نیتن یاہو کی ساتویں بار اسرائیلی وزیر اعظم بننے کی خواہش: مگر اُن کی راہ میں ممکنہ رکاوٹ سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کون ہیں؟

    • مصنف, رفی برگ، لوسی ولیمسن
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 17 منٹ

77 سالہ نیتن یاہو نے خود کو اسرائیل کا ’مسٹر سکیورٹی‘ قرار دیا ہے، تاہم اس بار وہ ایسے سیاسی ماحول میں انتخابی میدان میں اُتر رہے ہیں جہاں بہت سے اسرائیلی شہری سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کو ملک کی تاریخ کی بدترین سکیورٹی ناکامی تصور کرتے ہیں۔

سات اکتوبر کے حملے کے بعد نیتن یاہو نے اپنی توجہ حماس کے خلاف جنگ پر مرکوز رکھی ہے، جبکہ حزب اللہ اور ایران کے خلاف بھی اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں۔ دوسری جانب انھیں بدعنوانی کے الزامات سے متعلق ایک فوجداری مقدمے کا سامنا بھی ہے، جن کی وہ مسلسل تردید کرتے آئے ہیں۔

اسرائیل میں سب سے طویل عرصے تک وزارتِ اعظمیٰ کے عہدے پر رہنے والے بنیامین نیتن یاہو رواں ماہ 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ساتویں بار اقتدار حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔

مگر انھیں اس بار کس طرح کے چینلجز کا سامنا ہو گا اور اِن انتخابات میں نیتن یاہو کے اہم ترین انتخابی حریف گادی آئزنکوٹ کون ہیں؟

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد اور انھیں اقتدار سے ہٹانے کے لیے بننے والے اپوزیشن اتحاد کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع ہے۔

اپوزیشن اتحاد میں ملک کے سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ اور اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ گادی آئزنکوٹ نمایاں شخصیات کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سات اکتوبر 2023 کے حملے اور اُس کے اثرات، ان انتخاب میں ووٹرز کے فیصلوں پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں، جس کے باعث آئندہ انتخابات کو اسرائیل کی حالیہ تاریخ کے اہم ترین سیاسی معرکوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی بقا کی علامت

اقتدار پر اپنی گرفت کو خطرے میں ڈالنے والے متعدد تنازعات اور سیاسی بحرانوں کے باوجود نیتن یاہو نے ملک میں اور عالمی سطح پر ایک ایسے رہنما کی شہرت برقرار رکھی ہے جو مشکل ترین حالات سے بھی سیاسی طور پر نکل آنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نومبر 2022 میں دوبارہ منتخب ہونے کے بعد وہ اپنی چھٹی مدت کے لیے وزیرِ اعظم بنے اور اسرائیل کی تاریخ کے سب سے بڑے دائیں بازو کے اتحاد کی قیادت سنبھالی۔

اُن کی اقتدار میں واپسی اپوزیشن میں مختصر عرصہ گزارنے کے بعد ہوئی تھی، جو وزیرِ اعظم کے طور پر ان کے مسلسل 12 سالہ دور کے بعد تھی۔ اس واپسی نے ان کے حامیوں کے اس یقین کو مزید تقویت دی کہ ’کِنگ بی بی‘ سیاسی طور پر ناقابلِ شکست ہیں۔

آج بھی وہ دائیں بازو اور مذہبی ووٹرز کے ایک بڑے حلقے میں مقبول ہیں، جو انھیں قومی سلامتی کے معاملے میں مضبوط رہنما سمجھتے ہیں۔ ان کی حکومت نے سخت گیر مذہبی یہودی طلبہ کے لیے فوجی خدمت سے استثنا میں توسیع کی کوشش بھی کی، جو اُن کے روایتی حمایتی طبقے کا ایک اہم مطالبہ رہا ہے۔

تاہم سات اکتوبر 2023 کے حملوں نے اُن کی سیاسی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

نیتن یاہو تسلیم کر چکے ہیں کہ اُس روز پیش آنے والے واقعات کو روکنے میں اُن پر بھی کچھ ذمہ داری عائد ہوتی تھی، تاہم ان کا اصرار ہے کہ اس ناکامی میں اعلیٰ فوجی اور سکیورٹی حکام سمیت متعدد ادارے بھی برابر کے ذمہ دار تھے۔

اُن کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ حملے سے قبل بعض اہم معلومات اور انتباہات بروقت اُن تک پہنچائے ہی نہیں گئے۔

دوسری جانب گذشتہ برسوں کے دوران یہ دعوے سامنے آتے رہے ہیں کہ اسرائیلی اور علاقائی ذرائع نے حملے سے پہلے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی تھی۔ اسرائیلی اخبار ’ہاریٹز‘ میں شائع ہونے والے ایک حالیہ دعوے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی قیادت نے بھی حملے سے چند روز قبل خبردار کیا تھا، تاہم نیتن یاہو کے دفتر نے اس رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے ’بے بنیاد‘ قرار دیا۔

حماس کے حملوں کے بعد غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی نیتن یاہو کے لیے عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بنی ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ہزاروں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اقوامِ متحدہ نے ان اعداد و شمار کو مجموعی طور پر قابلِ اعتبار قرار دیا ہے۔

نومبر 2024 میں نیتن یاہو بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے وارنٹِ گرفتاری کا سامنا کرنے والے چند موجودہ یا سابق عالمی رہنماؤں میں شامل ہو گئے تھے۔ ان کے ساتھ سابق اسرائیلی وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف بھی وارنٹ جاری کیا گیا۔ عدالت نے غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق الزامات کا حوالہ دیا، جنھیں دونوں رہنماؤں نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

یوں 27 اکتوبر کے انتخابات میں نیتن یاہو کے سامنے سب سے بڑا سوال صرف اقتدار برقرار رکھنے کا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا اسرائیلی ووٹر سات اکتوبر کی سکیورٹی ناکامی اور اس کے بعد کی جنگی پالیسیوں کے باوجود اُن پر دوبارہ اعتماد کرتے ہیں یا نہیں۔

نیتن یاہو اور بھائی کی میراث

بنیامین نیتن یاہو سنہ 1949 میں تل ابیب میں پیدا ہوئے۔ سنہ 1963 میں اُن کا خاندان امریکہ منتقل ہو گیا، جب اُن کے والد بنصیون نیتن یاہو، جو ایک معروف مؤرخ اور صہیونی کارکن تھے، وہاں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔

18 برس کی عمر میں نیتن یاہو اسرائیل واپس آئے اور فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ انھوں نے پانچ سال تک اسرائیلی فوج کے خصوصی کمانڈو یونٹ ’سیریٹ متکل‘ میں خدمات انجام دیں اور کپتان کے عہدے تک پہنچے۔

سنہ 1972 میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے اغوا کردہ ایک بیلجیئن طیارے کو آزاد کرانے کی کارروائی کے دوران وہ زخمی بھی ہوئے، جبکہ سنہ 1973 کی عرب۔اسرائیل جنگ میں بھی انھوں نے حصہ لیا۔

سنہ 1976 میں ان کے بڑے بھائی جوناتھن نیتن یاہو یوگنڈا کے اینٹیبی ہوائی اڈے پر یرغمالیوں کی رہائی کے مشہور اسرائیلی آپریشن کی قیادت کرتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے۔ بھائی کی موت نے نیتن یاہو خاندان پر گہرا اثر ڈالا اور جوناتھن اسرائیل میں قومی ہیرو کے طور پر یاد کیے جانے لگے۔

اپنے بھائی کی یاد میں نیتن یاہو نے ادارہ برائے انسدادِ دہشت گردی قائم کیا۔ بعد ازاں سنہ 1982 میں انھیں واشنگٹن میں اسرائیل کے نائب سربراہِ مشن کی ذمہ داری سونپی گئی، جہاں سے اُن کے سفارتی اور سیاسی کریئر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

روانی سے انگریزی بولنے اور امریکی معاشرے سے گہری واقفیت کے باعث نیتن یاہو جلد ہی امریکی ذرائع ابلاغ پر اسرائیل کے ایک مؤثر ترجمان کے طور پر نمایاں ہو گئے۔

سنہ 1984 میں انھیں اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کا مستقل نمائندہ مقرر کیا گیا، جہاں انھوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت مزید مستحکم کی اور اسرائیلی سیاست میں ایک ابھرتے ہوئے رہنما کے طور پر شہرت حاصل کی۔

اقتدار کی جانب پیش رفت

سنہ 1988 میں اسرائیل واپسی کے بعد بنیامین نیتن یاہو نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ انھوں نے دائیں بازو کی جماعت لیکود کے ٹکٹ پر کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) کی نشست جیتی اور نائب وزیرِ خارجہ مقرر ہوئے۔ جلد ہی وہ پارٹی کے صفِ اول کے رہنماؤں میں شمار ہونے لگے اور بعد میں لیکود کی قیادت بھی سنبھال لی۔

سنہ 1996 میں وزیرِ اعظم اسحاق رابین کے قتل کے بعد ہونے والے قبل از وقت انتخابات میں نیتن یاہو کامیاب ہوئے اور پہلی بار اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنے۔ اس وقت وہ اسرائیل کی تاریخ کے کم عمر ترین وزیرِ اعظم تھے اور سنہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد پیدا ہونے والے پہلے شخص تھے جو اس منصب تک پہنچے۔

اگرچہ نیتن یاہو نے سنہ 1993 کے اوسلو امن معاہدوں کی سخت مخالفت کی تھی، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انھوں نے فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رکھا۔ سنہ 1997 میں ان کی حکومت نے ایک معاہدے کے تحت الخلیل شہر کا تقریباً 80 فیصد حصہ فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کیا۔ بعد ازاں مقبوضہ مغربی کنارے سے مزید اسرائیلی انخلا پر بھی اتفاق کیا گیا، جس پر ان کے دائیں بازو کے حامیوں اور اتحادیوں نے سخت تنقید کی۔

تاہم ان کا پہلا دورِ حکومت زیادہ طویل ثابت نہ ہو سکا۔

سنہ 1999 میں انھوں نے مقررہ وقت سے 17 ماہ پہلے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا، لیکن ان انتخابات میں انھیں لیبر پارٹی کے رہنما ایہود باراک کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں صرف تین برس بعد وہ اقتدار سے باہر ہو گئے، اگرچہ اسرائیلی سیاست میں ان کا کردار ختم نہیں ہوا اور آنے والے برسوں میں وہ دوبارہ ملکی سیاست کے مرکزی کردار کے طور پر ابھرے۔

سیاسی واپسی

نیتن یاہو نے سنہ 1999 میں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد لیکود کی قیادت چھوڑ دی، جس کے بعد ایریل شیرون پارٹی کے سربراہ بنے۔

تاہم سنہ 2001 میں شیرون کے وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر نیتن یاہو دوبارہ حکومت میں شامل ہوئے۔ انھوں نے پہلے وزیرِ خارجہ اور بعد ازاں وزیرِ خزانہ کے طور پر خدمات انجام دیں اور معاشی اصلاحات کے ذریعے اپنی سیاسی حیثیت کو دوبارہ مضبوط کیا۔

سنہ 2005 میں انھوں نے مقبوضہ غزہ پٹی سے اسرائیلی انخلا کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا۔ اسی سال سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر تبدیل ہوا جب ایریل شیرون نے لیکود چھوڑ کر نئی اعتدال پسند جماعت ’کدیما‘ قائم کی۔

شیرون کو ہونے والے فالج کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا نے نیتن یاہو کو دوبارہ اُبھرنے کا موقع فراہم کیا اور وہ ایک مرتبہ پھر لیکود کے سربراہ منتخب ہو گئے۔

مارچ 2009 میں نیتن یاہو دوسری بار وزیرِ اعظم بنے۔ اپنے ابتدائی دور میں انھوں نے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر 10 ماہ کی غیر معمولی پابندی عائد کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جس سے فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے۔ تاہم یہ مذاکرات 2010 کے اختتام تک کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔

اگرچہ سنہ 2009 میں نیتن یاہو نے بعض شرائط کے ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کے تصور کو قبول کیا تھا، لیکن بعد کے برسوں میں ان کا مؤقف نمایاں طور پر سخت ہوتا گیا۔ وہ بارہا یہ کہتے رہے کہ ایسی فلسطینی ریاست، جسے اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جائے، وجود میں نہیں آنی چاہیے۔

حالیہ برسوں میں انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل دریائے اردن کے مغرب میں واقع تمام علاقوں، بشمول غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے، پر مکمل سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھے گا۔

ان کے دورِ حکومت میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع میں نمایاں اضافہ ہوا، جس پر فلسطینیوں اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی نے دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جبکہ حامیوں کے نزدیک یہ اسرائیل کی سکیورٹی ضروریات کا حصہ ہے۔

دوسری جانب نیتن یاہو کی سکیورٹی پالیسیوں کا ایک مرکزی محور ایران رہا ہے۔ وہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ایران کو اسرائیل کے لیے سب سے بڑا تزویراتی خطرہ قرار دیتے آئے ہیں اور عالمی طاقتوں سے تہران کے خلاف سخت مؤقف اپنانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ایران کا مسئلہ ان کی سیاسی شناخت اور خارجہ پالیسی کا ایک اہم جزو بن چکا ہے۔

اسرائیل اور غزہ کے درمیان کشیدگی، فلسطینی حملے، اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور خطے میں سکیورٹی کے مسلسل خدشات نے بھی 2009 کے بعد ان کے تقریباً پورے دورِ اقتدار کو متاثر کیا۔ چنانچہ 27 اکتوبر کے انتخابات میں ووٹر نہ صرف 7 اکتوبر 2023 کے حملوں اور ان کے نتائج کو مدنظر رکھیں گے بلکہ نیتن یاہو کے طویل سیاسی ریکارڈ، فلسطینی مسئلے پر ان کی پالیسیوں اور قومی سلامتی کے بارے میں ان کے دعوؤں کا بھی جائزہ لیں گے۔

رشوت، دھوکہ دہی اور اختیارات کے غلط استمال کا مقدمہ

سنہ 2016 کے بعد بنیامین نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کا آغاز ہوا، جس کے نتیجے میں نومبر 2019 میں ان پر رشوت، دھوکہ دہی اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات عائد کیے گئے۔ نیتن یاہو ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے چلائی جانے والی ایک منظم مہم کا نشانہ بن رہے ہیں۔

مئی 2020 میں ان کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہوئی اور وہ اسرائیل کی تاریخ کے پہلے ایسے وزیرِ اعظم بن گئے جنھیں اپنے عہدے کے دوران فوجداری مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے صدر آئزک ہرزوگ سے معافی کی درخواست بھی کی، تاہم آئزک ہرزوگ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل کسی مصالحتی یا مفاہمتی معاہدے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

چھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ مقدمہ اب تک اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا اور عدالتی کارروائی جاری ہے۔

اسی دوران نیتن یاہو حکومت کی متنازع عدالتی اصلاحات نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا، جس سے اسرائیلی معاشرے میں جمہوریت، عدلیہ کے کردار اور قومی شناخت کے حوالے سے موجود گہری سیاسی تقسیم نمایاں ہو کر سامنے آئی۔

مبصرین کے مطابق سات اکتوبر 2023 کے حملوں سے پہلے پیدا ہونے والی یہ خلیج آج بھی برقرار ہے اور آئندہ انتخابات میں ووٹرز کے رویوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ سے تعلقات

سنہ 2017 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے اور دونوں رہنماؤں کی پالیسیوں میں نمایاں ہم آہنگی دیکھنے میں آئی۔

سنہ 2018 میں ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جسے نیتن یاہو کے لیے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا، اگرچہ اس فیصلے پر عرب دنیا میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت سمجھتے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ بھی اسے مقبوضہ فلسطینی علاقے کا حصہ قرار دیتی ہے۔

جنوری 2020 میں نیتن یاہو نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے لیے ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کو ’صدی کا موقع‘ قرار دیا، تاہم فلسطینی قیادت نے اسے یک طرفہ منصوبہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ایران کے معاملے پر بھی دونوں رہنماؤں کے مؤقف میں خاصی مماثلت رہی اور نیتن یاہو نے سنہ 2018 میں ایران کے جوہری معاہدے سے امریکی دستبرداری اور پابندیوں کی بحالی کا خیرمقدم کیا۔

تاہم نومبر 2020 کے امریکی صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کی کامیابی پر مبارکباد دینے کے بعد ٹرمپ نے نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر بے وفائی کا الزام لگایا۔ بعد ازاں دونوں کے تعلقات دوبارہ بہتر ہوئے، اگرچہ وقتاً فوقتاً ان میں کشیدگی بھی دیکھی گئی۔

ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت میں دونوں رہنماؤں کے تعلقات ایک بار پھر مضبوط ہو گئے۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اسرائیلی اقدامات کی حمایت کی، نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات میں معافی کی سفارش کی اور انھیں متعدد مرتبہ وائٹ ہاؤس مدعو کیا۔

جنوری 2025 میں ٹرمپ کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد نیتن یاہو ان سے آٹھ مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں، جو کسی بھی عالمی رہنما کے مقابلے میں زیادہ بتائی جاتی ہیں۔

انتخابات سے چند روز قبل بھی ٹرمپ نے کھُل کر نیتن یاہو کی حمایت کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر انھوں نے نیتن یاہو کو ’ایک عظیم جنگجو وزیرِ اعظم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ شدید مخالفت کے باوجود مضبوط، بہادر اور ذہین رہنما ہیں۔

مبصرین کے نزدیک یہ انتخاب محض سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ نہیں بلکہ اسرائیل کی سب سے متنازع اور بااثر سیاسی شخصیات میں سے ایک، بنیامین نیتن یاہو، کے بارے میں عوامی فیصلے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ علاقائی خطرات کے پیشِ نظر نیتن یاہو اسرائیل کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی سیاسی بقا کی جدوجہد ہی ملک کو مزید بحرانوں اور تقسیم کی طرف دھکیل رہی ہے۔

گادی آئزنکوٹ: نیتن یاہو کے اہم ترین انتخابی حریف کون ہیں؟

رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد، جس میں ان کی جماعت لیکود، سخت گیر دائیں بازو کی جماعتیں اور مذہبی قدامت پسند پارٹیاں شامل ہیں، کو 27 اکتوبر کے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ سابق اسرائیلی آرمی چیف گادی آئزنکوٹ ہیں، جو حالیہ برسوں میں نیتن یاہو کے سب سے نمایاں سیاسی حریف بن کر ابھرے ہیں۔

سیاسی اعتبار سے آئزنکوٹ نسبتاً نئے چہرے ہیں۔ انھوں نے سنہ 2022 میں باضابطہ طور پر سیاست میں قدم رکھتے ہوئے نیشنل یونٹی پارٹی کے ٹکٹ پر کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) کی رکنیت حاصل کی، تاہم بعد میں نظریاتی اختلافات کے باعث جماعت چھوڑ دی۔

گذشتہ سال اپوزیشن کی صفوں سے الگ ہو کر انھوں نے اپنی نئی اعتدال پسند جماعت ’یشر‘ (جس کا مطلب ہے راست باز) قائم کی، اور تب سے وہ نیتن یاہو کے سب سے اہم انتخابی حریف سمجھے جا رہے ہیں۔

آئزنکوٹ سنہ 1960 میں طبریہ میں پیدا ہوئے اور ایلات میں پرورش پائی۔ ان کے والدین مراکش سے نقل مکانی کر کے اسرائیل آئے تھے اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔

وہ مزراحی یہودی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی وہ یہودی جن کی جڑیں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل کی تاریخ میں آج تک کوئی مزراحی یہودی وزیرِ اعظم نہیں بن سکا۔

اسی وجہ سے بعض مبصرین کے مطابق آئزنکوٹ اس طبقے کے ووٹروں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں، جو روایتی طور پر لیکود اور نیتن یاہو کے حامی رہے ہیں۔

آئزنکوٹ 18 برس کی عمر میں فوج میں شامل ہوئے اور تقریباً 40 سال تک فوجی خدمات انجام دیں۔ وہ سنہ 2015 سے سنہ 2019 تک اسرائیلی فوج کے سربراہ رہے۔

دوسرے فلسطینی انتفاضہ کے دوران انھوں نے مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج کی کمان کی۔ بعد ازاں ان کا نام ’ضاحیہ نظریے‘ سے بھی جوڑا گیا، جس کے تحت ان علاقوں میں جہاں سے اسرائیل پر حملوں کا دعویٰ کیا جاتا ہو، وسیع پیمانے پر فوجی طاقت استعمال کرنے کی حمایت کی جاتی ہے۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ نیتن یاہو پر تنقید کے باوجود آئزنکوٹ نے کبھی سات اکتوبر کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی بنیادی مخالفت نہیں کی۔

نیتن یاہو کو حالیہ برسوں میں بدعنوانی کے الزامات، عدالتی اصلاحات کے متنازع منصوبوں اور سات اکتوبر 2023 کے حملوں سے نمٹنے کے انداز پر شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔ تاہم آئزنکوٹ کی انتخابی مہم صرف سیاسی اختلافات کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک ذاتی المیہ بھی کارفرما ہے۔

دسمبر 2023 میں ان کے بیٹے، ماسٹر سارجنٹ گال آئزنکوٹ، شمالی غزہ میں ایک فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ کارروائی سات اکتوبر کو حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے والے اسرائیلیوں کی باقیات تلاش کرنے کے لیے کی جا رہی تھی۔ گال آئزنکوٹ ان کے پانچ بچوں میں سب سے چھوٹے تھے۔

66 سالہ آئزنکوٹ نے بعد میں ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ آج تک اپنے بیٹے کا سامان رکھنے والے ڈبے نہیں کھول سکے۔ ان کے دو بھانجے بھی غزہ جنگ میں مارے گئے تھے۔ ان نقصانات اور اس یقین نے کہ نیتن یاہو کی حکومت سات اکتوبر کے حملے روکنے میں ناکام رہی، آئزنکوٹ کے سیاسی عزم کو مزید مضبوط کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں وقت کو پیچھے نہیں لے جا سکتا، لیکن میں ہر ممکن کوشش کروں گا کہ گال کی دی ہوئی قربانی کا حق ادا کر سکوں۔‘

نیتن یاہو سے براہِ راست ٹکراؤ

سات اکتوبر کے حملوں کے بعد قومی اتحاد کے اظہار کے طور پر آئزنکوٹ نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں شامل ہو گئے تھے، لیکن جون 2024 میں انھوں نے استعفیٰ دے دیا۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ضروری اقدامات میں سستی سے کام لے رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حملوں کے دوران اغوا ہونے والی خواتین اور بچوں کو بچانے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے، تاہم نیتن یاہو ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ آئزنکوٹ نے جنگی کابینہ کے دوران غزہ میں سخت فوجی کارروائیوں کی مخالفت کی تھی اور ان کی تجاویز پر عمل ہوتا تو حماس کمزور نہ پڑتی۔

آئزنکوٹ اس دعوے کو رد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ جنگی کابینہ کے اجلاسوں کا ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے۔ انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ اگر اقتدار میں آئے تو 18 ماہ کے اندر حماس کی حکمرانی کا خاتمہ کر دیں گے۔

اسرائیلی صحافی نداو ایال کے مطابق اپنے بیٹے کی موت کے بعد آئزنکوٹ میں ’ایک مقصد اور مشن کا احساس‘ پیدا ہوا ہے۔

اگرچہ آئزنکوٹ نیتن یاہو کے ناقد ہیں، لیکن غزہ کے مستقبل کے حوالے سے دونوں کی ایک اہم بات پر اتفاق ہے: حماس کو کسی بھی صورت غزہ پر حکومت جاری نہیں رکھنے دی جا سکتی۔

البتہ آئزنکوٹ نے دو ریاستی حل، یعنی ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام، کی حمایت نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ اب بھی اسے قابلِ عمل سمجھتے ہیں وہ ’حقیقت پسند نہیں‘ ہیں۔

تاہم وہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تعلقات کی نئی بنیاد قائم کرنے کے حامی ہیں۔ ان کے بقول مغربی کنارے میں مقیم تقریباً 28 لاکھ فلسطینیوں کا انتظام فلسطینی اتھارٹی کو ہی سنبھالنا چاہیے اور اسرائیل کو ان پر براہِ راست حکمرانی نہیں کرنی چاہیے۔

وہ بڑے اسرائیلی آبادکاری بلاکس کی توسیع کے حامی ہیں، مگر مشرقی یروشلم کے قریب متنازع ای-ون علاقے میں نئی آبادکاری کے منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

انھوں نے انتخابات جیتنے کی صورت میں 7 اکتوبر کے حملوں کی مکمل تحقیقات کرانے کا وعدہ بھی کیا ہے، جن میں حکومت اور سکیورٹی اداروں کی ممکنہ کوتاہیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

اپنے 10 نکاتی انتخابی منشور میں آئزنکوٹ نے اعلیٰ تعلیم یافتہ اسرائیلیوں کی ملک سے ہجرت روکنے اور نئے تارکینِ وطن کو راغب کرنے کے لیے ہنگامی پروگرام متعارف کرانے کا وعدہ کیا ہے۔

وہ سخت گیر مذہبی یہودیوں اور عرب اسرائیلیوں کے لیے فوجی خدمت سے استثنا کے خاتمے کے بھی حامی ہیں۔ ان کے مطابق ہر اسرائیلی شہری کو فوجی، قومی یا سول سروس کی کسی نہ کسی شکل میں حصہ لینا چاہیے۔

کیا وہ نیتن یاہو کو ہرا سکیں گے؟

اگرچہ سرویز میں آئزنکوٹ کی جماعت بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے، لیکن اسے کنیسٹ کی 120 نشستوں میں سے 61 نشستیں حاصل ہوتی نظر نہیں آ رہیں، جو حکومت بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

اسرائیل کے سیاسی نظام میں اتحاد سازی انتہائی اہم ہوتی ہے، اور اسی میدان میں نیتن یاہو کو غیرمعمولی مہارت حاصل ہے۔ وہ ماضی میں کئی بار ایسی حکومتیں بنانے میں کامیاب رہے ہیں جن کے امکانات کم سمجھے جا رہے تھے۔

نیتن یاہو کی انتخابی مہم یہ تاثر دے رہی ہے کہ آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کے لیے عرب جماعتوں کی حمایت درکار ہو گی۔ دوسری جانب آئزنکوٹ نے عرب جماعتوں کو اپنی حکومت میں شامل کرنے کا امکان مسترد کیا ہے، تاہم پارلیمان میں تعاون کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے۔

چیتھم ہاؤس سے وابستہ اسرائیلی ماہرِ بین الاقوامی تعلقات یوسی میکلبرگ کے مطابق آئزنکوٹ کی کامیابی اسرائیل اور عالمی برادری کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

تاہم ان کے بقول محض نیتن یاہو کی جگہ کسی اور رہنما کا آ جانا پالیسی میں فوری اور بنیادی تبدیلی کی ضمانت نہیں۔ اگر آئزنکوٹ واقعی مختلف راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں تو انھیں مغربی کنارے میں یہودی بستیوں اور غزہ کی صورتِ حال کے بارے میں واضح اور فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔

مختصراً، گادی آئزنکوٹ کو اسرائیلی سیاست میں ’اینٹی نیتن یاہو‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے: ایک سابق جرنیل، جس کی سیاست ذاتی المیے، فوجی تجربے اور حکومتی جوابدہی کے مطالبے سے تشکیل پائی ہے۔ تاہم یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ آیا وہ نیتن یاہو کی سیاسی مہارت اور اتحاد سازی کی صلاحیت کا مقابلہ کر پائیں گے یا نہیں۔