روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی شہر اولیشکی سے نکالے گئے شہری بیلاروس پہنچ گئے ہیں اور حکام کے مطابق توقع ہے کہ وہ سنیچر کے روز بعد میں یوکرین واپس پہنچ جائیں گے۔
محاذِ جنگ کے قریب واقع اس شہر کے رہائشی طویل عرصے سے خوراک، پینے کے پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم تھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق حالات اس قدر خراب ہو گئے تھے کہ بعض افراد زندہ رہنے کے لیے باغات میں اُگنے والی جڑی بوٹیاں پکا کر کھانے پر مجبور تھے۔
رہائشیوں کو جمعے کے روز ایک مقامی جنگ بندی کے دوران اولیشکی سے نکالا گیا۔ یہ جنگ بندی امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کی کوششوں سے طے پائی تھی۔
بیلاروس کی سرکاری میڈیا اور ایک سینیئر یوکرینی عہدیدار کے مطابق انخلا کے بعد شہریوں کو لے جانے والے طیارے ہفتے کی صبح بیلاروس کے شہر گومیل پہنچے۔
یوکرین کے سینیئر عہدیدار ڈیوڈ آراخامیا نے بتایا کہ چوتھا اور آخری طیارہ بھی گومیل پہنچ چکا ہے اور چند گھنٹوں میں تمام انخلا کیے گئے یوکرینی شہری یوکرینی وفد کے ہمراہ اپنے ملک پہنچ جائیں گے۔
بیلاروس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بیلٹا کے مطابق اولیشکی کے رہائشیوں کو لے جانے والا بسوں کا قافلہ گومیل ایئرپورٹ سے یوکرینی سرحد کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔
منگل کو صوبہ خیرسون کے محاذ پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی نافذ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں چار سال بعد پہلی بار اس علاقے میں نسبتاً پُرامن دن دیکھنے میں آئے۔ یہ جنگ بندی روس کے فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد ہونے والی طویل لڑائی کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
اولیشکی میں حالات اس قدر سنگین ہو چکے تھے کہ نہ صرف شہر تک امدادی سامان پہنچانا انتہائی مشکل تھا بلکہ وہاں سے نکلنا بھی جان جوکھوں کا کام بن گیا تھا۔ شہر سے باہر جانے والے راستوں پر بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں جبکہ ڈرون حملوں کا بھی خطرہ موجود تھا۔
تین ہفتے قبل شہر سے فرار ہونے والے ایک شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ محفوظ مقام تک پہنچنے کے لیے اسے تقریباً 24 کلومیٹر کا سفر بارودی سرنگوں سے بھرے علاقے سے پیدل طے کرنا پڑا۔
جنگ بندی کے بعد شہر سے باہر جانے والی مرکزی سڑک کو بارودی سرنگوں سے پاک کیا گیا اور یہ جنگ بندی یکم نومبر اتوار تک برقرار رہے گی۔
رہائشیوں کو انخلا کے لیے چار گھنٹے کا وقت دیا گیا جس کے بعد 25 بسوں پر مشتمل قافلہ، جس میں 750 افراد کی گنجائش تھی، جمعے کی دوپہر شہر سے روانہ ہوا۔ محدود نقل و حرکت رکھنے والے افراد کے لیے ایمبولینسز کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔
تاہم اطلاعات کے مطابق سینکڑوں افراد نے شدید تباہی، گیس، بجلی اور پانی کی عدم دستیابی کے باوجود شہر میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔
جنگ سے قبل اولیشکی کی آبادی تقریباً 24 ہزار افراد پر مشتمل تھی، لیکن روس نے یوکرین پر مکمل حملے کے ابتدائی دنوں میں ہی اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔
یوکرین کے انسانی حقوق کے محتسب دیمترو لوبینیٹس نے کہا کہ جو لوگ شہر میں رہنے کا فیصلہ کریں گے، انھیں ضروری انسانی امداد فراہم کی جائے گی۔
اگرچہ یوکرینی فوجی مورچے اولیشکی سے صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں، تاہم انخلا کیے گئے شہریوں کو پہلے روسی کنٹرول والے علاقوں سے گزر کر جنوبی روس کے شہر اناپا جانا پڑا، جہاں سے انھیں ہوائی جہاز کے ذریعے گومیل منتقل کیا گیا۔
قریبی دریائے دنیپرو پر موجود پل تباہ ہو چکے ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق دریا کے کنارے کا بڑا حصہ بارودی سرنگوں سے آلودہ ہے اور وہاں نقل و حرکت خطرناک سمجھی جاتی ہے۔
دیمترو لوبینیٹس اور ان کی روسی ہم منصب یانا لانتراتوا جمعے کے روز مشترکہ طور پر اولیشکی پہنچے۔ وہ روس کے زیرِ قبضہ کریمیا کے شہر آرمیانسک سے روانہ ہوئے تھے۔
یوکرینی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد روسی قبضے والے علاقوں کا دورہ کرنے والے وہ پہلے اعلیٰ یوکرینی عہدیدار ہیں۔
اولیشکی میں جنگ بندی کے نفاذ کے لیے لوبینیٹس کو اپنی روسی ہم منصب کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ تعاون انسانی جانیں بچانے کے مقصد سے کیا۔
تاہم یوکرین میں بعض حلقوں نے اس پر تنقید کی ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ وہ ایسے وقت میں روسی نمائندے کے ساتھ کیوں نظر آئے جب روسی قبضے کے نتیجے میں شہر کے متعدد شہری ہلاک ہوئے اور باقیوں کی زندگی شدید مشکلات کا شکار ہوئی۔
دوسری جانب روس نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ جو لوگ اولیشکی چھوڑنا نہیں چاہتے ان کے لیے خوراک، ادویات، حفظانِ صحت کا سامان اور جنریٹروں کے لیے ایندھن سمیت ’درجنوں ٹن‘ امدادی سامان تیار کر لیا گیا ہے۔