عرفات منہاس کی چھ وکٹیں، پاکستان نے انگلینڈ کو 87 رنز سے شکست دے دی

Pakistan Cricket
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان نے آل راؤنڈر عرفات منہاس کی شاندار کارکردگی کے بدولت سہ فریقی سیریز کے دوسرے میچ میں انگلینڈ کو 87 رنز سے شکست دے دی ہے۔

عرفات منہاس نے پہلے 59 رنز کی اہم اننگز کھیلی اور پھر 40 رنز کے عوض چھ وکٹیں لے کر پاکستان کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ان کی اس عمدہ کارکردگی پر انھیں میچ کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا۔

راولپنڈی میں منگل کو کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان نے مہمان ٹیم کو 303 رنز کا ہدف دیا تھا تاہم انگلینڈ کی ٹیم 215 رنز ہی بنا سکی۔

انگلش اننگز کے آغاز میں اوپنرز بین ڈکٹ اور ٹام بینٹن کی 91 رنز کی شراکت کے بعد لگ رہا تھا کہ انگلینڈ کی ٹیم باآسانی یہ میچ جیت سکتی ہے تاہم اس موقع پر حارث رؤف نے بین ڈکٹ کی وکٹ لے کر اس شراکت کا خاتمہ کیا۔

دوسرے اینڈ سے عرفات منہاس نے 120 کے سکور پر نصف سنچری بنانے والے بینٹن کو بھی پویلین بھیج دیا۔ پاکستان کی میچ میں واپسی اس وقت ہوئی جب عرفات نے انگلش ٹیم کے ڈینجر مین کپتان ہیری بروکس کو بولڈ کیا۔ وہ صرف آٹھ رنز ہی بنا سکے۔

بعد میں آنے والے بلے بازوں میں جو روٹ کے علاوہ کوئی بھی انگلش بلے باز وکٹ پر زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا اور وکٹیں گرنے کا سلسلہ تواتر سے جاری رہا۔

Pakistan Cricket

ایک موقع پر انگلینڈ کا سکور 197 رنز تھا اور اس کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے، تاہم اس کی آخری پانچ وکٹیں صرف 18 رنز کے اضافے کے دوران گر گئیں۔

اننگز کے 39 ویں اوور میں عرفات منہاس نے تین انگلش کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ ایک موقع پر وہ ہیٹ ٹرک پر تھے۔ تاہم وہ یہ کارنامہ تو انجام نہ دے سکے، لیکن اگلی ہی گیند پر اُنھوں نے انگلش بلے باز کو رن آؤٹ کر کے انگلینڈ کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔

اس میچ میں پاکستان کے لیے عرفات منہاس چھ وکٹیں لے کر سب سے کامیاب بولر رہے جبکہ ان کے علاوہ حارث رؤف نے دو جبکہ نسیم شاہ نے ایک وکٹ لی۔

اس کارکردگی کے بعد عرفات منہاس پاکستان کے تیسرے کرکٹر بن گئے ہیں جنھوں نے ون ڈے کرکٹ میں ایک میچ میں نصف سینچری کے ساتھ ساتھ پانچ وکٹیں بھی حاصل کی ہیں۔

Getty Images
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس سے قبل انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی بیٹنگ کا آغاز مایوس کن رہا تاہم نوجوان بلے باز حسن نواز اور عرفات منہاس کی ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان انگلینڈ کو 303 رنز کا ہدف دینے میں کامیاب ہوا۔

حسن نواز 79 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے کے بعد آؤٹ ہوئے جبکہ عرفات منہاس نے 59 رنز پر بنائے۔

انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور ان کے فاسٹ بولرز نے ابتدا ہی میں پاکستان کو دباؤ میں ڈال دیا۔ فخر زمان میچ کی پہلی ہی گیند پر گَس اٹکنسن کے ہاتھوں آوٹ ہو گئے جبکہ صائم ایوب بھی صرف آٹھ رنز بنانے کے بعد سونی بیکر کی شارٹ پچ گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

دو ابتدائی وکٹیں جلد گرنے کے بعد بابر اعظم نے محتاط انداز میں اننگز کو سہارا دیا۔ انھوں نے 52 گیندوں پر چار چوکوں کی مدد سے 34 رنز بنائے اور سعد بیگ کے ساتھ اہم شراکت قائم کی۔

تاہم وہ بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور وِل جیکس کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

بابر کے آؤٹ ہونے کے بعد سلمان آغا سے توقعات وابستہ تھیں، لیکن وہ بھی 19 گیندوں پر 16 رنز بنانے کے بعد عادل رشید کی گیند پر کیچ دے بیٹھے۔

ان کی وکٹ گرنے تک پاکستان 18.4 اوورز میں 81 رنز بنا چکا تھا جبکہ اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے اور انگلینڈ مکمل کنٹرول میں دکھائی دے رہا تھا۔

gettyimages

اس موقع پر سعد بیگ اور حسن نواز نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی اننگز کو سہارا دیا۔ حسن نواز نے جارحانہ اور اعتماد سے بھرپور بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی سست روی کا شکار اننگز کو رفتار بخشی، جبکہ سعد بیگ نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا۔ دونوں بلے بازوں نے ابتدائی جھٹکوں کے بعد نہ صرف وکٹوں کے گرنے کا سلسلہ روکا بلکہ انگلینڈ کے دباؤ کا بھی مؤثر انداز میں مقابلہ کرتے ہوئے ٹیم کو نسبتاً مستحکم پوزیشن میں پہنچا دیا۔

سعد بیگ نے 54 گیندوں پر 35 رنز بنائے جن میں پانچ چوکے شامل تھے، تاہم 28 ویں اوور میں گَس اٹکنسن کی باؤنسر پر پل شاٹ کھیلنے کی کوشش میں وہ سیم کرن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ ان کی حسن نواز کے ساتھ شراکت نے پاکستان کو بڑے نقصان سے بچائے رکھا اور اننگز کو استحکام فراہم کیا۔

سعد بیگ کی وکٹ کے بعد عرفات منہاس کریز پر آئے اور حسن نواز کے ساتھ اننگز کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سنبھالی۔ دونوں نے چھٹی وکٹ کے لیے اہم شراکت قائم کی اور پاکستان کے سکور کو 200 رنز سے آگے لے گئے۔

pakistan cricket

حسن نواز نے عادل رشید، گَس اٹکنسن اور دیگر انگلش بولرز کے خلاف پراعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے 74 گیندوں پر 79 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، جس میں پانچ چوکے اور چار چھکے شامل تھے۔ تاہم 40ویں اوور میں جیمی اوورٹن کی یارکر پر وہ بولڈ ہو گئے۔ حسن نواز کی یہ اننگز پاکستان کو مشکلات سے نکالنے میں اہم ثابت ہوئی۔

انگلینڈ کی جانب سے سونی بیکر سب سے کامیاب بولر رہے جنھوں نے تین وکٹیں حاصل کیں، جبکہ گَس اٹکنسن کے حصے میں دو اور وِل جیکس، عادل رشید، جیمی اوورٹن اور سیم کرن کے حصے میں ایک، ایک وکٹ آئی۔

خیال رہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں پاکستانی سرزمین پر 21 برس بعد کسی ون ڈے انٹرنیشنل میں مدمقابل تھیں اور اس فتح کے بعد پاکستان نے سہ فریقی سیریز کے ابتدائی دو میچز میں کامیابی حاصل کر کے ٹاپ پوزیشن حاصل کر لی ہے۔

Pakistan Cricket

’پاکستان کرکٹ میں اب بھی اُمید اور زندگی باقی ہے‘

سوشل میڈیا پر پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر بات ہو رہی ہے۔

صارف ڈاکٹر سمارا افضل نے ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، یہ ایک شاندار آل راؤنڈ کارکردگی ہے۔ کافی عرصے بعد پہلی بار، پاکستان کی یہ ٹیم واقعی متوازن دکھائی دے رہی ہے۔‘

روحا ندیم نے ایکس پر لکھا کہ ’21 سال کی عمر میں اس قسم کا مزاج اور پختگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ 'پاتھ وے پروگرام' کے دوران عرفات منہاس کی برسوں کی سخت محنت نے انھیں ایک نوجوان کرکٹر کے طور پر کس طرح ڈھالا ہے۔‘

سپورٹس تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز نے ایکس پر لکھا کہ 'یہ جیت حوصلہ افزا ہے۔ انتہائی شاندار۔ عرفات منہاس نمایاں رہے، تاہم سبھی نے اپنا کردار بخوبی ادا کیا۔ بہت خوب۔'

اسد نامی صارف نے لکھا کہ اس سیریز میں نوجوان کھلاڑی ایک خوشگوار جھونکے کی مانند رہے ہیں۔ عرفات، حسن نواز، اور یہاں تک کہ سعد بیگ بھی۔ پاکستان کرکٹ میں ابھی بھی امید اور زندگی باقی ہے۔

آمنہ ملک نے ایکس پر لکھا کہ عرفات منہاس ایک حقیقی آل راؤنڈر کے طور پر اپنی صلاحیت ثابت کر رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ کو ایک اور شاندار ٹیلنٹ مل گیا۔

Pakistan Cricket

عرفات منہاس کون ہیں؟

عرفات منہاس نے 30 مئی 2026 کو آسٹریلیا کے خلاف راولپنڈی میں ون ڈے انٹرنیشنل ڈیبو کیا تھا۔

انھوں نے اپنے پہلے ہی میچ میں 32 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں اور ون ڈے ڈیبو پر پانچ وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے تھے۔

ملتان سے تعلق رکھنے والی عرفات منہاس کے بھائی سمیر منہاس پاکستان انڈر 19 اور پاکستان شاہینز کی جانب سے کھیلتے ہیں۔

عرفات منہاس اب تک پاکستان کے لیے سات ٹی 20 اور چار ون ڈے میچز کھیل چکے ہیں۔

مئی میں پی سی بی کے یوٹیوب چینل پر ایک انٹرویو میں عرفات منہاس نے اپنی کامیابی کے پیچھے اپنے والد کا ہاتھ قرار دیا تھا۔

عرفات منہاس کا کہنا تھا کہ وہ سینئر کھلاڑیوں کے تجربات سے استفادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بڑے مقابلوں میں دباؤ سے نمٹنے کے لیے یہ رہنمائی نہایت اہم ثابت ہوتی ہے۔