ایرانی عدلیہ کے سربراہ کا برکس ممالک سے ایران پر حملوں کی مذمت اور جنگی جرائم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہTasnim
ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے برکس ممالک پر زور دیا اور کہا ہے کہ وہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزیوں کی مذمت کریں اور ایران کے خلاف ہونے والی دو جنگوں کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ذمہ دار افراد کے خلاف عالمی دائرۂ اختیار کے اصول کے تحت قانونی کارروائی کریں۔‘
انڈیا میں برکس ممالک کے سربراہانِ عدلیہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’دنیا کو انصاف کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے اور انصاف کو سیاسی مفادات کی بنیاد پر منتخب نہیں ہونا چاہیے۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حسین محسنی نے برکس کو دنیا کے اہم اقتصادی و سیاسی اتحادوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ گروپ نئے عالمی نظام کی تشکیل میں بڑھتا ہوا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔‘
ان کے مطابق برکس کی دستاویزات میں ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پابندی پر بارہا زور دیا گیا ہے۔
ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ ’گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کو امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے ’وحشیانہ جارحیت‘ کا سامنا رہا ہے اور یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور غیر قانونی اقدام تھے۔‘
ان کے مطابق حملوں کے پہلے ہی روز مناب کے ایک سکول کے 168 طلبہ سمیت بڑی تعداد میں ایرانی شہری ہلاک ہوئے، جبکہ 40 روزہ جنگ کے دوران ہسپتالوں، تعلیمی و ثقافتی مراکز، رہائشی علاقوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری مارے گئے۔
حسین محسنی نے امریکی اور اسرائیلی اقدامات کو جنگی جرائم کی واضح مثالیں قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی اداروں کی خاموشی پر تنقید کی۔
انھوں نے برکس ممالک سے مطالبہ کیا کہ ’وہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے مزید غیر قانونی اقدامات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کریں اور عالمی دائرۂ اختیار کے اصول کو استعمال کرتے ہوئے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔‘











