آئی سی یو میں ’سانس لینی مشکل، لیکن سانس ٹوٹنی آسان‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
پاکستان میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کو کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں اور ان کے اہلخانہ کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔ طبی عملے کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کی علامات کو چھپایا جاتا ہے اور اسے ایک سٹیگما سمجھا جاتا ہے۔ کئی لوگ اب بھی اسے جھوٹ قرار دیتے ہیں، اور کچھ کے خیال میں ڈاکٹر مریضوں کو مار رہے ہیں۔
بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید اور موسی یاوری کو اسلام آباد کے سرکاری اسپتال پمز کے کورونا آئی سی یو میں خصوصی رسائی دی گئی۔ انہوں نے وہاں تعینات ڈاکٹروں سے ملاقات کی جو وائرس کے ساتھ ساتھ افواہوں کے خلاف بھی لڑ رہے ہیں۔

















