لائیو, فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں ایرانی صدر، وزیرِ خارجہ سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں

یران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔ عاصم منیر ایران کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کے لیے منگل کو تہران پہنچے تھے اور اُن کے ساتھ اس دورے پر پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی ہیں۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. امریکی سینٹرل کمانڈ کی آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی تردید

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر ایرانی بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرائے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ایک ترجمان نے الجزیرہ کو بتایا کہ ’ایران کا یہ دعویٰ کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرائے ہیں، درست نہیں ہے۔‘

    الجزیرہ کے مطابق، فوجی عہدیدار نے مزید کہا: ’ہم نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں کو بارودی سرنگوں سے پاک کر دیا ہے۔ ایران اپنی جارحانہ کارروائیوں میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرتا ہے۔‘

    اُنھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے دعووں کے برعکس، آبنائے ہرمز کھلی ہے اور 95 فیصد بحری جہاز اس آبی گزرگاہ سے ’کامیابی کے ساتھ‘ گزر جاتے ہیں۔

  2. افزودہ یورینیم کا ایک ذرہ بھی ملک سے باہر نہیں جائے گا: محسن رضائی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران گفتگو

    تصویر

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران سے افزودہ یورینیم کا ایک ذرہ بھی باہر نہیں جائے گا۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق ان خیالات کا اظہار محسن رضائی نے پاکستان فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے تہران میں ملاقات کے دوران کیا۔

    محسن رضائی نے کہا کہ ’جب تک امریکہ اعتماد سازی نہیں کرتا، اس وقت تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ اُنھوں نے ایران کی شرائط کو پورا کرنے کو ہی اس اعتماد سازی کے عمل کا آغاز قرار دیا۔‘

    محسن رضائی نے کہا کہ ایران اور پاکستان کی سرحدوں کا مسئلہ حل ہو گیا ہے اور آج صبح سے دونوں ممالک کے درمیان تمام سرحدی مقامات دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔

    چند گھنٹے قبل، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرحد کی بندش کی وجہ ’تکنیکی مسائل‘ بتائی تھی۔

    اس دورے کے دوران، پاکستانی مسلح افواج کے سربراہ نے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی۔

  3. فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر سے ملاقات

    تصویر

    ایران کے دورے پر موجود پاکستان فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف سے ملاقات کی ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی جانب سے امریکہ کو پیش کی گئی سات شرائط پورا ہونے تک امریکہ ایران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔

    باقر قالیباف نے کہا کہ ’ایران جنگ پسند نہیں ہے، لیکن وہ اپنے وطن اور قومی وقار کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا کہ دھمکیاں اور فوجی مشقیں ایران کے سٹریٹجک فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ ہی تھا جو غلط اندازوں اور ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کی وجہ سے خود ایک دلدل میں پھنس گیا؛ اب یہ انھی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔

  4. فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران پہنچنے کے بعد صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات

    @PressTV

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔ عاصم منیر ایران کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کے لیے منگل کو تہران پہنچے تھے اور اُن کے ساتھ اس دورے پر پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی ہیں۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    جنگ بندی کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران کا یہ چوتھا سرکاری دورہ ہے۔

    اس سے قبل دو ستمبر کو اپنے دورۂ ایران کے دوران انھوں نے صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی، پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور وزیرِ داخلہ سکندر مومنی سے ملاقاتیں کی تھیں۔

    اب سے کُچھ دیر قبل یہ خبر بھی ایرانی خبر رساں ادارے ارنا پر سامنے آئی تھی کہ پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ’پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔‘

    منگل کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کے 25ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری سب سے مؤثر ذرائع ہیں۔‘

  5. بلوچستان میں رواں سال 50 ہزار سے زائد آپریشنز اور 1100 شدت پسند ہلاک ہونے کا سرکاری دعویٰ

    Getty Images

    بلوچستان میں رواں سال اب تک شدت پسندی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز نے 50 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور دیگر کارروائیاں کی ہیں۔

    سرکاری حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں 1100 شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کے 315 اہلکار اور 551 عام شہری بھی جان سے گئے۔

    یہ اعداد و شمار منگل کو سول سیکریٹریٹ کوئٹہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات اور وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے میڈیا شاہد رند نے پیش کیے۔

    حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں میں 101 پولیس اہلکار اور 215 دیگر سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔

    ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ بلوچستان میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے 18 نئے قوانین اور 17 نئے محکمے قائم کیے گئے ہیں جبکہ اس مقصد کے لیے 45 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

    ان کے مطابق ڈیریڈیکلائزیشن مراکز میں اس وقت 90 شدت پسند زیرِ حراست ہیں، 1400 افراد کو فورتھ شیڈول میں رکھا گیا ہے اور 3000 ایسے خاندانوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر شدت پسندوں کی سہولت کاری کا الزام ہے۔

    حکام نے یہ بھی بتایا کہ بلوچستان سے 11 لاکھ افغان مہاجرین کا انخلا کیا گیا ہے۔

    شاہراہوں کی سکیورٹی کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ فرنٹیئر کور (ایف سی) کی ایک نئی ڈویژن قائم کی جا رہی ہے۔ کوئٹہ اور لورالائی کے راستے پر سکیورٹی کے لیے 32 مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں جبکہ کوئٹہ۔تفتان اور کوئٹہ ۔ کراچی شاہراہوں پر بھی ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    حکام کو توقع ہے کہ آئندہ تین سے چار ماہ میں ان شاہراہوں پر صورتحال بہتر ہو گی۔

    پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ خضدار ڈویژن کے علاقے شورپارود میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق علاقے میں تقریباً پانچ ہزار خاندان آباد ہیں، جن کی مجموعی آبادی 30 ہزار ہے۔

    حمزہ شفقات نے بتایا کہ ان خاندانوں کی منتقلی کی وزیر اعلیٰ نے منظوری دے دی ہے اور کمشنر خضدار کو آپریشن کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔

    حکام نے شہریوں کو رضاکارانہ انخلا کے لیے 30 اکتوبر تک کا وقت دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں کیمپوں تک پہنچانے کے لیے گاڑیاں اور اخراجات فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے بعد زبردستی انخلا شروع کیا جائے گا۔

  6. ایران کا اقوامِ متحدہ سے امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیاں ’فوری طور پر‘ رکوانے کا مطالبہ

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشننیویارک میں اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں ایران کے سفیر اور ناظم الامور غلام حسین درزی

    ایران نے اقوامِ متحدہ کو ایک خط لکھ کر امریکہ کی جانب سے ’مدر آف آل بمز‘ استعمال کرنے کی دھمکی کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو ایسی دھمکیاں دینے سے روکا جائے۔

    نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں ایران کے سفیر اور ناظم الامور غلام حسین درزی کے دستخط سے لکھا گیا یہ خط اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے موجودہ صدر کو بھیجا گیا ہے۔

    خط میں ایرانی نمائندے نے دونوں عہدیداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ’فوری طور پر امریکہ اور اسرائیلی حکومت سے غیر قانونی دھمکیاں ختم کرنے اور اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے لازمی قواعد کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پابندی کرنے کا مطالبہ کریں۔‘

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے گذشتہ ہفتے متعدد امریکی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج نے ایران پر حملوں کے نئے منصوبے تیار کیے ہیں، جن میں ’مدر آف آل بمز‘ کے نام سے معروف بم کے ممکنہ استعمال کا آپشن بھی شامل ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس نوعیت کے بم کا استعمال زیرِ غور آپشنز میں سے ایک ہے۔

  7. پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا: اسحاق ڈار

    IRNA

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔

    منگل کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کے 25ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری سب سے مؤثر ذرائع ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مغربی ایشیا اور خلیج فارس میں فریقین کے درمیان رابطوں کو ممکن بنانے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششیں تعمیری سفارت کاری کے عزم کی عکاس ہیں۔‘

    اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ’پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا اور دیرپا امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور تنازعات کے پُرامن حل کی تمام کوششوں کی حمایت کرے گا۔‘

    انھوں نے زور دیا کہ ’پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی اس یقین پر مبنی ہے کہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی تعاون پر مبنی اور پائیدار کثیرالجہتی اقدامات ضروری ہیں۔‘

  8. ایرانی صدر پزشکیان نے مجید ابن الرضا کو دفاعی امور کا مشیر مقرر کر دیا

    ISNA

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک حکم نامے کے ذریعے مجید ابن الرضا کو دفاعی امور کا مشیر مقرر کیا ہے۔

    ایران کے سابق وزیرِ دفاع عزیز ناصر زادہ 29 مارچ کو ہونے والے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد مجید ابن الرضا نے وزارتِ دفاع کے قائم مقام سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

    اتوار کو پارلیمان کی جانب سے مہرداد اخلاقی کو نیا وزیرِ دفاع مقرر کرنے کی منظوری کے بعد یہ عبوری انتظام ختم ہو گیا۔

    مجید ابن الرضا اس سے قبل وزارتِ دفاع کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ اگست میں عزیز ناصر زادہ کی تجویز اور اس وقت اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی منظوری سے انھیں نائب وزیرِ دفاع مقرر کیا گیا تھا۔

  9. یمن میں تازہ لڑائی کے باعث ڈھائی لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں: اقوامِ متحدہ

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اقوامِ متحدہ نے منگل کو بتایا ہے کہ یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باعث اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

    عالمی ادارے نے تعز شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں پناہ لینے والے افراد کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان علاقوں تک رسائی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا کہ حوثیوں نے تعز سے عدن جانے والا واحد راستہ بند کر کے انسانی امداد کی ترسیل اور ضروری اشیا تک رسائی روک دی ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے میں ہیں۔

    انھوں نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر تعز میں امداد کی فراہمی کی اجازت دے۔

    وولکر ترک کے مطابق صوبے بھر میں اب تک 32 شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں 14 بچے اور نو خواتین شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ تعز کی صورتِ حال خاص طور پر تشویش ناک ہے، کیونکہ حالیہ تشدد کے باعث بے گھر ہونے والے افراد میں سے تقریباً نصف نے اسی شہر میں پناہ لے رکھی ہے۔

  10. برطانیہ کا سعودی عرب کے دفاع کے لیے رائل ایئر فورس کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان

    MOD
    ،تصویر کا کیپشنبرطانیہ کا حوثیوں کے حملوں کے پیشِ نظر سعودی عرب کے دفاع کے لیے رائل ایئر فورس کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان

    برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کے بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے پیشِ نظر سعودی عرب کے دفاع کے لیے رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرے گی۔

    اس دفاعی مشن کا مقصد سعودی شہروں اور بنیادی ڈھانچے کو ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دینا ہے۔ اس اقدام کی منظوری برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے دی ہے۔

    یہ فیصلہ سعودی دارالحکومت ریاض اور ملک کے ساحلی علاقوں میں توانائی کی تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔

    برطانوی وزیرِ دفاع ویس سٹریٹنگ نے منگل کو ایک تحریری بیان میں کہا کہ ’یہ طیارے دفاعی کردار ادا کریں گے اور حوثیوں پر حملے نہیں کریں گے۔‘

    حوثی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ سعودی عرب اس حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ حوثیوں نے سنہ 2014 میں دارالحکومت صنعا سے حکومت کو بے دخل کر دیا تھا۔

    سعودی حکام کے مطابق گذشتہ ہفتے تک حوثیوں کے مملکت کے ہوائی اڈوں پر حملوں میں 19 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ 10 اکتوبر کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملے میں 13 افراد ہلاک اور 308 زخمی ہوئے تھے۔ یہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب پر ہونے والا مہلک ترین حملہ تھا۔

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    حوثی مغربی یمن میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں، بشمول دارالحکومت صنعا، پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔

    رواں ہفتے کے آغاز میں یمن کے وسطی صوبے شبوا میں ایک فوجی کیمپ پر حوثیوں کے میزائل حملے میں 70 سے زیادہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی مسلح افواج کے ترجمان کے مطابق حوثیوں نے عتق شہر کے قریب العلم کیمپ پر تین بیلسٹک میزائل داغے۔ حوثیوں کے فوجی ترجمان نے کہا کہ ان کا ہدف ’سعودی دشمن کے ٹھکانے‘ تھے۔

    شمال مغربی یمن میں حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق تین ستمبر سے سعودی فضائی اور توپ خانے کے حملوں میں کم از کم 141 افراد ہلاک اور 395 زخمی ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب، یمن کی حکومتی وزارتِ صحت نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ چھ اگست سے ملک بھر میں جاری تنازع کے دوران کم از کم 1,282 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  11. غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے اور فائرنگ سے 17 سالہ لڑکے سمیت چار فلسطینی ہلاک

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق غزہ میں منگل کو اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں 17 سالہ لڑکے سمیت کم از کم چار فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

    طبی عملے کے مطابق غزہ شہر میں ایک اپارٹمنٹ پر فضائی حملے میں اکرم یاسین اور ان کی اہلیہ دینا ابو بکر ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ انھوں نے علاقے میں ایک مسلح شخص کو نشانہ بنایا، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

    جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں قیزان النجار محلے کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے ایک 17 سالہ لڑکا ہلاک ہوا، جبکہ غزہ شہر کے مشرقی علاقے الزیتون میں بھی فائرنگ سے ایک فلسطینی ہلاک ہوا۔

    ہلاک ہونے والے ایک شخص کے بھائی محمود یاسین نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود جنگ جاری ہے، ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے اور گولہ باری بھی نہیں رکی۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ ہتھیار جمع کر رہی ہے اور حملے کر رہی ہے۔ حماس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔

    غزہ کے محکمۂ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں اور فائرنگ میں کم از کم 1,500 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے میں غزہ میں مسلح افراد کے حملوں میں اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

  12. اسرائیلی طیاروں کے جنوبی لبنان کے تین قصبوں پر فضائی حملے

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنلبنان کے جنوب میں واقع تین قصبوں پر ایک طویل عرصہ سے اسرائیلی طیاروں کی بمباری جاری ہے۔ (فائل فوٹو)

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے قصبے القنطرہ کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے۔

    ایجنسی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے قصبے کفرتبنین کے مضافات اور ضلع نبطیہ کے قصبے نبطیہ الفوقا پر بھی فضائی حملے کیے ہیں۔

    تاحال ان حملوں میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی نے بھی 18 اکتوبر کو جنوبی لبنان کے علاقے القنطرہ میں اسرائیلی حملوں کی اطلاع دی تھی۔ اس کے مطابق حملوں کے بعد قصبے کے مختلف مقامات سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا، تاہم اس وقت بھی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

    لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے اور گولہ باری امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی کے فریم ورک کے باوجود جاری ہیں۔

    خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق 26 جون کو طے پانے والے اس معاہدے میں لبنانی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا اور ان علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی شقیں شامل ہیں۔

  13. بریکنگ, سعودی عرب کا ریاض کی جانب داغا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا ہے۔

    سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بتایا کہ یہ میزائل دارالحکومت ریاض کی جانب داغا گیا تھا۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے ریاض میں دو دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی تھی۔

    سعودی عرب کے ادارۂ شہری دفاع نے خطرے سے متعلق انتباہ جاری کرنے کے چند منٹ بعد اعلان کیا کہ ’خطرہ ٹل گیا ہے۔‘

  14. بریکنگ, آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے پر دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگنے کی اطلاعات ہیں: ایرانی پاسدارانِ انقلاب

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں مبینہ خلاف ورزی کرنے والے دو تیل بردار جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد ’آگ کی لپیٹ میں آ کر رک گئے‘ ہیں۔

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں جہاز آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک ’غیر قانونی گزرگاہ‘ میں اس کی بحریہ کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے ٹکرائے جس کی وجہ سے ان میں آگ بھڑک اُٹھی۔

    پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے خبردار کیا ہے کہ ’بارودی سرنگوں سے بھری گزرگاہ سے گزرنا غیر قانونی ہے اور اس کا نتیجہ خلاف ورزی کرنے والوں کے اثاثوں کے جلنے کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔‘

    تاہم برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی جیسے اداروں نے، جو بحری جہازوں کی حفاظت کی نگرانی کرتے ہیں، ان دھماکوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔

    دوسری جانب حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع میں شدت اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر مسلسل حملوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    آج کاروبار کے ابتدائی اوقات میں برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت پانچ ماہ میں پہلی بار 111 ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

  15. فیلڈ مارشل عاصم منیر ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے تہران پہنچ گئے

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے پریس ٹی وی اور بی بی سی فارسی کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ دوراہ ایران کے لیے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی ایران پہنچے ہیں۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    جنگ بندی کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران کا یہ پانچواں سرکاری دورہ ہے۔

    اس سے قبل دو ستمبر کو اپنے دورۂ ایران کے دوران انھوں نے صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی، پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور وزیرِ داخلہ سکندر مومنی سے ملاقاتیں کی تھیں۔

    عاصم منیر کی آمد سے ایک گھنٹہ قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اس ملاقات کا بنیادی مقصد ’دوطرفہ تعلقات اور مشترکہ تعاون کو مضبوط بنانا‘ ہے۔

  16. ٹرمپ کا شی جن پنگ اور پوتن کے ساتھ سہ فریقی اجلاس پر آمادگی کا اعلان

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی میڈیا کی جانب سے خبر دیے جانے کے بعد کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین جنگ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے امریکہ اور چین کے صدور کے ساتھ سہ فریقی اجلاس کی تجویز دی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایسے اجلاس کے لیے تیار ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق تاہم، انھوں نے زور دیا کہ اس ملاقات کا محور جوہری ہتھیاروں کی تخفیف ہوگا، نہ کہ یوکرین کا معاملہ۔ امریکی صدر نے کہا کہ یوکرین کے معاملے پر روس کا مؤقف ’قابلِ قبول‘ رہا ہے۔

    وال سٹریٹ جرنل کی جانب سے پوتن کی اس تجویز سے متعلق رپورٹ نے یورپ میں تشویش پیدا کی ہے، جبکہ کیئف کی جانب سے بھی اس کی مذمت کی گئی ہے۔

    ٹرمپ نے ایک بار پھر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ کوئی اور شخص کیئف کی جانب سے مذاکرات کرے۔

  17. دروازے کھٹکھٹانے کا دور ختم ہوا، اب ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا: اسماعیل بقائی

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خبردار کیا ہے کہ ’ایران کسی بھی حملے کا جواب دیے بغیر نہیں چھوڑے گا۔‘

    ایک پریس کانفرنس میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ نے ایران کو پیغام بھیجا ہے کہ وہ کوہِ کلنگ پر امریکی حملے کی صورت میں جواب نہ دے، تاکہ ’صورتحال معمول پر آنے تک کشیدگی کم ہو سکے‘۔

    اس کے جواب میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’ہم عملی طور پر دکھا چکے ہیں کہ کسی بھی ضرب کا جواب دیے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ اگر ہمارا حملہ زیادہ طاقتور نہ بھی ہو تو انھیں یقیناً اتنی ہی شدت سے جواب دیا جائے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ کی جانب سے کوہِ کلنگ پر حملہ کرنے اور ایران کی طرف سے جواب نہ دینے کی بات محض ایک تصور اور الزام ہے۔‘ ان کے بقول ’اب دروازے کھٹکھٹانے کا دور ختم ہو چکا ہے۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک بار پھر ایران میں کوہِ کلنگ کی تنصیب پر حملے کی دھمکی دی ہے۔

    کوہِ کلنگ، ایران کی جوہری تنصیب نطنز کے قریب واقع ایک کمپلیکس ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، اس کمپلیکس میں جدید سینٹری فیوجز تیار اور اسمبل کیے جاتے ہیں۔ تاہم، بعض مغربی ذرائع کا خیال ہے کہ ایران وہاں ایک غیر اعلانیہ جوہری افزودگی کی تنصیب قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہو سکتا ہے۔

  18. جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز کی بہن کی جانب سے دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

    شوکت نواز میر

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کے کیس میں دائر تین درخواستوں پر بحث مکمل ہو گئی جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    شوکت نواز میر کی بہن یاسمین میر کی جانب سے دائر ان درخواستوں پر ان کے وکیل شاہد علی اعوان نے دلائل دیے، جبکہ حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

    شاہد علی اعوان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ عدالت میں تین درخواستیں پیش کی گئی تھیں۔ ان کے مطابق پہلی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شوکت نواز میر کو تھانہ دھیرکوٹ کے ایس ایچ او کی موجودگی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    یاسمین میر کے وکیل کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں بھی ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں شوکت نواز میر کو لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس بنیاد پر عدالت سے استدعا کی گئی کہ ایس ایچ او تھانہ دھیرکوٹ کو طلب کرکے وضاحت لی جائے کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والا واقعہ کیا تھا اور آیا شوکت نواز میر کو پولیس نے گرفتار کیا تھا یا نہیں۔

    وکیل کے مطابق دوسری درخواست میں عدالت سے ایک یو ایس بی میں محفوظ مواد کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت طلب کی گئی۔ ان کے بقول، یو ایس بی میں شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری کی ویڈیو اور اُس وقت کے وزیرِ قانون میاں عبدالوحید کا مبینہ بیان موجود ہے، جس میں انھوں نے شوکت نواز میر کو دھیرکوٹ سے گرفتار کیے جانے کی کارروائی کو درست قرار دیا تھا۔

    شاہد علی اعوان نے بتایا کہ اگر عدالت ویڈیو شواہد کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دیتی ہے تو ان کی فرانزک جانچ کروانے کی استدعا بھی کی جائے گی۔

    ان درخواستوں پر حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل آفس کے وکلا نے اعتراضات اٹھائے تھے تاہم شاہد علی اعوان کے مطابق عدالت نے یہ اعتراضات مسترد کر دیے۔

    شاہد علی اعوان کے مطابق ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی تیسری درخواست میں یاسمین میر کے بھائی گل نواز میر کو بھی مقدمے میں درخواست گزار بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ تینوں درخواستوں پر آج بحث مکمل ہو گئی ہے اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ان کے مطابق جمعے کو آئندہ تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

    گذشتہ ماہ کے اواخر میں بی بی سی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق کشمیر حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ شوکت نواز میر اس وقت ریاستی تحویل میں نہیں ہیں اور حکومت کے مطابق بھی وہ زیر التوا مقدمات کی وجہ سے مفرور اور روپوش ہیں۔

  19. میزائل اور فوجی ساز و سامان کی سمگلنگ کے لیے ’روایتی بحری ذرائع‘ استعمال کرنا بند کریں: سعودی فوجی اتحاد کا حوثیوں کو انتباہ

    Houthi fighter

    یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مدد کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے حوثی تحریک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسلحہ، میزائل اور فوجی ساز و سامان کی سمگلنگ کے لیے ’روایتی بحری ذرائع‘ استعمال نہ کرے۔

    عسکری اتحاد کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا ’یمن کی سلامتی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور شہریوں کی جانوں اور ان کی حفاظت کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔‘

    سعودی اتحاد کی قیادت نے ’تمام بحری جہازوں کے مالکان سے اپیل کی کہ وہ سمندر کے راستے یمن کے ساحلوں تک اسلحہ، میزائل اور فوجی ساز و سامان کی سمگلنگ میں حوثیوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کریں تاکہ ان کی جانوں اور املاک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔‘

    عسکری اتحاد کی جانب ایسی ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان میں حوثیوں کو اسلحہ پہنچانے میں ملوث کشتیوں کو نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق سمگلنگ کی ان کوششوں میں مبینہ طور پر منظم جرائم پیشہ گروہ ملوث ہیں۔

  20. فیلڈ مارشل عاصم منیر آج تہران کا دورہ کریں گے، ایرانی میڈیا کا دعویٰ

    Asim Munir

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر منگل کے روز ایران کا دورہ کریں گے۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایک سرکاری ذریعے نے ارنا کے نامہ نگار کو بتایا ہے کہ پاکستانی مسلح افواج منگل 20 اکتوبر 2026 کو ایران کا دورہ کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستانی آرمی چیف تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتوں کے دوران دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور خطے کی تازہ پیش رفت پر بات چیت کریں گے۔

    اس سے قبل بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی ایک پاکستانی عہدیدار اور ایرانی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے ایسا ہی دعویٰ کیا تھا۔

    تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    فیلڈ مارشل کے ایران دورے کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب پاکستان کی ایران کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے ہونے والی تجارت چار روز سے معطل ہے۔ اس کے نتیجے میں بلوچستان کے راستے دونوں ہمسایہ ممالک میں ہونے والی تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور سرحد کے دونوں اطراف سینکڑوں مال بردار کنٹینرز پھنس گئے ہیں۔