’بچوں کو بھوک سے مار دو تاکہ حضرت عیسیٰ سے جا ملیں‘: 191 افراد کی ہلاکتوں کا ذمہ دار شخص اپنے پیروکاروں سے کیا کرواتا تھا؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
- مصنف, تھامس مکھوانا
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
انتباہ: اس رپورٹ میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو بعض قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
کینیا میں ایک مذہبی فرقے کے رہنما پال میکنزی کو 191 افراد کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا ہے اور مرنے والوں میں ایک فرد کے سوا باقی تقریباً تمام بچے تھے۔
میکنزی نے اپنے فرقے کے ارکان کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر مار دیں تاکہ وہ ’حضرت عیسیٰ سے جا ملیں۔‘
ان کے عقیدے اور نظریے میں تعلیم کی اجازت نہیں تھی اور جدید علاج کو بھی غلط سمجھا جاتا تھا۔
اس فرقے کے مزید 28 رہنماؤں کو بھی قتل کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب سزا پانے والے تمام افراد نے فردِ جرم سے انکار کیا تھا اور بارہا اصرار کیا تھا کہ کسی کو مرنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔
ممباسا میں طویل فیصلہ سناتے ہوئے جج ڈیانا موچاچے نے کہا کہ میکنزی کے پیروکار انھیں حضرت عیسیٰ کا ترجمان سمجھتے تھے۔
ان کے ساتھ مقدمے کا سامنا کرنے والے ایک ملزم نے بتایا کہ میکنزی نے اپنے پیروکاروں سے کہا تھا کہ جو کوئی ’بھوکا اور خالی پیٹ رہنے کے حکم کی مزاحمت کرے، اسے لاتوں اور گھونسوں سے جنت بھیج دیا جائے۔‘
جج کے مطابق جس جنگل میں یہ فرقہ رہائش پزیر تھا وہاں تدفین کو شادی کہا جاتا تھا اور مرنے والوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انھوں نے حضرت عیسیٰ کے ساتھ شادی کر لی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’مجھے صرف اپنے ایک بیٹے کی باقیات ملیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دوران سماعت ایک گواہ نے بتایا کہ ایک حاملہ خاتون کو اپنے نومولود بچے کو دودھ پلانے سے روک دیا گیا تھا اور بچہ 12 دن بعد مر گیا۔ گواہ کے مطابق خاتون سے کہا گیا تھا کہ وہ بھی بھوک سے مر جائے اور اپنے بچوں کے پیچھے چلی جائے۔
میکنزی کے سابق سکیورٹی سربراہ اینوس امانیا نگالا پر ابتدا میں الزام عائد کیا گیا تھا، لیکن بعد میں وہ استغاثہ کے گواہ بن گئے۔
میکنزی اور فرقے کے دیگر رہنماؤں کو دہشت گردی، شدت پسندی پھیلانے اور بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنے سمیت کئی دیگر مقدمات کا بھی سامنا ہے۔
تاہم قتل کے سنگین ترین الزامات میں پادری پال میکنزی کے خلاف یہ پہلا عدالتی فیصلہ ہے۔ انھیں 6 نومبر کو سزا سنائی جائے گی۔
میکنزی کو 2023 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب کینیا کے ساحلی علاقے کے قریب شاکاہولا کے جنگل سے 400 سے زیادہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں وہ ملک بھر سے اپنے پیروکاروں کو لے آئے تھے۔
48 سالہ سٹیفن موئیتی کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس فرقے کے باعث اپنے چھو بچوں کو کھو دیا۔ ان کی سابق اہلیہ بھی ان افراد میں شامل تھیں جنھیں میکنزی کے ساتھ قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔
مالِنڈی میں اپنے گھر سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’مجھے خوشی ہے کہ تمام ملزمان کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔‘
فیصلے سے قبل اپنے خاندان کی تصویر تھامے جذباتی نظر آنے والے موئیتی نے کہا کہ ’میرے چھوں بچے شاکاہولا کے جنگل میں مر گئے تھے۔ مجھے صرف اپنے بیٹے سیموئل کی باقیات ملیں، جنھیں میں نے دفن کیا۔‘
’بعض باقیات چند ہفتے کے بچوں کی تھیں‘
قریب کے ایک قصبے سے 17 افراد کو کم گہری قبریں کھودنے کے لیے رکھا گیا تھا۔ ان میں سے بعض کو ایک دن کے صرف آٹھ ڈالر (چھ پاؤنڈ) دیے جاتے تھے۔
قبریں کھودنے والوں میں شامل جیمز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں جتنی بھی قبریں ملیں، ان میں کم از کم تین لاشیں تھیں۔ بعض باقیات چند ہفتے کے بچوں کی تھیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایک بار ہمیں ایک ہی قبر سے 12 بچوں کی لاشیں ملیں۔ یہ انتہائی دل دہلا دینے والا منظر تھا۔ لاشیں ایک کے اوپر ایک اس طرح رکھی گئی تھیں جیسے کپڑے تہہ کر کے رکھے جاتے ہیں۔‘
قبریں کھودنے والوں کے مطابق بعض بچوں کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور ان کی لاشیں چادروں میں لپٹی ہوئی تھیں۔
اگرچہ میکنزی کے بہت سے پیروکار کینیا کے مختلف علاقوں سے آئے تھے، لیکن بعض لاشیں ایسے لوگوں کی بھی تھیں جنھیں مقامی افراد جانتے تھے۔
فرقے کے ارکان ضروری سامان خریدنے کے لیے قریبی قصبے جاتے تھے اور دریائے گالانا سے پانی بھی لاتے تھے۔
قبر کشائی کے کام میں شامل سلیم کریسا نامی شحض نے کہا کہ ’کبھی کبھار ہم لوگوں کو اپنی موٹر سائیکلوں پر جنگل کے اندر تک چھوڑ آتے تھے، لیکن سب کچھ اتنی رازداری سے ہوتا تھا کہ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہMohamed Madi / BBC
’بدروحیں نکالنے کی رسومات‘
پال میکینزی نے 2003 میں گڈ نیوز انٹرنیشنل منسٹریز کی بنیاد رکھی۔ اگلے 16 برسوں میں یہ چرچ تیزی سے پھیلا اور کینیا بھر میں اس کے ہزاروں پیروکار بن گئے۔
اس چرچ کا ایک ٹی وی چینل بھی تھا جسے ٹائمز ٹی وی کہا جاتا تھا۔ اس پر مالِنڈی میں واقع چرچ سے میکینزی کے خطبات نشر کیے جاتے تھے۔
قیامت سے متعلق اپنے خطبات میں وہ ایسی سازشی باتیں کرتے تھے جن میں تعلیم کو ’شر‘، طبی سہولیات کو ’عقیدے کے خلاف‘ اور ڈیجیٹل شناختی کارڈز کو ’شیطان کی نشانی‘ قرار دیا جاتا تھا۔
میکینزی کے بیٹے ڈین پال میکینزی نے بتایا کہ وہ چرچ میں کیمرہ پرسن کے طور پر کام کرتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’بچے پچھلی صفوں میں بیٹھتے تھے، بڑے درمیان میں ہوتے تھے اور سب لوگ صبح کے وقت مذہبی گیت گاتے رہتے تھے۔‘
خود کو پادری کہنے والے میکینزی دوپہر کے وقت اپنے پُرجوش خطبات دیتے تھے، جن میں بعض اوقات بدروحیں نکالنے کی رسومات بھی شامل ہوتی تھیں۔
’میری والدہ کو میکینزی کی بات پر یقین تھا کہ دوائیں بُری چیز ہیں‘

2019 میں مرکزی چرچ بند ہو گیا جس کے بعد میکینزی شاکاہولا کے جنگل میں منتقل ہو گئے اور اپنے پیروکاروں کو بھی وہاں آ کر رہنے کی ترغیب دی۔
23 سالہ پیٹر شکرانی کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کی والدہ بھی شاکاہولا منتقل ہو گئی تھیں۔ وہ آٹھ برس کی عمر سے میکینزی کے چرچ جاتے رہے تھے۔ وہ میکینزی کو اپنا ’روحانی باپ‘ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ’ان کے بارے میں کبھی کوئی بُری بات نہیں کریں گے۔‘
جنگل میں رہنے کے دوران شکرانی بیمار ہو گئے، لیکن دوائیں لینے پر پابندی کی وجہ سے ان کی حالت مسلسل بگڑتی گئی۔
شکرانی نے بتایا کہ ’میری والدہ میری دوائیں پھینک دیا کرتی تھیں کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ صرف خدا ہی مجھے شفا دے سکتا ہے۔‘
شاکاہولا کی اس بستی میں جنگل کے مختلف حصوں میں پھیلے کچی مٹی کے گھر تھے۔
شکرانی کے مطابق ’ہم ایک پُرسکون اور سادہ زندگی گزارتے تھے۔ چند روز روزہ رکھتے، پھر تھوڑا سا کھانا کھا لیتے تھے۔‘
مارچ 2023 میں جب مقامی چرواہوں کو انسانی باقیات ملیں تب تک سینکڑوں افراد جان سے جا چکے تھے۔
قبر کشائی میں شامل سلیم کریسا نے بتایا کہ ’ہم بعض لوگوں کو جنگل سے باہر تو لے آتے تھے لیکن وہ اتنے کمزور ہو چکے ہوتے تھے کہ ہمارے ہاتھوں میں ہی دم توڑ دیتے تھے۔‘
شکرانی بھی ان افراد میں شامل تھے جنھیں شاکاہولا کے جنگل سے بچایا گیا تھا۔
وہ کئی ہفتوں سے بیمار تھے اور بستر پر پڑے تھے، لیکن ان کی حالت مزید خراب ہوتی گئی کیونکہ ان کی والدہ ان کی تمام دوائیں پھینک دیتی تھیں۔
شکرانی نے کہا ’میری والدہ پادری میکینزی کی اس بات پر یقین رکھتی تھیں کہ دوائیں بُری چیز ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر مجھے شاکاہولا کے جنگل سے نہ نکالا جاتا تو میں آج زندہ نہ ہوتا۔‘

گلی سڑی ناقابل شناخت لاشیں
بہت سی لاشوں کی شناخت بری طرح گل سڑ جانے کے باعث ناقابل شناخت ہو چکی تھی۔
عدالتی دستاویزات میں کئی بچوں کا ذکر ’نامعلوم لڑکا‘ کے طور پر کیا گیا ہے۔ ان کی شناخت صرف اس جگہ اور تاریخ کی بنیاد پر کی گئی جہاں اور جب ان کی باقیات ملی تھیں۔
میکینزی کے پیروکاروں میں ایسے مرد، خواتین اور بچے شامل تھے جو بھوک، گلا گھونٹے جانے اور بعض صورتوں میں تشدد کے باعث جان سے گئے لیکن اس سب کے باوجود پیٹر شکرانی آج بھی میکینزی کو ’ایک اچھا انسان، جو میری فکر کرتا ہے‘ سمجھتے ہیں۔
فیصلے سے پہلے شکرانی نے کہا کہ ’میکینزی نے کسی کو روزہ رکھنے پر مجبور نہیں کیا۔ لوگوں نے اپنے عقیدے کی وجہ سے خود یہ فیصلہ کیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں آج بھی ان سے محبت کرتا ہوں اور وہ اب بھی میرے پادری ہیں۔‘
دوسری جانب میکینزی کے بیٹے ڈین میکینزی کا کہنا تھا کہ ان کے والد کو قتل کا مجرم قرار دیا جانا چاہیے۔
فیصلے سے قبل انھوں نے کہا کہ ’وہ اس گروہ کے رہنما تھے اور لوگ ان کی پیروی کرتے تھے، اس لیے اتنی بڑی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں کے ذمہ دار بھی وہی ہیں۔‘




















