آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پی ٹی آئی رہنماؤں کا مصافحہ، سوشل میڈیا پر تنقید اور وضاحت: ’وہ لڑکے والوں کی طرف سے تھے‘
’بہت دیر تک خود کو سمجھایا کہ یہ جھوٹ ہے، اے آئی ہے، ایسا ممکن ہی نہیں، لیکن افسوس، یہ سب سچ تھا۔‘
یہ تبصرہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے امریکہ میں ڈیجیٹل میڈیا کے ایک عہدے دار وقار خان نے ایکس پر سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی پی ٹی آئی رہنماؤں کے ملاقات کی تصاویر پر کیا ہے۔
چند دن قبل پاکستان میں پی ٹی آئی کے رہنما عاطف خان کی بھتیجی کی شادی کی چند تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں ہیں جن میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں سے ملتے ہوئے دیکھا گیا تو تحریکِ انصاف کے حامیوں کا شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔
عاطف خان کی بھتیجی کی شادی پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم این اے اسد عالم خان نیازی کے بیٹے کے ساتھ ہوئی تھی۔
اس شادی کی تقریب اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں اپوزیشن و حکومتی سیاستدان شریک ہوئے جن میں پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ تقریب کے دوران بیرسٹر گوہر اور جنرل (ر) قمر باجوہ کے درمیان ملاقات کی تصاویر بھی وائرل ہوئیں۔
یاد رہے اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ، خصوصاً جنرل (ر) باجوہ، نے ان کی حکومت ختم کرنے میں کردا ادا کیا۔ خود عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے کئی مواقع پر کھل کر جنرل باجوہ پر تنقید کی۔
دوسری جانب جنرل باجوہ نے ریٹائرمنٹ سے قبل اور بعد میں عوامی سطح پر ان الزامات کے متعلق کچھ نہیں کیا البتہ پاکستانی فوج کا مؤقف رہا ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔
اسی وجہ سے آج بھی پی ٹی آئی کے بہت سے کارکن اور حامی جنرل (ر) باجوہ کو عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور بعد کے سیاسی بحران کا اہم کردار سمجھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’وہ لڑکے والوں کی طرف سے تھے‘
شادی کی تصاویر کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عاطف خان پر خاصی تنقید کی جاری رہی ہے اور ان سے سوال کیا جا رہا ہے کہ بتائیں جنرل (ر) باجوہ کو کس نے مدعو کیا تھا؟
پی ٹی آئی کے حامیوں اور ناقدین کے تبصروں کے بیچ عاطف خان کا مؤقف سامنے آیا ہے۔
ایک مقامی صحافی نے عاطف خان سے اس تنقید کے حوالے سے سوال کیا، جس پر ویڈیو میں انھیں کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’میں صرف اتنا کہوں گا کہ شادیوں میں مہمان آتے ہیں اور جو باجوہ صاحب کے آنے پر تنقید ہو رہی ہے، تو وہ لڑکے والوں کی طرف سے تھے۔‘
’لڑکے والوں سے آپ یہ تو پوچھ سکتے کہ ہیں کہ آپ کے کتنے مہمان ہوں گے تاکہ اس حساب سے بندوبست کر لیں۔ لڑکے والوں کی مرضی ہوتی ہے وہ جس کو بلانا چاہتے ہیں بلا سکتے ہیں۔۔ لڑکی والے یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ کس کو بلائیں کس کو نہ بلائیں۔‘
عاطف خان کا کہنا تھا کہ ’لڑکے والوں کی طرف سے کافی لوگ آئے تھے کیونکہ لڑکے کے والد نیازی صاحب بھی پیپلز پارٹی سے ایم این اے ہیں، سیاسی آدمی ہیں، فوج میں رہے ہیں اور باجودہ صاحب ان کے جاننے والے ہیں۔‘
اس موقع پر عاطف خان سے یہ سوال بھی پوچھا گیا کہ آپ اور بیرسٹر گوہر پر کافی تنقید ہو رہی ہے اور پی ٹی آئی کارکنان کا موقف ہے کہ ’ہم تو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہیں مگ ہمارے قائدین ان سے چھپ چھپ کر ملاقاتیں کرتے ہیں۔‘
عاطف خان کا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی چھپ کر ملاقات نہیں تھی کیونکہ وہاں سینکڑوں لوگ موجود تھے۔‘
’آپ اس طرح سینکڑوں لوگوں کے سامنے شادی میں وہ بھی اتفاقاً ملاقات میں سازشیں نہیں کرتے۔‘
عاطف خان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تو خود نہیں پتا تھا کہ لڑکے والوں کی طرف سے کون کون مہمان آ رہے ہیں۔‘
تاہم عاطف خان کی وضاحت کے باوجود پی ٹی آئی کے حامیوں کی تنقید جاری ہے۔
ارشد منیر نامی صارف نے عاطف خان کی وضاحت والی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’ہم نے تو عمران خان کے خلاف بات کرنے والے اپنے رشتہ داروں سے تعلقات محدود کر دیے۔۔۔ ایسی محفل جس میں جہاں جنرل (ر) باجودہ موجود تھے وہاں سے واک آؤٹ کرنا چاہیے تھا۔‘
جہاں ایک جانب پی ٹی آئی کے حامی عاطف خان، بیسرسٹر گوہر اور اسد قیصر پر کڑی تنقید کر رہے ہیں وہیں کئی افراد کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ ’سیاسی اختلافات سے بالاتر، روایتی وضع داری کی بہترین مثال ہے۔‘
ذیشان خان صارف نے لکھا ’جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اور بیرسٹر گوہر سے لے کر شیری رحمان، اسد قیصر اور ممتاز سیاست دان آفتاب شیرپاؤ تک، عاطف خان کی بھتیجی کی شادی نے ملک کی سیاسی و عوامی زندگی کی مختلف نمایاں شخصیات کو ایک جگہ جمع کر دیا۔‘
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔