ایف آئی اے کی کارروائی کے بعد ججز کے خلاف مہم میں کمی دیکھنے میں آئی ہے: مرتضیٰ سولنگی
نگراں وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے اتوار کو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سربراہ اسحاق جہانگیر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ججز کے خلاف توہین آمیز مواد شیئر کرنے والوں کے خلاف حکومت نے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی ہے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت سپریم کورٹ کے کچھ دیگر ججز کے خلاف تنقید کی گئی، جس کے بعد ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل عمل لائی گئی۔
ایف آئی اے نے متعدد صحافیوں کو بھی نوٹس بھیجے کہ وہ وضاحت کریں کہ انھوں نے ججز کے خلاف ٹویٹ اور پوسٹ کیوں شیئر کیں۔
مرتضیٰ سولنگی کے مطابق جے آئی ٹی بننے کے بعد کسی کو اغوا، گرفتار یا ہراساں نہیں کیا گیا ہے۔
مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ تقریباً 110 افراد کو نوٹس جاری کیے گئے، ان میں تقریباً 22 سیاسی کارکنان یا سیاستدان اور تقریباً 32 صحافی ہیں، ابھی تک قانون کے تحت صرف نوٹس جاری کیےگئے ہیں،کسی کو ہراساں نہیں کیا گیا، نہ ہی کسی کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔
نگران وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ عدالت اور قانون اپنا راستہ خود لے گا، اب تک ہونے والی کارروائی قانون کے مطابق ہوئی ہے، آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت اظہار رائے کی آزادی لامحدود نہیں، اس پر مناسب پابندیاں موجود ہیں، بات تنقید کی نہیں بلکہ بات تضحیک اورکردارکشی کی ہو رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پچھلے دنوں اعلیٰ عدلیہ کے خلاف جو مہم چلائی گئی وہ کسی طور بھی تنقید کے زمرے میں نہیں آتا۔ مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ تنقیدکو تہذیب کے دائرے میں رکھیں اور بہتان تراشی سے گریز کریں۔
ڈی جی ایف آئی اے اسحاق جہانگیر نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ نوٹس دینے کا مطلب ایف آئی آر درج کرنا ہی ہو۔ ان کے مطابق نوٹس ایک موقع ہوتا ہے کہ کوئی اپنا مؤقف پیش کر سکے۔












