آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دوست کی لاش تین سال تک فریزر میں چھپا کر ان کے نام پر قرضے لینے والا شخص آخر پکڑا کیسے گیا؟
- مصنف, اینڈی گل
- مقام, لیورپول کراؤن کورٹ
- مصنف, جینی کولمین
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
برطانیہ کے شہر لیور پول میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جیوری کو بتایا گیا کہ ایک شخص نے ایک خاتون کو قتل کرنے کے بعد تقریباً تین سال تک ان کی لاش فریزر میں چھپائے رکھی، جبکہ اس دوران اس نے ان کے نام پر کریڈٹ کارڈز اور قرضے حاصل کیے۔
65 سالہ جارج گورڈن پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنی دوست ڈیلیا میک اِنرنی کو اپریل 2023 میں اس وقت قتل کیا جب چند روز بعد وہ ایک ’نئی زندگی‘ کے لیے پرتگال منتقل ہونے والی تھیں۔
ان کی مسخ شدہ لاش رواں سال جنوری میں سینٹ ہیلنز میں واقع گورڈن کے فلیٹ سے برآمد ہوئی، جہاں ان کے پانچ مردہ گنی پگز بھی پائے گئے۔
گورڈن، جو لیورپول کراؤن کورٹ میں کٹہرے میں پیش نہیں ہوئے، نے ڈیلیا کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ قتل اپنے دفاع میں کیا تھا اور وہ ان کے قتل کے الزام سے انکار کرتے ہیں۔
مقدمے میں بتایا گیا کہ دونوں کئی برسوں سے دوست تھے اور ڈیلیا، جو وفات کے وقت 62 برس کی تھیں، جب بیرونِ ملک سفر پر نہ ہوتیں یا لیورپول کے علاقے اینفیلڈ میں واقع اپنے گھر میں نہ ہوتیں تو جیرارڈز کورٹ میں گورڈن کے فلیٹ میں رہتی تھیں۔
استغاثہ کی جانب سے مقدمہ لڑنے والے مارٹن ریڈ کے سی نے جیوری کو بتایا کہ ان کی لاش 8 جنوری کو گورڈن کے فلیٹ میں ایک چیسٹ فریزر سے پولیس نے برآمد کی۔
انھوں نے کہا کہ ان کے دوستوں نے کافی عرصے سے انھیں نہیں دیکھا تھا، لیکن گورڈن نے 18 ماہ سے زیادہ عرصے تک ان کی موجودگی کے بارے میں جھوٹ بولا اور ای میلز اور فون پیغامات میں خود کو ان کے طور پر ظاہر کرتا رہا۔
استغاثہ کا مؤقف بیان کرتے ہوئے ریڈ نے کہا کہ اپریل 2023 میں ڈیلیا گورڈن کے ہاتھوں ہلاک ہوئیں اور اس کے بعد گورڈن نے ان کے بینک اکاؤنٹس سے ہزاروں پاؤنڈ حاصل کیے اور ان کے نام پر کریڈٹ کارڈز بنوائے، جبکہ ان کی لاش اس کے فلیٹ میں فریزر میں پڑی رہی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقدمے میں بتایا گیا کہ گورڈن ڈیلیا کو قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہیں، لیکن ابتدا میں انھوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ انھوں نے زائد مقدار میں دوا لینے کے بعد ان کی ’تکلیف کا خاتمہ‘ کرنے کے لیے انھیں ہتھوڑے سے مارا تھا۔
ریڈ نے کہا کہ اب گورڈن کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اپنے دفاع میں کارروائی کی تھی۔
استغاثہ نے کہا کہ اپریل 2023 میں ڈیلیا اپنے گنی پگز کے ساتھ پرتگال منتقل ہونے والی تھیں اور جب گورڈن کو ان کے منتقل ہونے کے منصوبے کا علم ہوا تو انھوں نے ایک بڑا ہتھوڑا اور ہاتھ سے چلنے والی آری سمیت مختلف اشیا خریدیں، جو ’ان آلات سے مطابقت رکھتی تھیں جو بعد میں میک اِنرنی کو قتل کرنے اور ان کی لاش کے ٹکڑے کرنے کے لیے استعمال ہوئے یا درکار تھے۔‘
ریڈ نے کہا کہ انھوں نے ان ادویات کے نسخے بھی حاصل کیے جو بعد میں ان کے جسم میں پائی گئیں۔
11 اپریل کو گورڈن نے ڈیلیا کی اپنے پالتو گنی پگز کے ساتھ ایک ویڈیو بنائی، جو ان کی زندگی میں دیکھی جانے والی آخری فوٹیج ثابت ہوئی۔
جیوری کو بتایا گیا کہ گنی پگز بھی فریزر سے برآمد ہوئے اور معائنے سے پتا چلا کہ ان کی موت ڈوبنے سے ہوئی تھی۔
گورڈن، جنھیں ڈیلیا کرس کے نام سے جانتی تھیں، پر الزام ہے کہ انھوں نے 11 اپریل کی شام یا 12 اپریل کی ابتدائی ساعتوں میں اپنی دوست کو قتل کیا۔
جیوری کو بتایا گیا کہ 12 اپریل کو بعد ازاں ڈیلیا کے بینک اکاؤنٹس سے 2,000 پاؤنڈ سے زیادہ رقم گورڈن کو منتقل کی گئی۔
مقدمے میں بتایا گیا کہ اس کے بعد گورڈن ناشتے کے لیے دی سیفٹن پب گئے، جہاں انھوں نے سٹرانگ بو کا ایک پنٹ اور ڈبل وسکی پی اور پھر ایمیزون سے ایک چیسٹ فریزر منگوایا۔
ریڈ نے کہا کہ گورڈن 24 اپریل کو پرتگال گئے تھے اور وہاں ڈیلیا کی ملکیتی جائیداد پر بھی گئے، ان کے دوستوں اور پڑوسیوں کو بھیجے گئے پیغامات میں خود کو ڈیلیا ظاہر کرتے رہے۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ گورڈن کے ’جھوٹ کے جال‘ کی حقیقت دسمبر 2025 میں سامنے آنی شروع ہوئی، جب کرس کیونڈش گورڈن نامی شخص کی جانب سے محکمہ برائے کام و پنشنز کو درخواست بھیجی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ایک سماجی کارکن ہے اور ڈیلیا کی پرسنل انڈیپینڈنس پیمنٹ کسی دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی درخواست کی گئی۔
جیوری کو بتایا گیا کہ ٹیلی فون پر کی گئی پوچھ گچھ اور مالیاتی جانچ پڑتال کے بعد گورڈن کو 8 جنوری کو ان کے فلیٹ سے گرفتار کیا گیا۔
انھیں جب فلیٹ سے باہر لے جایا جا رہا تھا تو انھوں نے افسران سے کہا: ’وہ اندر ہے‘ اور پھر کہا: ’وہ فریزر میں ہے۔‘
گورڈن قتل اور جانوروں کو غیر ضروری اذیت پہنچانے کے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔
یہ مقدمہ، جو متوقع طور پر چھ ہفتے جاری رہے گا، بدستور جاری ہے۔