پاکستان کے زیرِ انتظام
کشمیر میں جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کے کیس
میں دائر تین درخواستوں پر بحث مکمل ہو گئی جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
شوکت نواز میر کی بہن
یاسمین میر کی جانب سے دائر ان درخواستوں پر ان کے وکیل شاہد علی اعوان نے دلائل دیے،
جبکہ حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش
ہوئے۔
شاہد علی اعوان نے بی
بی سی اردو کو بتایا کہ عدالت میں تین درخواستیں پیش کی گئی تھیں۔ ان کے مطابق پہلی
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شوکت نواز میر کو تھانہ دھیرکوٹ کے ایس ایچ او
کی موجودگی میں گرفتار کیا گیا تھا۔
یاسمین میر کے وکیل
کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں بھی ایس ایچ او اور دیگر
پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں شوکت نواز میر کو لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس
بنیاد پر عدالت سے استدعا کی گئی کہ ایس ایچ او تھانہ دھیرکوٹ کو طلب کرکے وضاحت لی
جائے کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والا واقعہ کیا تھا اور آیا شوکت نواز میر کو پولیس
نے گرفتار کیا تھا یا نہیں۔
وکیل کے مطابق دوسری
درخواست میں عدالت سے ایک یو ایس بی میں محفوظ مواد کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے
کی اجازت طلب کی گئی۔ ان کے بقول، یو ایس بی میں شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری کی
ویڈیو اور اُس وقت کے وزیرِ قانون میاں عبدالوحید کا مبینہ بیان موجود ہے، جس میں انھوں
نے شوکت نواز میر کو دھیرکوٹ سے گرفتار کیے جانے کی کارروائی کو درست قرار دیا تھا۔
شاہد علی اعوان نے بتایا
کہ اگر عدالت ویڈیو شواہد کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دیتی ہے تو ان کی فرانزک
جانچ کروانے کی استدعا بھی کی جائے گی۔
ان درخواستوں پر حکومت
کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل آفس کے وکلا نے اعتراضات اٹھائے تھے تاہم شاہد علی اعوان
کے مطابق عدالت نے یہ اعتراضات مسترد کر دیے۔
شاہد علی اعوان کے
مطابق ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی تیسری درخواست میں یاسمین میر کے بھائی گل نواز
میر کو بھی مقدمے میں درخواست گزار بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔
انھوں نے مزید بتایا
کہ تینوں درخواستوں پر آج بحث مکمل ہو گئی ہے اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ان
کے مطابق جمعے کو آئندہ تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
گذشتہ ماہ کے
اواخر میں بی بی سی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق کشمیر حکومت
کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ شوکت نواز میر اس
وقت ریاستی تحویل میں نہیں ہیں اور حکومت کے مطابق بھی وہ زیر التوا مقدمات کی وجہ
سے مفرور اور روپوش ہیں۔