بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے ہے کہ حوثی گروہ انصار اللہ نے بدھ کے روز عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو حملوں میں ’متعدد بیلسٹک میزائلوں‘ فائر کیے ہیں۔
وزارتِ ٹرانسپورٹ نے ایک بیان میں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چند ہی دنوں میں ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے واقعات کی تعداد چھ تک پہنچ چکی ہے۔
بیان کے مطابق بدھ کو حملے مقامی وقت کے مطابق ’دوپہر ایک بجے‘ اور ’تین بجے‘ کیے گئے۔
وزارت کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈے کو بار بار نشانہ بنانا ’مسافروں، فضائی عملے اور عملے کی جانوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ ان حملوں سے شہریوں کی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ انسانی اور امدادی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔‘
اس سے قبل بدھ کے روز حوثیوں نے عدن کے ہوائی اڈے پر موجود افراد سے فوری انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر بیان میں دعویٰ کیا کہ ہوائی اڈے پر ایک سعودی فوجی کارگو طیارہ موجود ہے، جو یمنی عوام کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار منتقل کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’ہماری مسلح افواج عدن ہوائی اڈے پر موجود تمام افراد سے فوری انخلا کی اپیل کرتی ہیں کیونکہ وہاں سعودی دشمن کا ایک فوجی مال بردار طیارہ موجود ہے جو یمنیوں کو قتل کرنے کے لیے ہتھیار لا رہا ہے۔‘
تقریباً ایک گھنٹے بعد یحییٰ سریع نے دوبارہ ہوائی اڈہ خالی کرنے کی اپیل کی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عدن پولیس کے دو ذرائع نے بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے داغے گئے دو میزائل شہر کے ہوائی اڈے پر گرے۔
اس دوران حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی نے سعودی عرب پر شمال مغربی یمن کے صوبے الجوف کے دارالحکومت الحزم پر فضائی حملے کا الزام عائد کیا۔
چینل کے مطابق ’حزم الجوف پر سعودی جارحیت‘ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 14 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
المسیرہ کے مطابق حملے میں الحزم کے ایک بازار اور گیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار کو ابتدائی قرار دیا گیا ہے۔