آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’سنتھیٹک آئڈنٹیٹی فراڈ‘: پاکستانی اور انڈین شہریوں کے گروہ نے کینیڈا میں ’لاکھوں ڈالر‘ کا مبینہ فراڈ کیسے کیا؟
- مصنف, احتشام احمد شامی
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے دعویٰ ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ سامنے آیا ہے کہ پاکستانی اور انڈین شہریوں کے ایک گروہ کی جانب سے کینیڈین بینکوں کے ساتھ کیے گئے مبینہ فراڈ کی مالیت ممکنہ طور پر لاکھوں کینیڈین ڈالرز میں ہے جبکہ دھوکے کا شکار ہونے والے متعدد بینکوں میں رائل بینک آف کینیڈا بھی شامل ہے۔
این سی سی آئی اے کی جانب سے 19 اکتوبر کو بتایا گیا تھا کہ تین ایسے پاکستانی شہریوں کو پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے گرفتار کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر کینیڈا میں مقیم چار انڈین شہریوں کے ساتھ مل کر ’سنتھیٹک آئڈنٹیٹی فراڈ‘ میں ملوث ہیں۔
سنتھیٹک آئڈنٹیٹی فراڈ ایک ایسا سائبر جرم ہے جس میں حقیقی ذاتی معلومات (جیسے چوری شدہ سوشل سکیورٹی نمبر، تاریخ پیدائش یا شناختی دستاویز کا کوئی حصہ) کو مکمل طور پر من گھڑت اور فیک تفصیلات (جیسے جعلی تصویر یا ایڈیس وغیرہ) کے ساتھ ملا کر ایک جعلی اور فرضی شناخت تیار کی جاتی ہے اور پھر اسے استعمال کرتے ہوئے دھوکہ دہی کی جاتی ہے۔
اس کیس کی تفتیشی ٹیم میں شامل ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے وقاص سعید نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ پاکستانی اور انڈین شہریوں کی جانب سے کی گئے مبینہ فراڈ کی مالیت ممکنہ طور پر لاکھوں کینیڈین ڈالر تک پہنچتی ہے جبکہ کینیڈا کے کئی معروف مالیاتی اداروں کو اس گروہ نے دھوکہ دہی کا نشانہ بنایا گیا، جن میں سب سے زیادہ متاثر رائل بینک آف کینیڈا ہے جبکہ پی سی فنانشل، ڈیژاردینز (Desjardins) اور ٹورنٹو ڈومینین بینک بھی متاثرہ اداروں میں شامل ہیں۔
اُن کے مطابق اس مبینہ فراڈ میں ملوث تین پاکستانی ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے اُن کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا اور ملزمان کے قبضے سے ضبط ہونے والے ڈیجیٹل مواد پر تکنیکی رپورٹس تیار کر لی گئی ہیں جس کی بنیاد پر چالان اب مجاز عدالت میں جمع کروایا جائے گا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص سعید کے مطابق اس مبینہ بین الاقوامی گروہ کے بارے میں کارروائی اوپن سورس انٹیلیجنس کے ذریعے حاصل کردہ معلومات پر شروع کی گئی، جس کے بعد تکنیکی ذرائع استعمال کرتے ہوئے ملزمان کا سراغ لگایا گیا اور مجاز عدالت سے سرچ اور ضبطی کے وارنٹ حاصل کرنے کے بعد انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔
وقاص سعید کے مطابق متعدد شکایات سامنے آنے پر کینیڈین بینکوں نے اس گروہ کے خلاف تحقیقات شروع کیں، جس کے بعد پاکستانی ادارے بھی تحقیقات کا حصہ بنے اور لاہور سے تینوں ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی۔
’کینیڈین بینک ریکوری کے لیے جاتے تو پتہ چلتا کہ فراڈ ہوا ہے‘
اس کیس کی ابتدائی تفصیلات چند روز قبل این سی سی آئی اے نے اپنی ایک پریس کانفرنس کے دوران بتائی تھیں جہاں تینوں گرفتار پاکستانی ملزمان کو چہرہ ڈھانپ کر میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پریس کانفرنس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی لاہور کے ایڈیشنل ڈائریکٹرعاطف امیر نے گرفتار پاکستانیوں کی شناخت ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ افراد کینیڈا میں مقیم چار انڈین شہریوں کے ساتھ مل کر مبینہ طور ’سینتھٹک آئڈنٹیٹی فراڈ‘ کرتے تھے۔
این سی سی آئی اے کا دعویٰ ہے کہ کینیڈا میں موجود چار انڈین شہری درست اور غلط معلومات کا امتراج کر کے پاسپورٹس اور تصاویر اکٹھی کرتے اور پھر یہ تفصیلات پاکستان میں موجود ان تینوں ملزمان کو بھیجی جاتی تھیں۔
پریس کانفرنس کے دوران عاطف امیر نے بتایا کہ ’پاکستان میں موجود افراد کو جب یہ پاسپورٹ اور تصاویر ملتی تھیں تو وہ اِن دستاویزات کی بنیاد پر کینیڈا میں بینکوں میں اکاؤنٹس کھولتے تھے، اور بینک انتظامیہ کی جانب سے جب ویریفیکیشن کے لیے پکچر ایویڈینس مانگی جاتی تو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اُن کے پاس ایک ڈولفن آنٹی نامی سافٹ ویئر تھا، جس کے ذریعے پکچر ویریفیکیشن ہوتی تھی اور بینک اکاؤنٹ کُھل جاتا تھا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’آپ دیکھیں کہ فیک پاسپورٹ اور دستاویزات کی بنیاد پر یہ ملزمان پاکستان میں بیٹھ کر کینیڈا میں بینک اکاؤنٹ اوپن کر لیتے تھے۔ بینک اکاؤنٹ کھلنے کے بعد یہ کریڈٹ کارڈ آرڈر کرتے تھے۔ بینک کی جانب سے کریڈٹ کارڈ کا اجرا ہوتا جو کینیڈا میں بیٹھے چار انڈینز کے پاس پہنچ جاتا تھا۔ وہ ان کریڈٹ کارڈز کا استعمال کرتے اور جب کارڈ کی لمٹ پوری ہو جاتی تو انھیں پھینک دیا جاتا تھا۔‘
این سی سی آئی اے کے مطابق ’جب بینک ریکوری کے لیے ڈھونڈنا شروع کرتے تو انھیں معلوم ہوتا کہ اُن کے ساتھ سنتھیٹک فراڈ کیا گیا ہے۔‘
ایف آئی آر میں کیا بتایا گیا ہے؟
تھانہ این سی سی آئی اے لاہور میں 14 اکتوبر کو درج ہونے والی ایف آئی آر کے مدعی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان صابر ہیں۔ ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ اس معاملہ کی باقاعدہ انکوائری نو ستمبر کو شروع کی گئی تھی اور ایک ماہ اور پانچ روز کے دوران اوپن سورس انٹیلیجنس میں ملنے والے مواد کی روشنی میں مقدمے کا اندراج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق اس گروہ کی کارروائیوں کی وجہ سے جن افراد کا ڈیٹا استعمال کیا گیا ناصرف انھیں نقصان پہنچا اور اُن مالیاتی اداروں (بینکوں) کو بھی نقصان پہنچا جن کے ساتھ لین دین کیا گیا اور بوگس ڈاکومنٹس اور تفصیلات کی مدد سے اکاؤنٹس کھلوائے گئے۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ پاکستانی ملزمان کی گرفتاری لاہور کے علاقے انجینیئرز ٹاؤن سے ہوئی اور اس موقع پر چار لیپ ٹاپ اور موبائل فونز بھی قبضے میں لیے گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق برآمد شدہ موبائل فونز اور لیپ ٹاپس کا موقع پر ہی جائزہ لیا گیا، جس کے دوران کینیڈین شہریوں کے پاسپورٹس کی متعدد تصاویر اور نامعلوم افراد کے ساتھ چیٹ (گفتگو) ملی۔
ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’زیرحراست ملزمان نے بتایا کہ وہ گذشتہ 18 ماہ سے اس فراڈ میں ملوث ہیں اور وہ اُن کینڈین شہریوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، جو انھیں شہریوں کی جعلی شناختی دستاویزات فراہم کرتا ہے۔ ان دستاویزات میں ایسے پاسپورٹس شامل ہیں جن پر اے آئی سے تیار کردہ تصاویر لگی ہوئی ہیں، اور ان میں فرضی کوائف (جیسے پاسپورٹ وغیرہ) درج ہیں۔ فراہم کردہ دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے وہ عارضی ای میل ایڈریس بنا کر مختلف کینیڈین بینکوں میں اکاؤنٹس کھلواتے ہیں، جن میں ویلز فارگو بینک، آر بی سی بینک وغیرہ شامل ہیں۔‘
ایف آئی آر کے مطابق ’اکاؤنٹس کے تصدیقی عمل کو مکمل کرنے کےلیے جعلی تصاویر کی مدد لی جاتی ہے اور اکاؤنٹس کھلنے کے بعد کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز اُن درج شدہ پتوں پر بھیجے جاتے ہیں، جہاں سے دیپ سنگھ اور دیگر افراد انھیں حاصل کرتے۔‘
ایف آئی آر میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مبینہ فراڈ سے حاصل ہونے والی رقوم کو ڈیجیٹل والیٹس، کرپٹو اور حوالہ نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان منتقل کیا جاتا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق یہ تمام تر عمل پاکستان میں بیٹھ کر مکمل کیا جاتا تھا۔