’ہیگزاگون‘، ’ڈائمنڈ‘ اتحاد اور پاکستان: نیتن یاہو کا اسرائیلی قومی سلامتی پر نیا نقشہ کیا ظاہر کرتا ہے؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اکتوبر کے اواخر میں عام انتخابات سے کچھ دن قبل قومی سلامتی کی ایک نئی ڈاکٹرائن جاری کی ہے جس میں شامل نقشہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ خطے کے کون سے ممالک اتحادی اور حریف ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں حماس کے 7 اکتوبر کے حملوں اور غزہ، یمن، لبنان اور ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے ’جوہری حملے کے خطرے کو ناکام بنایا اور ایرانی محور کی گرفت کو بھی ختم کر دیا۔‘

اس کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے روایتی قومی سلامتی کی ڈاکٹرائن میں تجدید کی ضرورت پیدا کی ہے جن میں ’محض خطرات کو محدود کرنے اور دفاع پر انحصار کرنے کے بجائے روک تھام اور پیشگی حملے کو ترجیح دینا شامل ہے۔‘

نیتن یاہو کی قومی سلامتی کی نئی ڈاکٹرائن میں یہ بھی شامل ہے کہ ’اندرونِ ملک دفاع کو نئے خطرات کے مقابل مضبوط بنانا، اسرائیل کی علاقائی طاقت کی حیثیت کو مستحکم کرنا، اسلحہ اور گولہ بارود کی پیداوار میں زیادہ سے زیادہ خود انحصاری حاصل کرنا، جدید ترین ٹیکنالوجیز میں برتری برقرار رکھنا، اور دنیا بھر میں یہود مخالف رجحانات کے خلاف جدوجہد کو تیز کرنا۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق اب ’خطے اور اس سے باہر نئے اتحاد قائم کرنے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔‘

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل میں عام انتخابات کے لیے نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے نیتن یاہو کو ’عظیم جنگجو وزیرِ اعظم‘ اور ’امن کا شراکت دار‘ قرار دیا۔

تاہم نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے گریز کیا ہے۔ ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’میں اسرائیلی انتخابات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا۔‘

نقشے میں کیا ہے جس میں ’ہیگزاگون‘ اور ’ڈائمنڈ‘ الائنسز کا ذکر ہے

نیتن یاہو کی اس پالیسی سے متعلق دستاویز اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کی معاونت سے تیار کی گئی ہے جسے اتوار کے روز وزیرِ اعظم کے دفتر نے شائع کیا۔ یہ اشاعت اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات سے صرف نو دن قبل ہوئی۔

اس میں خاص بات یہ ہے کہ خطرات کو روکنے کے لیے پیشگی فوجی کارروائی اور اسرائیلی سرحد پر قائم ’بفر زونز‘ کو باضابطہ طور پر قومی سلامتی کی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اس حوالے سے جاری کردہ ایک نقشے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کو ’ہیگزاگون الائنس‘ کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ یونان، ایتھوپیا اور انڈیا کے بعض حصوں کو بھی ان کے ساتھ منسلک دکھایا گیا۔ تاہم اس میں جنوب مغربی سوڈان کے ایک وسیع علاقے کو بھی متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے لیے دوستانہ یا حامی علاقے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

مگر مصر اور اردن کو اسرائیلی اتحادیوں کے طور پر ظاہر نہیں کیا گیا۔ مصر کو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ’سنی ڈائمنڈ الائنس‘ کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ اردن کو اس اتحاد کے دوست کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ مکہ اتحاد میں فی الوقت صرف پاکستان، ترکی اور سعودی عرب ہی شامل ہیں۔

مگر اس نقشے کے مطابق سنی ڈائمنڈ الائنس جن ممالک کو اپنے لیے دوستانہ سمجھتا ہے، ان میں سوڈان، ارتریا، یمن، اردن، شام، قطر، بحرین اور کویت شامل ہیں۔

جبکہ ایتھوپیا، قبرص، یونان، صومالی لینڈ ہیگزاگون الائنس کے دوستوں میں شمار کیے گئے ہیں۔ نقشے میں دکھایا گیا ہے کہ آذربائیجان کو ہیگزاگون الائنس اور سنی ڈائمنڈ الائنس دونوں ہی اپنے لیے دوستانہ سمجھتے ہیں۔

نیتن یاہو کے مخالفین کی تنقید: ’یہ پالیسی کھوکھلی ہے‘

عام انتخابات میں نیتن یاہو کے بڑے حریف سمجھے جانے والے رہنما گادی آئزنکوٹ نے نیتن یاہو کے قومی سلامتی کے نئے نظریے کو ’کھوکھلا‘ قرار دیا ہے۔

آئزنکوٹ نے سوال اٹھایا کہ نیتن یاہو نے انتخابات سے صرف نو دن قبل اور سات اکتوبر کے حملے کے تین سال بعد ہی کیوں اپنا قومی سلامتی کا تصور پیش کیا۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نیتن یاہو اپنے اعلان کردہ فوجی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ادھر سابق اسرائیلی وزیر اعظم یائیر لپید نے کہا کہ بظاہر اس پالیسی کو مصنوعی ذہانت کے مفت ورژن سے بنایا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کا الزام ہے کہ یہ سکیورٹی پالیسی 7 اکتوبر کے حملے کو روکنے میں ناکامی چھپانے کی کوشش ہے۔

لپید نے کہا کہ یہ دستاویز قومی سلامتی کی کوئی حقیقی حکمتِ عملی پیش نہیں کرتی جبکہ انھوں نے نیتن یاہو پر بین الاقوامی تعلقات کو نقصان پہنچانے اور اندرونی تقسیم پیدا کرنے کا الزام لگایا ہے۔

پاکستان کا حوثیوں کو انتباہ

پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور اس کے خلاف کسی بھی حملے کو روکنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

انڈپینڈنٹ العربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدے کے تحت رُکن ممالک کے خلاف کسی بھی جارحیت کا اجتماعی جواب دیا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت فوجی معاونت کے لیے باضابطہ درخواست کرتی ہے تو اسلام آباد اس پر غور کرے گا۔

حوثیوں کے نام ایک انتباہی پیغام میں پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی کہ سعودی عرب پر حملوں کا جواب 'مکہ اتحاد' کے رکن ممالک کی جانب سے اجتماعی سطح پر دیا جائے گا۔

انھوں نے زور دیا کہ ان کا ملک سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔

بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو براہِ راست فوجی معاونت فراہم کرنے کے امکان کے بارے میں احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انھیں معلوم نہیں کہ آیا اسلام آباد کو اس مقصد کے لیے کوئی باضابطہ درخواست موصول ہوئی ہے یا نہیں۔ تاہم انھوں نے زور دیا کہ پاکستان اپنے پاس آنے والی کسی بھی درخواست کا جائزہ لے گا اور اس کے بارے میں مناسب فیصلہ کرے گا۔

مکہ اور مدینہ پر حملوں کے بارے میں پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ حملوں کے بعد ان کے ملک میں 'گلیوں میں عام لوگوں، بچوں اور نوجوانوں سے لے کر ہماری سیاسی اور عسکری قیادت تک، سب کے جذبات غصے پر مبنی تھے۔ ہم حیران تھے کہ کوئی سمجھدار شخص سعودی عرب پر حملہ کیسے کر سکتا ہے یا مقدس مقامات کو دھمکی دینے یا انھیں خطرے میں ڈالنے کا تاثر کیسے دے سکتا ہے؟'

اسرائیلی وزیر خزانہ کا پاکستان اور ترکی کے خلاف اتحاد بنانے کا مطالبہ

انتہا بائیں بازو کے خیالات کے حامل اسرائیلی وزیر خزانہ بزالل سموترچ کا کہنا ہے کہ یونان کے ساتھ اتحاد کو ’پاکستان، ترکی اور ہمارے مخالف ممالک کے خلاف مضبوط بنایا جانا چاہیے۔‘

پیر کے روز ایک انٹرویو میں انھوں نے انقرہ کے مقابلے فوجی برتری برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ترکی کے پاس ایک بہت، بہت بڑی بحریہ ہے اور ہمیں اس کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر آپ بُرا نہ مانیں تو میں اس کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مشرقی بحیرۂ روم میں ایک سٹریٹیجک توازن موجود ہے۔

سموترچ نے سعودی عرب اور ولی عہد محمد بن سلمان سے اسرائیل کے لیے 'احترام' کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میرا ماننا ہے کہ اسرائیل کو محمد بن سلمان کو اس وقت تک کچھ نہیں دینا چاہیے جب تک وہ بدلے میں ہمیں کچھ نہ دیں۔

میرے خیال میں ہم انھیں مراعات دے رہے ہیں۔ میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا، لیکن میرا ماننا ہے کہ یہ ایک غلطی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ محمد بن سلمان بار بار ہمارا سامنا کریں، ہمیں حقارت کا نشانہ بنائیں اور پھر بعد میں یہ توقع رکھیں کہ ہم انھیں مسلسل مراعات دیتے رہیں۔‘