سعودی عرب نے بدھ سے سالانہ حج کی میزبانی شروع کر دی ہے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے اس سال حالیہ تاریخ میں پہلی بار دیگر مماللک سے حج کے خواہشمند لاکھوں افراد کو روکا گیا ہے۔ اس سال بہت کم تعداد میں مسلمان حج ادا کریں گے۔
اس سال کون حج میں شریک ہو سکے گا؟
اس سال سعودی عرب میں مقیم دس ہزار سے زائد مسلمانوں کو حج کرنے کی اجازت ہو گی۔ گذشتہ برس 25 لاکھ حجاج خانہ کعبہ میں جمع ہوئے تھے۔
وبا کے خطرے کے پیش نظر اس سال بڑی تعداد میں حج کے لیے دی جانے والی درخواستوں کو مسترد کیا گیا ہے۔
اس سال احتیاطتی تدابیر کے طور پر حج کے پانچ دنوں کی کوریج کے لیے غیر ملکی میڈیا پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
سعودی عرب میں کورونا وائرس کی وجہ سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ دنیا بھر میں اس وائرس کے متاثرین کی تعداد ایک کروڑ اور ساٹھ لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔
مکہ میں حج کی غرض سے آنے والوں کو تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ ان کا جسمانی درجہ حرارت چیک کیا جائے گا اور انھیں قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔
شیطان کو کنکریاں مارنے کی سنت پوری کرنے کے لیے حجاج کو سٹریلایزڈ یعنی جراثیم سے پاک کنکریاں دی جائیں گی۔ اسی طرح ان کا احرام، جائے نماز اور ان کے کے استعمال کی ایسی اشیا پر جراثیم کش سپرے کیا جائے گا۔
سماجی فاصلے کے اصول کی پابندی کرنا ہو گی۔