اسرائیلی اداروں کا ڈیٹا ہیک کرنے کا دعویٰ کرنے والا ’حنظلہ گروپ‘ کیا ہے اور اس کا ایران سے کیا تعلق ہے؟

Hacker
    • مصنف, امیر ناطق
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خود کو ’حنظلہ‘ کہنے والے ایک ہیکنگ گروپ نے اسرائیلی اداروں کے خلاف سائبر حملے کر رہا ہے۔

حال ہی میں اس گروپ نے دعویٰ کیا کہ اسے عدالتی اور سکیورٹی کارروائیوں سے متعلق خفیہ ریکارڈنگز کے علاوہ اسرائیلی فوج کے ایک طبی یونٹ سے متعلق دستاویزات تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔

27 اکتوبر کو ایرانی خبر رساں ادارے فارس کی شائع کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ حنظلہ گروپ اسرائیلی فوج کے ایک طبی آپریشنز کے یونٹ کے ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کرکے سینکڑوں دستاویزات حاصل کر لی ہیں۔ خبر کے مطابق ان دستاویزات میں طبی حکام سے متعلق معلومات، اندرونی خط و کتابت اور علاج سے متعلق طریقہ کار بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل فارس کی جانب سے شائع کی جانے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حنظلہ گروپ اسرائیلی انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز کمپنی ’مالام‘ کی تیار کردہ ’ای ٹائپ‘ پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اس ڈیٹا بیس تک رسائی کے نتیجے میں گروپ نے مبینہ طور پر خفیہ آڈیو ریکارڈنگز، عدالتی کارروائیوں کے تحریری ریکارڈز، پولیس کی تحقیقات اور سکیورٹی سے متعلق بات چیت کی دستاویزات حاصل کر لی ہیں۔

فارس نیوز کے مطابق اس حوالے سے حنظلہ گروپ نے دعویٰ کیا کہ اس نے 150 گیگا بائٹ ڈیٹا اکٹھا کیا ہے جسے عوامی ڈاؤن لوڈ کے لیے انٹرنیٹ پر ڈال دیا گیا ہے۔

بی بی سی ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

حنظلہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

حنظلہ گروپ جو ’حنظلہ ہیکنگ ٹیم‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، خود کو فلسطینیوں کی حمایت کرنے والا ایک ہیکنگ گروپ قرار دیتا ہے، اور اسی وجہ سے یہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بناتا آیا ہے۔

اس گروپ نے اپنا نام فلسطینی کارٹونسٹ ناجی العلی کے تخلیق کردہ ایک مشہور کارٹون ’حنظلہ‘ سے اخذ کیا ہے، جسے انھوں نے 1969 میں متعارف کروایا تھا۔

حنظلہ کو ایک بے گھر اور ننگے پاؤں لڑکے کے طور پر دکھایا جاتا ہے، اور وہ وسیع پیمانے پر فلسطینی جلا وطنی اور جدوجہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

جہاں تک حنظلہ ہیکنگ گروپ کا تعلق ہے، تو یہ پہلی مرتبہ دسمبر 2023 میں اسرائیل کی غزہ کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سامنے آیا۔

Hanzala hacker group

سائبر سکیورٹی کے شعبے سے وابستہ بعض محققین حنظلہ گروپ کے ظہور کو ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس و سکیورٹی کی ایک وسیع تر سائبر مہم سے جوڑتے ہیں۔

اسرائیلی سائبر سکیورٹی کمپنی ’چیک پوائنٹ‘ کے مطابق، حنظلہ ان متعدد آن لائن گروہوں میں سے ایک ہے جنھیں ایک ایسے گروپ کے زیرِ استعمال قرار دیا جاتا ہے جن کی شناخت کمپنی طوائڈ مانٹیکور‘ کے نام سے کرتی ہے۔ اس گروپ کے دیگر ناموں میں ’ریڈ سینڈ سٹورم‘ بھی شامل ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہی نیٹ ورک ’ہوم لینڈ جسٹس‘ کے نام سے البانیہ کے خلاف سائبر حملوں میں ملوث ہے۔

امریکی محکمۂ انصاف نے بھی حنظلہ گروپ سے منسلک بعض ویب سائٹس کو ایران سے منسوب انٹیلیجنس کارروائیوں سے جوڑا ہے۔

حنظلہ گروہ کے مبینہ سائبر حملے

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

حنظلہ کی سرگرمیوں میں اسرائیلی ویب سائٹس کی ہیکنگ، ذاتی معلومات کی اشاعت، اور تجارتی و سرکاری اداروں پر حملوں کے دعوے شامل ہیں۔

29 ستمبر 2025 کو اس گروہ نے اسرائیلی سیٹلائٹ آپریٹر ’سپیس کام‘ پر سائبر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

حنظلہ نے دعویٰ کیا کہ وہ اسرائیلی کمپنی کے زمینی کنٹرول سٹیشنز کے سسٹم کو ہیک کر کے 379 گیگا بائٹ ڈیٹا چرانے میں کامیاب رہے۔

گروہ نے مبینہ چوری شدہ ڈیٹا کا ایک نمونہ بھی شائع کیا جس میں ڈیجیٹل مواصلات کے لیے استعمال ہونے والے سیٹلائٹ ’عاموس-7‘ سے متعلق ریکارڈ اور خفیہ دستاویزات شامل تھیں۔ سپیس کام اس سیٹلائٹ کو چلاتی ہے۔

خبر رساں ویب سائٹ سائبر نیوز نے حنظلہ کی جانب سے شائع کردہ نمونے کا جائزہ لیا اور اپنی رپورٹ میں کہا کہ منظرِ عام پر آنے والی دستاویزات ’حساس دکھائی نہیں دیتیں،‘ تاہم انھیں کمپنی کے ملازمین کے خلاف ’سوشل انجینیئرنگ حملوں‘ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

نو جولائی 2025 کو حنظلہ گروپ نے لندن سے فارسی زبان میں نشریات چلانے والے نیٹ ورک ’ایران انٹرنیشنل‘ پر حملے اور ادارے کے متعدد ارکان کے موبائل فونز ہیک کرنے کا دعویٰ کیا۔

گروہ نے ذاتی دستاویزات، نجی تصاویر اور ادارتی بورڈ کے ایک اجلاس کی 'سکرین شاٹس' بھی شائع کیے۔

بعد ازاں ایران انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں الزام لگایا کہ اس کارروائی کا مقصد صحافیوں کو خوفزدہ کرنا اور ان کے کام میں خلل ڈالنا تھا۔

10 جنوری 2026 کو پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ حنظلہ گروپ نے 600 ایسے افراد کی شناختی معلومات شائع کی ہیں جن کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ وہ موساد کے ایجنٹ ہیں اور ایران میں جاری بدامنی کے پیچھے ملوث ہیں۔

تسنیم کی رپورٹ میں مختلف ممالک، جن میں ایران، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور اسرائیل شامل ہیں، کے افراد کے نام اور فون نمبر درج تھے۔

بی بی سی آزادانہ طور پر مذکورہ افراد کی شناخت یا ان کے انٹیلیجنس سرگرمیوں سے وابستہ ہونے کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی جب ایران میں 28 دسمبر 2025 سے معاشی حالات اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری تھے۔

ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل پر بدامنی کو ہوا دینے اور ان گروہوں کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا تھا جنھیں ایرانی حکام نے 'دہشت گرد' قرار دیا تھا۔

11 مارچ 2026 کو اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی کہ عبرانی زبان کی اکیڈمی کی ویب سائٹ ہیکنگ کا نشانہ بنی ہے۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق، حنظلہ گروپ نے اکیڈمی کی ویب سائٹ پر ایک پیغام شائع کیا جس میں کہا گیا کہ ’عبرانی سیکھنے کی مزید ضرورت نہیں۔ آپ کو زیادہ عرصے تک اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘

مارچ 2026 میں حنظلہ نے امریکی طبی آلات اور ٹیکنالوجی کمپنی 'سٹرائیکر' کے خلاف ایک تخریبی سائبر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، اس حملے کے باعث کمپنی کے کمپیوٹر نظام متاثر ہوئے جس سے آرڈرز کی تکمیل، مینوفیکچرنگ اور ترسیل کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

حنظلہ گروپ کا کہنا تھا کہ یہ حملہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے سکول پر حملے اور اس کے بقول ’مزاحمت کے محور‘ کے خلاف جاری سائبر حملوں کے انتقام میں کیا گیا۔ ’مزاحمت کے محور‘ سے مراد ایران نواز علاقائی گروہوں کا ایک نیٹ ورک ہے۔

بعد ازاں امریکی محکمۂ انصاف نے اعلان کیا کہ اس نے چار ویب سائٹس بند کر دی ہیں جو اس کے بقول ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس و سکیورٹی کی جانب سے 'سائبر معاونت یافتہ نفسیاتی کارروائیوں' کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔

امریکی وزارتِ انصاف نے ان ویب سائٹس کو ایسی مہمات سے جوڑا جن میں مبینہ ہیکنگ کارروائیاں، ذاتی معلومات کی اشاعت اور نشانہ بنائے گئے شہریوں کو دھمکیاں دینا شامل تھا۔

Hacking

حنظلہ گروپ کارروائیاں کیسے کرتا ہے؟

حنظلہ گروپ اکثر ’ہیک اینڈ لیک‘ حکمتِ عملی کے تجت کارروائیاں کرتا ہے۔ ہیک اینڈ لیک کارروائی کا مطلب کسی بھی ویب سائٹ یا ادارے کے سسٹمز کو ہیک کر کے وہاں سے حاص کردہ معلومات کو عوامی طور پر شائع کر دینا ہے۔

یہ گروپ ویب سائٹس کو خراب کرنے، عوام کے لیے ڈیٹا شائع کرنے اور دھمکیاں جاری کرنے جیسی حکمتِ عملیاں بھی اپناتا ہے۔

حنظلہ کی کارروائیوں کے مقاصد میں حساس معلومات حاصل کرنا، اداروں کے کام میں خلل ڈالنا، حکام کو شرمندگی سے دوچار کرنا، اور ذاتی معلومات شائع کر کے افراد کو خوفزدہ کرنا شامل ہیں۔

امریکی سائبر سکیورٹی کمپنی ’ریکارڈڈ فیوچر‘ کے اندازے کے مطابق ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس و سکیورٹی نے ’حنظلہ‘ برانڈ کے استعمال کا دائرہ وسیع کر دیا ہے تاکہ اس میں وزارت کی بیرونِ ملک کارروائیاں کو بھی شامل کیا جا سکے جن کا ہدف امریکی اور اسرائیلی مفادات ہوتے ہیں۔

حنظلہ گروپ کی جانب سے عوام کے لیے جاری کیے جانے والے پیغامات بھی ان کارروائیوں کا ایک اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان پیغامات میں گروپ عموماً اپنی کارروائیوں کو اسرائیلی فوج کی سرگرمیوں کے جواب میں انتقامی اقدامات یا اسرائیلی سائبر سکیورٹی نظام کی کمزوری کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

سیاسی پیغامات کے ساتھ ڈیٹا جاری کرنے سے تشہیر حاصل ہوتی ہے اس بات سے قطع نظر کہ ہیکنگ کی نوعیت یا اس کا حجم کیا ہے، یا پھر یہ بھی ثابت نہ کیا جا سکے کہ ہیکنگ واقعی ہوئی تھی۔

ان حملوں کی اہمیت کیا ہے؟

حنظلہ گوہ نے اسرائیلی سرکاری اور سکیورٹی اداروں سے لے کر اسرائیل اور امریکہ کی تجارتی کمپنیوں تک متعدد تنظیموں کو نشانہ بنایا ہے۔

’چیک پوائنٹ‘ کے مطابق، حنظلہ کی کارروائیوں میں ڈیٹا کی چوری اور اسے عوام کے سامنے جاری کرنا شامل ہوتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ایسے تخریبی سائبر حملے بھی کیے جاتے ہیں جن کا مقصد کمپیوٹر نظاموں کو متاثر کرنا اور ان کے کام میں خلل ڈالنا ہوتا ہے۔

چوری شدہ معلومات کی اشاعت اور افراد کے خلاف دھمکیوں کا اجرا، ہدف بنائے گئے افراد کو خوفزدہ کرنے اور ان پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

امریکی محکمۂ انصاف نے کہا ہے کہ ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس و سکیورٹی سے منسلک ویب سائٹس حساس ذاتی معلومات شائع کرنے، ہیکنگ کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے اور مخصوص شخصیات کو دھمکیاں دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔

امریکی حکام اور سائبر سکیورٹی کے شعبے سے وابستہ محققین حنظلہ گروپ کو ایرانی انٹیلیجنس اداروں سے جوڑتے ہیں، تاہم ایرانی ریاست اور انفرادی کارروائیوں کے درمیان براہِ راست تعلق کی نوعیت ہمیشہ عوامی طور پر واضح نہیں کی جاتی۔

تاہم ’ای ٹائپ‘ پلیٹ فارم یا اسرائیلی فوج کے طبی آپریشنز یونٹ میں ہیکنگ کے دعوؤں کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اسی طرح ان مبینہ حملوں کے واقعی وقوع پذیر ہونے یا ان کی سنگینی کے بارے میں بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔