آٹا اور ایندھن ختم ہونے کے بعد شمالی غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا, بی بی سی نیوز کے صحافی رشدی ابوالوف کی خان یونس سے رپورٹنگ
شمالی غزہ میں اس وقت آٹھ اہم محاذوں پر جاری لڑائیاں جاری ہیں جن میں سب سے زیادہ پرتشدد کاروائیاں شمال مغربی اور جنوب مغربی علاقوں میں کی جا رہی ہیں۔
یہاں غزہ شہر کی طرف جانے والی شاہراہ اور ساحل کے متوازی سڑک کا کنٹرول اسرائیلی افواج کے ہاتھ میں ہے۔ فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمین پر جاری اسرائیلی فوج کی کاروائیوں کا زور ساحل کے قریب واقع پناہ گزین کیمپ کے اطراف اور غزہ کے جنوب مغرب میں الشفاء ہسپتال اور القدس ہسپتال کے آس پاس کے علاقوں ہے۔
شمالی غزہ میں غزائی قلت کے سبب صورت حال انتہائی ابتر ہے جہاں آٹا اور ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے بیشتر بیکریاں بند ہو چکی ہیں۔
شہرمیں اگرچہ پانی کے کنووں کی بہتات ہے تاہم ایندھن کی شدید قلت کی وجہ سے پانی کو پمپ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے اور ان کی حفاظت کے لیے جنوب کی طرف نقل مکانی کی بار بار تنبیہ کی جا چکی ہے تاہم پانچ لاکھ فلسطینی اب بھی شمالی علاقوں میں مقیم ہیں۔
حامدی الحتو نامی ایک شہری نے بتایا کہ ’ہم سڑک تباہ ہونے کی وجہ سے باہر نہیں نکل سکے اور میں دل کے پٹھوں کی کمزوری کے باعث پانچ کلومیٹر پیدل نہیں چل سکتا۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ہم نو افراد پر مشتمل خاندان ہیں۔ میں کافی بیچ کراپنی گزر بسر کرتا تھا تاہم آج میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ نہ کھانا ہے نہ پانی۔ کچھ بھی نہیں ہے۔ میرے بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔‘
جنوبی غزہ کے علاقے میں رات کو اسرائیلی فضائی حملوں میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں جنھوں نے رفح، خان یونس اور دیر البلاح شہروں کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ سبھی محفوظ علاقے میں واقع ہیں جہاں آبادی کا تین چوتھائی حصہ رہتا ہے۔ یہاں خان یونس میں شہر کے مرکزی بازار کے دورے کے دوران میں نے خوراک، ادویات اور صاف پانی کے حصول کے لیے لوگوں کی تکالیف دیکھی ہیں ۔ غزہ میں جنگ جاری رہنے سے انسانی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔