ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ 5 (پنجم) 89 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔ انھیں گزشتہ ہفتے خون کی ایک نایاب بیماری کی تشخیص کے بعد علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
اوسلو میں شاہی محل نے اس حوالے سے بیان میں کہا کہ وہ جمعے کو مقامی وقت کے مطابق 06:35 پر اوسلو کے نیشنل ہسپتال میں پُرسکون طور پر وفات پا گئے۔
اس خبر کے اعلان کے ساتھ ہی محل کی چھت پر نصب شاہی پرچم سرنگوں کر دیا گیا۔
ان کی وفات سے پہلے شاہی خاندان کے ارکان نے بادشاہ سے عیادت کی جبکہ لوگوں نے محل کے باہر پھول رکھے تھے۔
ہیرالڈ 14ویں صدی کے بعد ناروے میں پیدا ہونے والے ناروے کے پہلے بادشاہ تھے۔ ان کے بعد ان کے 53 سالہ بیٹے ہاکون نے ان کی جگہ سنبھالی ہے جس کے بعد آج وہ حکومت کے ساتھ ریاستی کونسل کا ایک غیرمعمولی اجلاس منعقد کریں گے۔
ان کے لواحقین میں ان کی اہلیہ ملکہ سونیا، ان کی بیٹی شہزادی مارتھا لوئیز، ان کے بیٹے اور نئے بادشاہ ہاکون، اور چھ پوتے پوتیاں شامل ہیں۔
برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ کی وفات پر اپنی انتہائی دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
سویڈن کے بادشاہ کارل شانزدہم گستاف نے اپنے تعزیتی پیغام میں انھیں ’میرے، میرے خاندان اور سویڈن کے ایک اچھے دوست‘ کے طور پر یاد کیا اور ساتھ ہی ہاکون کے لیے ’کامیابی اور خوش بختی‘ کی دعا کی۔
شاہی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ سادہ مزاج، قابل احترام اور عوام میں بے حد محبوب تھے، 35 برس تک تخت پر فائز رہنے کے بعد ہیرالڈ کو ایک مقبول اور اصلاحات لانے والی شخصیت کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنھوں نے بادشاہت کو جدید بنایا۔
مبصرین نے ہیرالڈ کو قوم کا سرپرست اور عوامی بادشاہ قرار دیا۔ یہ لقب ان کے والد بادشاہ اولاو پنجم کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
حالیہ برسوں میں ہیرالڈ اور ان کے خاندان کو صحت کے مسائل اور چند تنازعات کا بھی سامنا رہا۔
ان میں خاص طور پر ان کی بہو میتے ماریت کے جیفری ایپسٹین سے تعلقات اور ان کے سوتیلے پوتے ماریئس بورگ ہوئیبی کے خلاف مبینہ ریپ کے مقدمے سے متعلق معاملات شامل ہیں۔
مورخ اور ٹی وی 2 کے شاہی امور کے نامہ نگار اولے یورگن شولسرود ہانسن نے بی بی سی کو بادشاہ ہیرالڈ کے حوالے سے بتایا کہ ان کے دورِ حکومت میں ناروے کی بادشاہت زیادہ مساوات پسند اور شفاف بنی۔
جب ناروے کی قومی فٹبال ٹیم پہلی بار ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے واپس لوٹی تو ہیرالڈ نے شاہی محل میں ان کا استقبال کیا۔
دوسری عالمی جنگ کے آغاز میں جب ایڈولف ہٹلر نے ناروے پر حملے کا حکم دیا تو ہیرالڈ کی عمر صرف تین برس تھی۔
ہیرالڈ کی والدہ اپنے بچوں کے ساتھ سرحد پار کر کے سویڈن چلی گئیں اور بعد میں وہ امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کی دعوت پر امریکہ گئے۔
شہزادہ ہیرالڈ جنگ کے اختتام پر اپنے خاندان کے ساتھ ناروے واپس آئے جہاں انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی اور لازمی فوجی خدمت بھی انجام دی۔
روایت سے ہٹ کر عام شہری خاتون سے شادی
ایک عام شہری خاتون سے شادی کر کے روایت سے ہٹ کر قدم اٹھایا اور ناروے کے مشکل ترین اوقات میں اتحاد کی علامت بنے رہے۔
وہ 1957 میں ولی عہد بنے اور 1960 سے 1962 تک آکسفورڈ کے بیلیول کالج میں سماجی علوم، تاریخ اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی۔
ان کی ملاقات ایک کاروباری شخصیت کی بیٹی سونیا ہیرالڈسن سے ایک تقریب میں ہوئی، لیکن ولی عہد کو ان سے شادی کی اجازت ملنے کے لیے نو سال انتظار کرنا پڑا۔
ان کے والد، بادشاہ اولاو، ہمیشہ یہ امید رکھتے تھے کہ وہ کسی یورپی شہزادی سے شادی کریں گے۔
بالآخر انھوں نے اپنے والد سے کہہ دیا کہ اگر انھیں سونیا سے شادی کی اجازت نہ ملی تو وہ ساری زندگی غیر شادی شدہ رہیں گے۔
آخرکار ان کے والد نے رضامندی دے دی، اور اس جوڑے کی شادی 29 اگست 1968 کو اوسلو کیتھیڈرل میں ہوئی۔