آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’اس کا منہ پھٹا ہوا تھا، سر کچلا گیا تھا‘: طلاق کی خواہشمند 24 سالہ خاتون جس کی لاش کھیت سے ملی
- مصنف, المیرا عابدینووا
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کرغز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
انتباہ: اس تحریر میں موجود تفصیلات کچھ قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
کرغزستان کے علاقے باتکین میں تین بچوں کی ماں، 24 سالہ دلفوزہ سائنازارووا کی موت کے بعد ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شوہر اور سسرالی رشتہ داروں کی جانب سے گھریلو تشدد کا شکار رہتی تھیں۔
پولیس نے خاتون کی موت کے مقدمے میں ان کے شوہر کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے حراست میں لے لیا ہے اور فوجداری مقدمہ درج کر لیا ہے۔
دوسری جانب، مرنے والی خاتون کی نند کا کہنا ہے کہ خاندانی جھگڑے کی وجہ شوہر کا حسد اور بدگمانی تھی۔
یہ واقعہ 31 اکتوبر کو کرغزستان کے صوبہ باتکین کے شہر قزل قیہ کے نواحی گاؤں کاراوان میں پیش آیا۔
’وہ طلاق چاہتی تھی‘
مقتولہ کی والدہ شراپت سائنازارووا اور ان کے بھائی مقصود علی سائنازاروف کے مطابق، دلفوزہ کی شادی 18 سال کی عمر میں ہوئی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ دلفوزہ اکثر شکایت کرتی تھیں کہ وہ اپنے شوہر اور سسرالی رشتہ داروں کی جانب سے بدسلوکی اور تشدد کا سامنا کر رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واقعے سے دو دن پہلے وہ اپنے والدین کے گھر آئی تھیں۔ انھوں نے بتایا تھا کہ اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتیں اور طلاق لینا چاہتی ہیں۔
دلفوزہ کی والدہ شراپت سائنازارووا نے کہا کہ ’میری بیٹی میرے پاس آئی اور کہا، ’اماں، اب میرا اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کو دل نہیں چاہتا۔ میں بہت خوفزدہ ہو گئی ہوں۔ میری ساس مجھے سکون سے نہیں جینے دیتی اور میرے شوہر سے مجھے مرواتی ہے۔ میں طلاق لوں گی۔‘
’لیکن اگلے ہی دن میرے داماد کے والد اسے لینے آ گئے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے سے بات کریں گے اور آئندہ میری بیٹی کے ساتھ برا سلوک نہیں ہونے دیں گے۔ بہت منت سماجت کے بعد وہ اسے واپس لے گئے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے بھی یہ سوچ کر یقین کر لیا کہ ان کے تین بچے ہیں، شاید گھر کے حالات بہتر ہو جائیں اور وہ صلح کر لیں۔‘
’مجھے کبھی یہ خیال نہیں آیا تھا کہ وہ میری بیٹی کو مار ڈالیں گے۔‘
’ہمیں اپنی بیٹی کی لاش کھیت میں ملی‘
تاہم اگلے روز دلفوزہ سائنازارووا کے سسر نے خاتون کے اہلِ خانہ کو فون کر کے اطلاع دی کہ وہ کھیت میں پڑی ہے۔ جب دلفوزہ کا بھائی موقع پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ ان کا جسم ٹھنڈا ہو چکا تھا۔
مقتولہ کی والدہ نے بتایا ’میرا بیٹا اپنی بہن کو لینے گیا تو اسے میری بیٹی کی لاش کھیت میں ملی۔ اس نے لاش گاڑی میں رکھی اور گھر لے آیا۔ اس کا چہرہ اور سر سوجا ہوا تھا، بری طرح کچلا گیا تھا، اس کا منہ پھٹا ہوا تھا اور پیشانی بھی پھٹی ہوئی تھی۔ گردن پر گلا دبانے کے نشانات بھی موجود تھے۔ ہم فوراً اسے ہسپتال لے گئے، لیکن ڈاکٹروں نے بتایا کہ ہماری بیٹی پہلے ہی وفات پا چکی ہے۔‘
اہلِ خانہ کا خیال ہے کہ دلفوزہ کو اس کے شوہر نے گھر سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور پھر کھیت میں لے گیا۔
مقتولہ کے رشتہ داروں کے مطابق، اس کے سسرالی رشتہ دار بھی کاراوان گاؤں کے رہائشی ہیں۔
والدہ نے بتایا کہ جب بھی وہ فون پر اپنی بیٹی سے بات کرتی تھیں تو وہ اپنی ساس کے خوف کی وجہ سے کھل کر بات نہیں کر پاتی تھی۔
اہلِ خانہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ دلفوزہ ایک نرس کے طور پر کام کرتی تھیں، لیکن ان کے شوہر نے حسد اور شکوک کی وجہ سے انھیں ملازمت چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔
’جھگڑا حسد کی وجہ سے ہوا‘
دلفوزہ سائنازارووا کی موت کے معاملے میں ان کے شوہر کو مشتبہ شخص کے طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مشتبہ شخص کے اہلِ خانہ نے واقعے کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔
تاہم مقتولہ کی نند نے الزام عائد کیا کہ ’جھگڑے کی وجہ حسد تھی۔ اس نے فون میں دیکھا تھا کہ وہ کسی دوسرے شخص سے پیغامات کا تبادلہ کر رہی تھیں اور ان کی تصاویر بھی دیکھی تھیں، اسی وجہ سے یہ سب ہوا۔ فی الحال ہم اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں دے سکتے۔‘
پولیس کے مطابق 31 اکتوبر کو تقریباً صبح 11 بج کر 20 منٹ پر قزل قیہ سٹی پولیس کو اطلاع ملی کہ کاراوان گاؤں کی رہائشی دلفوزہ سائنازارووا، جو 25 جنوری 2002 کو پیدا ہوئی تھیں، کو مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا ہے۔
پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اطلاع کو سرکاری ریکارڈ میں درج کر کے ابتدائی تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ متوفیہ کی موت میں ان کے شوہر کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
اس واقعے کے بعد پولیس کے تحقیقاتی شعبے نے کرغزستان کے فوجداری قانون کی دفعہ 122 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس کے مطابق 31 اکتوبر 2026 کو مشتبہ شخص سے اس کے وکیل کی موجودگی میں پوچھ گچھ کی گئی، جس کے بعد اسے حراست میں لے کر عارضی حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔
اس وقت مقدمے کے سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
دلفوزہ سائنازارووا اپنے پیچھے تین بچے چھوڑ گئی ہیں۔ ان کا سب سے چھوٹا بیٹا دو سال کا ہے، درمیانی بچہ چار سال جبکہ بڑا بچہ پانچ سال کا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جنوری سے اگست 2026 کے دوران کرغزستان میں گھریلو تشدد کے 18 ہزار 862 واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ تعداد گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4 ہزار 585 واقعات، یعنی 32.1 فیصد زیادہ ہے۔
ویمن، پیس اینڈ سکیورٹی انڈیکس کے مطابق، کرغزستان کو 2021 اور 2023 میں مسلسل دو مرتبہ وسطی ایشیا میں خواتین کے لیے سب سے غیر محفوظ ملک قرار دیا گیا تھا۔
'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔