آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں پیشہ ورانہ غفلت کی نشاندہی، جے آئی ٹی کی سفارش
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اُردو، کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا کی موت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے اس معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) یا آزادانہ عدالتی نگرانی میں تحقیقات کرانے کی سفارش کی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے مبینہ تفتیشی غفلت، شواہد کو نقصان پہنچانے، میڈیکل بورڈ کے معاملات میں ممکنہ مداخلت، بلیک میلنگ کے پہلو اور اہم فرانزک شواہد کی عدم دستیابی کی تحقیقات پر بھی زور دیا ہے۔
سندھ حکومت نے منگل کو میر رضا کی موت کی تحقیقات کے لیے بننے والے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ عام کی تھی۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں مالی ریکارڈ اور ڈیجیٹل پیغامات کی آزادانہ تحقیقات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے، تاکہ میر رضا کی موت سے متعلق حقائق سامنے لائے جا سکیں اور ممکنہ ذمہ داروں کا تعین قانون کے مطابق ہو سکے۔
میر رضا علی رواں برس 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی میں واقع اپنے گھر سے نکلے تھے اور اگلے روز اُن کی لاش گلستانِ جوہر کے ایک ویران علاقے سے ملی تھی۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش میں میر رضا علی کی موت کے خودکشی ہونے کے امکان کا ذکر سامنے آیا تھا، لیکن اُن کے خاندان نے ابتدا ہی سے اس مؤقف پر اعتراض کیا اور قتل کا شبہ ظاہر کیا۔
بعد میں قبر کشائی اور دوبارہ طبی معائنے کے بعد سامنے آنے والی رپورٹ نے موت کے طریقۂ کار سے متعلق سوالات کو مزید اہم بنا دیا، جس کے بعد سندھ کی صوبائی حکومت نے ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جہاں تمام فریقین کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
دستاویز کے مطابق، قبر کشائی کے بعد قائم میڈیکل بورڈ کی متفقہ رائے کے مطابق موت گولی لگنے سے ہوئی، جو کمر کی جانب سے داخل ہوئی اور سامنے کی طرف سے باہر نکلی جبکہ دل بھی پھٹ گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جوڈیشل کمیشن کے مطابق طبی اعتبار سے یہ صورتِحال خود کو گولی مارنے سے مطابقت نہیں رکھتی۔
دل پر جان لیوا زخم لگنے سے فوری طور پر ایک سے دو لیٹر خون جسم سے باہر بہہ سکتا ہے، تاہم جس مقام سے لاش ملی وہاں خون جمع ہونے کے آثار موجود نہیں تھے۔
بنیادی حیاتیاتی شواہد کی اس عدم موجودگی سے یہ مضبوط اشارہ ملتا ہے کہ مقتول کو کسی دوسری جگہ قتل کرکے بعد ازاں اس مقام پر لا کر پھینکا گیا۔
بچگانہ رویہ، پیشہ ورانہ غفلت اور غیر سنجیدگی
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں میر رضا کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اُسامہ، تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی، ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ لنجاراور سپیشل سیکریٹری ہیلتھ شہریار میمن کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں ڈاکٹر اُسامہ کے عمل کو غیر پیشہ وارانہ اور بچگانہ قرار دیتے ہوئے سفارش کی گئی ہے کہ اُنھیں کم از کم دو سال کی سخت تعلیمی اور عملی تربیت تک میڈیکل لیگل کی ڈیوٹیز سے روک دیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق ممکن ہے کہ اُن پر کوئی اثرانداز ہوا ہو اور اس بات کا حتمی تعین کیا جانا چاہیے۔
رپورٹ میں ڈی آئی جی عامر فاروقی کو اگرچہ ایک انتہائی اہل افسر قرار دیا گیا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اُنھوں نے اس معاملے میں بعض پہلوؤں میں پیشہ ورانہ غفلت اور تفتیش کے دوران موثر نگرانی اور قیادت کے فقدان کا مظاہرہ کیا۔
کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ڈی آئی جی فاروقی اس کیس کی تحقیقات سے مطمئن ہیں تو یہ شدید تشویش کا باعث ہے۔ ان کا موقف انکار کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی ویسٹ فرخ لنجار نے ایک غیر سنجیدہ، غیر رسمی اور لاپرواہ رویہ اختیار کیا ہے۔ ڈی آئی جی ایسٹ کی حیثیت سے، یہ بالآخر انھی کی ذمہ داری تھی، ایک ایسی ذمہ داری جسے اُنھوں نے پورا نہیں کیا۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں سپیشل سیکریٹری ہیلتھ شہریار میمن کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہریار میمن نے اچانک اور بغیر کسی وجہ کے خصوصی میڈیکل بورڈ کو تبدیل کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق شہریار میمن کے بقول اُنھوں نے ایسا نیک نیتی سے کیا، لیکن نیک نیتی کا کوئی اشارہ نہیں ملتا اور ان کی ہدایات کسی کے اثر و رسوخ کے تحت دی گئی معلوم ہوتی ہیں۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں مزید کیا ہے؟
رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جسم پر تیزاب سے جلنے کے نشانات اور لاش کی حالت بھی خودکشی کے امکان کو مسترد کرتی ہے۔
دستاویز کے مطابق، مبینہ طور پر پولیس کی جانب سے لاش کی اصل حالت اور مقام کا مناسب معائنہ کرنے سے پہلے اسے منتقل کر دیا گیا، جس کے باعث بعض اہم جسمانی شواہد ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
رپورٹ میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ جائے وقوعہ کو مناسب طور پر محفوظ نہیں رکھا گیا اور وہاں متعدد پولیس اہلکاروں کی آمدورفت سے شواہد متاثر ہوئے۔ مزید یہ کہ مقام کو مبینہ طور پر آگ لگائی گئی، جس سے ڈی این اے، فنگر پرنٹس، خون کے نشانات اور جوتوں کے نشانات جیسے شواہد کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کی وصولی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ خلاصے کے مطابق، علاقے میں کم از کم 52 نگرانی کے کیمرے اور آمدورفت کے متعدد راستے موجود تھے، تاہم پولیس نے مبینہ طور پر صرف ایک گلی کے راستے کی فوٹیج حاصل کی۔ اگر ان الزامات کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ معاملہ تفتیش میں دستیاب شواہد کے مکمل استعمال اور انھیں محفوظ رکھنے کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے خلاصے میں ایک واٹس ایپ پیغام کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو مبینہ طور پر میر رضا نے سریم بن طاہر کو بھیجا تھا اور جس میں تین کروڑ روپے طلب کیے جانے کا ذکر ہے۔
دستاویز کے مطابق، پیغام کے انداز اور اس میں ظاہر ہونے والی گھبراہٹ کو ممکنہ دباؤ، دھمکی یا بلیک میلنگ کے تناظر میں جانچنے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ پیغام کی صداقت، اس کے پس منظر اور میر رضا کی موت سے قبل ہونے والی گفتگو کا جائزہ لیا جائے۔
میر رضا سے منسوب کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ کے ریکارڈ کی تشریح پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں بائنانس پر تقریباً 89 کروڑ روپے کی مجموعی پیئر ٹو پیئر (P2P) لین دین کی سرگرمی کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مجموعی لین دین کی رقم کو براہِ راست مالی نقصان یا قرض کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اصل مالی صورتِ حال جاننے کے لیے بینک سٹیٹمنٹس، کرپٹو اکاؤنٹس کی مکمل ٹرانزیکشن ہسٹری، رقوم کی منتقلی، واجبات اور حقیقی منافع یا نقصان کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
رپورٹ میں میڈیا میں گردش کرنے والے غیر مصدقہ اعداد و شمار پر انحصار کرنے کے بجائے آزادانہ مالی اور فرانزک آڈٹ کی سفارش کی گئی ہے۔