فرانس کے صدر ایمانویل میخواں نے ملک میں حالیہ پرتشدد بدامنی کے بعد وزیرِ داخلہ لوراں نونیز کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
میخواں نے کہا ہے کہ لوراں نونیز کو اپنے عہدے پر برقرار رہنا چاہیے اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے جلد از جلد نئی حکمتِ عملی اور اقدامات پیش کرنے چاہیں۔
فرانسیسی صدر نے تشدد کے واقعات کا ذمہ دار سکیورٹی اداروں کی منصوبہ بندی اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے میں ناکامی کو قرار دیا۔
یہ بدامنی ملک بھر میں زندگی گزارنے کی بڑھتی ہوئی لاگت اور عوامی خدمات کی بگڑتی صورتحال کے خلاف ہونے والے وسیع احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آئی۔
میخواں نے اتوار کو اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں ایک بار پھر خبردار کیا کہ تشدد میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ جائز مطالبات رکھنے والے مظاہرین اور توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والے افراد کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔
فرانس کے وزیرِ اعظم سیباستیاں لیکورنو آج ہفتے اور اتوار کو ملک بھر میں ہونے والی بدامنی اور تشدد کے واقعات پر غور کے لیے ہنگامی کابینہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔
یہ اجلاس مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے شروع ہونے کی توقع ہے، جس میں تشدد کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، معیشت، انشورنس کے معاملات اور امن و امان سے متعلق امور کا جائزہ لیا جائے گا۔
دوسری جانب، ملک بھر کے میئرز کا ایک گروپ دوپہر کے وقت مختلف ٹاؤن ہالز کے باہر جمع ہوگا تاکہ ان کے بقول ’جمہوری اداروں پر سنگین حملوں‘ کی مذمت کی جا سکے۔
گذشتہ ہفتے کے آخر میں فرانس کے مختلف شہروں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے بعد حکومت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیرِ داخلہ لوراں نونیز سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میخواں کے دفتر کے مطابق، لوراں نونیز نے اتوار کو استعفیٰ دینے کی کوشش کی تھی، تاہم صدر نے انھیں عہدے پر برقرار رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ موجودہ صورتحال میں مسلسل قیادت کی ضرورت ہے۔