پاکستان کے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے احکامات کے مطابق کورونا وائرس کی تیسری لہر میں بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صوبے میں لاک ڈاؤن سے متعلق سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر سارہ اسلم کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ پنجاب میں 17 مئی تک لاک ڈاؤن نافذ العمل رہے گا۔
اس لاک ڈاؤن کے دوران صوبہ بھر میں شام چھ بجے سے صبح سحری تک تمام سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہو گی۔ صوبے بھر میں ہفتہ اور اتوار کو مکمل تعطیل ہو گی جبکہ تمام کاوروبار اور سرگرمیاں بند رہیں گی۔
تاہم پٹرول پمپ، میڈیکل سٹورز، ویکسینیشن سینٹر، گوشت اور سبزی کی دوکانوں کو اس نوٹیفیکیشن سے استشنیٰ حاصل ہو گا۔
لاک ڈور کے دوران انڈورشادیوں اور دیگر تقریبات پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق پنجاب کے وہ اضلاع جن میں کورونا وائرس پازٹیوٹی کی شرح آٹھ سے زیادہ ہے وہاں تمام انڈور اور آوٹ ڈور شادی کی تقریبات، ریسٹورینٹس اور مزارات پرمکمل پابندی عائد ہوگی۔
ان اضلاع میں بہاولپور، بھکر، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، جھنگ، قصور، خانیوال، لاہور، ملتان، منڈی بہاؤالدین، اوکاڑہ، راولپنڈی، رحیم یار خان، سیالکوٹ، سرگودھا، شیخوپورہ اور وہاڑی شامل ہیں۔
ٹرین سروس کل گنجائش کے70 فیصد مسافروں کے ساتھ جاری رہے گی جبکہ تمام سرکاری و نجی دفاتر کا 50 فیصد عملہ گھر سے کام کرنے کا پابند ہو گا۔
صوبہ بھر کے تمام سرکاری اور نجی دفاتر کے اوقات صبح نو سے دوپہر دو بجے تک محدود ہوں گے۔
ہفتہ اور اتوار ( بعض اظلاع میں جمعہ اور ہفتہ ) تمام سرگرمیاں بند رہیں گی۔
سارہ اسلم کے مطابق پنجاب بھر کے ریسٹورنٹس میں انڈور کھانے پر مکمل پابندی ہوگی اور تمام تفریحی پارکس بند رہیں گے جبکہ واکنگ /جوگنگ ٹریکس کھلے رہیں گے۔
صوبہ بھر میں تمام جِم اور سینما ہالز مکمل طور پر بند رہیں گے جبکہ ہر قسم کے کھیل، ثقافتی تہواراور اجتماعات پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔
شہر کے اندر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ 50 فیصد گنجائش کے ساتھ جاری رہے گی جبکہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ ہفتے میں دو دن (ہفتہ اور اتوار) مکل طور پر بند رہے گی۔