’برطانوی فوجی سوچ رہے ہیں کہ ان سب قربانیوں سے کیا حاصل ہوا‘
لیبر رکنِ پارلیمان ڈین جاروِیس نے کہا ہے کہ ’بین الاقوامی سیاسی قیادت کی تباہ کن ناکامی اور طالبان کی بربریت‘ نے افغانوں سے ایک مختلف زندگی کی وہ امیدیں چھین لی ہیں جو ’ہم نے اُنھیں دینے کی کوشش کی تھی۔‘
پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’بہادر‘ برطانوی مرد و خواتین فوجیوں نے ان 20 سالوں میں زبردست ہمت اور پروفیشنلزم کا مظاہرہ کیا ’مگر حالیہ پیش رفت سے اُنھیں دھچکا لگا ہے۔
’وہ سوچ رہے ہیں کہ کیا یہ سب کوششیں اور قربانیاں فائدہ مند تھیں بھی یا نہیں۔‘
اُنھوں نے ہلمند میں برطانوی فوجیوں کے ساتھ کام کرنے والے افغان فوجیوں کے بارے میں کہا کہ وہ سوچ رہے ہیں کہ وہ لوگ کہاں ہوں گے، اور شاید اُن میں سے کئی ہلاک بھی ہو چکے ہوں۔ ’ہم اُن کی ضرورت کے وقت کہاں ہیں؟ ہم کہیں نہیں ہیں اور یہ شرمناک ہے، اور اس کا دنیا بھر میں برطانیہ کی ساکھ پر دیرپا اثر پڑے گا۔‘