فاز: پاکستان کے پہلے مقامی فضائی میزائل کا تجربہ کیوں اہم سمجھا جا رہا ہے؟

FAAZ
    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

جدید فضائی جنگ میں کسی لڑاکا طیارے کی برتری کا تعین صرف اس کے ریڈار کی کارکردگی، رفتار یا پرواز کی صلاحیت سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہ کتنی دور سے دشمن کے طیاروں کا پتا لگا کر انھیں کس نوعیت کے ہتھیاروں سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان نے حال ہی میں فاز (Fa'az) نامی فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جسے فوج نے ملک کا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ ایئر ٹو ایئر میزائل قرار دیا ہے۔

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ پاکستان کا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ ایئر ٹو ایئر میزائل ہے، جو جدید ٹرمینل گائیڈنس سسٹم سے لیس ہے اور طویل فاصلے پر دشمن کے فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس میزائل کی تیاری پاکستان کی دفاعی صنعت میں تکنیکی مہارت، جدت اور خود انحصاری کی عکاسی کرتی ہے۔

اگرچہ اس میزائل کی تکنیکی تفصیلات اور عملی صلاحیتوں کے بارے میں ابھی زیادہ معلومات سامنے نہیں آئیں، تاہم اس کی تیاری پاکستان کی جانب سے اپنے لڑاکا طیاروں کے لیے جدید ہتھیار اور ان سے متعلق ٹیکنالوجی مقامی طور پر تیار کرنے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

لیکن فاز میزائل کی تکنیکی صلاحیتیں کیا ہیں؟ کیا یہ پاکستان کی فضائیہ کو اپنے موجودہ ہتھیاروں کے مقابلے میں کوئی نئی صلاحیت فراہم کر سکتا ہے؟ انڈیا کے ساتھ فضائی جنگی صلاحیتوں کی دوڑ میں اس میزائل کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے؟ اور اس کی تیاری پاکستان کی دفاعی صنعت میں خود انحصاری کی کوششوں کے لیے کتنی اہم ہے؟

FAAz

فاز میزائل کی تکنیکی صلاحیتیں کیا ہیں؟

ٹورنٹو میں قائم دفاعی امور کے پلیٹ فارم 'قوٰہ' (Quwa) کے بانی اور تجزیہ کار بلال خان کے مطابق فاز ایک بیونڈ ویژول رینج (BVR) میزائل پلیٹ فارم ہے، یعنی ایسا میزائل جو پائلٹ کی براہِ راست نظر کی حد سے باہر موجود فضائی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ’اس کے دو بنیادی ورژن ہیں: ایک امیجنگ اِنفراریڈ (IIR) سیکر والا اور دوسرا ایکٹو ریڈار ہومنگ (ARH) نظام سے لیس۔ پاکستان کے ایئر ویپنز کمپلیکس (اے ڈبلیو سی) نے اس میزائل کی مار کرنے کی حد تقریباً 100 کلومیٹر بتائی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ حد تمام ورژنز کے لیے یکساں ہے یا نہیں۔‘

بلال خان کے مطابق تین نومبر کو کیے گئے تجربے میں فاز کا امیجنگ اِنفراریڈ سیکر والا ورژن استعمال کیا گیا۔ اس نظام میں میزائل اپنے ہدف سے خارج ہونے والی حرارت کو محض ایک گرم نقطے کے طور پر شناخت نہیں کرتا بلکہ اس کی تھرمل تصویر بناتا ہے۔ ان کے مطابق اس وجہ سے یہ روایتی اِنفراریڈ میزائلوں کے مقابلے میں فلیئرز جیسے دھوکا دینے والے حرارتی اقدامات سے کم متاثر ہو سکتا ہے۔

بلال خان کے مطابق اے ڈبلیو سی نے اس اِنفراریڈ سیکر کی ہدف کو شناخت کرنے کی حد تقریباً 40 سے 45 کلومیٹر بتائی ہے۔ میزائل داغے جانے کے بعد ابتدائی مرحلے میں اسے ہدف کی جانب لے جانے کے لیے لانچ کرنے والے لڑاکا طیارے کا ریڈار رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ جب میزائل ہدف کے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچتا ہے تو اس کا اپنا اِنفراریڈ سیکر فعال ہو کر ہدف کو شناخت اور نشانہ بنانے کی ذمہ داری سنبھال لیتا ہے۔

فاز کے دوسرے ورژن میں ایکٹو ریڈار ہومنگ (ARH) سیکر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بلال خان بتاتے ہیں کہ یہ بنیادی طور پر میزائل کے اندر نصب ایک چھوٹا ریڈار ہوتا ہے۔ اس ورژن میں بھی میزائل کو ابتدا میں لڑاکا طیارے کے ریڈار سے رہنمائی ملتی ہے، تاہم تقریباً 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر اس کا اپنا ریڈار سیکر فعال ہو کر ہدف کو تلاش اور نشانہ بنا سکتا ہے۔

دوسری جانب سٹریٹیجک ویژن انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ہتھیاروں کے محقق حماد ولید کے مطابق فاز کو ایک واحد میزائل کے بجائے میزائل فیملی کے طور پر دیکھنا چاہیے، جس کی مختلف اقسام مختلف اہداف اور جنگی ضروریات کے لیے تیار کی جا رہی ہیں۔

بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے حماد بتاتے ہیں کہ گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز (GIDS) اس کے ریڈار اور اِنفراریڈ سیکر والے ورژن پہلے بھی پیش کر چکا ہے، جن کی بتائی جانے والی مار کرنے کی حد 70 سے 100 کلومیٹر ہے، تاہم فاز-ٹو کی متوقع رینج 180 کلومیٹر یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

حماد کے مطابق حالیہ تجربے کی جاری کردہ تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں اِنفراریڈ سیکر والا ورژن استعمال ہوا، تاہم ایسے میزائل عموماً کم اور درمیانے فاصلے کی فضائی لڑائی میں استعمال ہوتے ہیں۔ انتہائی طویل فاصلے پر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ایکٹو یا سیمی ایکٹو ریڈار گائیڈنس زیادہ موزوں ہوتی ہے۔

Pakistan Air Force J-10C fighter jets perform at a rehearsal ahead of Pakistan's national day parade in Islamabad on March 21, 2024.

فاز کس حد تک مقامی طور پر تیار کیا گیا ہے؟

فاز کی تیاری کے حوالے سے اہم سوال یہ ہے کہ اس میں کتنی ٹیکنالوجی پاکستان نے خود تیار کی اور کیا اس میں کسی دوسرے ملک کی معاونت بھی شامل ہے۔

بلال خان کے مطابق فاز ایک مقامی طور پر تیار کردہ میزائل پلیٹ فارم ہے، تاہم پاکستان نے اس کی تیاری میں اپنے پہلے سے موجود میزائل پروگراموں کے تجربے سے بھی فائدہ اٹھایا۔ ان کے مطابق ایئر ویپنز کمپلیکس (اے ڈبلیو سی) نے چین کے SD-10A میزائل سے حاصل ہونے والے تجربے کو استعمال کیا، لیکن دونوں میزائلوں کے وزن اور رفتار میں فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان میں مختلف راکٹ موٹرز استعمال کی گئی ہیں۔

بلال خان کے مطابق اے ڈبلیو سی نے اپنا ڈوئل تھرسٹ راکٹ موٹر تیار کیا، جس کی بدولت فاز کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے علاوہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے نظام کی صورت میں بھی ڈھالنا ممکن ہوا۔ اس دوسرے ورژن کو فاز ایس ایل (Fa'az SL) کہا جاتا ہے۔

ان کے مطابق اے ڈبلیو سی فاز-ٹو پر بھی کام کر رہا ہے، جس کی متوقع مار کرنے کی حد 180 کلومیٹر سے زیادہ ہو سکتی ہے اور اس میں ڈوئل پلس راکٹ موٹر استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔

بلال خان کا کہنا ہے کہ فاز کی تیاری میں کئی برس لگنا اور اس کے مختلف ورژنز پر کام ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اس کی بنیادی ٹیکنالوجی خود تیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ محض کسی دوسرے ملک کے میزائل کی لائسنس کے تحت تیاری ہوتی تو راکٹ موٹر جیسی اہم ٹیکنالوجی کی منتقلی آسان نہ ہوتی۔

تاہم ان کے مطابق کسی ہتھیار کی مقامی پیداوار کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ اس کی بنیادی ٹیکنالوجی بھی ملک کے اندر تیار کی گئی ہو، کیونکہ اہم اجزا کے لیے بیرونی سپلائرز پر انحصار برقرار رہ سکتا ہے۔

دوسری جانب حماد ولید کہتے ہیں کہ یہ طے کرنا آسان نہیں کہ فاز کس مخصوص غیر ملکی میزائل سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا۔ ان کے مطابق اس کی ساخت بعض پہلوؤں سے چین کے PL-12 میزائل سے مشابہت رکھتی ہے، تاہم دونوں میں تکنیکی فرق بھی موجود ہیں۔ ان کے خیال میں فاز کو کسی دوسرے ملک کے میزائل کی نقل یا محض مشترکہ پیداوار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

حماد ولید کے مطابق پاکستان کئی دہائیوں سے امریکی اور چینی فضائی ہتھیار استعمال کرتا رہا ہے۔ جے ایف 17 کی تیاری کے ساتھ ہی اس کے لیے ہتھیاروں کی تیاری کی ضرورت بھی پیدا ہوئی، جس میں پاکستان کے دفاعی اداروں نے اپنا کردار ادا کیا۔

فاز کے ترکی کے گوکدوغان (Gökdoğan) میزائل پروگرام سے ممکنہ تعلق کی بات بھی سامنے آتی رہی ہے، تاہم بلال خان کے مطابق فی الحال دونوں پروگراموں کے درمیان کسی براہِ راست تعلق کا ثبوت موجود نہیں۔

بلال خان کے مطابق پاکستان اور ترکی کے دفاعی اداروں کے درمیان میزائل ٹیکنالوجی میں تعاون کے امکانات موجود ہیں۔ وہ ترکی کے ریم جیٹ میزائل پروگراموں گوکھان (Gökhan) اور گوکبورا (Gökbora) کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق گوکبورا میں ٹھوس ایندھن پر مبنی انجن کا تصور خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔

پاکستان نے اب تک ریم جیٹ سے چلنے والے فضائی میزائلوں پر کام نہیں کیا، جب کہ انڈیا کے پاس یورپی ساختہ میٹیور (Meteor) میزائل موجود ہے اور وہ اپنے آسترا (Astra) پروگرام کے اگلے ورژنز میں بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی صلاحیت بڑھانے پر کام کر رہا ہے۔

ریم جیٹ انجن کا فائدہ یہ ہے کہ میزائل پرواز کے طویل حصے میں اپنی رفتار برقرار رکھ سکتا ہے، جس سے طویل فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے اس کے پاس زیادہ رفتار اور توانائی باقی رہتی ہے۔ بلال خان کے خیال میں پاکستان مستقبل میں ترکی کے ساتھ تعاون یا مشترکہ سرمایہ کاری کے ذریعے اس ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

This photograph taken on June 18, 2023 shows the active radar guided air-to-air missile Meteor developped by European manufacturer MBDA during the International Paris Air Show at the ParisLe Bourget Airport.

فاز کی پاکستانی فضائیہ کے لیے اہمیت

فاز کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ پاکستان فضائیہ اس وقت کون سے لڑاکا طیارے اور فضائی میزائل استعمال کر رہی ہے اور مستقبل میں اس کے جنگی طیاروں کے بیڑے میں کیا تبدیلیاں متوقع ہیں۔

پاکستان فضائیہ کے ایف 16 طیاروں میں امریکی AIM-120 میزائل شامل ہیں، جب کہ جے ایف 17 اور جے 10 طیاروں کے ساتھ چین کے PL سیریز کے میزائل استعمال کیے جاتے ہیں۔ حماد ولید کے مطابق ان میں PL-15E پاکستان کے بیڑے میں موجود زیادہ جدید بیونڈ ویژول رینج میزائلوں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان فضائیہ کے مختلف طیاروں میں کم فاصلے پر مار کرنے والے AIM-9 سائیڈ ونڈر میزائل بھی استعمال ہوتے ہیں۔

بلال خان کے مطابق فاز کی تیاری سے پاکستان فضائیہ کی آپریشنل فلیکسبلٹی (Operational Flexibility) میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اسے اپنے لڑاکا طیاروں کے لیے ہتھیاروں کے انتخاب اور ان کے انضمام پر زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان جے ایف 17 کے اپ گریڈ پروگرام پر کام کر رہا ہے، جس میں نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (NASTP) کے تحت نئے ریڈار کی تیاری بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق جدید ریڈار سے فائدہ اٹھانے کے لیے اس کے ساتھ مطابقت رکھنے والے میزائل بھی ضروری ہیں۔

بلال خان کے مطابق جے ایف 17 بلاک تھری کے لیے ماضی میں اٹلی اور برطانیہ کے گریفو-ای (Grifo-E) ریڈار پر غور کیا گیا تھا، جس میں گیلیم نائٹرائڈ (GaN) ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق چینی میزائلوں کے انضمام کے لیے درکار سورس کوڈ اور دیگر تکنیکی معلومات تک مکمل رسائی نہ ملنے کے باعث پاکستان نے چینی KLJ-7A ریڈار استعمال کیا، جو گیلیم آرسنائڈ (GaAs) ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔

ان کے مطابق NASTP اب اپنا GaN ٹیکنالوجی پر مبنی ریڈار تیار کر رہا ہے۔ بلال خان کا خیال ہے کہ اپنے ریڈار کے ساتھ میزائلوں پر بھی زیادہ کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے، اور فاز اسی کوشش کا حصہ ہے۔

حماد ولید کے مطابق جے ایف 17 کے ابتدائی بلاک ون اور ٹو میں ہتھیاروں کے وزن، ریڈار اور انجن کی کارکردگی کے حوالے سے کچھ حدود تھیں، تاہم بلاک تھری میں جدید AESA ریڈار اور بہتر ایویانکس شامل کیے گئے ہیں، جس سے یہ طیارہ زیادہ جدید ہتھیار استعمال کرنے کے قابل ہوا ہے۔ ان کے مطابق پرانے ایف 7 اور میراج طیاروں کی ریٹائرمنٹ اور جے ایف 17 کے نئے ورژنز اور جے 10 سی کی شمولیت کے ساتھ جے ایف 17 مستقبل میں پاکستان فضائیہ کے بیڑے کا بڑا حصہ بن سکتا ہے۔

بلال خان کہتے ہیں کہ فاز کا موجودہ ورژن اپنی صلاحیتوں میں چین کے PL-15 سے پیچھے ہے، لیکن اس کی اہمیت اس ٹیکنالوجی میں ہے جو پاکستان نے اسے تیار کرتے ہوئے حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق فاز-ٹو کی راکٹ موٹر ٹیکنالوجی مستقبل میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے لیے بھی کارآمد ہو سکتی ہے۔

تاہم آئی ایس پی آر کے اعلان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ فاز کو پاکستان فضائیہ کے کن لڑاکا طیاروں کے ساتھ استعمال کیا جائے گا یا آیا اسے عملی طور پر فضائی بیڑے میں شامل کر لیا گیا ہے۔

Getty Images

پاکستان اور انڈیا کے درمیان بیونڈ ویژول رینج میزائلوں کی دوڑ

پاکستان اور انڈیا دونوں اپنی فضائی افواج کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور جدید فضائی ہتھیاروں پر کام کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ ان کے لڑاکا طیارے دشمن کے طیاروں کو زیادہ فاصلے سے نشانہ بنا سکیں اور انھیں اپنے فضائی دفاعی نظام کے قریب آنے کی ضرورت نہ پڑے۔

حماد ولید کے مطابق 2019 کے پاکستان انڈیا فضائی تصادم کے بعد انڈیا نے اپنی فضائی جنگی صلاحیتوں کو جدید بنانے اور خاص طور پر بیونڈ ویژول رینج میزائلوں کی صلاحیت بڑھانے پر مزید توجہ دی۔ انڈیا کے رافیل طیاروں میں یورپی ساختہ میٹیور میزائل بھی شامل ہے، جو طویل فاصلے پر فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وہ گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان فوجی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس دوران انڈیا کے فضائی آپریشنز میں بیونڈ ویژول رینج میزائلوں کے استعمال اور ان کی کارکردگی کے حوالے سے سوالات سامنے آئے۔ حماد ولید کے مطابق اس موقع پر پاکستان نے اپنے طیاروں، ریڈار اور دیگر نظاموں کے درمیان رابطے پر مبنی کِل چینز استعمال کرتے ہوئے چینی ساختہ PL-15E میزائلوں سے انڈین فضائیہ کے طیاروں کو نشانہ بنایا۔

تاہم اس تصادم میں طیاروں کو نشانہ بنائے جانے، ان کی تباہی اور مختلف میزائلوں کی عملی کارکردگی سے متعلق دونوں ممالک کے دعوؤں اور دستیاب شواہد میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

حماد ولید کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے درمیان فضائی ہتھیاروں کی دوڑ اب صرف لڑاکا طیاروں کی خریداری تک محدود نہیں رہی بلکہ دونوں ممالک اپنے موجودہ طیاروں کے لیے زیادہ جدید میزائل تیار کرنے یا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق انڈیا اپنے آسترا میزائل پروگرام کو بھی آگے بڑھا رہا ہے، جس کے مختلف ورژنز کی مار کرنے کی صلاحیت مختلف ہے اور انھیں مقامی طور پر تیار کیے جانے والے تیجس لڑاکا طیاروں کے ساتھ استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔

بلال خان کے مطابق انڈیا کی جانب سے ریم جیٹ ٹیکنالوجی والے میزائلوں پر پیش رفت پاکستان کے لیے ایک اہم تکنیکی چیلنج ہے۔ ان کے خیال میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں میں صرف ان کی زیادہ سے زیادہ رینج ہی اہم نہیں ہوتی بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے کے دوران کتنی رفتار اور توانائی برقرار رکھ سکتا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کو مستقبل میں ایسے میزائلوں کی ٹیکنالوجی پر بھی کام کرنا ہو گا تاکہ وہ انڈیا کے جدید فضائی ہتھیاروں کے مقابلے میں اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکے۔

Fa’az

فاز: مستقبل کے فضائی ہتھیاروں کی بنیاد؟

دفاعی ماہرین کے مطابق فاز کی کامیابی کو صرف اس کی موجودہ مار کرنے کی صلاحیت یا کسی دوسرے ملک کے میزائل سے موازنے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ اس کی اہمیت اس ٹیکنالوجی، صنعتی تجربے اور مقامی صلاحیت میں بھی ہے جو پاکستان اس کی تیاری کے دوران حاصل کر سکتا ہے۔

بلال خان کے مطابق فاز کا موجودہ ورژن شاید پاکستان فضائیہ کے پاس پہلے سے موجود زیادہ جدید میزائلوں، خصوصاً PL-15، کی جگہ فوری طور پر نہ لے سکے، لیکن مقامی طور پر راکٹ موٹر، سیکر اور گائیڈنس سسٹم تیار کرنے کی صلاحیت مستقبل میں زیادہ جدید میزائلوں کی بنیاد بن سکتی ہے۔

حماد ولید بھی ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جے ایف 17 جیسے لڑاکا طیاروں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ان کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں کی دستیابی اہم ہو گی۔ ان کے خیال میں مقامی پیداوار سے پاکستان کو ہتھیاروں کی تعداد بڑھانے، ان کی تیاری پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے اور اپنی عملی ضروریات کے مطابق ان میں تبدیلیاں کرنے کی گنجائش مل سکتی ہے۔

بلال اور حماد دونوں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں ایسے ہتھیاروں کو صرف روایتی لڑاکا طیاروں تک محدود رکھنے کے بجائے دیگر پلیٹ فارمز، حتیٰ کہ بغیر پائلٹ کے طیاروں (UAVs) کے ساتھ بھی استعمال کرنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔

اس لیے فاز کی کامیابی کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ پاکستان اس ٹیکنالوجی کو کس حد تک مزید ترقی دے سکتا ہے اور مستقبل میں زیادہ جدید فضائی ہتھیار تیار کرنے کے لیے اس بنیاد سے کتنا فائدہ اٹھاتا ہے۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔