آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسعد محمود کی نیب طلبی: حکومت اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان اختلافات شدت کیوں اختیار کر گئے؟
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی اب پارلیمان کی تلخ تقاریر اور سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر ان کے خاندان اور قریبی ساتھیوں کے خلاف مالی اور انتظامی تحقیقات تک پہنچ گئی ہے۔
گذشتہ چند روز کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے بیٹے، سابق وفاقی وزیر اسعد محمود اور ان کے بعض قریبی ساتھیوں کو مختلف معاملات میں نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مولانا فضل الرحمان خیبر پختونخوا میں گورنر راج، ایمرجنسی، پی ٹی آئی کے خلاف کارروائیوں اور وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزرا بھی مولانا کے خلاف سخت زبان استعمال کر رہے ہیں۔
گذشتہ روز اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر پی ٹی آئی، تحریک تحفظ آئین پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں کا اجلاس بھی ہوا، جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف مشترکہ سیاسی حکمت عملی اور آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر مشاورت کی گئی۔
موجودہ صورتحال نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمان اور حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات اب ادارہ جاتی اور قانونی محاذ آرائی کی شکل اختیار کر رہے ہیں، یا ان کے خاندان اور قریبی ساتھیوں کے خلاف تحقیقات الگ الگ انتظامی اور قانونی معاملات کا حصہ ہیں؟
ایف آئی اے، سی ڈی اے اور نیب کے نوٹسز
مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود کو قومی احتساب بیورو نے پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر طلب کیا ہے۔
نیب راولپنڈی کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق اسعد محمود کو 10 نومبر کو صبح 11 بجے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسعد محمود 2022 اور 2023 کے دوران پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت میں وفاقی وزیر مواصلات رہے تھے، جبکہ پاکستان پوسٹ آفس وزارت مواصلات کے انتظامی دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
نیب کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پاکستان پوسٹ آفس میں 3938 اَسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی تھی، تاہم مبینہ طور پر 4252 افراد کو ملازمتیں فراہم کی گئیں۔
تحقیقاتی ادارہ اس وقت تحقیقات کر رہا ہے کہ ان میں سے 2646 افراد کو ایسی اَسامیوں پر بھرتی کیا گیا جو پہلے ہی ختم کی جا چکی تھیں۔
نیب کے مطابق بھرتیوں کے لیے ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے کنٹریکٹ بنیادوں پر تقرریوں کی سفارش کی گئی تھی، لیکن اس کے برعکس بڑی تعداد میں مستقل بھرتیاں کی گئیں، جس سے پاکستان پوسٹ آفس پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
تحقیقات میں بعض امیدواروں کی مبینہ سیاسی وابستگی، جعلی دستاویزات، مقررہ عمر سے تجاوز کرنے والے امیدواروں کی بھرتیوں اور ڈومیسائل کوٹے کی خلاف ورزیوں کے معاملات بھی شامل ہیں۔
نیب نے اسعد محمود کو ہدایت کی ہے کہ وہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر متعلقہ معاملات پر اپنا مؤقف پیش کریں۔ طلبی پر عدم تعمیل کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس کے تحت قانونی کارروائی کا انتباہ بھی دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے بھی اسی بھرتی معاملے میں اسعد محمود کو طلب کیا تھا۔ ایف آئی اے نے انھیں دو نومبر کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا۔
یوں پاکستان پوسٹ میں بھرتیوں کا معاملہ اس وقت بیک وقت نیب اور ایف آئی اے کی تحقیقات کا حصہ ہے۔
تاہم اس مرحلے پر اسعد محمود کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوئے اور نہ ہی صرف طلبی کے نوٹس کو کسی جرم میں ملوث ہونے کا حتمی ثبوت قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی امان اللہ کے حوالے سے بھی سرکاری اداروں کی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے امان اللہ کو الگ الگ معاملات میں نوٹس جاری کیے ہیں۔
اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ سی ڈی اے نے اسلام آباد کے سیکٹر جی 4/6 میں واقع اس مکان کے مالک کو 30 اکتوبر کو نوٹس جاری کیا جہاں مولانا فضل الرحمان رہائش پذیر ہیں۔
سی ڈی اے کے نوٹس میں سکیورٹی گارڈز کے لیے بنائے گئے کمرے، عمارت کے مقررہ خالی حصوں میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور سرکاری زمین پر جنریٹر کی تنصیب پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔
نوٹس کے مطابق جائیداد کے مالک نے 2019 میں این او سی حاصل کرتے وقت ایک حلف نامہ جمع کرایا تھا جس میں تین ماہ کے اندر تعمیراتی خلاف ورزیوں کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
سی ڈی اے نے مالک کو 15 دن کے اندر مبینہ خلاف ورزیاں ختم کرنے کی ہدایت کی ہے، بصورت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت تعمیرات گرانے، عمارت سیل کرنے یا مزید کارروائی کی تنبیہ کی گئی ہے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ سی ڈی اے کا نوٹس براہ راست مولانا فضل الرحمان کے نام نہیں بلکہ جائیداد کے قانونی مالک کے نام جاری کیا گیا ہے۔
دوسری طرف جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری نے دعویٰ کیا کہ اسی گلی میں دوسرے گھروں کے باہر بھی ایسی تعمیرات موجود ہیں۔
اس بارے میں اسعد محمود سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
تاہم جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر مولانا عبدالواسع نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت اور ان کے قائدین ’حکومت کے اس طرح کے ہتھکنڈوں سے خائف نہیں ہیں بلکہ ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے قائدین ’وفاقی حکومت کے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ میں اقدامات پر تنقید کر رہے ہیں اور جس طرح معدنیات نکالی جا رہی ہیں، جمعیت اس پر اپنا ایک موقف رکھتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جے یو آئی نہ تو ایم کیو ایم ہے اور نہ ہی ٹی ایل پی‘ بلکہ ان کی جماعت کی سو سالہ تاریخ ہے اور وہ نیب، ایف آئی اے اور سی ڈی اے کے نوٹسوں سے ’ڈرنے والے نہیں ہیں۔‘
بی بی سی اردو کی دو نومبر کی رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے کے ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد میں جہاں بھی بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے وہاں نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سی ڈی اے کسی شخصیت کو مدنظر رکھ کر کارروائی نہیں کرتا بلکہ قانون کی خلاف ورزی پر نوٹس دیتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ تجاوزات سے متعلق نوٹس کا تعلق مولانا فضل الرحمان کی سیاست سے نہیں ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پاکستانی ٹیلی وژن چینل جیو نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ ’مولانا فضل الرحمان کے گھر کے اطراف کی گلیوں میں بھی پہلے تجاوزات کے خلاف کارروائیاں ہوچکی ہیں، کیبن اور جنریٹرز ہٹائے گئے، جرمانے کیے گئے اور عمارتیں سیل کی گئیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ کارروائی صرف موجودہ سیاسی اختلافات کے بعد شروع کی گئی ہے۔‘
خیبر پختونخوا میں گورنر راج: اختلافات کی بنیادی وجہ
موجودہ سیاسی کشیدگی کا سب سے اہم پس منظر خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر کو نافذ کیا جانے والا گورنر راج ہے۔
وفاقی حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں صوبائی حکومت کے کردار پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کیا تھا۔
اس اقدام کے بعد صوبے میں منتخب حکومت کے اختیارات معطل ہوئے اور انتظامی معاملات گورنر کی نگرانی میں منتقل ہونے لگے۔
مولانا فضل الرحمان نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے اسے آئینی اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا۔
29 اکتوبر کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ملک میں آئینی نظام اور پارلیمان کی بالا دستی متاثر ہو رہی ہے اور سیاسی اختلافات کو تصادم میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئین کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
مولانا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انھوں نے خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی کم کرنے اور وفاقی و صوبائی حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے کردار ادا کیا تھا، لیکن ان کی ’کوششوں کے باوجود گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔‘
مولانا کی تقریر کے بعد وفاقی وزرا نے ان پر سخت تنقید کی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کے سیاسی کردار اور ماضی میں مختلف حکومتوں کے ساتھ ان کے تعلقات پر سوالات اٹھائے۔
خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ مولانا جب ’حکومت میں حصہ حاصل‘ کر لیتے ہیں تو ان کا رویہ مختلف ہوتا ہے، لیکن حکومت سے باہر ہونے کی صورت میں وہ مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔
انھوں نے مولانا پر مذہب کو سیاسی اور مالی مفادات کے لیے استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سینیٹ میں مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ مولانا کے حالیہ بیان کے بعد ان کے لیے ان کا ’پہلے جیسا احترام‘ باقی نہیں رہا۔
محسن نقوی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جے یو آئی کے بعض رہنما ماضی میں خود خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے خواہاں رہے تھے۔
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومتی وزرا کے بیانات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کو کسی کے ذاتی ایجنڈے یا سیاسی حملوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں نے حکومتی وزرا کے بیانات کو سیاسی کردار کشی قرار دیا اور احتجاج کیا۔
اس بارے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیئر رہنما حافظ حمد اللہ سے رابطہ کیا گیا۔
ان سے پہلے یہ معلوم کیا گیا کہ چند ماہ پہلے تک حالات معمول پر تھے، آئینی ترامیم کے بارے میں وفاقی وزرا مولانا کی رہائش گاہ کے چکر بھی لگا رہے تھے، تو پھر ایسا کیا ہوا کہ دونوں کے تعلقات میں اس حد تک کشیدگی آ گئی ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ ’مولانا فضل الرحمان نے 2018 کے انتخابات کو رد کیا تھا اور اس کے خلاف احتجاج کیا تھا، اور اسی طرح 2024 کے انتخابات کے خلاف بھی احتجاج کیا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان ایوان میں اور اس کے باہر بھی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے آئے ہیں، لیکن ’خیبر پختونخوا میں جس طریقے سے گورنر راج نافذ کیا گیا، اس کی مخالفت مولانا فضل الرحمان نے کی۔
’پہلے پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا اور بعد میں ایوان میں بھی اپنی تقریر میں کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے گورنر راج نہیں لگایا گیا بلکہ خیبر پختونخوا کی معدنیات کے لیے گورنر راج لگایا گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بیان حکومت کو پسند نہیں آیا، جس کے بعد صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی کہ نوٹس جاری ہو گئے ہیں۔‘
پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان بڑھتے رابطے
حالیہ کشیدگی کا ایک اہم سیاسی پہلو یہ ہے کہ ماضی میں ایک دوسرے کے سخت مخالف رہنے والی پی ٹی آئی اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان رابطے بڑھ رہے ہیں۔
31 اکتوبر کے قریب پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر کے ان کی پارلیمانی تقریر کی حمایت کی اور حکومتی وزرا کے بیانات کو سیاسی کردار کشی قرار دیا۔
اس کے بعد چار نومبر کو اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس، پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے ایکس ہینڈل سے کی گئی پوسٹ کے مطابق، اس موقع پر ’خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی صورت حال پر گفتگو کی گئی۔‘
میڈیا سے گفتگو میں محمود خان اچکزئی نے کہا: ’جس انداز میں مولانا فضل الرحمان کی کردار کشی کی جا رہی ہے، ہم اس کی مذمت کے لیے آئے ہیں۔‘
کیا جے یو آئی اور پی ٹی آئی ایک مشترکہ تحریک شروع کر سکتی ہیں؟
موجودہ صورتحال میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں میں اضافہ ضرور ہوا ہے، تاہم اسے مکمل سیاسی اتحاد یا مشترکہ تحریک کا آغاز قرار دینا قبل از وقت ہو گا۔
پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان ماضی میں کئی معاملات پر اختلافات رہے ہیں، جن میں 2018 کے عام انتخابات، حکومت سازی، مذہبی اور سیاسی پالیسیوں سمیت مختلف امور شامل ہیں۔
اس کے باوجود خیبر پختونخوا میں گورنر راج، صوبائی خود مختاری، سیاسی گرفتاریوں اور پارلیمان کے کردار جیسے معاملات پر دونوں جماعتوں کے مؤقف میں بعض مشترک نکات سامنے آئے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کی تحریک تحفظ آئین پاکستان بھی مختلف اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اگر یہ رابطے کسی باقاعدہ سیاسی اتحاد یا آل پارٹیز کانفرنس میں تبدیل ہوتے ہیں تو مولانا فضل الرحمان کا کردار اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کے پاس مذہبی اور سیاسی حلقوں میں ایک الگ تنظیمی اثر و رسوخ موجود ہے۔
تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا جے یو آئی اور پی ٹی آئی اپنے ماضی کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر طویل المدتی مشترکہ سیاسی حکمت عملی تیار کر پائیں گی یا ان کا تعاون صرف گورنر راج اور موجودہ سیاسی صورتحال جیسے مخصوص معاملات تک محدود رہے گا۔
حکومت اور جے یو آئی کے تعلقات میں دراڑ کیوں پڑی؟
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ چند ماہ پہلے تک آئینی ترامیم کے معاملے پر وفاقی حکومت کے اہم رہنما مولانا فضل الرحمان کے تعاون کے خواہاں تھے، مگر اب ایسا کیا بدلا ہے کہ ان کے خلاف تحقیقاتی ادارے نوٹس جاری کر رہے ہیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار لحاظ علی کے مطابق مولانا فضل الرحمان اور حکومت کے درمیان موجودہ کشیدگی کی جڑیں حالیہ بیانات سے کہیں پہلے، 2024 کے عام انتخابات تک جاتی ہیں۔
ان کے بقول جے یو آئی نے انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کیا تھا اور جماعت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی جس کا اثر اس کے مینڈیٹ پر پڑا۔
تاہم بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک حالیہ کشیدگی کو صرف انتخابی تنازعات کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔
شمس مہمند اور علی اکبر بھی سینیئر صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔
ان دونوں کی رائے ہے کہ مولانا فضل الرحمان عموماً ناپ تول کر سیاسی مؤقف اختیار کرتے ہیں اور حکومت پر حالیہ تنقید بھی ایک سوچے سمجھے سیاسی فیصلے کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔
شمس مہمند کے مطابق: ’اس وقت مولانا فضل الرحمان کے جو بیانات سامنے آئے ہیں، ان سے شکوک و شبہات بھی پیدا ہو رہے ہیں، کیونکہ اب تک پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی قائدین کی جانب سے کوئی ایسا بیان سامنے نہیں آیا جس سے لگے کہ دونوں بڑی جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے خلاف ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ اختلافات حقیقی ہیں اور اس وقت حکومت مولانا فضل الرحمان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کا ارادہ کر چکی ہے تو پھر حکومت کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے۔ ’جیسے پاکستان تحریک انصاف کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے، ویسے جمعیت کے لیے بھی کوئی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔‘
علی اکبر کا کہنا ہے کہ ’یہ حیران کن بات ہے کہ آخر مولانا فضل الرحمان کیوں حکومت کی مخالفت پر آ گئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مولانا فضل الرحمان بہت دور اندیش سیاستدان ہیں اور انھیں معلوم ہے کہ اس وقت کس بیانیے کی عوامی سطح پر مانگ ہے اور وہی بیانیہ انھوں نے اپنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بیانیے میں کیا مولانا فضل الرحمان اکیلے ہیں یا انھیں کسی جانب سے حمایت بھی حاصل ہے۔‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں حکومت، جے یو آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت اس بات کا تعین کرے گی کہ موجودہ کشیدگی محض وقتی سیاسی اختلاف ہے یا پاکستان کی سیاست میں کسی نئی صف بندی کا آغاز۔
لحاظ علی کا کہنا ہے کہ عوامی سطح پر حکومت مخالف بیانیہ مقبول سمجھا جاتا ہے۔ اس کی واضح مثال پی ٹی آئی کی سیاست ہے اور ’اس حکومت نے جس طرح پاکستان تحریک انصاف کو دیوار سے لگا دیا ہے، اس کے بعد یہاں ایک سیاسی خلا پیدا ہو گیا ہے۔ اس وقت چونکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ اسٹیبلشمنٹ کے حمایتی سمجھے جا رہے ہیں، تو ایسے میں اس خلا کو پُر کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمان متحرک نظر آ رہے ہیں۔‘
سینیئر صحافی شمس مہمند کہتے ہیں کہ ’اس وقت خیبر پختونخوا کو جیسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جہاں ایک حصے میں گورنر راج ہے اور دوسرے حصے میں ایمرجنسی ہے۔
’حالیہ دنوں میں مولانا فضل الرحمان کی ایک مخصوص سیاسی تصویر ابھر رہی ہے اور ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں ان کی جماعت اس سے فائدہ اٹھا سکے۔‘
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔