آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

حوثیوں کا سعودی عرب پر انڈین شہریوں کو لے جانے والی کشتی کو نشانہ بنانے کا الزام

ریاض میں انڈین سفارتخانے کا ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر کہنا تھا کہ اسے یمن کے ساحل کے قریب ہونے والے واقعے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور وہ اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم کر رہا ہے۔‘ سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ وہ ’انڈین شہریوں کی سلامتی اور خیریت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کریں گے۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، برینٹ کروڈ 110.11 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا

    سعودی عرب پر بدھ کی رات مزید حملوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکہ کی جانب سے اپنے سفارتکاروں اور اُن کے اہلِخانہ کے انخلا کے فیصلے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 1.29 ڈالر، یعنی 1.2 فیصد اضافے، کے بعد 110.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 97 سینٹ، یعنی ایک فیصد اضافے کے ساتھ 98.12 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

    اس سے ایک روز قبل، یعنی بدھ کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً مستحکم رہی تھی۔

    امریکی حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی محکمہ خارجہ خطے میں واقع متعدد امریکی سفارتی مشنز سے بھی اہلِخانہ کے ارکان کو واپس بلانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

  2. اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے لانا ذکی نسیبہ یو اے ای کی باضابطہ امیدوار نامزد

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے اپنی وزیر مملکت لانا ذکی نسیبہ کو باضابطہ امیدوار نامزد کر دیا ہے۔

    یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور کو خطوط ارسال کرکے نامزدگی کا باضابطہ اعلان کیا۔

    لانا ذکی نسیبہ 2013 سے 2024 تک اقوام متحدہ میں یو اے ای کی مستقل مندوب رہ چکی ہیں۔ اس عرصے کے دوران انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نائب صدر اور یو این ویمن کے ایگزیکٹو بورڈ کی چیئرپرسن کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

    وہ 2022-2023 کی مدت کے دوران دو مرتبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر بھی رہ چکی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق سیکریٹری جنرل کی تقرری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کرتی ہے، تاہم اس کے لیے سلامتی کونسل کی سفارش ضروری ہوتی ہے۔

    لانا ذکی نسیبہ متحدہ عرب امارات کی ایک سینئر سفارت کار، سیاست دان اور بین الاقوامی امور کی ماہر ہیں۔ وہ اس وقت یو اے ای کی وزیرِ مملکت ہیں اور اس سے قبل سیاسی امور کی معاون وزیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

    لانا ذکی نسیبہ 2013 سے 2024 تک اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی مستقل مندوب رہیں۔ وہ اس منصب پر تعینات ہونے والی پہلی اماراتی خاتون تھیں۔ اقوام متحدہ میں اپنے طویل سفارتی کیریئر کے دوران انھوں نے مختلف بین الاقوامی معاملات، امن و سلامتی، انسانی امداد، پائیدار ترقی اور کثیرالجہتی سفارت کاری کے شعبوں میں اہم کردار ادا کیا۔

    انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نائب صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، جبکہ 2017 میں یو این ویمن کے ایگزیکٹو بورڈ کی صدر رہیں۔ اس کے علاوہ وہ اقوام متحدہ میں اصلاحاتی اقدامات اور سلامتی کونسل کی اصلاحات سے متعلق مذاکرات میں بھی فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

    2022 اور 2023 میں، جب متحدہ عرب امارات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن تھا، لانا ذکی نسیبہ نے دو مرتبہ سلامتی کونسل کی صدارت بھی کی۔ اس دوران انھوں نے بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق اہم اجلاسوں کی قیادت کی۔

    تعلیمی اعتبار سے لانا ذکی نسیبہ نے یونیورسٹی آف کیمبرج سے تاریخ میں بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں، جبکہ سکول آف اورینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز (SOAS)، یونیورسٹی آف لندن سے اسرائیلی اور یہودی ڈائسپورا سٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

    ان کے سفارتی تجربے، اقوام متحدہ کے نظام سے گہری واقفیت اور بین الاقوامی سطح پر طویل خدمات کے باعث انہیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے ایک اہم اور مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔

  3. عمران خان کی بہنوں کی بازیابی کی درخواست پر سماعت، ہوم سیکرٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ جیل کو عدالت پیش ہونے کا حکم

    بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی تین بہنوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے ہوم سیکرٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے جواب سمیت پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

    جسٹس عبہر گل خان نے شاہ ریز کی درخواست پر سماعت کی، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے رانا مدثر عمر ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

    وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تینوں بہنوں کی نظر بندی کے احکامات 19 اور 20 اکتوبر کو ختم ہو چکے ہیں۔

    سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کو فریق کیوں نہیں بنایا گیا، جس پر درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ ڈپٹی کمشنر کا نظر بندی کا نوٹیفکیشن ختم ہو چکا ہے، اس لیے انہیں فریق نہیں بنایا گیا۔

    عدالت نے مزید کارروائی 28 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

  4. اہم سائبر سکیورٹی اپ ڈیٹ کے بعد دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس عارضی طور پر بند

    انٹرنیٹ کے بڑے حصے کو چلانے والی پروگرامنگ زبان پی ایچ پی دو سنگین سکیورٹی خامیوں کے انکشاف کے بعد مختلف ممالک کی حکومتوں اور سائبر سکیورٹی اداروں نے ویب سائٹس کو فوری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    یہ خامیاں پی ایچ پی پروگرامنگ زبان میں دریافت کی گئی ہیں، جبکہ ان کے لیے سکیورٹی اپ ڈیٹ (فکس) بدھ کی سہ پہر جاری کی گئی۔

    متعدد سائبر سکیورٹی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جو تنظیمیں بروقت حفاظتی اپ ڈیٹ لاگو نہیں کر سکتیں، انھیں عارضی طور پر اپنی ویب سائٹس بند کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ اسی تناظر میں فن لینڈ کی حکومت، ایڈنبرا سٹی کونسل اور بی بی سی نے اپنی بعض ویب سروسز عارضی طور پر آف لائن کر دی ہیں۔

    یہ خامیاں مصنوعی ذہانت کی مدد سے دریافت کی گئیں۔ سائبر سکیورٹی کمپنی وِز (Wiz) کے مطابق یہ اے آئی کی جانب سے اب تک دریافت کی جانے والی ’انتہائی سنگین خامیاں‘ ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت سائبر سکیورٹی کے شعبے میں تیزی سے تبدیلی لا رہی ہے۔

    فن لینڈ نے حکومتی عوامی ویب سروسز عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جبکہ نیدرلینڈز کی سائبر سکیورٹی ایجنسی نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان خامیوں کے باعث اس کی ویب سائٹ عارضی طور پر آف لائن کر دی گئی ہے۔

    امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (NSA) نے بھی مشورہ دیا ہے کہ جو ادارے فوری طور پر اپ ڈیٹ نہیں کر سکتے، وہ اپنے سسٹمز عارضی طور پر بند کر دیں۔

    ادارے نے کہا: ’یہ خامیاں اکثر سرور کے فائل سسٹم یا ڈیٹا بیس تک براہ راست رسائی کا راستہ فراہم کر سکتی ہیں۔‘

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وفاقی ادارے معروف AI کمپنیوں کے ساتھ مل کر اس مسئلے کے حل کو تیز کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    جاپان کی وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی نے بھی عوام اور اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ جانچ کریں کہ آیا ان کی عوامی ویب سائٹس پی ایچ پی پر چل رہی ہیں یا نہیں۔

    آن لائن انسائیکلوپیڈیا ویکیپیڈیا چلانے والی وکیمیڈیا فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ وہ ان سکیورٹی خامیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

    فاؤنڈیشن کے مطابق: ’ہم نے احتیاطی تدبیر کے طور پر متعدد دیگر سسٹمز بھی عارضی طور پر بند کر دیے ہیں، جب تک انھیں محفوظ طریقے سے اپ ڈیٹ نہیں کیا جا سکتا۔‘

    اسی وجہ سے بدھ کے روز بعض صارفین کو ویکیپیڈیا کے کچھ حصوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    ایڈنبرا سٹی کونسل کی ویب سائٹ بھی متاثر ہوئی، جبکہ بی بی سی کے بعض پروگراموں، جن میں ڈاکٹر ہو اور دی ٹریٹرز شامل ہیں، کی ویب سائٹس بھی عارضی طور پر دستیاب نہیں رہیں۔

    متاثرہ اداروں نے تاحال یہ تصدیق نہیں کی کہ اس کی وجہ براہ راست پی ایچ پی کی خامیاں تھیں یا نہیں۔

    دوسری جانب آرٹ پلیٹ فارم ڈیویئنٹ آرٹ سمیت بعض ویب سائٹس نے صرف اتنا کہا ہے کہ وہ ’عارضی دیکھ بھال‘ کے لیے بند ہیں، تاہم اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

    یہ خامیاں سائبر سکیورٹی کمپنیوں کالیف اور وِز کے ماہرین نے دریافت کیں۔ یہ تحقیق اوپن اے آئی کے ’پیچ دے پلینٹ‘ پروگرام کے تحت کی گئی، جس میں ماہرین کو جدید اے آئی ٹولز فراہم کیے گئے تاکہ ویب ڈویلپمنٹ کی زبانوں میں موجود خامیوں کو تلاش اور درست کیا جا سکے۔

    اوپن اے آئی نے ایک بلاگ پوسٹ میں اس انکشاف کو ’حالیہ برسوں کے سب سے اہم سکیورٹی مسائل میں سے ایک‘ قرار دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ خامیاں ایک دہائی سے زائد عرصے تک نظروں سے اوجھل رہیں، تاہم جدید آے آئی ٹولز استعمال کرنے کے چند ہفتوں کے اندر ماہرین انہیں دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

    وِز کے مطابق پی ایچ پی استعمال کرنے والی ویب سائٹس کی بڑی تعداد اس مسئلے سے متاثر ہو سکتی ہے، اور کمپنی کا اندازہ ہے کہ انٹرنیٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ کسی نہ کسی شکل میں اس کے دائرۂ اثر میں آتا ہے۔

    پی ایچ پی فاؤنڈیشن اس مسئلے کی تفصیلات اور مکمل سکیورٹی پیچ رواں ماہ کے آخر میں جاری کرنا چاہتی تھی، تاہم خامیوں کی معلومات منگل کے روز سوشل میڈیا پر لیک ہو گئیں، جس کے بعد فوری حفاظتی اقدامات کرنا ضروری ہو گیا۔

  5. کیئو پر نئے میزائل حملے، امن مذاکرات کی امیدوں کے باوجود روسی حملے جاری

    یوکرین کے دارالحکومت کیئو پر ایک نئے میزائل حملے میں کم از کم چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ کیئو کے میئر ویتالی کلچکو کے مطابق بدھ کی شب ہونے والے حملے میں کئی رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا گیا۔

    یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس نے کہا ہے کہ وہ اصولی طور پر امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا ’شاید اب جنگ کے خاتمے کے سب سے قریب‘ پہنچ چکی ہے۔

    یہ پیش رفت ٹرمپ کے ایلچیوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی جانب سے شروع کی گئی نئی سفارتی کوششوں کے دوران سامنے آئی ہے۔ وٹکوف نے بدھ کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن سے سینٹ پیٹرزبرگ میں ملاقات کی، جبکہ اس سے ایک روز قبل وہ یوکرین کے صدر سے بھی مل چکے تھے۔

    فروری میں روس، یوکرین اور دیگر فریقوں کے درمیان سہ فریقی مذاکرات معطل ہو گئے تھے۔ اس کے بعد روس نے اپنے حملے تیز کر دیے تھے، جبکہ یوکرین کو مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کیے گئے فضائی دفاعی میزائلوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

    بدھ کو گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’میں چند روز قبل ولادیمیر پوتن سے یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ میرے خیال میں ہم اس مقصد کے قریب پہنچ رہے ہیں، شاید اب تک کے کسی بھی وقت سے زیادہ قریب۔‘

    تاہم امریکی صدر اب تک اپنے ان بار بار کیے گئے دعوؤں کے باوجود روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے میں کامیاب نہیں ہو سکے کہ وہ اس تنازع کو ختم کروا سکے ہیں۔

  6. پینٹاگون مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجیوں کی موجودگی خاموشی سے کم کر رہا ہے: امریکی میڈیا

    امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس، جو امریکہ میں بی بی سی کا شراکت دار ادارہ ہے، نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار اور ایک سینیئر فوجی اہلکار نے بدھ کے روز بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے جاری علاقائی خطرات اور ایران کی براہِ راست دھمکیوں کے پیشِ نظر امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بعض اڈوں پر فوجیوں کی موجودگی خاموشی سے کم کر رہی ہے۔

    اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نے بدھ کے روز سب سے پہلے یہ خبر نشر کی تھی۔

    ان رپورٹس پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے سی بی ایس سے کہا کہ امریکی فوج معمول کے مطابق اپنے اہلکاروں اور سازوسامان کی نقل و حرکت کرتی رہتی ہے تاکہ مختلف مشنز کے لیے آپریشنل تیاری کو بہتر بنایا جا سکے۔

    انھوں نے کہا: ’آپریشنل سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہم ایسی نقل و حرکت کی تفصیلات فراہم نہیں کرتے۔ امریکی افواج خطے بھر میں امریکی اہلکاروں اور مفادات کے تحفظ کے لیے بدستور چوکس اور تیار ہیں۔‘

    دوسری جانب امریکی وزارتِ خارجہ نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی جماعت سے منسلک خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    سی بی ایس نے مزید رپورٹ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں واقع بعض امریکی سفارت خانوں نے بھی ’محدود سرگرمیوں‘ کی حالت میں اپنے عملے کی تعداد میں تبدیلیاں کی ہیں۔

    امریکی وزارتِ خارجہ نے اگست میں، ایران کے ساتھ کشیدگی اور تنازع میں شدت آنے کے دوران، "محدود سرگرمیوں" کی اس پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اس طریقۂ کار کے تحت سفارت خانے اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل کیے بغیر عملے کی تعداد اور فراہم کی جانے والی خدمات کو محدود کر سکتے ہیں۔

  7. سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ پر حملہ، ایک شخص ہلاک، آٹھ زخمی

    سعودی عرب کے جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے کہا ہے کہ مشرقی شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کی شام حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک غیر ملکی شہری ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔

    ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ حملے میں زخمی ہونے والوں کی چوٹیں معمولی سے شدید نوعیت کی ہیں، تاہم حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون یا اس کے ماخذ کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

    دریں اثنا، سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران تیل سے مالا مال مشرقی علاقے میں پانچ ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    سعودی وزارتِ توانائی نے الگ بیان میں بتایا کہ مشرقی صوبے میں واقع شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے والے ایک ڈرون کو روکنے کی کارروائی کے دوران گرنے والے ملبے سے دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں کا تعلق فلپائن اور نیپال سے تھا، جبکہ زخمیوں میں پاکستانی اور بھارتی شہری شامل ہیں۔

    ادھر امریکی وزارتِ خارجہ نے ریاض میں اپنے سفارت خانے کے تمام غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق امریکہ نے متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین میں اپنے سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کو بھی وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ خلیجی خطے میں حالات مزید کشیدہ ہونے اور خصوصاً یمن کے حوثیوں کے ساتھ ممکنہ لڑائی کے خدشات کے پیش نظر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ریاض میں امریکی سفارت خانے نے بھی سعودی عرب پر مزید حوثی حملوں کے امکان سے متعلق سکیورٹی انتباہ جاری کیا ہے۔

    دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانویل میخواں نے اپنے خلیجی دورے کے دوران ریاض کا اچانک دورہ کیا، جہاں انھوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ ایلیزیے محل کے مطابق اس ملاقات کا مقصد سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں فرانس کی یکجہتی کا اظہار اور توانائی کی فراہمی کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانا تھا۔

    میخواں خلیجی ممالک کے دورے کے سلسلے میں کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر بھی جا چکے ہیں۔ فرانسیسی صدر اکتوبر کے آغاز سے حوثی حملوں میں اضافے کے بعد سعودی عرب کا دورہ کرنے والے پہلے مغربی سربراہِ مملکت بن گئے ہیں۔

    ادھر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو ممکنہ فوجی مدد کی پیشکش کا مقصد صرف سعودی سرزمین اور سرحدوں کا دفاع ہے، اس میں یمن پر کوئی حملہ شامل نہیں۔ انھوں نے کہا کہ مصر کسی بھی عرب ملک کے دفاع کے لیے تیار ہے اگر اس سے درخواست کی جائے۔

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ مصر پہلے ہی تہران کو آگاہ کر چکا ہے کہ وہ اس تنازع میں براہِ راست مداخلت نہیں کرے گا۔

    عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش پر ابھی تک سعودی عرب یا حوثی جماعت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ملاقات کے دوران مصری صدر کا ایک تحریری پیغام بھی وصول کیا، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

  8. بریکنگ, سعودی عرب: آرامکو تیل تنصیب پر ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک، پاکستان شہری سمیت دو زخمی

    سعودی عرب کی وزارتِ توانائی اور سرکاری خبر رساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ کے مطابق بدھ 21 اکتوبر کی صبح سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے ڈرون کو فضائی دفاعی نظام نے روک کر فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

    سعودی وزارتِ توانائی نے واقع کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں آئل فیلڈ میں کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی۔ گاڑی تنصیب کی حدود سے باہر تھی اور واقعے سے تیل کی پیداوار یا دیگر آپریشنز متاثر نہیں ہوئے۔

    سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق اس واقعے میں دو غیر مُلکی ہلاک ہوئے جن میں ایک فلپائنی اور ایک نیپالی شہری شامل ہیں، جبکہ دو دیگر افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ایک پاکستانی اور ایک انڈین شہری شامل ہیں۔

  9. ایرانی خطرہ ختم کرنے کا واحد راستہ حکومت کا تختہ الٹنا ہے، موساد اور سکیورٹی اداروں کو ہدایات جاری کر دیں: نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ’ایران سے لاحق خطرے کو ختم کرنے کا واحد راستہ وہاں کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔‘

    جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بنیامن نیتن یاہو نے کہا کہ ’ایران اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتا تھا، لیکن اسرائیل نے اسے ایسا کرنے سے پوری طاقت کے ساتھ روک دیا ہے۔‘

    ان کے بقول ایران جوہری بم بنانے کی کوشش بھی کر رہا تھا، جسے روک دیا گیا، تاہم ایران اب بھی یہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔

    ایران کے خلاف حالیہ دنوں میں اپنے سخت بیانات میں مزید شدت لاتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ ’موجودہ صورتحال ختم کرنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ انھوں نے ’اسرائیلی فوج، خفیہ ایجنسی موساد اور ملک کے تمام سکیورٹی اداروں کو اس حوالے سے حکم جاری کر دیا ہے۔‘

    تاہم اسرائیلی وزیرِاعظم نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس حکم پر کب اور کس طرح عمل درآمد کیا جائے گا۔

    ایران طویل عرصے سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کے الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

  10. حوثی حملوں کے بعد فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کا سعودی عرب کا اچانک دورہ

    فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کا اچانک دورہ کیا ہے، جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے۔ اس دورے کا مقصد حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ہے۔

    ایران کے اتحادی حوثی جنگجوؤں کے حملوں میں اضافے کے بعد ایمانویل میکخواں سعودی عرب پہنچنے والے پہلے مغربی رہنما ہیں۔

    ایمانویل میکخواں کی سعودی عرب آمد سے قبل فرانسیسی ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس دورے کا مقصد حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ فرانس کی یکجہتی کا اظہار کرنا اور ہائیڈروکاربن وسائل کی فراہمی کو محفوظ بنانے اور ان کے ذرائع میں تنوع لانے کی کوششیں جاری رکھنا ہے۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایمانویل میکخواں نے کہا کہ وہ ’اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔‘

    سعودی عرب پہنچنے سے پہلے ایمانویل میکخواں قطر میں تھے، جہاں انھوں نے اعلان کیا کہ فرانس نے سعودی عرب کی اہم آئل ٹرمینل بندرگاہ ینبع پر اہلکار اور سازوسامان بھیجا ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن کے جنوبی صوبے حضرموت کے دارالحکومت مکلا کے الریان ایئرپورٹ پر سعودی عرب کی جانب سے فوجی کارگو طیاروں کے ذریعے پہنچائے گئے فوجی سازوسامان کو نشانہ بنانے کا دعویٰ حوثی تنظیم انصار اللہ نے کیا ہے۔

    حوثی گروپ نے ریاض کو خبردار بھی کیا ہے کہ وہ ’شہری تنصیبات کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال‘ نہ کرے۔

  11. روس امریکہ اور ایران کے تنازع کے حل میں مدد کے لیے تیار ہے، پوتن کی ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سے گفتگو

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف سے ملاقات میں ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع حل کرنے میں مدد دینے کے لیے روس کی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

    بدھ کو روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں ملاقات کے آغاز پر پوتن نے کہا کہ وہ مغربی ایشیا کی صورتحال اور ایران سے متعلق معاملات پر امریکہ کا مؤقف جاننے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

    انھوں نے ایران کے ساتھ روس کے خصوصی اور اعتماد پر مبنی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ماسکو اس بحران کے حل میں مدد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے پر خوش ہو گا۔‘ یہ بحران ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

    یوکرین کے ساتھ جاری تنازع کا ذکر کرتے ہوئے روسی صدر نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ ٹیلی فونک گفتگو کا حوالہ دیا اور ماسکو اور کیئو کے درمیان تنازع حل کرنے میں ٹرمپ کی دلچسپی کو سراہا۔

    پوتن نے روسی ڈیزل کی امریکہ اور عالمی منڈیوں کو فراہمی سے متعلق معاہدے کو بھی مثبت قرار دیا اور امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعاون بحال کرنے کے لیے روس کی آمادگی ظاہر کی۔

    دوسری جانب سٹیو وٹکوف نے گفتگو کے دوران روسی ڈیزل کی فراہمی پر ٹرمپ کی جانب سے پوتن کے لیے اظہارِ تشکر اور امریکہ، یوکرین اور روس کے درمیان سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات پر توجہ مرکوز کی۔

    امریکی خصوصی ایلچی نے اس بار پوتن سے تنہا ملاقات کی۔ ان کی گذشتہ دو ملاقاتوں میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی ان کے ہمراہ تھے، تاہم اطلاعات کے مطابق بیماری کے باعث وہ اس بار ملاقات میں شریک نہیں ہوئے۔

  12. جنگ چھیڑ کر دنیا میں افراتفری پھیلانے والا ملک خود کو مظلوم ظاہر نہیں کر سکتا: اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ ’واشنگٹن نے نو ماہ سے بھی کم عرصے میں دو مرتبہ ایران پر حملے کیے اور یہ سب ایک ایسے وقت میں ہوا کہ جب مذاکرات جاری تھے۔‘

    اسماعیل بقائی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’امریکہ نے میناب میں ایرانی بچوں کا قتلِ عام کیا، لامرد میں بچیوں کو قتل کیا، ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنایا اور ایرانی عوام پر پابندیاں مزید سخت کر دیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے 17 جون کو خود دستخط کی گئی مفاہمتی یادداشت کو بھی توڑ دیا اور اب دنیا سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ایران کی مذمت کرے۔‘

    ایرانی ترجمان کے مطابق امریکہ کی ’غیر قانونی جارحیت‘ کی قیمت دنیا کو خطے میں عدم استحکام اور عالمی معیشت میں بے یقینی کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ’امریکہ اپنی مرضی سے جنگ شروع کرنے، خطے کو آگ میں جھونکنے اور دنیا بھر میں افراتفری پھیلانے کے بعد خود کو مظلوم ظاہر نہیں کر سکتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جارح کو مدعی اور مظلوم کو مجرم بنا کر ذمہ داری سے نہیں بچا جا سکتا۔‘

  13. اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 74 ہزار سے تجاوز کر چُکی ہے: وزارتِ صحت

    غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں اب تک 74 ہزار 494 فلسطینی ہلاک جبکہ ایک لاکھ 75 ہزار 604 زخمی ہو چکے ہیں۔

    وزارتِ صحت نے بدھ کو بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں اسرائیلی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے سات افراد کی لاشیں اور 24 زخمی لائے گئے۔

    فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق وزارت نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے بعد سے اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار 534 ہو گئی ہے، جبکہ اس عرصے میں پانچ ہزار 486 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ متعدد متاثرین کی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں یا سڑکوں پر پڑی ہیں، جہاں تک ایمبولینسوں اور امدادی ٹیموں کی رسائی ممکن نہیں، کیونکہ یہ ٹیمیں پہلے ہی شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔

    وزارت کے مطابق اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ بڑے پیمانے پر مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ ضروری خدمات کا نظام بھی مفلوج ہو چکا ہے۔

    وزارت نے کہا کہ جنگ بندی معاہدے میں امدادی سامان کی بلا روک ٹوک ترسیل کی ضمانت کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے امدادی سامان اور تعمیرِ نو کے لیے ضروری مواد کی آمد پر جاری پابندی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

  14. امریکہ نے مفاہمت کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کی: عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کی، تاہم ایران سفارت کاری کے لیے تیار ہے اور اپنے دفاع سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق عباس عراقچی نے مزید کہا ہے کہ ’ایران اس تنازع کا پُرامن اور باعزت حل تلاش کرنے کے لیے پُرعزم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے دفاع کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔‘

    انھوں نے لندن سے شائع ہونے والے اخبار فنانشل ٹائمز میں اپنے مضمون میں لکھا کہ ’وائٹ ہاؤس نے مفاہمت تک پہنچنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور اب کسی پیش رفت کی توقع کرنے کی بھی بہت کم وجوہات ہیں۔‘

  15. دھمکیوں اور پابندیوں کے سائے میں مذاکرات ممکن نہیں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جب تک دھمکیوں اور پابندیوں میں عملی طور پر کمی نہیں آتی، تب تک با معنی مذاکرات کے لیے سازگار فضا پیدا نہیں ہو سکتی۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ’ایک طرف پابندیوں اور دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا جائے، رابطے کے راستے بند کیے جائیں، اور دوسری طرف مذاکرات کی بات کی جائے،‘ تو یہ مؤثر نہیں ہو سکتا۔

    ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’دھمکیوں اور دباؤ کی زبان میں ہونے والی بات چیت کے کوئی معنی نہیں ہوتے۔‘

  16. پاکستان، قطر، ترکی اور انڈونیشیا میں ’بدر معاہدے‘ کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط: معاہدے کا مقصد چاروں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے، ترک وزارت دفاع

    پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا نے ’بدر معاہدے‘ کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔

    ترکی کی وزارت دفاع کے مطابق اس ضمن میں ایک تقریب بدھ کے روز قطری دار الحکومت دوحہ میں منعقد ہوئی۔

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف، انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع یوسف جوہری، ترکی کے وزیر دفاع یاشار گولر اور قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن آل ثانی نے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

    ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ٹی آر ٹی‘ کے مطابق معاہدے کا مقصد چاروں ممالک کے درمیان دفاعی پیداوار میں تعاون کو فروغ دینا، چاروں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، اور تکنیکی و عسکری امور، تربیت، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں باہمی تعاون کی حمایت کرنا ہے۔

    ترک خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یہ ’معاہدہ چاروں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ترک دفاعی صنعت کی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں بھی مدد دے گا۔‘

    ٹی آر ٹی کے مطابق یہ اقدام جدید دفاعی نظاموں کی ترقی سے ہم آہنگ نئی ٹیکنالوجیز اور صنعتی صلاحیتوں کے فروغ میں معاون ثابت ہو گا۔

    ترک خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ مکمل چاند کو ’بدر‘ کہتے ہیں اور معاہدے کا نام بھی اسی مناسبت سے رکھا گیا ہے، ’کیوں کہ اس معاہدے کے تحت چاروں ممالک ایک دوسرے کی صلاحیتوں کی تکمیل کریں گے۔‘

    ٹی آر ٹی کے مطابق اس معاہدے کے تحت دفاعی پیداوار میں ہر ملک کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے گا، دفاعی صنعت کی استعداد میں اضافہ ہو گا، اور اتحادی و دوست ممالک کی ضروریات بہتر انداز میں پوری کی جا سکیں گی۔

    مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ شریک ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کرنے، دفاعی صنعت کے شعبے میں تعلقات کو فروغ دینے اور کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔

    ٹی آر ٹی کے مطابق اس معاہدے سے سلامتی، استحکام اور مشترکہ اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔

  17. آبی حقوق کی خلاف ورزی کو پاکستان ’جنگی اقدام‘ سمجھے گا: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے انڈیا کے فیصلے پر شدید تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا ایک ایسے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس پر دونوں ممالک عمل کے پابند ہیں اور پاکستان کے آبی حقوق کی خلاف ورزی کو ’جنگی اقدام‘ سمجھا جائے گا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حکومت پاکستان کے اکاؤنٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اسلام آباد میں مالدیپ کے صدر محمد معیزو سے ملاقات ہوئی اور دونوں ممالک میں وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے۔

    مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس میں شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ معاہدوں کا احترام کیا جانا چاہیے اور مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ ڈالنے یا بلیک میل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یہ مؤقف مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کر چکا ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھی انھوں نے کہا تھا کہ پانی پاکستان کے لیے ’سرخ لکیر‘ ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ پانی خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ ہے، اسے دھمکیوں یا تنازعات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

    ان کے بقول پانی انسانیت کے لیے ناگزیر ہے، خصوصاً ان ممالک کے لیے جو دریاؤں کے نچلے حصوں میں واقع ہیں۔

    یاد رہے کہ انڈیا نے گذشتہ سال اپریل میں پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  18. آبنائے ہرمز کے قریب ایک آئل ٹینکر کو ’نشانہ بنایا گیا‘

    برطانوی تنظیم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے کہا ہے کہ عمان کے قریب، آبنائے ہرمز کے سامنے واقع علاقے میں ایک تیل بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    تنظیم کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور آئل ٹینکر اس وقت لنگر انداز ہے۔

    رپورٹس کے مطابق جہاز کے عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔

  19. حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے کی تردید کر دی

    یمن کے حوثی گروپ کے ترجمان نے کہا ہے کہ گروپ نے بدھ کے روز سعودی عرب کے شہر مدینہ کی جانب کوئی ڈرون نہیں بھیجا اور نہ ہی سعودی عرب کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کی ہے۔

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے سعودی عرب کی جانب آنے والے پانچ ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے۔

    اتحاد کے مطابق ان حملوں کے ممکنہ اہداف میں مدینہ کا علاقہ بھی شامل تھا۔

    سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا: ’سعودی عرب کی جانب داغے گئے چار ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔‘

    بعد ازاں ایک دوسرے پیغام میں انھوں نے کہا کہ یہ ڈرونز سعودی عرب کے مشرقی علاقے اور مدینہ کے علاقے میں روکے گئے۔

    المالکی نے ان حملوں کے ذمہ دار کسی فریق کا نام نہیں لیا، تاہم بعد میں انھوں نے کہا کہ ایک اور ڈرون بھی سعودی عرب کے مشرقی حصے میں روک لیا گیا۔

  20. امریکہ کا ایران سے ثالثی کی کوششوں کا خیر مقدم

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مختلف ممالک کی جانب سے امریکہ اور ایران میں ’ثالثی کی کوششوں‘ کا خیر مقدم کیا ہے۔

    مارکو روبیو نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے، جن کا متن امریکی محکمہ خارجہ نے جاری کیا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ سے سوال کیا گیا: ’قطری میڈیا میں ایسی اطلاعات تھیں کہ قطر اور پاکستان نے ایران کے سامنے ایک نئی تجویز رکھی ہے تاکہ امریکہ اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ سکیں۔ کیا یہ اطلاعات درست ہیں؟‘

    روبیو نے جواب میں کہا کہ ایک عرصے سے کئی ممالک ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں اور مختلف تجاویز پیش کرتے رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ’ثالثی کی کوششوں‘ کا خیر مقدم کرتا ہے، خصوصاً ایسے ممالک کی جانب سے جن کے ساتھ واشنگٹن کے مضبوط اتحاد اور شراکت ہے۔ انھوں نے کہا کہ قطر طویل عرصے سے اس معاملے میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔

    مارکو روبیو نے مزید کہا: ’میں سمجھتا ہوں کہ (پاکستان کے) فیلڈ مارشل عاصم منیر گذشتہ روز تہران میں موجود تھے۔‘

    تاہم ان کے بقول آخر کار کسی بھی تجویز کی منظوری یا قبولیت کا فیصلہ ’امریکی صدر کے ہاتھ میں ہے۔‘

    امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ بار ہا واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ کسی ایسے معاہدے کی حمایت نہیں کرے گا جو ایران کو مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرے۔

    روبیو نے کہا کہ ’جب تک صدر ٹرمپ اقتدار میں ہیں، ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔‘