، دوسرا جہاز ’جے ایف ایس جیزیل‘ بھی نشانہ بننے سے متاثر ہوا اور اس کے بیرونی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، تاہم وہ اپنے انجن کی مدد سے بحفاظت ایک محفوظ لنگرگاہ تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔

    اس جہاز پر سوار عملے کے تمام 22 ارکان محفوظ ہیں اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

    سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی نے بتایا کہ دونوں جہازوں پر سنگاپور کا کوئی شہری سوار نہیں تھا۔

    سنگاپور نے ان کارروائیوں کو ’بلااشتعال‘، ’ناقابلِ جواز‘ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

  4. قومی اسمبلی اور سینیٹ سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری، اپوزیشن کا احتجاج

    پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے کثرتِ رائے سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔ اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے سخت احتجاج کیا اور ’گورنر راج نامنظور‘ کے نعرے لگائے۔

    قومی اسمبلی نے تقریباً چار گھنٹے کی بحث کے بعد ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد منظور کی، جبکہ سینیٹ نے بھی بعد ازاں اس کی توثیق کر دی۔

    قرارداد کے مطابق قومی اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 232 کی شق کے تحت 11 اکتوبر 2026 کو صدرِ مملکت کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کے اعلان کی منظوری دی ہے۔

    پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد اب اس فیصلے کے آئینی اور عملی اثرات کیا ہوں گے؟ اس موقع پر حکومتی ارکان کا کیا کہنا تھا اور اپوزیشن نے کیا مؤقف اختیار کیا؟ جاننے کے لیے دیکھیے عمر دراز ننگیانہ اور نیّر عباس کی یہ ویڈیو۔

  5. آسٹریلوی بحریہ کے ایک جہاز کے کیبن سے خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس برآمد

    آسٹریلین ڈیفنس فورس نے تصدیق کی ہے کہ آسٹریلوی بحریہ کے ایک جہاز کے کیبن سے خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس برآمد ہوئی ہے۔

    یہ آلہ اتوار کے روز آسٹریلیا کی ریاست کوئنزلینڈ کے شہر کیئرنز میں موجود رائل آسٹریلین نیوی کے جہاز ایچ ایم اے ایس لیووِن کے ایک کیبن میں پایا گیا۔

    آسٹریلین ڈیفنس فورس کی جانب سے یہ تصدیق آزاد سینیٹر جیکی لیمبی نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ بحریہ کے اہلکاروں نے ان سے رابطہ کر کے بتایا ہے ’خواتین ملاحوں کے شاورز میں حال ہی میں خفیہ کیمرے دریافت ہوئے ہیں۔‘

    آسٹریلوی محکمۂ دفاع نے یہ نہیں بتایا کہ آیا آلہ کسی ایسی جگہ سے ملا جو صرف خواتین کے لیے مخصوص تھی یا نہیں، تاہم اس کا کہنا ہے کہ معاملہ جوائنٹ ملٹری پولیس یونٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    بدھ کے روز سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے جیکی لیمبی کا کہنا تھا کہ ’مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ یہ واقعہ حال ہی میں پیش آیا اور تحقیقات جاری رہنے کے دوران جہاز کو روانہ ہونے سے روک دیا گیا۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک دعویٰ یہ ہے کہ کیمروں کے دریافت ہونے سے پہلے ان کی ریکارڈنگ ممکنہ طور پر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی جا چکی تھی۔‘

    ’ہماری کتنی خواتین ملاحوں کی نجی ترین لمحات میں ممکنہ طور پر خفیہ طور پر ریکارڈنگ کی گئی؟ اب تک کتنی ویڈیوز ان کی اطلاع یا رضامندی کے بغیر محفوظ، تقسیم یا آن لائن اپ لوڈ کی جا چکی ہیں؟ آج بحریہ سے میرے یہی سوالات ہیں۔‘

    بعد ازاں بدھ کے روز محکمۂ دفاع نے تصدیق کی کہ اسے ایچ ایم اے ایس لیووِن کے ایک کیبن میں ویڈیو ریکارڈنگ کا آلہ ملنے کی اطلاع ملی تھی، تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ آلہ جہاز کے کس حصے میں نصب تھا۔

    محکمے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ادارہ اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

  6. حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائل کے ٹکڑے گرنے سے ریاض میں ایک شخص زخمی: سعودی سول ڈیفنس

    سعودی عرب کے شہری دفاع کے ادارے کے مطابق دارالحکومت ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد اس کے ملبے کے ٹکڑے گرنے سے شخص زخمی جبکہ ایک رہائشی مکان اور ایک گاڑی کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

    سول ڈیفنس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بدھ کو ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کے ٹکڑے گرنے کا واقعہ پیش آیا جس میں ایک عرب شہری زخمی ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ میزائل حوثی گروہ کی جانب سے داغا گیا تھا جسے فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کر دیا۔

    اس سے قبل یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ ’حوثی گروہ کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کر دیا ہے۔‘

  7. آبنائے ہرمز میں دو تجارتی بحری جہازوں کو نامعلوم پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا ہے: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے آبنائے ہرمز کا کہنا ہے کہ دو الگ الگ واقعات میں دو تجارتی بحری جہازوں کو نامعلوم نوعیت کے پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    تنظیم کے مطابق پہلا واقعہ منگل کے روز اس وقت پیش آیا جب آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک 50 ہزار ٹن وزنی کنٹینر جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔

    یو کے ایم ٹی او کی رپورٹ کے مطابق جہاز کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم کسی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی اور جہاز اپنا سفر محفوظ طریقے سے جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ دوسرے واقعے میں ایک 19 ہزار ٹن وزنی کنٹینر جہاز کو آبنائے ہرمز سے نکلتے وقت ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں بھی جہاز کو ’معمولی نقصان‘ پہنچا، تاہم عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا اور جہاز نے اپنا سفر جاری رکھا۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک کنٹینر بردار جہاز آبنائے ہرمز میں ایک بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر ڈوب گیا ہے۔

    تاہم برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات میں کسی جہاز کے ڈوبنے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

  8. قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد پارلیمان کے ایوانِ بالا سینیٹ نے بھی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔

    پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سینیٹ میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کی قرارداد پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدی نے پیش کی جسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔

    بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس جمعہ کی صبح 10:30 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

    اس سے قبل قومی اسمبلی نے تقریباً چار گھنٹے کی بحث کے بعد خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قراردار منظور کی تھی۔

  9. پاسداران انقلاب کا ’انتہائی جدید ہتھیار‘ حاصل کرنے کا دعویٰ: ’ایران کسی بھی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار ہے‘

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران نے حالیہ جنگ کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہوئے ’انتہائی جدید ہتھیار‘ حاصل کر لیے ہیں۔

    پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین موہبی کا کہنا ہے کہ 40 روزہ جنگ کے دوران ایران نے زیادہ تر اپنے پرانی نسل کے ہتھیار استعمال کیے لیکن اس کے بعد سے اس نے کہیں زیادہ جدید ہتھیار حاصل کر لیے ہیں۔

    تاہم انھوں نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں یہ ’انتہائی جدید ہتھیاروں‘ کیا ہیں اور نہ یہ کہ وہ کیسے حاصل کیے گئے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر عہدیدار کا مزید کہنا ہے کہ ’ایران کسی بھی نئی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار ہے، اور اس بار امریکہ کے لیے اس کے نتائج کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوں گے۔‘

  10. مشتبہ منی لانڈرنگ روکنے میں ناکامی، بینک آف امریکہ پر 1.2 ارب ڈالر جرمانہ عائد

    امریکی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ مشتبہ منی لانڈرنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کا سراغ لگانے میں ناکامی پر بینک آف امریکہ پر 1.2 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق بینک نے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی مشتبہ مالی سرگرمیوں کی اطلاع حکومت کو نہیں دی، جن میں سے ایک ارب ڈالر کی سرگرمیاں کا تعلق قومی سلامتی اور غیر قانونی مالیاتی لین دین کا خطرہ لاحق تھا۔

    امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ان کوتاہیوں میں ایسے لین دین کی نشاندہی نہ کرنا بھی شامل تھا جن کا ممکنہ تعلق چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس یا ایسی تجارتی بنیادوں پر منی لانڈرنگ سے ہو سکتا تھا جس کا نمایاں تعلق امریکہ کی جنوب مغربی سرحدی پٹی سے تھا۔

    بینک آف امریکہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ہماری ٹیم ان مسائل کے حل کے لیے درکار اقدامات نافذ کرنے کے عمل میں کافی آگے بڑھ چکی ہے اور ریگولیٹرز کی جانب سے اٹھائے گئے نکات سے نمٹنے کے لیے پُرعزم ہے۔

  11. قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی

    پاکستان کی قومی اسمبلی نے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے متعلق قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی ہے۔

    اس موقع پر حزبِ اختلاف کی جانب سے سے گورنر راج نا منظور کے نعرے لگائے گئے۔

    قومی اسمبلی سے منظور شدہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 232 کی شق کے تحت 11 اکتوبر 2026 کو صدر مملکت کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کے اعلان کو قومی اسمبلی منظور کرتی ہے۔

    قرارداد کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس 16 اکتوبر بروز جمعہ دن 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

  12. ایک کنٹینر بردار جہاز آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرا کر ڈوب گیا: پاسدارانِ انقلاب

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایک کنٹینر بردار جہاز آبنائے ہرمز میں ایک بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر ڈوب گیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق یہ جہاز ’آبنائے ہرمز کے غیر مجاز اور خطرناک راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا‘ کہ اسی دوران ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔

    بیان میں کہا گیا کہ جہاز پر ڈھائی ہزار سے زائد کنٹینرز لدے ہوئے تھے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق تصادم کے بعد جہاز میں ’شدید آگ بھڑک اٹھی‘ اور جہاز آج صبح آبنائے ہرمز کے جنوبی پانیوں میں ڈوب گیا۔

    آبنائے ہرمز میں سکیورٹی سے متعلق واقعات کی نگرانی کرنے والے دیگر اداروں کی جانب سے تاحال اس واقعے یا جہاز کے عملے کے ارکان کی ممکنہ ہلاکتوں کے بارے میں کوئی معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

  13. حکومت کے پاس خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کے علاوہ کوئی چوائس نہیں رہی تھی: خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیرِ دفاع اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حالات بتاتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی چوائس نہیں رہی تھی۔

    بدھ کے روز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خدا کے لیے اپنے مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے ذرا ماضی میں دیکھا لیا کریں کہ آپ کے اپنے کرتوت کیا تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مسئلہ صرف دہشتگردی کا ہے۔ وزیرِ دفاع نے الزام لگایا کہ 14 ماہ کے اند 3900 ہلاکتیں ہوئی ہیں کیونکہ وزیرِ اعلیٰ کو اپنی سیاست کے متعلق زیادہ فکر لاحق تھی۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آج طالبان نے ایمرجنسی کی مذمت کی ہے اور خیبر پختونخوا میں فوج کی تعیناتی کی بھی مذمت کی ہے۔

    انھوں نے پی ٹی آئی سے سوال کیا کہ بتایا جائے کہ ان کا حلیف اور حریف کون ہے؟

    ’حریف پاکستان کی ریاست اور حلیف طالبان ہیں جن کے ہاتھ ہمارے بچوں کے کون سے رنگے ہوئے ہیں۔‘

    ’یہ ایک ایسی جنگ ہے جو اس ملک کو، قوم کو متحد ہو کر لڑنی پڑے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ حالات بتاتے ہیں کہ ایمرجنسی لگانے کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی چوائس نہیں رہی تھی۔

    ’یہ آخری آپشن تھا جو ہمیں لینا پڑا۔‘

  14. آئیں بات چیت کریں، ایسے حالات بنائیں کہ ایمرجنسی نہ لگانا پڑے: بلاول بھٹو

    قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات اور سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی مسائل کے حل اور ملک کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر راستہ نکالنا ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ جتنی سیاسی گنجائش نکالی جا سکتی ہے، نکالی جائے اور فیصلے سیاسی اتفاقِ رائے سے کیے جائیں۔ ان کے بقول سیاسی جماعتوں کو ’سیاسی خودکش حملوں‘ سے گریز کرنا چاہیے اور ایسے حالات پیدا کیے جانے چاہییں کہ ایمرجنسی کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور صدرِ پاکستان کا مؤقف ابتدا ہی سے یہ تھا کہ کسی بھی سخت آئینی اقدام یا ان کے بقول ’آئینی ایٹم بم‘ کے استعمال سے پہلے پاکستان تحریکِ انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں اور وفاقی حکومت کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی جماعت کے دو نمائندے بھی مذاکراتی کمیٹی کا حصہ تھے جو اپوزیشن سے رابطوں میں مصروف تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر مذاکرات کی کامیابی کے امکانات محدود دکھائی دیتے تھے، تاہم بعد ازاں اطلاعات ملیں کہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن کے ساتھ اتفاقِ رائے پیدا ہونے کا امکان ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر سیاسی ماحول بہتر ہو جائے اور ایسے حالات پیدا ہو جائیں جن میں ایمرجنسی کی ضرورت باقی نہ رہے تو وہ خود قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر وزیراعظم سے ایمرجنسی کے خاتمے کی درخواست کریں گے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپوزیشن کی جانب مذاکرات کے لیے ہاتھ بڑھایا اور کوشش کی کہ تمام سیاسی قوتیں بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں، کیونکہ موجودہ صورتحال کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہو سکتے ہیں اور اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

    اس کے بعد خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنی ہی حکومت پر سیاسی خودکش حملہ کیا اور موجودہ سیاسی، قانونی اور آئینی صورتحال پیدا ہونے میں اس کا کلیدی کردار ہے۔ ان کے بقول صوبہ غیرمعمولی سکیورٹی اور جنگی نوعیت کے حالات سے گزر رہا ہے، جہاں دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں ناکامی دکھائی دی۔

    انھوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت اپنے مؤقف کے حق میں واضح جواز پیش کرتی تو صدرِ پاکستان اس سمری پر دستخط نہ کرتے۔ بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا، تاہم وفاق دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وفاق اکیلے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑے گا، لیکن دہشت گردوں کے سامنے پسپائی اختیار نہیں کی جائے گی۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ماضی کی طرح آج بھی دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول، ’یہ صرف کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ ملک ہے، اس لیے قومی سلامتی اور دہشت گردی جیسے اہم معاملات پر حکومت، اپوزیشن اور تمام سیاسی قوتوں کے درمیان وسیع اتفاقِ رائے وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘

  15. بریکنگ, آرٹیکل 58 ٹو بی کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا ہے: بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے جمہوریت میں کسی بھی منتخب حکومت کو اس طرح برخاست نہیں کیا جاتا، آرٹیکل 58 ٹو بی کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور آئیندہ بھی کرتے رہیں گے۔

    پالیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’(ایمرجنسی لگانے کے) اس عمل سے جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کو نقصان ہو گا۔ اس عمل سے دہشت گردی کے خلاف آپ کا بیانیہ نظر انداز ہو گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر حالات کی بنیاد پر ایمرجنسی لگانی ہے تو پھر کچے کے علاقے میں بھی ایمرجنسی لگا دیں۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے اقدامات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ جمہوریت کو اہمیت نہیں دی جا رہی۔’آپ نے پنجاب میں ساری سیٹیں لی تھیں اور خیبرپختونخوا میں بھی ہمارے سارے اختیار محدود کر دیے گئے اب یہ تو صرف رسمی کارروائی رہ گئی تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ماضی میں سندھ اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی پر پیپلز پارٹی کے تحفظات رہے ہیں۔‘

  16. خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش

    خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے قومی اسمبلی میں قرارداد وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔ اس قرارداد پر اس وقت بحث جاری ہے۔

    قرارداد پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صوبے میں نظام اکھاڑ نہیں پھینکا گیا بلکہ حکومت کو غیرفعال کیا گیا ہے۔ انھوں نے وضاحت دی کہ خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے داخلی خلفشار اور سرحد پار دراندازی کے باعث ایمرجنسی نافذ کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے بڑی سوچ بچار کے بعد، مواد کا جائزہ لینے کے بعد اور ڈھائی گھنٹے کی کابینہ کی بحث کے بعد وزیر اعظم کو یہ مشورہ دیا کہ خیبر پختونخوا کے حالات ایسے ہیں کہ خلفشار اور سرحد پار دراندازی ہو رہی ہے۔۔۔ وفاق اور صوبے کا ایک ہو کر اس کے سامنے کھڑا ہونا ہی مضبوط پاکستان کے لیے ضروری ہے۔‘

    قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال مسلسل بگڑتی رہی، جہاں 2021 سے 2024 تک دہشت گردی اور امن و امان سے متعلق 2,911 واقعات پیش آئے، جبکہ صرف ایک سال، 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 کے دوران، ایسے واقعات کی تعداد 3,787 تک پہنچ گئی، جو گذشتہ تین برسوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران رونما ہونے والے واقعات بھی سب کے سامنے ہیں، تاہم صوبائی حکومت صورتحال کی سنگینی کے مطابق ردِعمل دینے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فورسز اور شہریوں کی قربانیوں اور شہادتوں کو نظر انداز کیا اور دہشت گردی سے متاثرہ افراد اور زخمیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے بجائے سیاسی سرگرمیوں اور ملک گیر دوروں کو ترجیح دی۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایسے حالات میں ضروری تھا کہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا جاتا، زخمیوں کی عیادت کی جاتی اور عوام کو یقین دلایا جاتا کہ حکومت ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب صورتحال غیرمعمولی حد تک سنگین ہو جائے تو ریاستی ردِعمل بھی غیرمعمولی ہونا چاہیے، معمول کے اقدامات ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہوتے۔

    انھوں نے کہا کہ دارالحکومت پر چڑھائی اور اسے ’فتح‘ کرنے جیسے اعلانات بھی کیے گئے۔ ان کے بقول حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے طاقت کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ اس مقصد کے لیے سپیکر نے بھی ثالثی اور مذاکرات کے لیے اپنا پلیٹ فارم فراہم کیا تاکہ معاملے کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کسی گرفتار شخص کی رہائی کا فیصلہ کرنا عدالتوں کا اختیار ہے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس ابھی جاری ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف ابھی اجلاس میں پہنچے ہیں۔ ان کی آمد سے قبل سینیئر رہنما اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے خطاب کیا مگر اس تقریر کی براہ راست نشریات روک دی گئی ہیں۔

    اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خطاب کر رہے ہیں اور ان کی تقریر کو پی ٹی وی سمیت تقریباً سب میڈیا چینلز پر براہ راست دکھایا جا رہا ہے۔

  17. ’سعودی عرب کے حقِ دفاع کی حمایت جاری رہے گی‘: شہباز شریف کی مکہ اتحاد کے سربراہ سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے مکہ ڈیفنس الائنس کے پہلے سیکریٹری جنرل، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے ملاقات کی، جس میں علاقائی امن، دفاعی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے جنرل نعمان محمود کو مکہ ڈیفنس الائنس کے پہلے سیکریٹری جنرل کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انھوں نے مکہ امن معاہدے کو خطے میں امن، اتحاد اور استحکام کے فروغ کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔

    شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور دفاع کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے اور مملکت کی سلامتی و استحکام کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔

    سرکاری میڈیا پر شائع ہونے والی خبروں کی مطابق ملاقات کے دوران سیکریٹری جنرل مکہ ڈیفنس الائنس نے وزیراعظم کو معاہدے کے تحت دفاعی اور تزویراتی تعاون کے فروغ، مشترکہ صلاحیتوں میں اضافے اور رکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے سے متعلق حکمتِ عملی سے آگاہ کیا۔

  18. خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قرارداد آج پیش کی جائے گی

    خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کی توثیق کے لیے آج (بدھ کے روز) قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں علیحدہ علیحدہ قرارداد پیش کی جائیں گی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح 11 بجے اور سینیٹ کا اجلاس شام چار بجے ہوگا۔ قومی اسمبلی اجلاس کا آٹھ نکاتی ایجنڈا جبکہ سینیٹ کے اجلاس کا 13نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔

    دونوں ایوانوں کے اجلاس کے ایجنڈے میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قراردادکا پیش کیا جانا شامل ہے۔ ایجنڈے کے مطابق دونوں ایوانوں میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نفاذ کی توثیق کے لیے قراردادیں پیش کی جائیں گی۔

    ایجنڈے کے مطابق پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 کی شق (1) کے تحت 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں صدرِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان کو پارلیمان کے سامنے منظوری کے لیے پیش کریں گے۔

    دوسری جانب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 15 اکتوبر جمعرات صبح ساڑھے 11 بجے ہوگا جس میں ممکنہ طور پر آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی توثیق ہوگی۔

  19. باڑہ بازار مظاہروں کے بعد بند، پولیس کا حالات قابو میں ہونے کا دعویٰ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

    خیبر کے علاقے باڑہ بازار میں بدھ کے روز بھی کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہنے کی اطلاعات ہیں۔

    بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان سے ایک مقامی تاجر نے باڑہ بازار کی بندش سے متعلق موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’باڑہ کے علاقے میں آج صبح سے کچھ دوکانیں کھلی تو تھیں تاہم پولیس نے وہ دوکانیں بند کرا دی ہیں۔‘

    مقامی تاجر نے بتایا کہ وہ خود بھی اب بازار سے واپس جا رہے ہیں ۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز باڑہ میں پرتشدد مظاہروں کی اطلاعات تھیں تاہم پھر پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ ’شرپسند عناصر نے بد امنی پھیلانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے باڑہ میں 50 کے قریب شرپسند عناصر کو گرفتار کر لیا ہے۔‘

    پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ باڑہ میں صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور وہاں کوئی پولیس اہلکار اغوا نہیں ہوا۔

    ترجمان خیبر پختونخوا پولیس نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ بے بنیاد افواہوں پر کان نہ دھریں، باڑہ صورتحال مکمل قابو میں ہے۔

    ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان خراب کرنے والے شرپسند عناصر کے خلاف دہشت گردی، تخریب کاری اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی دفعات کے تحت مقدمات درج کر کے قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  20. لداخ کے 28 مقامات کو نئے نام دینے پر چین کا اعتراض: ’انڈیا کا یہ اقدام غیر قانونی اور ناقابل قبول ہے‘, شکیل اختر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

    چین نے ایک بار پھر لداخ سے متعلق انڈیا کے اقدامات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انڈیا کی جانب سے 2019 میں قائم کیے گئے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے لداخ کو تسلیم نہیں کرتا۔

    بیجنگ میں منگل کو پریس بریفنگ کے دوران چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے انڈیا کے اس حالیہ فیصلے پر بھی تنقید کی، جس کے تحت لداخ میں 28 مقامات اور جغرافیائی خطوں کو باضابطہ نام دیے گئے ہیں۔

    ماؤ نینگ یہ بیان ایک سوال کے جواب میں دے رہی تھیں جس میں انڈیا کی وزارت داخلہ کی جانب سے ان مقامات کو سرکاری نقشوں میں شامل کرنے کا حوالہ دیا گیا تھا۔ چین کا دعویٰ ہے کہ ان میں بعض ایسے علاقے بھی شامل ہیں جو متنازع ہیں یا چین کے مؤثر کنٹرول میں ہیں۔

    چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ انڈیا کا یہ اقدام ’غیر قانونی اور ناقابل قبول‘ ہے اور اس سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق چین اور انڈیا کی سرحد کے مغربی حصے میں واقع متعلقہ علاقے ہمیشہ سے چین کا حصہ رہے ہیں۔

    کن مقامات کو نئے نام دیے گئے؟

    انڈیا کی وزارت داخلہ نے دو اکتوبر کو جن مقامات کے نام سرکاری طور پر درج کیے، ان میں گوگرا اور ہاٹ سپرنگز کے علاقے بھی شامل ہیں۔ یہ دونوں مقامات 2020 میں انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی اور فوجی تصادم کے اہم مراکز رہے تھے۔

    ایکچول لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) کے قریب واقع یہ علاقے انڈین فوج کی گشت اور عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق دیگر مقامات میں چاپ چھینگل درہ، کنشکا چوٹی، پرپیک گلیشیئر، کرون پیر پہاڑ، علیشا گیری، شیکمیریک درہ، شکورگا وادی، زورآور چوٹی اور درا کارپو سمیت متعدد جغرافیائی مقامات شامل ہیں۔

    ’لداخ انڈیا کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے‘

    چین کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے انڈیا نے کہا ہے کہ ’چین چاہے جتنا بھی انکار کرے، اس سے یہ مسلمہ حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی کہ لداخ انڈیا کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔‘

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے لداخ کے جن 28 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، انھیں سروے آف انڈیا کے سرکاری نقشوں میں معیاری ناموں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ عمل لداخ انتظامیہ اور مقامی فریقوں سے مشاورت کے بعد مکمل کیا گیا، جبکہ اس کا مقصد مقامات کی درست شناخت کو آسان بنانا اور عوامی آگاہی بڑھانا ہے۔

    ناموں کی جنگ اور سرحدی تنازع

    انڈیا نے اروناچل پردیش اور لداخ کے مقامات کو باضابطہ نام دینے کا سلسلہ چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے پہاڑوں، دریاؤں، قصبوں اور دیگر جغرافیائی خطوں کو چینی نام دیے جانے کے بعد شروع کیا تھا۔

    چین اروناچل پردیش کو ’جنوبی تبت‘ یا ’زنگنان‘ قرار دیتا ہے، جبکہ انڈیا اسے اپنی ریاست کا اٹوٹ حصہ سمجھتا ہے۔

    پانچ اگست 2019 کو انڈیا نے آئین کی دفعہ 370 ختم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی۔ اس کے بعد سابق ریاست کو دو حصوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر کے دونوں کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے قرار دیا گیا تھا۔

    لداخ کو الگ مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنانے پر چین نے اسی وقت شدید اعتراض کیا تھا۔

    چھ اگست 2019 کو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چون ینگ نے کہا تھا کہ ’چین انڈیا۔چین سرحد کے مغربی سیکٹر میں چینی علاقے کو انڈیا کے انتظامی دائرہ اختیار میں شامل کیے جانے کی ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا نے اپنے داخلی قوانین میں یکطرفہ تبدیلی کر کے چین کی علاقائی خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایسا اقدام ناقابل قبول ہے اور اسے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔‘

    گلوان کے بعد تعلقات میں کشیدگی

    مئی 2020 میں لداخ کے مختلف سرحدی علاقوں میں انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ 15 جون 2020 کو گلوان وادی میں ہونے والی خونریز جھڑپ میں 20 انڈین اور چار چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

    اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے، اگرچہ حالات معمول پر لانے کے لیے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے 25 دور ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان پرانا سرحدی تنازع ابھی تک حل طلب ہے۔

    چین کے سینیئر صحافی شین شی ویئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’چین کی وزارت خارجہ یہ کیوں کہتی ہے کہ وہ یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر قائم کیے گئے ’مرکز کے زیرِ انتظام لداخ‘ کو تسلیم نہیں کرتی؟ اس لیے کہ انڈیا نے یکطرفہ اور غیر قانونی طریقے سے چینی علاقے کو اپنے نقشے میں شامل کر لیا ہے۔‘

    تاہم انڈیا مسلسل اس مؤقف کو مسترد کرتا آیا ہے اور لداخ کو اپنی خودمختار سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔