اکتوبر میں ریاض ایئرپورٹ پر 20 حملے ہوئے، حوثیوں نے کشیدگی میں کمی کے لیے ملاقات کی تجویز مسترد کر دی: سعودی حکام
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کی جانب سے 7 اور 11 اکتوبر کو کیے گئے حملوں میں17 افراد ہلاک اور 333 لوگ زخمی ہوئے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ میں نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر راید کریملی کا کہنا ہے کہ ریاض کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے مقصد سے مسقط میں ملاقات کی درخواست حوثیوں نے مسترد کر دی ہے۔
پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع نجی سکول کی چھت گرنے کے واقعے میں 33 طلبا اور ایک خاتون ٹیچر ہلاک ہوئے ہیں۔ مارے جانے والے بچوں کی عمریں چھ سے 14 سال کے درمیان ہیں
پشاور سکول حادثے میں ہلاک ہونے والے 16 بچوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، جس میں شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی
اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رُکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گورنر خیبرپختونخوا سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے
لائیو کوریج
پشاور میں سکول کی چھت گِرنے کا واقعہ: ریسکیو حکام نے کیا بتایا؟
،ویڈیو کیپشنپشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی سکول کی چھت گرنے سے بچوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہو گئے
پشاور میں سکول کی چھت گرنے سے بچوں اور سکول ٹیچر سمیت متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ سکول شہر کی تنگ گلیوں میں واقع ہے جہاں ریسکیو آپریشن میں دشواری پیش آئی۔
نوٹ: ویڈیو رپورٹ میں ہلاکتوں کی تعداد 28 بتائی گئی مگر اب ہسپتالوں کی انتظامیہ کی جانب سے 34 ہلاکتوں کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
بریکنگ, پشاور میں سکول کی چھت گِرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 34 ہو گئی
پشاور کے علاقے دیر کالونی سکول میں واقع سکول کی چھت گِرنے کے واقعے میں مجموعی طور پر 34 ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں 33 بچے اور ایک ٹیچر شامل ہیں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال نے 33 اموات جبکہ نصیر اللہ خان بابر ہسپتال نے ایک طالبہ کی موت کی تصدیق کی ہے۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہسپتال میں 33 لاشیں لائیں گئی جن میں 25 سالہ ٹیچر ثمرین بی بی بھی شامل ہیں۔ ہسپتال میں لائے گئے بچوں کی عمریں چھ سے 14 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے 17 بچوں کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے جبکہ ایک ٹیچر اور تین بچے اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
دوسری جانب نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال کا کہنا ہے کہ 33 طلبہ و طالبات کو ہسپتال لایا گیا جن میں سے ایک طالبہ نے دم توڑ دیا ہے۔
’میں نے خود اپنے ہاتھوں سے چھ بچوں کو نکالا، بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنپشاور میں سکول کی عمارت گِرنے کے بعد امدادی کارروائیوں کا منظر
ایک عینی شاہد زاہد سلیم نے بی بی سی
کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ انھیں سائرن اور ایمبولینس کی آواز آئی
تو وہ اور دیگر علاقہ مکین فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور انھوں نے امدادی
کارروائیوں میں حصہ بھی لیا۔
وہ قریب واقع سوپیریئر سائنس کالج میں انگریزی کے پروفیسر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’میں جیسے
ہی یہاں پہنچا تو علاقہ مکینوں نے بتایا کہ نجی سکول کی چھت گِر گئی ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے
20 سے 22 بچوں کو ملبے سے نکالا ہے۔‘
’میں نے خود اپنے ہاتھوں سے
چھ بچوں کو نکالا۔ ان میں زیادہ تر زندہ تھے اور باتیں بھی کر رہے تھے۔ لیکن بعد
میں پتا چلا ان کی موت ہو چکی ہے۔‘
’بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔‘
وہ یاد کرتے ہیں کہ ’ایک
بچے نے کہا بہت درد ہو رہا ہے۔ منھ میں زبان خشک ہو چکی ہے، پانی دے دو۔ میں نے کہا
ہم آپ کو پانی دے رہے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ریسکیو
اہلکاروں کے ہمراہ انھوں نے ’بچوں کو عمارت سے باہر نکال کر ایمبولینس میں ڈال دیا
تھا۔‘
’پھر میں نے پرنسپل اور
عملے سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ اوپر لڑکیوں اور نیچے لڑکوں کی کلاسز تھیں۔‘
زاہد سلیم بتاتے ہیں کہ ’خاتون
ٹیچر کی موت واقع ہوئی جبکہ لڑکوں کا ٹیچر آج کام پر نہیں آیا تھا۔ لڑکوں کے ٹیچر
کی جگہ پرنسپل جیسے ہی اندر جانے والے تھے تو اسی وقت سکول کی چھت گِر گئی۔‘
پشاور سکول واقعہ: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟
جمعرات کی صبح پشاور میں ریسکیو حکام کو اطلاع موصول ہوئی کہ صوبائی دارالحکومت کے علاقے آفریدی آباد میں ایک سکول کی عمارت گِر گئی ہے۔ چھت گرنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب سکول میں تعلیم و تدریس کا عمل جاری تھا اور متعدد بچے اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے
یہ سکول شہر کی تنگ گلیوں میں واقع ہے جہاں ریسکیو آپریشن میں دشواری پیش آئی۔ جب ریسکیو اہلکار پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ ’عمارت کی ایک چھت دوسری چھت پر گری ہوئی تھی۔‘
ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ چار سے پانچ گھنٹوں تک جاری رہنے والے آپریشن میں 29 لاشیں نکالی گئی ہیں جن میں 28 بچے اور ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں۔
ایک عینی شاہد سہیل نے بی بی سی کو بتایا ’میری بہن نے ساڑھے نو بجے مجھے بلایا کہ بھائی جلدی آ جاؤ۔ سکول کے چھوٹے چھوٹے بچے چھت کے نیچے آ گئے تھے۔ میں نے اور علاقے کے لوگوں نے جلدی سے بیلچے سے انھیں نکالنے کی کوشش کی۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد سکول کے پرنسپل کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو کہ پولیس کے مطابق سکول کو ایجوکیشن ٹرسٹ کے طور پر چلا رہے تھے۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی وجہ کمزور عمارت تھی۔ جائے وقوعہ پر موجود ریسکیو حکام اور بی بی سی کے نامہ نگار بلال احمد کے مطابق بظاہر سکول میں تیار شدہ چھتیں نصب کی گئی تھیں اور یہاں کوئی پکا لینٹر نہیں تھا۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دیر کالونی میں واقع سکول کی چھت گرنے سے بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ گورنر نے متعلقہ حکام سے سکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ کر لی ہے۔
پشاور میں سکول کی عمارت گِرنے کے بعد امدادی کارروائیوں کی جھلکیاں
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
بریکنگ, پشاور میں سکول کی عمارت گِرنے کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل، 29 لاشیں برآمد
ریسکیو 1122 کے ریجنل ڈائریکٹر عارف خٹک کا کہنا ہے کہ پشاور میں سکول کی عمارت گِرنے کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر 29 لاشیں ملی ہیں جن میں ایک خاتون ٹیچر بھی شامل ہیں۔
ایک پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی طور پر عمارت گِرنے کے بعد 16 لاشوں کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے بعد چار سے پانچ گھنٹوں تک آپریشن جاری رہا اور اس کی تکمیل تک 29 لاشیں ملی ہیں۔ ان میں ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’پہلے ہمیں اطلاع ملی کہ عمارت گِری ہے لیکن یہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ تین منزلہ عمارت ہے۔‘
’یہ تین منزلہ عمارت انسٹرکچرڈ تھی، یعنی یہ عمارت عارضی طور پر بنی ہوئی تھی۔۔۔ 45 زخمی ہیں جنھیں شدید چوٹیں آئی ہیں، انھیں صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں شفٹ کر دیا ہے۔‘
عارف خٹک کا کہنا ہے کہ اس ریسکیو آپریشن میں 100 اہلکاروں، 18 ایمبولینسوں اور تین ہیوی ڈیوٹی وہیکلز نے حصہ لیا۔
بریکنگ, سکول پرنسپل گرفتار: پولیس, بلال احمد، بی بی سی اردو/پشاور
پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ سکول کی عمارت گِرنے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں لیکن ملبہ اب بھی موجود ہے جبکہ پولیس کے بقول سکول کے پرنسپل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سی سی پی او پشاور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سکول کا پرنسپل ایجوکیشن ٹرسٹ کے طور پر سکول چلا رہا تھا اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق کمزور عمارت بنائی گئی تھی جس کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا۔ انھوں نے تصدیق کی ہے کہ سکول کے پرنسپل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
جائے وقوعہ پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار بلال احمد بتاتے ہیں کہ یہ سکول دو منزلہ عمارت میں قائم ہے جو کہ تیار شدہ چھتوں پر مبنی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ بظاہر اس عمارت میں پکا لینٹر نہیں تھا بلکہ پہلے سے تیار شدہ چھتیں نصب کی گئی تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عمارت کے ملبے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اوپر ایک کمرے پر چھت کا ملبہ گِرنے کے بعد نیچے بھی وہی ملبہ دوسری جماعت کے بچوں پر آ گرا۔
پشاور سکول کی چھت گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی
پشاور میں لیڈی
ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق آفریدی آباد کے علاقے میں سکول کی چھت گرنے کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 27 بچے اور ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ مرنے والے 27 بچوں میں سے چھ لڑکیاں جبکہ 21 لڑکے ہیں، اور ان بچوں کی عمریں 13 سال سے کم ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ واقعے میں اب تک ہسپتال لائے جانے
والے زخمیوں کی تعداد 19 ہے جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔
پشاور: تنگ گلیوں کے باعث زخمیوں کی منتقلی اور ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا
پشاور میں سکول کی چھت گرنے کے واقعے میں مرنے والوں کی
تعداد 19 ہو چکی ہے جن میں 18 سکول کے بچے ہیں اور ایک خاتون ٹیچر ہیں۔
اس واقعے میں 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے اور زخمی
ہونے والے بچوں کی عمریں 13 سال سے کم بتائی جا رہی ہیں۔
جائے وقوعہ پر پہنچنے والے بی بی سی کے نامہ نگار بلال احمد
کے مطابق یہ سکول شہر کی تنگ گلیوں میں واقع ہے۔ جہاں ایک وقت میں ایک ہی گاڑی جا
سکتی ہے۔ اس لیے ریسکیو اہلکاروں کو مشکلات کا سامنا ہے اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل
کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔
ایک عینی شاہد سہیل نے بی بی سی کو بتایا ’میری بہن نے ساڑھے نو بچے مجھے بلایا کہ بھائی جلدی آ جاؤ۔ سکول کے چھوٹے چھوٹے بچے چھت کے نیچے آ گئے تھے۔ میں نے اور علاقے کے لوگوں نے جلدی سے بیلچے سے انھیں نکالنے کی کوشش کی۔‘
ریسکیو آپریشن جاری ہے اور اس دوران غیر متعلقہ افراد کو
عمارت کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
اس سے پہلے پشاور میں ریسکیو کے ایک اہلکار بلال فیضی نے
بتایا کہ ’آج صبح کنٹرول روم ریسکیو کو 8.48 ایک کال موصول ہوئی کے سکول کی چھت گر
گئی ہے۔ ہم وہاں پہنچے تو عمارت کی ایک چھت دوسری چھت پر گری ہوئی تھی۔ اس کلاس
روم کے بچے اس میں دب گئے تھے۔ ‘
انھوں نے بتایا کہ مزید بچوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو کی
کوششیں جاری ہیں۔
پشاور: سکول کی چھت گرنے سے متعدد بچوں کی ہلاکت کے بعد ملبے سے مزید افراد کی تلاش جاری
،تصویر کا ذریعہRESCUE 1122
،تصویر کا ذریعہBBc
حوثی حملوں میں اضافہ: آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی اپنے شہریوں کو سعودی عرب کے سفر سے گریز کی ہدایت
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے بعد سعودی عرب کے سفر سے متعلق نئی وارننگز جاری کی ہیں۔
آسٹریلیا نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے سفر کے اپنے منصوبوں پر دوبارہ غور کریں۔
اس کے علاوہ سکیورٹی خدشات کے باعث ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے ’سفر نہ کریں‘ کی براہِ راست ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
دوسری جانب نیوزی لینڈ نے سعودی عرب کے لیے اپنے شہریوں کے سفری انتباہ کی سطح بلند ترین درجے تک بڑھا دی ہے اور انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ اس ملک کا ہر قسم کا سفر کرنے سے گریز کریں۔
یہ نئی وارننگز سعودی عرب میں شہری ہوابازی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور رہائشی علاقوں پر حوثیوں کے حملوں میں نمایاں شدت آنے کے ردِعمل میں جاری کی گئی ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا ہے اور سفری نظام میں بڑے پیمانے پر خلل پیدا ہوا ہے۔
پشاور: سکول کی چھت گرنے سے ایک خاتون ٹیچر اور کم از کم 18 بچے ہلاک، 40 زخمی بچوں میں بعض کی حالت تشویش ناک
،تصویر کا ذریعہRescue 1122
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک نجی سکول میں چھت گرنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 19 ہو گئی ہے جن میں 18 بچے بھی شامل ہیں۔
پشاور میں ریسکیو کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ’آج صبح کنٹرول روم ریسکیو کو 8.48
ایک کال موصول ہوئی کے سکول کی چھت گر گئی ہے۔ ہم وہاں پہنچے تو عمارت کی ایک چھت
دوسری چھت پر گری ہوئی تھی۔ اس کلاس روم کے بچے اس میں دب گئے تھے۔‘
انھوں نے بتایا کہ مزید بچوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو کی کوششیں جاری ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دیر کالونی میں واقع سکول کی چھت گرنے سے بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ گورنر نے متعلقہ حکام سے سکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ کر لی ہے۔
چھت گرنے کا واقعہ جمعرات کی صبح اس وقت پیش آیا جب سکول میں تعلیم و تدریس کا عمل جاری تھا اور متعدد بچے اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر ٹیمیں اور ایمبولینسز موقع پر پہنچ گئیں اور ہنگامی بنیادوں پر ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے مزید بچوں اور افراد کے دبے ہونے کا شدید خدشہ ہے، جس کے باعث اموات میں مزید اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق ایک خاتون استاد اور کم از کم 18 بچوں کو مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا اور مرنے والے تمام بچوں کی عمریں 13 سال تک ہیں۔
ان کے مطابق 40 زخمی بچوں کو بھی ایمرجنسی میں طبی امداد دی جا رہی ہے، جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ترجمان ایل آر ایچ کے مطابق ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور انتظامیہ اس وقت خود ٹراما ہال میں موجود رہ کر زخمیوں کو فوری طبی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لے رہی ہے۔
پشاور میں سکول کی چھت گرنے سے 17 بچوں سمیت 18 افراد ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور
،تصویر کا ذریعہRESCUE 1122
پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک
نجی سکول کی چھت گرنے سے 17 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر سمیت 18 افراد ہلاک جبکہ 17
بچے زخمی ہو گئے ہیں۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) کے
ترجمان محمد عاصم کے مطابق واقعے کے بعد 17 بچوں کو مردہ حالت میں ہسپتال لایا
گیا، جبکہ ایک خاتون ٹیچر کی لاش بھی ہسپتال منتقل کی گئی۔
ترجمان نے بتایا کہ 17 زخمی بچوں کو
بھی علاج کے لیے ایل آر ایچ منتقل کیا گیا ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک
بتائی جا رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق واقعے کے بعد ایل آر
ایچ میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ ہسپتال انتظامیہ بھی ٹراما سینٹر میں
موجود ہے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
محمد عاصم کے مطابق ہلاک اور زخمی
ہونے والے تمام بچوں کی عمریں 13 سال تک ہیں۔
ایران اور امریکہ کو چند ہفتوں میں آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل پر اتفاق کرنا ہوگا: اقوام متحدہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل کے لیے کسی معاہدے تک نہیں پہنچتے تو ایشیا اور افریقہ کے بعض حصوں میں غذائی تحفظ کی صورتحال سنگین بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
حالیہ جنگ شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز سے کھاد کی نقل و حمل کو آسان بنانے کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا تھا۔
اگرچہ اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا طریقۂ کار تاحال نافذ نہیں ہو سکا، تاہم اقوام متحدہ کے نائب سیکریٹری جنرل خورخے موریرا دا سلوا نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اتفاق رائے ہونے کے بعد یہ نظام 7 سے 10 روز میں فعال کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے بینکاک میں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر، روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آئندہ چند ہفتوں میں معاہدے تک پہنچنا انتہائی ضروری ہے، ورنہ ہم کاشت کے موسم سے محروم ہو جائیں گے۔‘
روئٹرز کے سوالات کے جواب میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ہزاروں تجارتی جہازوں کی مدد کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو متاثر کرنے اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی ایرانی کوششوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات جاری رکھے گا۔‘
وائٹ ہاؤس اور بینکاک میں ایرانی سفارت خانے نے روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
واضح رہے کہ کل عالمی یومِ خوراک منایا جائے گا۔
قانونی اسناد پر سوالات کے بعد وائٹ ہاؤس کا نئی پریس سیکریٹری کیٹی زکریا کا دفاع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وائٹ ہاؤس اپنی نئی پریس سیکریٹری کیٹی زکریا کا دفاع کر رہا ہے، کیونکہ انھیں اپنی قانونی اسناد کے حوالے سے سوالات کا سامنا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کیٹی کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے انھیں ایک اٹارنی قرار دیا تھا، جبکہ وہ خود بھی اپنے لیے وکیل کا لفظ استعمال کرتی رہی ہیں۔
تاہم منگل کو جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ انھوں نے امریکہ میں وکیل بننے کے لیے درکار بار امتحان کس ریاست میں پاس کیا تھا، تو صدر کے ہمراہ کھڑے ہو کر انھوں نے جواب دیا: ’جب میں چین منتقل ہوئی تھی۔‘
ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ کیٹی زکریا جس کسی ریاست میں بھی رہی ہیں، وہاں کی کسی بار ایسوسی ایشن میں ان کی رجسٹریشن موجود ہو۔ وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے کہا کہ وہ ’امریکی عوام کو معلومات فراہم کرنے کے لیے غیرمعمولی طور پر اہل اور انتہائی ذہین ہیں۔‘
اپنی اسناد سے متعلق سوالات کے جواب میں کیٹی زکریا نے اس ہفتے ایک بیان میں کہا ’میں نے بین الاقوامی لین دین کے قانون کی پریکٹس کی ہے، اور اس کے لیے تمام مناسب اسناد رکھتی ہوں۔‘
بدھ کے روز نگرانی کرنے والے ایک گروپ ’کیمپین فار اکاؤنٹیبلٹی‘ نے کیلیفورنیا سٹیٹ بار ایسوسی ایشن میں ایک شکایت دائر کی۔
گروپ نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا کیٹی نے ’بار بار خود کو عوام کے سامنے قانون کی پریکٹس کرنے کی اہل شخصیت کے طور پر پیش کیا، حالانکہ ان کے پاس اس کا لائسنس نہیں تھا، جو کیلیفورنیا کے قانون کے تحت جرم تصور کیا جاتا ہے۔‘
42 سالہ سیاسی حکمت عملی ساز نے 2011 میں کیلیفورنیا کی پیپرڈائن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی، جس کی یونیورسٹی نے تصدیق کی ہے۔
امریکہ میں قانون کی ڈگری حاصل کرنا، قانون کی پریکٹس کرنے کا لائسنس نہیں ہوتا۔
وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری نے بدھ کو نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ جب انھوں نے پہلی بار کیبل نیوز چینلز پر آنا شروع کیا تو انھوں نے پیپرڈائن یونیورسٹی سے پوچھا تھا کہ انھیں اپنی شناخت کس طرح کرانی چاہیے۔
ان کے مطابق یونیورسٹی کے صدر نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ خود کو ’وکیل‘ کہہ سکتی ہیں، لیکن ’اٹارنی‘ نہیں۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق زکریا نے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کیلیفورنیا میں بار امتحان دیا تھا، لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔ کیلیفورنیا کا بار امتحان امریکہ کے مشکل ترین امتحانات میں شمار کیا جاتا ہے۔
اس معاملے سے براہِ راست واقف ایک شخص نے اخبار کو بتایا کہ زکریا نے یہ امتحان اسی دوران دیا تھا جب وہ اپنی شادی کی تیاری کر رہی تھیں اور اپنے ہونے والے شوہر کے ساتھ چین منتقل ہونے کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔
وہ بیجنگ اپنے شوہر کی ایک امریکی پرائیویٹ ایکویٹی فرم میں ملازمت کے باعث منتقل ہوئی تھیں۔ زکرایا کا کہنا ہے کہ انھوں نے وہاں ’بین الاقوامی لین دین کے قانون‘ کے شعبے میں کام کیا۔
ان کے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق، انھوں نے 2011 سے 2013 تک بیجنگ میں ژونگ لون لاء فرم میں بطور ایسوسی ایٹ کام کیا۔
چین میں صرف چینی شہری ہی قانون کی پریکٹس کا لائسنس حاصل کر سکتے ہیں۔ غیر ملکی ملازمین لا فرموں میں دیگر عہدوں پر کام کر سکتے ہیں۔
گذشتہ سال فروری میں زکریا نے قدامت پسند ریڈیو پروگرام ’دی کلے ٹریوس اینڈ بک سیکسٹن شو‘ میں کہا تھا کہ چین میں قیام کے دوران وہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) اور ورلڈ بینک کے لیے بطور بیرونی قانونی مشیر کام کرتی رہی ہیں۔
بی بی سی نے اس بارے میں تبصرے کے لیے ورلڈ بینک اور آئی ایف سی سے رابطہ کیا ہے۔
یہ سمجھا جاتا ہے کہ ورلڈ بینک گروپ بعض اوقات بیرونی لاء فرموں کی خدمات حاصل کرتا ہے، اور یہ فرمیں خود فیصلہ کرتی ہیں کہ اپنے وکلا کو مختلف کاموں پر کس طرح تعینات کرنا ہے۔
اپنے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق زکرایا، ٹرمپ کے قریبی ساتھی رِک گرینیل کی قائم کردہ قدامت پسند غیر منافع بخش تنظیم ’فکس کیلیفورنیا‘ میں بھی جنرل کونسل کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔
امریکی فوج کا خلیج عمان میں ایرانی حمایت یافتہ کشتی تباہ کرنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے 6 اکتوبر کو خلیج عمان میں ایک ایرانی حمایت یافتہ روایتی کشتی (دھو) کو تباہ کیا جو امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کی نگرانی اور انھیں نشانہ بنانے کی سرگرمیوں میں ملوث تھی۔
ایکس پر جاری ایک ویڈیو کے ساتھ بیان میں سینٹ کام کا کہنا تھا کہ مذکورہ کشتی ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ تھی اور امریکی بحری جہازوں کے خلاف انٹیلی جنس اور ہدفی معلومات فراہم کر رہی تھی۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ گذشتہ سات ماہ کے دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خطے کے سمندری راستوں سے گزرنے والے ہزاروں تجارتی جہازوں کے عملے اور امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کو بلاامتیاز نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کشتی کو تباہ کرنے سے قبل اس میں سوار تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا، جبکہ عملے کے ارکان کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
امریکی فوج نے اس کارروائی کو خطے میں بحری سلامتی کے تحفظ اور امریکی مفادات کے دفاع کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔
سعودی عرب میں حوثی حملوں کے باعث اہم بین الاقوامی تقریبات منسوخ یا مؤخر
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے بڑے ہوائی اڈوں پر جاری حملوں کے باعث اہم بین الاقوامی تقریبات ایک کے بعد ایک یا تو منسوخ کی جا رہی ہیں، مؤخر ہو رہی ہیں یا پھر انھیں آن لائن منتقل کیا جا رہا ہے۔
ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ سنیچر تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
سعودی پرو لیگ میں الاہلی اور النصر (کرسٹیانو رونالڈو کی ٹیم) کے درمیان جمعرات کو ہونے والا میچ ملتوی کر دیا گیا ہے۔
آئندہ ہفتے ہونے والا سکس کنگز ٹینس ٹورنامنٹ، جس میں نوواک جوکووچ اور کارلوس الکاراز شریک ہونے والے تھے، دسمبر تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی سالانہ سرمایہ کاری کانفرنس، جسے ’صحرائی ڈیووس‘ کہا جاتا ہے، تقریباً دو ہفتے بعد ہائبرڈ انداز میں منعقد ہوگی۔ توقع ہے کہ کئی نمایاں مہمان آن لائن شرکت کریں گے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شرکا کی آمد کے لیے متبادل زمینی اور بحری راستوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ورلڈ پیٹرولیم کانگریس بھی، جو جمعرات کو اختتام پذیر ہو رہی ہے، تیل کی صنعت کے اعلیٰ ترین رہنماؤں کی شرکت کے بغیر منعقد کی گئی۔
سعودی عرب میں سخت سکیورٹی برقرار ہے، جبکہ یمن کے حوثیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک بار پھر ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔
حوثیوں کا سعودی ٹائفون جنگی طیارہ نشانہ بنانے کا دعویٰ، ریاض ایئرپورٹ اور سعودی فوجی اہداف پر مزید حملوں کا اعلان
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
حوثی گروپ انصار اللہ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے جمعرات کی نصف شب کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ گروپ نے صوبہ صعدہ کی فضائی حدود میں سعودی فضائیہ کے ایک ٹائفون جنگی طیارے کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اسے ’براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے اور امکان ہے کہ یہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔‘
دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے صنعا پر سعودی حملوں کی اطلاعات بھی دی ہیں۔
یحییٰ سریع نے یہ بھی کہا کہ حوثیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بار پھر بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ حملہ ’درست اور براہِ راست‘ تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ گروپ نے رأس العارہ اور المضاربہ کے علاقوں میں سعودی افواج کے اجتماعات پر بھی تین بیلسٹک میزائل داغے، جن کے نتیجے میں ان کے بقول جانی نقصان ہوا اور متعدد فوجی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
ادھر سعودی سول ڈیفنس کے سرکاری ترجمان نے بدھ کے روز بتایا کہ ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کے ملبے کے گرنے سے ایک مقامی شہری زخمی ہو گیا۔ ان کے مطابق میزائل کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا تھا۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائل کو تباہ کرنے کی کارروائی کے دوران ایک مکان اور ایک گاڑی کو بھی معمولی نقصان پہنچا۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے صنعا، تعز، لحج، مأرب، عمران اور جزیرہ میون میں 42 فضائی اور میزائل حملے کیے، جن میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ گروپ کے مطابق حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک سعودی عرب کی جانب سے 2,323 حملے کیے جا چکے ہیں۔
حوثیوں نے خبردار کیا کہ جزیرہ میون پر فضائی اور میزائل حملے بحری جہاز رانی کے راستوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور اس کے ممکنہ نتائج کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد ہوگی۔
دوسری جانب بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’آپریشن فجر یمن‘ کے آغاز سے اب تک حوثیوں کے خلاف 2,309 کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 1,250 حوثی جنگجوؤں کو میدانِ جنگ سے ہٹا دیا گیا جبکہ 460 سے زائد فوجی گاڑیاں اور عسکری سازوسامان تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔
اس سے قبل سعودی حکام نے بتایا تھا کہ ریاض کے اوپر تباہ کیے گئے دو میزائلوں کے ملبے سے دو خواتین، ایک مرد اور ایک بچہ زخمی ہوئے جبکہ دارالحکومت میں 15 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔
سعودی وزارتِ توانائی کے ایک عہدیدار کے مطابق مشرقی شہر ظہران میں سعودی آرامکو کی ایک انتظامی عمارت پر حملے کے نتیجے میں محدود نوعیت کی آگ بھڑک اٹھی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
تاہم روئٹرز نے معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ آرامکو کے ہیڈکوارٹر کو منگل کے حملے میں نمایاں نقصان پہنچا اور آگ عمارت کی کئی منزلوں تک پھیل گئی۔ ذرائع کے مطابق کمپنی کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں جبکہ کچھ عملہ گھروں سے کام کر رہا ہے اور بعض ذمہ داریاں دنیا بھر میں کمپنی کے دیگر دفاتر کو منتقل کر دی گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی کمپنی کے ملازمین کے حوالے سے کہا کہ ہیڈکوارٹر کے ایک ٹاور کو نقصان پہنچا، تاہم ادارہ نقصان کی نوعیت اور حجم کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
امریکہ نے وعدہ توڑا ہے، اسے سزا ملنی چاہیے: باقر قالیباف
،تصویر کا ذریعہIRNA
،تصویر کا کیپشنایران کی پارلیمان کے سپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف
ایران کی پارلیمان کے سپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ کو ’وعدہ خلافی‘ پر ’سزا‘ ملنی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ کے سامنے پیش کی گئی تجویز کے حوالے سے ایران پہلے بھی کہہ چکا ہے اور اب دوبارہ کہتا ہے کہ امریکی صدر نے کچھ وعدے کیے تھے، لیکن اب ان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وعدہ توڑ دیا ہے۔
قالیباف کے بقول، امریکہ کو سزا ملنی چاہیے، اسے اپنا رویہ بدلنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ اسے ایرانی عوام کے جائز مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔
انھوں نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں کہا کہ اس طرح ایران پائیدار دفاعی بازدارندگی حاصل کر سکے گا۔ ان کے مطابق ایران کو اپنی طاقت خطے اور دنیا کے تمام فریقوں کے سامنے ثابت کرنا ہوگی تاکہ کوئی بھی اس پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے محمد باقر قالیباف کے ان بیانات کو ’عوام کے ساتھ دوسرا ویڈیو انٹرویو‘ قرار دیتے ہوئے شائع کیا۔
قالیباف نے کہا کہ ایران کا مقصد اپنی طاقت میں اضافہ کرتے ہوئے بازدارندگی پیدا کرنا ہے۔
بریکنگ, حوثیوں کا ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دوبارہ حملے کا دعویٰ
یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے بیلسٹک میزائل کی مدد سے ایک مرتبہ پھر ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ بیان سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے ایک میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر لکھا کہ ’یمنی مسلح افواج شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئیں اور ’نشانہ درست تھا۔‘