القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. پاکستانی شہروں میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات افغانستان میں ٹی ٹی پی پر پُراسرار حملوں کا ردعمل ہیں؟

  2. کابل سے لاپتہ تمنا کی تلاش: ‘گھر کے اندر کوئی نہیں، دروازے پر ایک بڑے بوٹ کا نشان‘

  3. ’زینب کا آخری تحفہ شاید اب کبھی استعمال نہ کر پاؤں‘

  4. طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والا آسٹریلوی شہری دوبارہ افغانستان کیوں جانا چاہتا ہے؟

  5. افغانستان: لوگ گھر گرم کرنے کے لیے پلاسٹک جلانے پر مجبور

  6. طالبان سے چھپتے افغان اساتذہ: ‘ہم گھروں میں ایسے بیٹھے ہیں جیسے جیل میں ہوں‘

  7. کیا ایران طالبان کو تسلیم کرنے کی تیاری کر رہا ہے؟

  8. تحریک طالبان پاکستان کی محمد خالد خراسانی کی ہلاکت کی خبروں کی تردید

  9. طالبان وزیر خارجہ کی تہران میں اپنے مخالف رہنماؤں احمد مسعود اور اسماعیل خان سے ملاقات

  10. کابل ائیرپورٹ پر امریکی فوجی کو تھمایا گیا دو ماہ کا بچہ والدین تک کیسے پہنچا؟

  11. اشرف غنی کو مارنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا: طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر

  12. ’گھبرائے ہوئے سکیورٹی چیف نے کہا اگر آپ فیصلے پر اٹل رہے تو ہم سب مارے جائیں گے‘

  13. افغانستان میں طالبان: کیا ملک میں موسیقی کی ہزاروں سال پرانی ثقافت دم توڑ جائے گی؟

  14. افغانستان: خواتین کے اکیلے سفر کرنے اور گاڑیوں میں موسیقی چلانے پر پابندی

  15. عالمی پابندیوں کی موجودگی میں افغانستان تک امداد کیسے پہنچے گی؟

  16. افغان عوام کو افغان طالبان سے علیحدہ کر کے دیکھا جائے: عمران خان کا امریکہ کو پیغام

  17. افغانستان میں معاشی بحران: ’لوگ مرجائیں گے، ہم انھیں مرتا ہوا دیکھ رہے ہیں‘

  18. افغان بچوں کو غذائی قلت اور خسرے کا سامنا: ’عالمی امداد نہ ملی تو ڈر ہے کہ ہسپتال بھی بند ہو جائے‘

  19. تحریک طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے؟

  20. افغانستان میں منشیات کا دھندا عروج پر: ’جب سے طالبان نے ملک آزاد کیا، ہم بھی آزاد ہو گئے‘