میمونہ ریپ کیس: سی سی ڈی کا ملزم کی فائرنگ کے واقعے میں ہلاکت کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہRawalpindi Police
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
اس رپورٹ میں جرم سے متعلق تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کُن ہو سکتی ہیں
صوبہ پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ راولپنڈی میں 12 سالہ لڑکی میمونہ کے ریپ اور قتل کا ملزم پولیس کے ساتھ فائرنگ کے ایک واقعے میں مارا گیا ہے۔
چھ اکتوبر کو پیر ودھائی کے علاقے ڈھوک نجو میں پیش آنے والے اس واقعے کا مقدمہ سات اکتوبر کو بچی کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
اپنی ابتدائی درخواست میں والد نے اپنی بیٹی میمونہ بی بی کے لاپتہ ہونے کے بارے میں بتایا تھا۔ بعدازاں بچی کی لاش مبینہ طور پر اسی علاقے میں واقع اُس کے خالو کے گھر سے برآمد ہوئی تھی، جس کے بعد انھیں ملزم نامزد کرتے ہوئے اُن کی تلاش کا کام شروع کیا گیا تھا۔
منگل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں سی سی ڈی کا کہنا تھا کہ مقدمے کی تفتیش اور ملزم کی گرفتاری کا ٹاسک تین دن قبل سی سی ڈی کو سونپا گیا تھا۔
بیان کے مطابق اسی دوران پیر کی شب عالم آباد سٹاپ میں چلڈرن پارک کے قریب تین نامعلوم افراد کی جانب سے سی سی ڈی کی ٹیم پر فائرنگ کی گئی۔ سی سی ڈی کا دعویٰ ہے کہ فائرنگ کے دوران ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ اس کے دو ساتھی فرار ہو گئے۔
حکام نے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت میمونہ کے ریپ اور قتل کے ملزم ممریز عباسی کے طور پر کی ہے۔
سی سی ڈی کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات کے دوران پولیس کو معلوم ہوا تھا کہ ملزم ’بچی کو اپنے گھر لے گیا تھا جسے بعد میں قتل کر دیا گیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’بچی کی لاش ملزم کی رہائش گاہ سے ملی تھی۔ گلی میں بچی سے ملاقات کے دوران پیسے دینے کی فوٹیج بھی سامنے آئی تھی۔‘
واقعہ کیسے پیش آیا؟
پیرودھائی پولیس نے لڑکی کی گمشدگی کی ابتدائی ایف آئی آر میں ریپ اور قتل کی دفعات کا اضافہ کیا تھا جبکہ اس کیس کی تفتیش کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کو منتقل کی گئی تھی۔
تھانہ پیر ودھائی میں اس کیس کی تفتیش سے منسلک پولیس افسر تنویر عباسی کے مطابق ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں میمونہ بی بی کے ساتھ ریپ کے شواہد سامنے آئے ہیں جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقتولہ کے جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے نشانات موجود ہیں اور اُن کے حساس اعضا پر تیز دھار آلے سے زخم لگانے کے آثار بھی پائے گئے۔
انھوں نے کہا کہ پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد حاصل کیے گئے نمونے فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں، جن کی تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لڑکی کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ابتدائی طور پر اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل پولیس اہلکار تنویر عباسی کے مطابق ڈھوک نجو (پیر ودھائی) کے رہائشی نے چھ اکتوبر کو اپنی بیٹی میمونہ کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی جس میں انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اُن کی بیٹی دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے گھر کے قریب واقع مدرسے میں روزانہ جاتی تھیں اور دن دو بجے کے قریب گھر واپس آ جاتی تھیں۔
ایف آئی آر کے مطابق وقوعہ کے روز جب میمونہ اپنے گھر سے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلیں اور جب مقررہ وقت تک واپس نہ آئیں تو اہلخانہ کو تشویش لاحق ہوئی اور انھوں نے اپنے تئیں لڑکی کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں ملی۔
تنویر عباسی کے مطابق ابتدائی تفتیش میں پولیس نے جس علاقے میں مقتولہ کا گھر تھا وہاں کے سی سی ٹی وی کیمروں تک رسائی حاصل کی، تاہم لڑکی کسی بھی کیمرے میں نظر نہیں آ رہی تھی۔ تاہم بعدازاں ملنے والی فوٹیج میں لڑکی نظر آئی اور ایک فوٹیج میں اس کے خالو کو اس سے گلی میں بات کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
انھوں نے کہا کہ جس دینی مدرسے میں میمونہ تعلیم حاصل کرنے جاتی تھیں وہاں کے منتظمین سے بھی اس لڑکی کے بارے میں پولیس کو بتایا کہ وہ آج مدرسے آئی ہی نہیں۔
پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ جب لڑکی کی گمشدگی کا معاملہ سامنے آیا تو اس کیس کے ملزم ممریز، جو کہ مقتولہ کے خالو بھی ہیں، وہ بھی بچی کو تلاش کرنے کے عمل میں شریک رہے مگر جب معاملہ پولیس تک پہنچا تو وہ روپوش ہو گئے۔
انھوں نے کہا کہ پولیس نے انسانی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے گلی محلے میں ہی لوگوں سے لڑکی کے بارے میں پوچھنا شروع کیا۔ انھوں نے کہا کہ مقتولہ کے گھر کے قریب ہی اس کی خالہ کا گھر بھی تھا۔
تنویر عباسی کے مطابق پولیس نے شک کی بنیاد پر جب لاپتہ بچی کے خالہ کے گھر کی تلاشی لی تو اُس کی بالائی منزل سے میمونہ کی برہنہ لاش برآمد ہوئی۔
پولیس کے مطابق انھوں نے ملزم کی اہلیہ کو بھی شامل تفتیش کیا ہے تاکہ حقائق کا پتہ چلایا جا سکے۔
میمونہ بی بی کے والد نے بی بی سی اُردو کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر بتایا کہ وہ صدمے میں ہیں اور اس معاملے پر کوئی بات نہیں کر سکتے۔
اس خاندان کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ دونوں خاندانوں کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے اور وہ کچھ عرصہ قبل ہی ایبٹ آباد سے روزگار کے سلسلے میں راولپنڈی شفٹ ہوئے تھے۔




















