تبت میں لاپتا افراد کے زندہ ملنے کی امیدیں معدوم، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ, سٹیفن میکڈونل، بی بی سی کے نامہ نگار برائے چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تبت کے حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں کو زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سرحد کے تبتی علاقے سے آنے والی خبریں نہایت تشویش ناک ہیں۔
شیگاتسے کے حکام کے مطابق امدادی ٹیموں کو اب تک مزید کوئی زندہ بچ جانے والا شخص نہیں ملا۔ ریسکیو اہلکار کئی روز سے تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ہنگامی صورتحال کے پانچویں روز لاپتا افراد کے زندہ ملنے کی امیدیں بہت کم ہوتی جا رہی ہیں۔
546 افراد اب بھی لاپتا ہیں، جن میں تقریباً نصف غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ اس وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تبت میں ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب انجینیئرز تباہی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے تک سڑک کا رابطہ بحال کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ شدید سیلابی ریلے اور مٹی کے تودوں نے علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو بری طرح نقصان پہنچایا تھا، جس کے باعث کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
تاہم صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ اگرچہ سڑک کا رابطہ جلد بحال ہو جائے، لیکن سیکڑوں لاپتا افراد کے لیے اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔


























