’وہ مجھے گھسیٹ کر بیت الخلا لے گئے تھے‘: برطانوی اداکار پر ریپ کا الزام، 2004 کا واقعہ اور عدالت میں خاتون کا بیان

رسل برینڈ
    • مصنف, سیما کوٹیچا
    • مقام, ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

برطانوی کامیڈین اور اداکار رسل برینڈ پر ریپ کا الزام لگانے والی خاتون نے پولیس کو بتایا ہے کہ جب ان کا ریپ کیا جا رہا تھا تو انھوں نے ’آنکھیں بند کر لیں اور خود کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ میں یہاں موجود ہی نہیں ہوں۔‘

خاتون نے 2023 میں ایک پولیس افسر کو ویڈیو انٹرویو دیا، جسے مقدمے کی حالیہ سماعت کے دوران جیوری کو دکھایا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ برینڈ سے چینل فور کے پروگرام بگ برادرز بگ ماؤتھ کی میزبانی کے بارے میں بات کر رہی تھیں جب مبینہ طور پر انھوں نے ان پر جنسی حملہ کیا۔

51 سالہ رسل برینڈ نے مقدمے میں عائد تمام سات الزامات سے انکار کیا ہے۔ ان میں ریپ کے تین الزامات، جنسی حملے کے تین الزامات اور غیر اخلاقی حملے کا ایک الزام شامل ہے۔

چھ خواتین کی جانب سے عائد کیے گئے یہ الزامات 1999 سے 2009 کے درمیان 10 سالہ عرصے پر محیط ہیں۔

خاتون نے ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ کی جیوری کو بتایا کہ 2000 کی دہائی میں مردوں کی روایتی بالادستی پر مبنی سماجی فضا (lad culture) نے انھیں اس ٹی وی شخصیت کے خلاف شکایت درج کرانے سے روک دیا تھا۔

خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ رسل برینڈ نے 2004 میں لندن کے علاقے سوہو میں واقع ایک بار میں پہلے ان کی چھاتیوں کو پکڑا، پھر انھیں گھسیٹ کر بیت الخلا میں لے گئے اور مبینہ طور پر ان کے ساتھ ریپ کیا۔

الزام کے مطابق مبینہ واقعات اس وقت پیش آئے جب دونوں ایک سالگرہ کی تقریب میں شریک تھے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

خاتون نے بتایا کہ انھوں نے پولیس سے رابطہ کرنے میں دو دہائیاں اس لیے لگا دیں کیونکہ ایسا کرنے کا خیال ہی انھیں ’خوف زدہ‘ کر دیتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ رسل برینڈ کی شہرت کے باعث لوگ ’میری بات کے بجائے ان کی بات پر یقین کرتے۔ (میں ڈرتی تھی کہ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ) کام کی جگہ اور اپنے حلقۂ احباب میں تنہا پڑ جاؤں گی۔‘

شکایت کنندہ اُس وقت ایم ٹی وی کے لیے کام کرتی تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اکثر مشہور شخصیات کے درمیان رہتی تھیں۔

گواہوں کے کٹہرے میں لگائی گئی نیلی سکرین کے پیچھے سے بیان دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اب حالات بدل چکے ہیں۔

ان کے بقول اُس زمانے میں ’ایک عورت کی بات پر یقین نہیں کیا جاتا تھا اور مردوں کی بالادستی پر مبنی ایک ایسی سماجی فضا تھی جس میں کہا جاتا تھا کہ ’تم نے یہ لباس پہنا ہوا تھا، اس لیے تم خود یہ سب چاہتی تھیں‘ اور اس طرح کی دوسری فضول باتیں سننے کو ملتی تھیں۔‘

شکایت کنندہ نے رسل برینڈ کی ’عجیب و غریب مسکراہٹ‘ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انھیں وہ ایک مسخرے کے چہرے جیسی لگی، جب وہ مبینہ طور پر آگے بڑھے اور انھیں پکڑ لیا۔

برینڈ کے وکیل ایان ونٹر کے سی نے جرح کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ برینڈ اور خاتون باہمی رضا مندی سے بیت الخلا میں ’بوس و کنار‘ کے لیے گئے تھے، تاہم وہاں جنسی تعلق قائم کرنے کی کوشش بیت الخلا کی گندی حالت کے باعث ترک کر دی گئی۔

شواہد دیتے ہوئے خاتون آبدیدہ ہو گئیں اور واقعات کی اس تشریح کو مسترد کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مبینہ حملے کے بعد وہ ’حیران‘ رہ گئی تھیں۔

ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ

جب ان کے اس دعوے پر سوال کیا گیا کہ انھیں ان کی مرضی کے خلاف بیت الخلا میں گھسیٹ کر لے جایا گیا تھا تو رسل برینڈ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے لیے مزاحمت کرنا یا مدد طلب کرنا ’بہت آسان‘ ہوتا۔

اس پر خاتون نے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں کیونکہ رسل برینڈ انھیں کافی مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے۔ ان کے بقول، ’میرے جسم کا ایک حصہ خود سے کہہ رہا تھا کہ بس اسے ختم ہونے دو تاکہ تم یہاں سے نکل سکو۔‘

انھوں نے بتایا کہ بعد میں وہ سکتے کی کیفیت میں تھیں اور شرمندہ محسوس کر رہی تھیں۔

خاتون نے جیوری کو بتایا کہ بعد میں انھوں نے ایک دوست کو اس واقعے کے بارے میں بتایا تھا اور کہا تھا کہ برینڈ نے ’ایسا کرنے کی کوشش کی تھی‘، تاہم انھوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ وہ ریپ کرنے میں ’کامیاب ہو گئے تھے‘۔

خاتون نے استغاثہ کے وکیل کو بتایا کہ اس وقت انھیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ مبینہ طور پر زبان سے کیا گیا جنسی حملہ (oral attack) قانونی طور پر ریپ شمار کیا جا سکتا ہے۔

پیر کے روز جیوری کو 2023 میں ایک پولیس افسر کو دیے گئے ویڈیو انٹرویو کی ریکارڈنگ دکھائی گئی، جس میں خاتون نے کہا تھا کہ وہ رسل برینڈ سے چینل فور کے پروگرام بگ برادرز بگ ماؤتھ کی میزبانی کے بارے میں بات کر رہی تھیں جب مبینہ طور پر انھوں نے ان پر جنسی حملہ کیا۔

پولیس کو دیے گئے اپنے ریکارڈ شدہ انٹرویو میں خاتون نے کہا: ’اُنھوں نے اچانک، بات چیت کے دوران ہی، میری چھاتیوں کو پکڑ لیا۔ ہم گفتگو کر رہے تھے اور مجھے بس اُن کے چہرے پر وہ عجیب، جنونی سی مسکراہٹ یاد ہے، جب وہ میرے سامنے جھکے ہوئے تھے اور انھوں نے میری چھاتیوں کو پکڑ لیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ کچھ ہی دیر بعد رسل برینڈ ’مجھے گھسیٹ کر بیت الخلا میں لے گئے‘، جہاں فرش پر پانی جمع تھا، پھر ’انھوں نے اپنی پتلون کی زِپ کھولی‘ اور مبینہ طور پر ان کے ساتھ زبردستی زبان سے ریپ (orally raped) کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مبینہ ریپ ’بہت تیزی سے‘ ہوا اور انھیں ’بے یقینی اور صدمے‘ کی کیفیت میں چھوڑ گیا۔

انھوں نے کہا: ’بیت الخلا اُن کے پیچھے تھا۔ انھوں نے بس مجھے پکڑا اور کھینچ لیا۔ وہ میرا بازو کافی مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے اور مجھے اُس طرف لے گئے۔‘

’میرے جسم کا ایک حصہ کہہ رہا تھا کہ بس اسے ختم ہونے دو تاکہ تم یہاں سے نکل سکو۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’میں نے بس اپنی آنکھیں بند کر لیں اور خود کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ میں یہاں موجود ہی نہیں ہوں۔ مجھے صرف یہ یاد ہے کہ یہ ایک زبردستی کی کارروائی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے یقیناً کہا تھا کہ میں یہ نہیں کرنا چاہتی۔‘

اس وقت خاتون کی عمر 20 برس تھی۔ ان کے مطابق مبینہ ریپ کے بعد برینڈ ’میری طرف مڑے اور کہا: میرا خیال ہے اب ہمیں ایک دوسرے کے نمبر لے لینے چاہییں‘، جیسے سب کچھ معمول کے مطابق ہو، جیسے انھوں نے ابھی مجھ پر زبردستی نہ کی ہو۔‘

رسل برینڈ اپنے خلاف عائد تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ اگر کوئی جنسی رابطہ ہوا بھی تھا تو وہ باہمی رضا مندی سے ہوا ہو گا۔

مقدمے کی سماعت جاری ہے اور توقع ہے کہ یہ تقریباً چھ ہفتوں تک چلے گی۔