آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو , روس اور یوکرین کے ایمرجنسی وارننگ سسٹمز پر سائبر حملے، جوہری ہتھیاروں سے لیس ڈرون بھیجے جانے کے ’جعلی الرٹ‘

روس اور یوکرین دونوں نے کہا ہے کہ ان کے ہنگامی انتباہی نظاموں کو سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ روس کی ایمرجنسی ایپ پر ایک جعلی پیغام بھیجا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یوکرین نے روس کے تمام علاقوں کی طرف جوہری ہتھیاروں سے لیس ڈرون بھیج دیے ہیں۔

خلاصہ

  • روس اور یوکرین کی ایمرجنسی الرٹ ایپس مبینہ طور پر ہیک ہو گئی ہیں۔ روس کی ایمرجنسی ایپ پر ایک جعلی پیغام بھیجا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یوکرین نے روس کے تمام علاقوں کی طرف جوہری ہتھیاروں سے لیس ڈرون بھیج دیے ہیں۔
  • ایران میں پاکستان کے سفارتخانے نے پاکستان کے ایران میں سفیر عمران احمد صدیقی پر مبینہ حملے کے بارے میں گردش کرنے والی بعض خبروں کا نوٹس لیا ہے۔
  • خلیجی تعاون کونسل (GCC) نے قطر کے مائع گیس بردار جہاز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے 'کشیدگی میں خطرناک اضافہ' قرار دیا ہے۔
  • ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس کے شعبۂ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر مبینہ طور پر 'غیر مجاز راستے' سے گزر رہے تھے، جہاں وہ سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے اور دھماکوں کا شکار ہو گئے۔

لائیو کوریج

  1. سعودی حملوں میں الحدیدہ کی تیل تنصیبات اور بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا: حوثیوں کا دعویٰ

    یمن میں حوثیوں نے پیر کو دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے بحیرۂ احمر کے ایک اہم بندرگاہی علاقے اور صوبہ الحدیدہ میں واقع ایک تیل تنصیب پر فضائی حملے کیے گئے، جن میں سات افراد زخمی ہوئے۔

    حوثیوں کی وزارتِ صحت کے ترجمان انیس الاصبحی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ سعودی قیادت والے اتحاد کے حملے میں راس عیسیٰ بندرگاہ پر چار شہری زخمی ہوئے، جبکہ باجل کے علاقے میں ایک تیل تنصیب پر حملے میں مزید تین افراد زخمی ہوئے۔

    انہوں نے کہا کہ "تیل کی تنصیبات اور اہم بندرگاہوں پر بار بار حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور یمن میں جنگی جرائم کی فہرست میں اضافہ کرتے ہیں، جن میں شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔"

    حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے اس سے قبل خبر دی تھی کہ سعودی عرب نے راس عیسیٰ بندرگاہ پر ایک گھاٹ اور ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔

    الحدیدہ حوثیوں کے زیرِ کنٹرول سب سے بڑی بندرگاہ ہے اور اس کے ذریعے خوراک اور انسانی امداد کا بڑا حصہ حوثیوں کے زیرِ انتظام علاقوں تک پہنچتا ہے۔

    راس عیسیٰ بندرگاہ، جو الحدیدہ شہر کے شمال میں واقع ہے، تیل کی درآمد اور ذخیرہ کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔

    حوثی ذرائع ابلاغ نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ اتوار کو الحدیدہ صوبے میں واقع یونیورسٹی آف الحدیدہ کے میڈیکل کالج پر بھی حملے کیے گئے۔

    دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے حوثیوں کے زیرِ استعمال "اہم وسائل کو ناکارہ بنانے کے لیے ایک درست اور ہدفی کارروائی" انجام دی ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے مطابق یمن میں لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد اب تک 1,600 سے زیادہ افراد ہلاک اور 3 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔

  2. عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں نسبتاً کمی

    عالمی منڈیوں میں پیر کے روز کاروبار کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں نسبتاً کمی دیکھی گئی۔

    شمالی سمندر کے برینٹ خام تیل کی قیمت پیر کی صبح کی تجارت میں 110 ڈالر سے نیچے آ گئی اور تقریباً 109 ڈالر 70 سینٹ فی بیرل پر خرید و فروخت ہوئی۔

    یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی جب قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے اور مذاکراتی کوششیں جاری ہیں، اگرچہ اتوار کو قطر کی مائع گیس لے جانے والے ایک جہاز اور پیر کی صبح ایک اور آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے عالمی توانائی کی منڈی کو بدستور تشویش میں مبتلا رکھا ہے۔

    یہ صورتحال امریکہ میں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے صرف ایک دن پہلے سامنے آئی ہے۔

  3. جعلی ہنگامی پیغامات میں یوکرین کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے لیس ڈرون بھیجے جانے کی وارننگ شامل

    روس اور یوکرین کی ایمرجنسی الرٹ ایپس مبینہ طور پر ہیک ہو گئی ہیں۔

    روس کی ایمرجنسی ایپ پر ایک جعلی پیغام بھیجا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یوکرین نے روس کے تمام علاقوں کی طرف جوہری ہتھیاروں سے لیس ڈرون بھیج دیے ہیں۔

    اس پیغام میں لوگوں کو کہا گیا کہ وہ تین ہفتوں کا کھانے پینے کا سامان جمع کریں اور محفوظ جگہوں پر چلے جائیں۔

    دوسری جانب یوکرین کی فضائی خطرے سے خبردار کرنے والی ایپ پر بھی جعلی پیغامات نظر آئے۔

    یوکرین کے حکام نے اس ہیکنگ کا الزام روس پر لگایا ہے اور شہریوں سے کہا ہے کہ ایپ میں آنے والے کسی بھی غیر معمولی یا مشکوک پیغام کو نظر انداز کریں۔

    چند گھنٹے بعد روس نے بھی اعلان کیا کہ اس کی ایمرجنسی الرٹ ایپ بڑے سائبر حملے کا نشانہ بنی ہے، تاہم اس نے کسی ذمہ دار فریق کا نام نہیں بتایا۔

    دونوں ممالک میں ان جعلی الرٹس نے لوگوں میں تشویش پیدا کر دی، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اصل ہنگامی انتباہی نظام بدستور کام کر رہا ہے۔

    ادارے نے ان جعلی الرٹس کی تصاویر بھی جاری کیں جو یوکرین کی فضائی خطرے سے آگاہ کرنے والی ایپ پر ظاہر ہوئی تھیں۔

  4. پاکستانی سفیر پر مبینہ ’حملے‘ کی اطلاعات پر ایران میں پاکستانی سفارتخانے کی وضاحت

    ایران میں پاکستان کے سفارتخانے نے پاکستان کے ایران میں سفیر عمران احمد صدیقی پر مبینہ حملے کے بارے میں گردش کرنے والی بعض خبروں کا نوٹس لیا ہے۔

    سفارتخانے نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ رپورٹس بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔

    تہران میں پاکستانی سفارتخانے نے پاکستان کے سفیر عمران احمد صدیقی سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے ایک بیان کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور دیگر حلقوں میں ایران میں پاکستان کے سفیر عمران احمد صدیقی سے متعلق بعض رپورٹس کا نوٹس لیا گیا ہے۔

    سفارتخانے نے زور دے کر کہا کہ شائع کی گئی یہ رپورٹس مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور ان میں کسی قسم کی سچائی یا اعتبار موجود نہیں ہے۔

    حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا کے متعدد اکاؤنٹس پر ایک دھندلی ویڈیو شیئر کی جا رہی تھی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ تہران میں پاکستان کے سفیر پر حملہ کیا گیا ہے۔ تاہم پاکستانی سفارتخانے نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انھیں غلط اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

  5. روس اور یوکرین دعویٰ کہ ان کے ایمرجنسی وارننگ سسٹمز پر سائبر حملے کیے گئے

    روس اور یوکرین دونوں نے کہا ہے کہ ان کے ہنگامی انتباہی نظاموں کو سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    ماسکو میں روسی وزارتِ ہنگامی حالات نے کہا کہ اس کے الرٹ ایپ پر ہونے والا ’بڑے پیمانے کا سائبر حملہ‘ حملہ آوروں کو جعلی اطلاعات بھیجنے کے قابل بنا سکتا تھا۔ تاہم وزارت نے واضح کیا کہ عوامی انتباہی نظام معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔

    یہ پیش رفت اس واقعے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے جب یوکرین کی فضائی حملوں سے آگاہ کرنے والی ایپ نے ایک بظاہر ہیکنگ کے بعد غلط انتباہات جاری کر دیے تھے۔

    بی بی سی کے یوکرین رپورٹر عبدالجلیل عبدالرسولوف کے مطابق، یہ غلط انتباہات یوکرین کے محاذی علاقے خرسون میں مقامی جنگ بندی کے خاتمے سے صرف چند منٹ پہلے جاری کیے گئے تھے۔

    دونوں واقعات نے جنگ کے دوران سائبر سکیورٹی اور عوامی انتباہی نظاموں کی حفاظت کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے، کیونکہ ایسے حملے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور ہنگامی حالات میں غلط معلومات پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    جنگ بندی ختم ہونے سے چند منٹ پہلے جھوٹے انتباہات جاری

    یوکرین کے شہر اولیشکی، جو 2022 سے روسی قبضے میں ہے، میں جنگ بندی کے خاتمے سے صرف چند منٹ قبل جعلی انتباہی پیغامات جاری کیے گئے۔ یہ انتباہات ایک مبینہ سائبر حملے کے بعد سامنے آئے تھے۔

    چھ روزہ جنگ بندی کے دوران سینکڑوں افراد کو اولیشکی سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا موقع ملا۔ یہ معاہدہ امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ اور پوپ لیو چہاردہم کی مدد سے طے پایا تھا۔

    روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد یہ سب سے طویل جنگ بندی قرار دی جا رہی ہے۔

    تاہم امکان ہے کہ اولیشکی میں دوبارہ لڑائی شروع ہو جائے، کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں کہ انھوں نے جنگ بندی کے دوران اپنی محاذی پوزیشنوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔

    اس کے باوجود اس انسانی ہمدردی کے مشن نے کچھ امید بھی پیدا کی ہے۔

    کیئو کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ’مستقل حل‘ کی جانب لے جا سکتی ہے اور ’امن عمل میں مزید اقدامات کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔‘

    روس کی جانب سے اولیشکی آپریشن کی رابطہ کار یانا لانتراتوا نے کہا کہ دونوں ممالک ’باقاعدہ انسانی ہمدردی کے مشنز‘ جاری رکھنے پر متفق ہوئے ہیں۔

    تاہم روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان کے مطابق کریملن ایسے انسانی مشنز کو امن مذاکرات سے الگ معاملہ سمجھتا ہے۔

  6. خلیجی تعاون کونسل کی قطر کے گیس بردار جہاز پر حملے کی مذمت

    خلیجی تعاون کونسل (GCC) نے قطر کے مائع گیس بردار جہاز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’کشیدگی میں خطرناک اضافہ‘ قرار دیا ہے۔

    کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے ایک بیان میں کہا کہ ایسے حملے علاقائی استحکام اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے خطرہ ہیں۔

    قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعے کی شام گیس بردار جہاز المعیدہ خلیج فارس سے گزر رہا تھا جب اسے ایک ’نامعلوم شے‘ نے نشانہ بنایا۔

    البدیوی نے خبردار کیا کہ تیل اور گیس بردار جہازوں پر حملے عالمی توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ، منڈیوں میں عدم استحکام اور سمندری ماحول کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

  7. آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر پھٹ گئے: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس کے شعبۂ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر مبینہ طور پر ’غیر مجاز راستے‘ سے گزر رہے تھے، جہاں وہ سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے اور دھماکوں کا شکار ہو گئے۔

    بیان کے مطابق ان میں سے ایک جہاز ایک ’بہت بڑا آئل ٹینکر‘ تھا، جو شدید دھماکے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا اور جل رہا ہے۔

    سپاہ پاسداران نے اپنے سابقہ بیانات کی طرح ان جہازوں پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کر رکھے تھے اور وہ ’خفیہ طور پر‘ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے چند گھنٹے قبل ایک جہاز کو ایک ’نامعلوم شے‘ کے نشانہ بننے کی اطلاع دی تھی۔

    عالمی بحری آمدورفت کی نگرانی کرنے والے ادارے وینگارڈ کے مطابق متاثرہ جہازوں میں سے ایک پاناما کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا۔ دھماکے اور آگ لگنے کے بعد اس کا کچھ حصہ پانی میں ڈوب گیا ہے۔

    دوسری جانب، حالیہ ہفتوں میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا رہے ہیں۔ امریکی فوج کا موقف ہے کہ ایران ان جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کر رہا ہے۔

  8. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • برطانیہ میں فارمیسیز کی نمائندہ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث بعض اہم ادویات کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس سے ادویات کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
    • پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان سرحدی پوسٹوں سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، جس کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد افغان سرحدی پوسٹوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔
    • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران مذاکرات اور سفارتی معاملات میں اپنی پہلے سے اعلان کردہ سات شرائط پر بدستور قائم ہے۔ واضح رہے کہ ایران کی امریکہ کے لیے سات شرائط میں پابندیوں کا خاتمہ، منجمد فنڈز کی رہائی اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی سمیت دیگر نکات شامل تھے۔
    • وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے آئل ریفائنریز کو ہدایت کی ہے کہ درآمدی قیمت اور ریفائنری کی سطح پر مقررہ قیمت کے درمیان فرق سرکاری خزانے میں جمع کرایا جائے، جبکہ اس سے حاصل ہونے والا مالی فائدہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کی صورت میں عوام کو منتقل کیا جائے گا۔
    • امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدوں اور سکیورٹی وعدوں کا پابند ہے اور آئندہ بھی ان پر عمل کرتا رہے گا، خاص طور پر دفاعی نوعیت کے وعدوں پر۔