پی ٹی آئی کا سہیل آفریدی سمیت متعدد رہنماؤں کی گرفتاری کا دعویٰ: خیبرپختونخوا میں سروسز معطل، تعلیمی ادارے بند

پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پارٹی کے دیگر سینیئر رہنما بھی حراست میں لے لیے گئے ہیں۔ اُدھر گورنر کے زیر صدارت اجلاس میں پشاور میں کنٹینرز ہٹانے اور انٹرنیٹ سروس کی جزوی بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. مولانا فضل الرحمان وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے، وزیراعظم سے ملاقات شروع

    Molana Fazlur Rehman

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اپنے وفد کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات شروع ہو گئی ہے۔

    وفد میں جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈر خیبر پختونخوا اسمبلی مولانا لطف الرحمان، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سینیٹر مولانا عطاء الحق بھی شامل ہیں۔

    وزیراعظم ہاؤس آمد پر وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کا استقبال کیا اور انھیں عمرے کی ادائیگی پر مبارکباد دی۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور اور باہمی دلچسپی کے دیگر معاملات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

  2. لانگ مارچ کے شرکا سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا خطاب، صوابی پہنچنے کی اپیل

    PTI long march

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے مردان کے علاقے منگا بازار میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کارکنوں اور حامیوں سے 13 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کی اپیل کی ہے۔

    اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’آج مردان میں ہر جگہ دفعہ 804 نافذ ہے‘ اور اس موقع پر عوام کی جانب سے ملنے والی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے عوام اپنے منتخب نمائندوں کی قیادت میں صوابی پہنچیں گے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ صوابی میں آنے والوں کا استقبال کیا جائے گا اور ان کی سہولت کا بھی خیال رکھا جائے گا۔ ان کے بقول عمران خان کے حامی ہر صورت صوابی پہنچیں گے، چاہے انھیں گاڑی، موٹر سائیکل، سائیکل یا پیدل سفر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

    وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ اس مرتبہ عوام کی شرکت اتنی زیادہ ہوگی کہ ’کسی کو گولی چلانے کی ہمت نہیں ہوگی‘۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت دباؤ یا ’ظالمانہ ہتھکنڈوں‘ سے پیچھے ہٹنے والی نہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ صوابی میں آئندہ لائحہ عمل پیش کیا جائے گا اور ان کے بقول اس منصوبے کو سن کر ’مخالفین کے ہوش اڑ جائیں گے‘۔

    تاہم وزیر اعلیٰ نے کارکنوں پر زور دیا کہ احتجاج کو پرامن رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سازش کو کامیاب ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا اور تحریک پرامن انداز میں آگے بڑھے گی۔

  3. قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس 13 اکتوبر کو طلب کرنے پر اتفاق، صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات

    President House

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایوانِ صدر میں ملاقات ہوئی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدرِ مملکت اور وزیراعظم کی ملاقات میں اہم حکومتی اور سیاسی شخصیات بھی شریک تھیں۔

    وزیراعظم کی معاونت نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ نے کی۔

    صدر آصف علی زرداری کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے اجلاس میں شرکت کی۔

    ایوانِ صدر کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات کے دوران ملک کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، جبکہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس 13 اکتوبر بروز منگل طلب کیے جائیں گے۔

  4. وفاقی مداخلت نے صوبائی حکومت کی رٹ کمزور کر دی، خیبر پختونخوا میں عملاً گورنر راج نافذ ہے: بیرسٹر گوہر

    @BarristerGohar

    پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ وفاقی مداخلت کے باعث صوبائی حکومت کی رٹ کمزور ہو چکی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں اس وقت عملاً گورنر راج نافذ ہے اور صرف اس کے باضابطہ اعلان کی کمی ہے۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مسئلے کا حل گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ میں نہیں، بلکہ ایسے اقدامات سے صورتحال مزید پیچیدہ اور بحران سنگین ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ صوبے اور وفاق، دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کی ضرورت پر تمام فریق متفق ہیں، تاہم اختلاف صرف طریقۂ کار اور حکمتِ عملی کے حوالے سے ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔ ان کے بقول گذشتہ ایک سال سے ملاقاتوں کی بندش برقرار ہے اور اس معاملے میں نرمی سے سیاسی ماحول میں بہتری آ سکتی ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے تین وزرا سمیت نو اراکینِ صوبائی اسمبلی اور آٹھ اراکینِ قومی اسمبلی کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ عمران خان کی بہنیں اور ایک کزن بھی جیل میں ہیں، جسے انھوں نے تشویشناک صورتحال قرار دیا۔

    بیرسٹر گوہر نے ملکی قیادت پر زور دیا کہ وہ ہٹ دھرمی ترک کرتے ہوئے سیاسی بصیرت اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرے تاکہ موجودہ سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز کا مؤثر حل نکالا جا سکے۔

  5. پاکستان اور ترکی کے تعلقات مزید مضبوط بنانے کے لیے کام جاری رہے گا: اسحاق ڈار سے آمنہ بلوچ کی ملاقات

    PAKISTAN

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ترکی میں پاکستان کی نامزد سفیر آمنہ بلوچ نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ترکی کے دوطرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے اس موقع پر پاکستان اور ترکی کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کی خصوصی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دفاع و سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں سٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنا ضروری ہے۔

    دفتر خارجہ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار نے بطور خارجہ سیکریٹری آمنہ بلوچ کی خدمات اور سفارتی شعبے میں ان کی گراں قدر شراکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا تجربہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    اعلامیے کے مطابق نائب وزیراعظم نے ترکی میں سفیر کے طور پر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر آمنہ بلوچ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کامیابی کے لیے دعا بھی کی۔

    دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق آمنہ بلوچ کی ترکی میں بطور سفیر تعیناتی دونوں ممالک کے درمیان موجود مضبوط شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی پاکستانی کوششوں کا حصہ ہے۔

  6. گورنر راج کی دھمکیوں سے نہیں ڈریں گے، تحریک اب اقتدار سے آگے بڑھ چکی ہے: سہیل آفریدی

    Sohail Afridi

    لانگ مارچ کے ساتویں روز چارسدہ سے روانگی سے قبل شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 11 اکتوبر کو ملک بھر سے کارکن صوابی پہنچیں گے جبکہ 13 اکتوبر کو صوابی میں آئندہ لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

    سہیل آفریدی نے چارسدہ کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے جذبے اور عزم کو سلام پیش کرتے ہیں اور اسی جذبے کے ساتھ ’ظالمانہ نظام‘ کا مقابلہ کیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ نے گورنر راج سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دھمکیاں دینے والے سن لیں کہ اب معاملہ صرف اقتدار یا کرسی کا نہیں رہا۔ ان کے بقول وہ اپنے قائد اور پختونوں کے حقوق کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں اور انھیں کسی قیمت پر خریدا نہیں جا سکتا۔

    KPK

    انھوں نے کہا کہ یہ ایک سیاسی جدوجہد ہے جو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر پرامن انداز میں لڑی جا رہی ہے۔ ’ہم پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے، لیکن اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘

    سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی اور امن و امان کے معاملات میں غلط پالیسیوں کے باعث صوبے کے حالات متاثر ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے بڑی قربانیاں دے کر امن بحال کیا تھا، لیکن اسے ’بند کمروں کے فیصلوں‘ کی نذر کر دیا گیا۔

    انھوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی منزل پر نظر رکھیں، ثابت قدم رہیں اور تحریک کے لیے اپنا جذبہ برقرار رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ظلم پر مبنی کسی نظام یا اپنے لوگوں کے خلاف کسی پالیسی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

  7. لانگ مارچ کا ساتواں دن: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا مردان پہنچ گئے

    @ShafiJanPTI

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی اور پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر خان لانگ مارچ کے ساتویں روز کی قیادت کے لیے مردان کے مین چارسدہ چوک پہنچ گئے ہیں، جہاں سے آج کے مارچ کا آغاز کیا جائے گا۔

    جنید اکبر خان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر تفصیلات شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’پارٹی کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے موجود ہے، جبکہ علاقے میں پی ٹی آئی کے ترانے اور نعرے سنائی دے رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کے مطابق لانگ مارچ کا سلسلہ اپنی طے شدہ حکمتِ عملی کے تحت جاری رہے گا۔

  8. سعودی عرب کے دفاع میں پاکستان کا کردار، ماہرین مکہ دفاعی معاہدے کو کیسے دیکھتے ہیں؟

    @_baqai

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اتحاد سے متعلق ریڈیو پاکستان نے بین القوامی امور کے ماہرین کی آرا نشر اور شائع کی ہیں۔

    بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر مریم فاطمہ کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت حرمین شریفین اور سعودی عرب کی سلامتی و سکیورٹی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کر چکا ہے۔

    ان کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو نہایت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ انھوں نے یاد دلایا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی متعدد مواقع پر سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر چکے ہیں۔

    ڈاکٹر مریم فاطمہ کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی خطرے یا چیلنج کی صورت میں وہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اجتماعی دفاع کے تصور پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی موجودگی کسی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں بلکہ ممکنہ خطرات کے سدباب، دفاعی تعاون اور مؤثر ردِعمل کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ ماضی میں بھی پاکستانی افواج مختلف مواقع پر سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ میں کردار ادا کرتی رہی ہیں، جبکہ سعودی فوجی افسران اور کیڈٹس پاکستانی فوجی، فضائی اور بحری تربیتی اداروں میں تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔

    ڈاکٹر مریم فاطمہ کے بقول موجودہ علاقائی حالات میں سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی موجودگی کا مقصد دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانا اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کیا جانے والا دفاعی ڈھانچہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی ایک کوشش ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ حوثی گروہوں کی جانب سے سعودی عرب کو درپیش خطرات کے تناظر میں دفاعی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ سعودی سرزمین اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے مشترکہ دفاعی انتظامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

    ڈاکٹر مریم فاطمہ کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود، جو مکہ دفاعی سیکریٹریٹ میں سیکریٹری جنرل کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، دفاعی امور کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر حما بقائی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی اور تزویراتی تعلقات کو صرف مکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان روایتی طور پر سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کا حامی رہا ہے اور مستقبل میں بھی اس پالیسی میں تبدیلی کا امکان نظر نہیں آتا۔

    ڈاکٹر حما بقائی کے مطابق سعودی عرب پر حوثی حملوں کو خطے کی وسیع تر سیاسی و سکیورٹی صورتحال سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول یہ مسئلہ ایران، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگیوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انھوں نے حوثیوں کو مغربی ایشیا کا ایک مؤثر غیر ریاستی فریق قرار دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ایک دہائی میں کوئی بھی طاقت انھیں فیصلہ کن طور پر شکست نہیں دے سکی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایران حوثیوں کی حمایت کرتا ہے، تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ تہران ان پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ اسی لیے اس تنازع کے حل کے لیے صرف عسکری حکمتِ عملی کافی نہیں ہو سکتی۔

    ڈاکٹر حما بقائی کے مطابق عالمی برادری کو سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی رابطوں کے ذریعے تنازع کے حل کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے بقول حوثیوں کے ساتھ محدود یا مرحلہ وار سفارتی روابط، کشیدگی میں کمی اور خطے میں استحکام کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال محتاط حکمتِ عملی کی متقاضی ہے، جس میں سفارت کاری، مکالمہ، علاقائی تعاون اور ضرورت پڑنے پر دفاعی اقدامات کو متوازن انداز میں بروئے کار لایا جائے۔ ایسی حکمتِ عملی ہی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

  9. وزیراعلیٰ ہاؤس میں پی ٹی آئی قیادت کا اجلاس، سیاسی صورتحال اور لانگ مارچ پر مشاورت: شفیع جان

    @ShafiJanPTI

    خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی زیرِ صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پاکستان تحریکِ انصاف کی سینیئر قیادت کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔

    ان کے مطابق اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال، پارٹی کے مجوزہ لانگ مارچ اور دیگر اہم سیاسی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شفیع جان نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ اجلاس میں قائم مقام چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، صوبائی صدر جنید اکبر خان، پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک اور صوبائی وزیر شفیع جان نے شرکت کی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں آئندہ حکمتِ عملی اور تنظیمی امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔

  10. پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ساتویں روز میں داخل، رات کا پڑاؤ مردان میں ہوگا

    PTI

    پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں لانگ مارچ کر رہی ہے، جس کی قیادت وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان نے اس مارچ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’لانگ مارچ آج اپنے ساتویں روز میں داخل ہو چکا ہے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کچھ ہی دیر میں چارسدہ سے مارچ کا دوبارہ آغاز کریں گے۔‘

    PTI

    انھوں نے بتایا کہ مارچ کا آج رات کا پڑاؤ مردان میں ہوگا، جبکہ کل صوابی میں اہم اجتماع منعقد کیا جائے گا۔‘

    شفیع جان کا کہنا تھا کہ اب یہ تمام پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تحریک کا حصہ بنیں۔ انھوں نے کہا کہ صوابی کے اجتماع کے لیے پورے پاکستان کو کال دی گئی ہے اور ملک بھر کے عوام کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق شرکا کے لیے ٹینٹ سٹی بھی قائم کی جا رہی ہے۔

    Sohail Afridi

    انھوں نے مزید کہا کہ 13 اکتوبر کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، جبکہ 14 اکتوبر کو لانگ مارچ صوابی سے آگے اپنی پیش قدمی جاری رکھے گا۔‘

  11. شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر کا ٹیلیفونک رابطہ، اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق

    EPA, Radio

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان برادرانہ تعلقات، دوطرفہ تعاون اور علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے ساتھ پاکستان کے گہرے، برادرانہ اور تزویراتی تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور اہم قومی مفادات کے معاملات پر مستقل حمایت موجود ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مضبوط سیاسی ہم آہنگی کو اب اقتصادی، سرمایہ کاری اور تجارتی شراکت داری میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام صدر الہام علییف اور آذربائیجان کے عوام کے لیے خصوصی احترام اور نیک جذبات رکھتے ہیں۔

    دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیاسی خیرسگالی کو باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں تبدیل کیا جائے گا۔

    گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد میں قائم ہونے والے آسان خدمت مرکز کی کامیاب فعالیت پر بھی اطمینان کا اظہار کیا، جو آذربائیجان کے آسان خدمت ماڈل کی طرز پر قائم کیا گیا ہے۔ انھوں نے اسے پاکستان اور آذربائیجان کے برادرانہ تعاون کی عملی مثال قرار دیا۔

    وزیرِ اعظم کی درخواست پر صدر الہام علییف نے پاکستان بھر میں آسان خدمت مراکز کے نیٹ ورک کے توسیعی منصوبے کے لیے آذربائیجان کی مکمل معاونت اور مہارت فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ شہباز شریف نے اس پیشکش پر صدر علییف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے پاکستان کے ساتھ آذربائیجان کی دوستی اور یکجہتی کا مظہر قرار دیا۔

    شہباز شریف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور باہمی دلچسپی کے امور پر مسلسل مشاورت اور قریبی رابطے برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

    وزیرِ اعظم نے صدر علییف کو خطے میں امن، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ صدر علییف نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی تعمیری سفارتی کاوشوں، مذاکرات اور ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔

    گفتگو کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان اور آذربائیجان کے تزویراتی تعلقات کو مشترکہ ترقی، خوشحالی اور باہمی مفاد پر مبنی دیرپا شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔

  12. خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، عوام دہشت گردی کے جال میں پھنس چکے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    PTV

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ماضی میں خیبر پختونخوا پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور امن کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا، تاہم گذشتہ 13 برس کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے صوبے کا ایسا حشر کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔

    سنیچر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پالیسیوں نے خیبر پختونخوا کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے بجائے قرونِ وسطیٰ کی طرف دھکیل دیا، جبکہ صوبے کے عوام آج بھی بنیادی ترقیاتی منصوبوں اور روزگار کے مواقع کے منتظر ہیں۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کے رہائشی علاقوں میں دہشتگردوں کو لاکر بسایا، یہ کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی، فارنزک لیب اور پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کرنا خیبرپختونخوا حکومت کا کام تھا، جو نہیں کیا گیا جبکہ طالبان کی خواتین سے متعلق سوچ پورے خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی۔ وفاقی وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نے صوبے کی ترقی کے اوپر صفر وقت لگایا لیکن تخریب کاری کےلیے 6،6 گھنٹے کی میٹنگ کی۔

    واضح رہے کہ اس وقت پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں لانگ مارچ کر رہی ہے، جس کی قیادت وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان نے اس مارچ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’لانگ مارچ آج اپنے ساتویں روز میں داخل ہو چکا ہے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کچھ ہی دیر میں چارسدہ سے مارچ کا دوبارہ آغاز کریں گے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ مارچ کا آج رات کا پڑاؤ مردان میں ہوگا، جبکہ کل صوابی میں اہم اجتماع منعقد کیا جائے گا۔‘ شفیع جان کا کہنا تھا کہ اب یہ تمام پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تحریک کا حصہ بنیں۔ انھوں نے کہا کہ صوابی کے اجتماع کے لیے پورے پاکستان کو کال دی گئی ہے اور ملک بھر کے عوام کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق شرکا کے لیے ٹینٹ سٹی بھی قائم کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ 13 اکتوبر کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، جبکہ 14 اکتوبر کو لانگ مارچ صوابی سے آگے اپنی پیش قدمی جاری رکھے گا۔‘ سیاسی رہنماؤں کی طرف سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

    عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف عوامی خدمت کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں اور وفاقی حکومت نے مستحق افراد کو پیٹرول پر سبسڈی سمیت مختلف ریلیف اقدامات فراہم کیے ہیں۔

    انھوں نے پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی محدود اوقات کے لیے ہی سرکاری امور انجام دیتے تھے، جبکہ صوبے کے عوام کو غربت، بے روزگاری اور پسماندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے سوال اٹھایا کہ لکی مروت سے صوابی تک آئی ٹی پارکس کیوں قائم نہیں کیے گئے اور نوجوانوں کے لیے جدید روزگار کے مواقع کیوں پیدا نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی کے جال میں پھنس چکے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ’آپ کیا پورے صوبے کو ’دہشتگردوں‘ کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت عوامی مسائل کے حل اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔

  13. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مزید 20 کارکنان اور ایک صحافی فورتھ شیڈول میں شامل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) سے وابستہ مزید 20 کارکنان کے نام انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کر دیے ہیں۔ ان میں ایک صحافی اجمل شاہین بھی شامل ہیں، جبکہ ایک شخص کا نام اس فہرست سے خارج کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

    مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق، محکمہ داخلہ کی جانب سے 29 اور 30 ستمبر اور یکم اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشنز کے تحت مجموعی طور پر 21 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں۔ نوٹیفکیشنز میں ان افراد کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان قرار دیا گیا ہے۔

    فہرست میں ضلع نیلم سے محمد حنیف ولد رحمت اللہ اور فضل الرحمان ولد مرزا، ضلع باغ سے منصور الحق ولد محمد الطاف خان، ضلع پونچھ سے راجہ ساجد عزیز، محمد زاہد اللہ خان، عبدالحنان خان، محمود احمد، خرم شہزاد، مفتی عبدالحلیم، اجمل شاہین، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر خالد، جبران اور سبیل طارق شامل ہیں۔

    اسی طرح ضلع سدھنوتی سے اشفاق احمد، ضلع کوٹلی سے محمد شوکت، جبکہ ضلع مظفرآباد سے سمائرہ جہانگیر، محمد جہانگیر خان، محمد تنویر جہانگیر، توقیر جہانگیر، ذیشان کیانی اور محمد کیانی کے نام بھی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔

    اجمل شاہین کا تعلق ضلع پونچھ سے ہے اور وہ کئی برس سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق، یہ پہلا واقعہ نہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کسی صحافی کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی ضلع پونچھ سے تعلق رکھنے والے متعدد صحافیوں کے نام اس فہرست میں شامل کیے جا چکے ہیں۔

    دوسری جانب، محکمہ داخلہ نے ضلع حویلی سے تعلق رکھنے والے راجہ کوکب شہزاد راٹھور ولد راجہ ایوب شہزاد راٹھور کا نام فورتھ شیڈول سے فوری طور پر خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔ متعلقہ حکام کو سرکاری ریکارڈ میں ضروری تبدیلیاں کرنے اور نگرانی سے متعلق ہدایات پر عمل درآمد کا کہا گیا ہے۔

  14. خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی: پاسدارانِ انقلاب

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران نے اعلان کیا ہے کہ اب ’خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی۔‘

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی کمان نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ’کسی بھی ایسے جہاز کا پورے خطے میں تعاقب کیا جائے گا جو اجازت کے بغیر مقررہ راستے سے گزرے گا اور اسے لازماً سزا دی جائے گی۔‘

    ایران کا کہنا ہے کہ ’جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کے مقرر کردہ راستے کا استعمال کرنا ہوگا۔‘

    اطلاعات کے مطابق، بعض جہاز اور تیل بردار ٹینکر ایران کی جانب سے عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے ایک متبادل راستہ استعمال کر رہے ہیں، جو حالیہ ہفتوں میں بنایا گیا ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ ’جب تک امریکہ کی جانب سے اس کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔‘

    تاہم، امریکہ کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور اس سے گزرنے والے تیل کی مقدار بھی ایران جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔

  15. محسن رضائی کا امریکی وزیر خارجہ کو جواب، ’تاریخ کو دہرانے کے لیے تیار رہنا چاہیے‘

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کو تہذیبوں کی جنگ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش پر تنقید کرتے ہوئے تاریخ کا حوالہ دیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق محسن رضائی نے یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے ایتھنز میں کی گئی تقریر کے ردعمل میں دیا، جس میں انھوں نے مغربی تہذیب کا حوالہ دیا اور ایران اور اس کی تہذیب کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے۔

    محسن رضائی نے ایکس پر لکھا کہ ’ایران کے ہاتھوں شکست اور ذلت کے بعد ایتھنز جا کر تہذیبوں کی جنگ کا بیانیہ بنانے کے بجائے امریکی حکام کو تاریخ کا ایک اہم واقعہ پڑھنا چاہیے، جب ساسانی سلطنت کے بادشاہ شاپور اول کے سامنے رومی شہنشاہ کو گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’جو کوئی تاریخ کو درمیان میں لاتا ہے، اسے اس کے دہرائے جانے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔‘

    محسن رضائی کا یہ بیان قدیم ایرانی تاریخ کے ایک اہم فوجی واقعے کی طرف اشارہ ہے، جب ساسانی سلطنت نے رومی سلطنت کو بڑی شکست دی تھی۔

    ساسانی سلطنت قدیم ایران کی ایک طاقتور سلطنت تھی جو تقریباً 224 عیسوی سے 651 عیسوی تک قائم رہی۔ اسے ایران کی تاریخ کی اہم ترین سلطنتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    شاپور اول کون تھے؟

    شاپور اول ساسانی سلطنت کے دوسرے بادشاہ تھے، جنھوں نے تقریباً 240 سے 270 عیسوی تک حکومت کی۔ وہ رومی سلطنت کے خلاف اپنی فوجی کامیابیوں کے لیے مشہور ہیں۔

    سنہ 260 عیسوی میں جنگِ ادیسہ کے دوران ساسانی فوج نے رومی شہنشاہ والیرین کو گرفتار کر لیا تھا۔ یہ رومی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ تھا، کیونکہ ایک رومی شہنشاہ دشمن کے ہاتھوں زندہ گرفتار ہوا تھا۔

  16. فرانس میں طلبہ کے احتجاج کے بعد حکومت کا 3000 اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفرانس کی حکومت نے نوجوان طلبہ کے تین ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد 3000 اضافی متبادل اساتذہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے

    فرانس کی حکومت نے ثانوی تعلیم کے لیے مزید وسائل مختص کرنے کے مطالبے پر نوجوان طلبہ کے تین ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد 3000 اضافی متبادل اساتذہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسے حکومت کی جانب سے اسے مظاہرین کے مطالبات کے جواب میں پہلی ٹھوس پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    فرانس کے وزیرِ تعلیم ایڈوارڈ جیفری نے جمعرات کی شام ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ وزارت ایک نیا کمپیوٹر پروگرام استعمال کرے گی، جس کے ذریعے اضافی اساتذہ کو ضرورت کے اعتبار سے تقریباً 500 ثانوی سکولوں میں تعینات کیا جائے گا۔

    احتجاج کے دوران جمعرات کو ملک بھر میں تقریباً 71 ہزار افراد نے مظاہروں میں شرکت کی، جن میں سے 24 ہزار پیرس کے پلیس دے لا باستیل میں جمع ہوئے۔

    پولیس نے بعض مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ بورڈو میں ایک سکول میں توڑ پھوڑ کی گئی جبکہ مارسی میں سکول کے ایک نائب سربراہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    حکومت کے مطابق احتجاج شروع ہونے کے بعد سے اب تک چھ ہزار 877 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں، جن میں 86 فیصد کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔

    جمعے کو ملک کے تین ہزار 500 میں سے تقریباً 140 ہائی سکول مکمل یا جزوی طور پر بند رہے، جو گذشتہ دنوں کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ تاہم، آئندہ منگل کو ایک اور احتجاج کی اپیل کی گئی ہے۔

    تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کا طویل عرصے سے کہنا ہے کہ اساتذہ کی غیر حاضری اور ان کی جگہ پڑھانے کے لیے متبادل اساتذہ کی کمی کے باعث طلبہ کا تدریسی وقت ضائع ہو رہا ہے۔

    نئے پروگرام کے تحت ان سکولوں کو ترجیح دی جائے گی جہاں اساتذہ کی کمی سب سے زیادہ ہے، جن میں بڑی تارکینِ وطن آبادی والے شہروں کے مضافاتی علاقوں کے سکول بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

  17. علاقائی سفارت کاری کشیدگی میں اضافے کی روک تھام اور بحرانوں کے حل کا ذریعہ ہونی چاہیے: مسعود پزشکیان

    IRNA

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’علاقائی سفارت کاری محض اجلاسوں کے انعقاد تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے بحرانوں سے نمٹنے، مذاکرات جاری رکھنے، کشیدگی میں اضافے کی روک تھام اور عملی تعاون کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ بنانا چاہیے۔‘

    انھوں نے یہ بات ترکمانستان میں آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ (سی آئی ایس) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ایکس پر کہی۔ اس موقع پر انھوں نے ایران اور اس تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے ’سی آئی ایس پلس ایران‘ کے نام سے ایک نیا فارمیٹ تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق پزشکیان اجلاس میں شرکت کے بعد تہران واپس پہنچ گئے ہیں۔

    حالیہ ہفتوں میں ایرانی صدر بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ علاقائی بحرانوں کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور خطے کی سلامتی علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے یقینی بنائی جانی چاہیے۔

    پزشکیان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے حالیہ ہفتوں میں تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے۔

    اس دوران علاقائی حکام خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں کشیدگی کم کرنے اور بحری آمد و رفت برقرار رکھنے کے لیے بھی مشاورت کر رہے ہیں۔

  18. پاناما میں 7.7 شدت کا زلزلہ، متعدد شہروں میں بجلی کی فراہمی متاثر، پروازیں معطل

    EPA

    وسطی امریکی ملک پاناما میں سات اعشاریہ سات شدت کے زلزلے کے باعث ملک کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے جبکہ متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    زلزلے کے بعد ملک کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازیں بھی کئی گھنٹوں کے لیے معطل رہیں۔

    پاناما کے حکام کے مطابق زلزلے سے اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم، متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچنے اور بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    زلزلے کا مرکز صوبہ ہیریرا کے جنوب مشرق میں ایک کم آبادی والے علاقے میں بتایا گیا ہے۔

    زلزلے کے باعث پروازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی، تاہم پاناما کینال میں بحری جہازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری رہی۔

    رواں سال پاناما کے پڑوسی ممالک کولمبیا اور وینزویلا میں بھی شدید اور ہلاکت خیز زلزلے آ چکے ہیں۔

    Getty Images
    Getty Images
  19. سعودی اتحاد کا یمن میں حوثیوں کے 136 فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ، ’حملوں کا مقصد حوثیوں کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو ختم کرنا ہے،‘ سعودی حکام

    Getty Images

    سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کرتے ہوئے 136 فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    سعودی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی بیلسٹک میزائل داغنے کی صلاحیت کو کمزور اور تباہ کرنا ہے۔

    سعودی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کو متعدد فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ سعودی اتحاد نے ان کارروائیوں کو ایک بڑے فوجی آپریشن کا حصہ قرار دیا ہے۔

    حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق سعودی حملوں میں یمن کے شمال مغربی صوبے صعدہ کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب سعودی عرب کے مطابق جمعرات کو حوثیوں کے ایک میزائل حملے میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دوسری جانب حوثی میڈیا نے صنعا کے ہوائی اڈے پر سعودی حملوں میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

    سعودی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ سعودی لڑاکا طیارے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز کو فضائی مدد بھی فراہم کر رہے ہیں۔

    Getty Images
    Getty Images
  20. امریکہ کا روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے معاہدے کا اعلان، یوکرینی صدر زیلنسکی کی ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید

    Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا ہے، تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اسے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے لیے ’تحفہ‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔

    ٹرمپ کے مطابق پوتن نے فوری طور پر تین لاکھ ٹن ڈیزل امریکی اور عالمی منڈیوں میں فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے بعد نومبر میں پانچ لاکھ ٹن اور پھر مزید دس لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر مزید کہا کہ مختصر مدت میں روس سے مزید 30 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ اس کا انحصار روس کی ریفائنریوں کی صورتِ حال پر ہوگا، جنھیں یوکرین کے حملوں کا سامنا رہا ہے۔

    اس معاہدے کے تحت امریکی محکمہ خزانہ روسی ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندیاں سات اپریل تک معطل کر رہا ہے، تاہم امریکہ کے بینکوں میں موجود روسی اثاثے بدستور منجمد رہیں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ اس معاہدے کے بدلے امریکہ روس کو کیا دے گا۔

    زیلنسکی نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’ایسی جنگ میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے جسے طول دینے کے بجائے ختم ہونا چاہیے۔‘

    دوسری جانب پوتن نے کہا کہ روس امریکہ اور عالمی منڈیوں کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم انھوں نے فراہم کی جانے والی مقدار کی وضاحت نہیں کی۔ روس نے رواں سال کے آغاز میں ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کی تھی۔

    ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا روس اتنی بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کر سکتا ہے اور اس سے امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں کتنی کمی آئے گی۔

    سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی کے ماہر ٹم آرمٹیج کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے بتائی گئی پہلی کھیپ تقریباً 22 لاکھ 50 ہزار بیرل کے برابر ہے، جبکہ امریکہ میں روزانہ ڈیزل کی کھپت تقریباً 38 لاکھ بیرل ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس سے امریکی پمپوں پر ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی نمایاں فرق پڑنے کا امکان نہیں۔ انھوں نے اسے وسط مدتی انتخابات سے قبل مہنگائی کم کرنے کے لیے ٹرمپ کی ایک قدرے مایوس کن کوشش بھی قرار دیا۔

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنرواں سال 18 جون کو روسی آئل ریفائنری پر یوکرین کے ڈرون حملے کے بعد کے مناظر

    برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ یوکرین کی حمایت اور دیرپا امن کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھے گی۔ برطانیہ روس پر پابندیوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھنے اور منصفانہ و دیرپا امن کی کوششوں کی حمایت کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔

    فروری میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے باعث حالیہ مہینوں میں امریکہ میں پیٹرول اور خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے صارفین پر مالی دباؤ بڑھا اور مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

    امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق، امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت اس وقت 6.28 ڈالر فی گیلن ہے، جو ستمبر کے اختتام پر ریکارڈ کی گئی 6.53 ڈالر فی گیلن کی بلند ترین سطح سے کم ہے۔

    ٹرمپ کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد امریکی محکمہ خزانہ نے روسی ڈیزل کی درآمد کی اجازت دینے کے لیے باضابطہ طور پر عارضی لائسنس جاری کر دیا۔ پیوٹن نے بھی تصدیق کی کہ جمعے کو ان کی ٹرمپ سے عالمی توانائی کی صورتِ حال پر بات ہوئی تھی۔