آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی مکمل: نیتن یاہو کو آئزنکوٹ پر برتری مگر پارلیمنٹ میں اکثریت سے محروم

وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد پارلیمان میں سب سے بڑا بلاک بن کر ابھرا، تاہم وہ حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ لیکوڈ پارٹی نے 27 نشستیں حاصل کیں، جبکہ نیتن یاہو کے پورے اتحاد کی نشستوں کی تعداد 53 رہی۔ دوسری جانب گاڈی آئزنکوٹ کی یشار پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کیں اور ان کے اتحاد کی مجموعی نشستیں 48 ہیں۔

خلاصہ

  • اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی مکمل: نیتن یاہو کو آئزنکوٹ پر برتری مگر پارلیمنٹ میں اکثریت سے محروم
  • اپنے شوق سے ایران نہیں جاتا، وزیرِ اعظم نے خصوصی ذمہ داری دے رکھی ہے: محسن نقوی
  • پاسدارانِ انقلاب کا ڈرون مار گرانے اور تین آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کا دعویٰ
  • بنگلہ دیش: عوامی لیگ کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری محبوب العالم حنیف کو سزائے موت سنا دی گئی
  • تھرپارکر میں بی ایچ یو کی ایمبولینس میں آگ لگنے سے کم از کم 8 افراد ہلاک، 5 زخمی
  • راولاکوٹ میں مبینہ اغوا کے بعد جج بازیاب، پولیس اہلکار سمیت دو افراد زخمی: پولیس کا دعویٰ
  • اسرائیل میں حکومت کسی کی بھی ہو، مزاحمتی پالیسی جاری رہے گی: حزب اللہ
  • عدن ہوائی اڈے پر دو میزائل حملے، حوثیوں کا سعودی فضائی حملوں میں 14 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. عمران خان کی بہن نورین نیازی کو طبیعت کی خرابی کے باعث ہسپتال منتقل کر دیا گیا، وکیل کا دعویٰ, ترہب اصغر، بی بی سی اردو لاہور

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن نورین نیازی کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے طبی معائنے کے لیے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے جایا گیا ہے۔

    ان کے وکیل مدثر عمر نے دعویٰ کیا ہے کہ نورین نیازی کو طبیعت کی خرابی کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ حکومتی نے حکام نے اس معاملے پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو ستمبر میں مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت 30 دن کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، جس میں بعد میں توسیع کر دی گئی تھی۔

  2. عدن ایئرپورٹ پر حوثیوں کے دو میزائل حملے، الجوف میں سعودی فضائی کارروائی میں 14 ہلاکتوں کا دعویٰ

    بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے ہے کہ حوثی گروہ انصار اللہ نے بدھ کے روز عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو حملوں میں ’متعدد بیلسٹک میزائلوں‘ فائر کیے ہیں۔

    وزارتِ ٹرانسپورٹ نے ایک بیان میں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چند ہی دنوں میں ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے واقعات کی تعداد چھ تک پہنچ چکی ہے۔

    بیان کے مطابق بدھ کو حملے مقامی وقت کے مطابق ’دوپہر ایک بجے‘ اور ’تین بجے‘ کیے گئے۔

    وزارت کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈے کو بار بار نشانہ بنانا ’مسافروں، فضائی عملے اور عملے کی جانوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ ان حملوں سے شہریوں کی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ انسانی اور امدادی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔‘

    اس سے قبل بدھ کے روز حوثیوں نے عدن کے ہوائی اڈے پر موجود افراد سے فوری انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر بیان میں دعویٰ کیا کہ ہوائی اڈے پر ایک سعودی فوجی کارگو طیارہ موجود ہے، جو یمنی عوام کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار منتقل کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا تھا کہ ’ہماری مسلح افواج عدن ہوائی اڈے پر موجود تمام افراد سے فوری انخلا کی اپیل کرتی ہیں کیونکہ وہاں سعودی دشمن کا ایک فوجی مال بردار طیارہ موجود ہے جو یمنیوں کو قتل کرنے کے لیے ہتھیار لا رہا ہے۔‘

    تقریباً ایک گھنٹے بعد یحییٰ سریع نے دوبارہ ہوائی اڈہ خالی کرنے کی اپیل کی۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عدن پولیس کے دو ذرائع نے بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے داغے گئے دو میزائل شہر کے ہوائی اڈے پر گرے۔

    اس دوران حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی نے سعودی عرب پر شمال مغربی یمن کے صوبے الجوف کے دارالحکومت الحزم پر فضائی حملے کا الزام عائد کیا۔

    چینل کے مطابق ’حزم الجوف پر سعودی جارحیت‘ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 14 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    المسیرہ کے مطابق حملے میں الحزم کے ایک بازار اور گیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار کو ابتدائی قرار دیا گیا ہے۔

  3. نیتن یاہو کی عوامی مقبولیت کی جڑیں گہری ہیں, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور

    ان کے مخالفین کے نزدیک بنیامین نیتن یاہو بہت سی چیزوں کی علامت ہیں: بدعنوانی، اقتدار پرستی، بے باک سیاسی جوڑ توڑ اور سب سے بڑھ کر وہ شخص جو 7 اکتوبر 2023 کی ہولناکیوں کو روکنے میں ناکام رہا۔

    لیکن ان کے حامیوں کے لیے وہ اب بھی ’بی بی، اسرائیل کا بادشاہ‘ ہیں۔

    ان کی دیرپا سیاسی کامیابی کے اسباب پیچیدہ ہیں۔ بلاشبہ وہ اسرائیل کے گہرے سیاسی اختلافات سے بھرپور منظرنامے میں راستہ نکالنے کے لیے درکار سیاسی مہارتوں میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔

    تاہم ان کی عوامی مقبولیت کی جڑیں اس سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔ اس کی بنیاد 1970 کی دہائی میں اسرائیلی سیاست میں آنے والی اس بڑی تبدیلی میں ملتی ہے، جب ملک کے سیکولر، نسبتاً بائیں بازو کے اور یورپی النسل (اشکنازی) سیاست دانوں کی طویل حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور مناخم بیگن کی دائیں بازو کی لیکوڈ جماعت اقتدار میں آئی۔

    اس جماعت کو مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے محرومی اور ناراضی کا شکار مزراحی یہودیوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔

    بیگن کی طرح نیتن یاہو نے بھی بہت جلد اس بات کی اہمیت کو سمجھ لیا تھا کہ مزراحی برادری کی حمایت حاصل کی جائے۔ یہ وہ طبقہ تھا جسے بعض اشکنازی حلقے ایک توہین آمیز اصطلاح سے پکارتے تھے، جسے بعد میں بہت سے مزراحیوں نے فخر کی علامت کے طور پر اپنا لیا۔

    امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح بنیامین نیتن یاہو بھی بظاہر محروم اور پسماندہ طبقات کے غیر متوقع نمائندہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کی عوامی مقبولیت کا ایک بڑا سبب اب بھی یہ تاثر ہے کہ وہ داخلی، علاقائی اور بین الاقوامی خطرات سے بھرے ماحول میں یہودی مفادات کے ایک ثابت قدم محافظ ہیں۔

  4. سپین ٹرین حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 68 ہو گئی: مقامی حکام

    ہسپانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کاستیا لا مانچا کے صدر ایمیلیانو گارسیا پیج نے بتایا ہے کہ ٹرین حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 68 ہو گئی ہے۔

    متعدد زخمی اب بھی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں اور ان میں سے درجنوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    اس سے قبل ہسپانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے سپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے جنوب میں اوردا کے قریب پیش آنے والے ٹرین حادثے کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ ’واقعی ناقابلِ یقین‘ ہے۔

    پوینتے کے مطابق ایک کمپیوٹر خرابی کے باعث ابتدائی طور پر چلتی ہوئی چھ ٹرینیں روک دی گئی تھیں، جن میں وہ دو ٹرینیں بھی شامل تھیں جو بعد میں آپس میں ٹکرا گئیں۔

    انھوں نے بتایا ’جب نظام میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو کنٹرول سینٹر معاملات سنبھال لیتا ہے۔‘ ان کے مطابق بعد ازاں کنٹرول سینٹر نے ہی ٹرینوں کو دوبارہ روانہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس دوران کوئی رفتار کی پابندی عائد نہیں کی گئی۔

    پوینتے نے کہا کہ یہ فیصلہ ’ناقابلِ فہم حالات میں‘ کیا گیا تھا۔

    ان کے بقول اسی فیصلے کے نتیجے میں رینفے کی ٹرین آگے پٹری پر کھڑی ایریو کی ٹرین سے جا ٹکرائی۔

  5. کسی بھی اسرائیلی حملے کے عالمی منڈیوں پر ’تباہ کن اثرات‘ مرتب ہوں گے: ایرانی وزیر خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ خلیجی خطے میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی فوجی کارروائی کے عالمی منڈیوں پر ’تباہ کن اثرات‘ مرتب ہو سکتے ہیں۔

    ایکس پر جاری اپنے بیان میں عراقچی نے کہا کہ ’خلیج فارس کے خطے میں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی فوجی مہم جوئی کے عالمی منڈیوں پر تباہ کن اثرات کے حوالے سے گیس پیدا کرنے والے اور گیس استعمال کرنے والے دونوں ممالک تشویش کا شکار ہیں۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ حملوں کے امکان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ موجودہ جنگ کا آغاز فروری کے اواخر میں ایران پر حملوں کے ساتھ ہوا تھا۔

    دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو، جو انتخابی نتائج کے بعد نئی حکومت بنانے کی کوشش کریں گے، نے بدھ کو کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران کی جانب سے پیدا ہونے والے ’خطرے‘ کا خاتمہ کرنے کے لیے کام کر سکتے ہیں۔

  6. اسرائیلی الیکشن میں کوئی بھی جماعت تاحال واضح اکثریت نہ کر سکی: آگے کیا ہوگا؟

    اسرائیل ایک بار پھر سیاسی بحران کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ 85 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد نہ موجودہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور نہ ہی ان کے بڑے حریف گاڈی آئزنکوٹ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرتے نظر آ رہے ہیں۔

    آئئے اس صورتحال میں ممکنہ منظرنامے پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں:

    • نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کا اتحاد؟ اس صورت میں نیتن یاہو کو اپنے موجودہ دائیں بازو اور انتہائی مذہبی اتحادیوں سے علیحدگی اختیار کرنا ہوگی، جبکہ آئزنکوٹ کو نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے اپنے بنیادی انتخابی وعدے سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
    • عرب جماعتوں کی حمایت سے آئزنکوٹ کی حکومت؟ آئزنکوٹ اور ان کے اتحاد میں شامل تقریباً تمام یہودی جماعتیں عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت سازی کے امکان کو مسترد کر چکی ہیں، لیکن موجودہ اعداد و شمار کے مطابق اکثریت حاصل کرنے کا یہ ان کے لیے واحد راستہ دکھائی دیتا ہے۔
    • اپوزیشن کے دائیں بازو رہنماؤں کی مدد سے نیتن یاہو کی حکومت؟ نیتن یاہو اپوزیشن اتحاد میں شامل دائیں بازو کی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں نفتالی بینیٹ (بیاحاد اتحاد) اور ایویگڈور لیبرمین (اسرائیل بیتینو پارٹی) ممکنہ اہم شخصیات سمجھی جا رہی ہیں۔
    • نئے انتخابات اگر کوئی بھی اتحاد اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ملک ایک اور انتخابی مرحلے کی طرف جا سکتا ہے۔ بہت سے مبصرین کے مطابق یہ بالواسطہ طور پر نیتن یاہو کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے کیونکہ نئے انتخابات تک وہ نگران وزیرِ اعظم کے طور پر اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے اور ممکن ہے کہ خود کو دوبارہ کامیابی کے بہتر امکانات کا حامل سمجھتے ہوں۔
  7. کنٹرول سینٹر کا ’ناقابلِ فہم‘ فیصلہ ٹرینوں کے درمیان تصادم کا باعث بنا: ہسپانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ

    ہسپانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے سپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے جنوب میں اوردا کے قریب پیش آنے والے ٹرین حادثے کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ ’واقعی ناقابلِ یقین‘ ہے۔

    خیال رہے اس واقعے میں اب تک 64 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

    پوینتے کے مطابق ایک کمپیوٹر خرابی کے باعث ابتدائی طور پر چلتی ہوئی چھ ٹرینیں روک دی گئی تھیں، جن میں وہ دو ٹرینیں بھی شامل تھیں جو بعد میں آپس میں ٹکرا گئیں۔

    انھوں نے بتایا ’جب نظام میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو کنٹرول سینٹر معاملات سنبھال لیتا ہے۔‘ ان کے مطابق بعد ازاں کنٹرول سینٹر نے ہی ٹرینوں کو دوبارہ روانہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس دوران کوئی رفتار کی پابندی عائد نہیں کی گئی۔

    پوینتے نے کہا کہ یہ فیصلہ ’ناقابلِ فہم حالات میں‘ کیا گیا تھا۔

    ان کے بقول اسی فیصلے کے نتیجے میں رینفے کی ٹرین آگے پٹری پر کھڑی ایریو کی ٹرین سے جا ٹکرائی۔

  8. انتخابات کے بعد اسرائیلی پارلیمنٹ میں نشستیں کیسے مختص ہوتی ہیں؟

    اسرائیل میں سیاسی جماعتوں کے انتخاب کے لیے متناسب نمائندگی کا نظام رائج ہے، جس کے تحت ملک کی پارلیمان یعنی کنیسٹ کے ارکان منتخب کیے جاتے ہیں۔

    کنیسٹ میں 120 نشستیں ہیں، جو ہر جماعت کو ملک بھر میں حاصل ہونے والے ووٹوں کے تناسب سے تقسیم کی جاتی ہیں۔ ووٹر کسی فرد کے بجائے ایک سیاسی جماعت کو ووٹ دیتا ہے۔

    ہر جماعت اپنے امیدواروں کی ترجیحی فہرست پیش کرتی ہے اور اسے ملنے والی نشستوں کی تعداد کے مطابق اس فہرست سے امیدوار کنیسٹ کے رکن بنتے ہیں۔

    اب تک کوئی بھی جماعت 120 میں سے اتنی نشستیں حاصل نہیں کر سکی کہ اکیلے حکومت بنا سکے، اسی لیے اسرائیل میں ہر حکومت کم از کم دو یا اس سے زیادہ جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل ہوتی ہے۔

    اس نظام کے باعث چھوٹی جماعتوں کو بھی خاصا اثر و رسوخ حاصل ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ کسی مخلوط حکومت کو بنانے یا گرانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

  9. اسرائیلی انتخابات: ’عرب شہری ملک کے فیصلوں میں حقیقی آواز چاہتے ہیں‘, گیبریئیلا پومرائے، لائیو رپورٹر

    اسرائیل کے عرب اکثریتی شہر ام الفہم میں آج صبح فضا ’فخر، امید اور محتاط رویے‘ کی عکاسی کر رہی ہے۔ یہ بات 29 سالہ وکیل مہدی کباحہ نے کہی، جو عرب ووٹروں کو متحرک کرنے کی مہم میں شامل رہے ہیں۔

    ان کے مطابق انتخابی نتائج ’تاریخی‘ ہیں۔ موجودہ اندازوں کے مطابق عرب قیادت والی جماعتیں 19 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔

    کباحہ نے کہا کہ ’عرب شہریوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ ہم اس ملک میں حقیقی کردار اور مؤثر آواز چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’اصل اہمیت اثر و رسوخ کی ہے، چاہے حکومت کے اندر ہو یا باہر سے حمایت کی صورت میں۔ اگر ہمارے بغیر اکثریت ممکن نہیں تو پھر 19 نشستوں کو نظر انداز کرنا سنجیدہ سیاسی حکمتِ عملی نہیں ہو سکتی۔‘

    ان کے خیال میں عرب جماعتوں کی حکومتی اتحاد میں شمولیت ممکن ہے۔ ’یہ ہو سکتا ہے، ہم نے 2021 میں ایسا ہوتے دیکھا تھا، لیکن اس کے لیے گاڈی آئزنکوٹ کو کھل کر اس کی حمایت کرنا ہوگی اور عرب جماعتوں کو بھی واضح اور قابلِ عمل مطالبات سامنے لانا ہوں گے۔‘

    اگرچہ آئزنکوٹ اور بیشتر دیگر جماعتیں مشترکہ اقدار کے فقدان کو جواز بناتے ہوئے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کو مسترد کر چکی ہیں، تاہم ان کے اتحاد میں شامل ایک جماعت کے رہنما آج اس کے برعکس مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔

    کباحہ کے مطابق عرب برادری کے لیے سب سے اہم مسئلہ جرائم اور تشدد ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ایسا مسئلہ ہے جو جانیں لے رہا ہے اور اس کے حل کے لیے حقیقی بجٹ، مؤثر قانون نافذ کرنے اور ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔‘

    ان کے مطابق عرب علاقوں میں رہائش اور تعلیم بھی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔

  10. ہمیں نئے انتخابی مرحلے سے بچنے کی ہر ممکن کرنی چاہیے: اسرائیلی صدر

    اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے خبردار کیا ہے کہ غیر فیصلہ کن انتخابی نتائج کے امکانات کے پیش نظر ’ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ایک اور انتخابی مرحلے سے بچا جا سکے۔‘

    اسرائیلی صدر ہی انتخابات کے سرکاری نتائج آنے کے بعد اس سیاسی رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں، جس کے بارے میں انھیں یقین ہو کہ وہ پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے امکانات رکھتے ہیں۔

    اپنے بیان میں ہرزوگ نے کہا کہ ’کل کا انتخابی دن واقعی شاندار تھا، جس میں کئی دہائیوں کی بلند ترین ووٹر ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا۔ یہ اسرائیلی معاشرے کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ اسرائیل میں جمہوریت کی خواہش کتنی گہری ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ نتائج موصول ہونے کے بعد وہ ’مشاورتی عمل کا آغاز کریں گے، ہر جماعت کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے، سوالات پوچھیں گے اور تبادلۂ خیال کریں گے۔‘

    ہرزوگ نے زور دیتے ہوئے کہا ’ایک بات واضح ہونی چاہیے اور میں نے یہ انتخابات سے پہلے بھی یہ بات کہی تھی کہ ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ دوبارہ نئے انتخابات کروانے کی نوبت نہ آئے۔ اس لیے میری توقع ہے کہ یہاں آنے والا ہر سیاسی فریق کھلے ذہن کے ساتھ آئے گا۔‘

  11. سپین ٹرین حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 64 تک پہنچ گئی: مقامی حکومت

    کاستیا لا مانچا کی علاقائی حکومت کے مطابق ریل حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 64 ہو گئی ہے۔

    یہ حادثہ سپین میں مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے کے فوراً بعد پیش آیا تھا، جب میڈرڈ کے جنوب میں واقع مورا اور اورگاث کے درمیان دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئی تھیں۔

  12. غیر حاضر ووٹوں کے علاوہ تمام ووٹوں کی گنتی مکمل: اسرائیلی میڈیا

    اسرائیلی ٹی وی چینلز چینل 12 اور چینل 13 کے مطابق غیر حاضر (ایبسینٹی) ووٹوں کے علاوہ تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔

    غیر حاضر ووٹ زیادہ تر فوجی اہلکاروں کی جانب سے ڈالے جاتے ہیں اور ان کی تعداد تقریباً 6 لاکھ بتائی جاتی ہے، جو مجموعی ووٹوں کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہے۔ ان ووٹوں کی گنتی آج مکمل ہونے کی توقع ہے۔

    موجودہ نتائج کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد کنیسٹ میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے، تاہم اس کے لیے حکومت سازی کی درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

  13. حوثیوں کی عدن ایئرپورٹ خالی کرنے کی تنبیہ کے بعد میزائل حملے کی اطلاع

    حوثیوں نے جنوبی یمن کے عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود افراد سے فوری انخلا کی اپیل کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہاں ایک سعودی فوجی مال بردار طیارہ موجود ہے، جو یمنیوں کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار لے کر آیا ہے۔

    حوثی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ’ہماری مسلح افواج عدن ہوائی اڈے پر موجود تمام افراد سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ فوری طور پر ہوائی اڈہ خالی کر دیں، کیونکہ وہاں دشمن سعودی عرب کا ایک فوجی کارگو طیارہ موجود ہے جو یمنی عوام کے خلاف استعمال کے لیے ہتھیار منتقل کر رہا ہے۔‘

    اس انتباہ کے جاری ہونے کے بعد خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی نے ایئرپورٹ پر میزائل حملے کی اطلاعات بھی دی ہیں۔

    عدن سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کا مرکز ہے اور 2014 میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے صنعا پر قبضے کے بعد سے حکومت وہاں قائم ہے۔

  14. نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے میں کردار ادا کرنے کو تیار: عرب اسرائیلی انتخابی اتحاد

    اسرائیلی انتخابات میں حصہ لینے والے عرب اتحاد جوائنٹ عرب لسٹ کے رہنما یوسف جبارین کا کہنا ہے کہ ان کا اتحاد ’نیتن یاہو حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کی راہ ہموار کرنے کے لیے تیار اور آمادہ ہے۔‘

    اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق جوائنٹ عرب لسٹ اس وقت 9.11 فیصد ووٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے اور مخلوط حکومت سازی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں جبارین نے کہا ’خونریزی کی سیاست اور برتری، نسل پرستی اور اخراج پر مبنی طرزِ سیاست کے مقابلے میں ہم ایک بالکل مختلف متبادل پیش کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’تبدیلی یہودی-عرب شراکت داری کے ذریعے آئے گی، ایک حقیقی اور مساوی شراکت داری کے ذریعے۔ اس سے کم بھی نہیں اور اس سے زیادہ بھی نہیں۔‘

    نیتن یاہو کی حکومت اکثر عرب اسرائیلیوں، جن میں سے بہت سے خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری قرار دیتے ہیں، کو ریاست کی یہودی شناخت کے لیے خطرہ قرار دیتی رہی ہے۔ حال ہی میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے سیاسی حریف عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک ’خطرناک حکومت‘ تشکیل دینے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

    اس سے قبل یائر گولان نے اپوزیشن اتحاد پر زور دیا تھا کہ وہ حکومت بنانے کے لیے عرب قیادت والی جماعتوں کے ساتھ تعاون کرے، تاہم گاڈی آئزنکوٹ ماضی میں اس امکان کو مسترد کر چکے ہیں۔ انتخابات سے قبل جوائنٹ عرب لسٹ نے نئی مخلوط حکومت کے ساتھ پارلیمانی تعاون کے ایک ممکنہ انتظام کا بھی عندیہ دیا تھا۔

  15. اسرائیل میں 77 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل، عرب جماعتوں کی نشستوں میں کمی کا امکان

    اسرائیلی میں جاری الیکشن کے نتائج موصول ہونا جاری ہیں اور اب تک 77 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔

    • بنیامین نیتن یاہو کے اتحاد کے پاس اب بھی 54 نشستیں ہیں۔
    • گاڈی آئزنکوٹ کے اپوزیشن اتحاد نے مزید دو نشستیں حاصل کر کے اپنی تعداد 49 تک پہنچا لی ہے۔
    • دونوں میں سے کوئی بھی اتحاد حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آ رہا۔
    • عرب جماعتوں کے اتحاد کے بارے میں پہلے اندازہ لگایا گیا تھا کہ وہ 19 نشستیں حاصل کریں گے، تاہم اب یہ تعداد کم ہو کر 17 نشستیں رہ گئی ہے۔

    ووٹوں کی مزید گنتی کے ساتھ نتائج میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔

  16. اسرائیلی الیکشن میں حصہ لینے والی عرب جماعتیں اور ان کے منشور

    اس اسرائیلی الیکشن میں دو عرب سیاسی اتحاد حصہ لے رہے ہیں۔ ایک جوائنٹ عرب لسٹ ہے، جو حداش، بلد اور تعال جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل ہے، جبکہ دوسرا نسبتاً چھوٹا اتحاد راعم یا یونائیٹڈ عرب لسٹ ہے، جو ایک اسلام پسند جماعت ہے۔

    اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق اب تک گنے گئے ووٹوں میں جوائنٹ عرب لسٹ کو 9.11 فیصد جبکہ راعم کو 4.74 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان جماعتوں کے پاس نشستوں کی قابلِ ذکر تعداد ہو سکتی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ دیگر سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے پر آمادہ ہوں گی یا نہیں۔

    اسرائیل کے بیشتر عرب شہری اُن فلسطینیوں کی اولاد ہیں جو 1948 میں اسرائیل کے قیام کے دوران ہونے والی جنگ کے باوجود اپنے علاقوں میں موجود رہے تھے، جبکہ اسی عرصے میں لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے یا نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

    یہ جماعتیں کس مؤقف کی نمائندگی کرتی ہیں؟

    جوائنٹ لسٹ سیکولر جماعتوں پر مشتمل اتحاد ہے۔ یہ اسرائیلی عرب شہریوں کے لیے مساوی حقوق، فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی فوجی قبضے کے خاتمے اور اسرائیل-فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔ انتخابات سے قبل اس اتحاد نے کہا تھا کہ وہ اپوزیشن کے اندر اثر و رسوخ کی حامل پوزیشن حاصل کرنا چاہتا ہے۔

    اس اتحاد نے یہ بھی عندیہ دیا تھا کہ وہ نیتن یاہو حکومت کا متبادل بننے والے سیاسی گروہوں کو انتخابی ’سیفٹی نیٹ‘ فراہم کر سکتا ہے، بشرطیکہ عرب اسرائیلیوں کے لیے اہم مسئلہ بننے والے گینگ جرائم جیسے معاملات پر اس کے مطالبات پورے کیے جائیں۔

    دوسری جانب راعم کا قیام اسرائیل کی اسلامک موومنٹ کے حصے کے طور پر ہوا تھا، جو سماجی طور پر قدامت پسند نظریات رکھتی ہے۔ تاہم اس کے رہنما منصور عباس یہودی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ وہ عرب اسرائیلیوں کے مسائل کے حل کو ترجیح دیتے ہیں اور مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینیوں کے بارے میں نسبتاً کم بات کرتے ہیں۔

    اس انتخاب میں انھوں نے ایک غیر متوقع قدم اٹھاتے ہوئے اپنی انتخابی فہرست میں دوسرے نمبر پر ایک یہودی سابق پولیس اہلکار اور درمیانی راستے کے سیاست دان یوآف سیگالووِٹز کو نامزد کیا۔

  17. 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری, عزیز اللہ خان، پشاور

    پشاور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے واقعات کے دوران ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت پر حملے اور آتش زدگی کے مقدمے میں غیر فعال وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش اور پی ٹی آئی پشاور کے ضلعی صدر عرفان سلیم کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    مقدمے کی سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ولی محمد خان نے کی۔ سماعت کے دوران پبلک پراسیکیوٹر نے پولیس کی جانب سے تیار کردہ چالان عدالت میں جمع کرایا۔

    پی ٹی آئی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دفاع کی تیاری کے لیے مزید وقت درکار ہے، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقدمے کا چالان جمع ہو چکا ہے اور ملزمان کو اس میں نامزد کیا گیا ہے، لہٰذا ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں گے۔

    یہ مقدمہ 10 مئی 2023 کو ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت پر حملے اور آتش زدگی کے واقعے کے بعد تھانہ ایسٹ کینٹ میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں ابتدائی طور پر 75 ملزمان نامزد کیے گئے تھے۔

    عدالتی ریکارڈ کے مطابق دسمبر 2025 میں ویڈیو فوٹیج کی فرانزک جانچ اور ملزمان کی شناخت کی تصدیق کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نادرا سے رپورٹس طلب کی گئی تھیں، جبکہ مارچ 2026 میں فرانزک رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔

    بعد ازاں ضمنی چالان میں سہیل آفریدی، تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش، عرفان سلیم اور عامر خان چمکنی کو مقدمے میں نامزد کیا گیا۔ پراسیکیوشن کے مطابق ملزمان کی شناخت اور تصدیق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نادرا کی رپورٹس کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

  18. سپین ٹرین حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 30 تک پہنچ گئی: مقامی میڈیا

    مقامی حکام نے ہسپانوی خبر رساں ادارے ایفی کو بتایا ہےسپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے جنوب میں اوردا کے قریب آج صبح پیش آنے والے تیز رفتار ٹرین حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 30 ہو گئی ہے۔

    کاستیا-لا مانچا کے حکام کے مطابق نجی ریلوے آپریٹر کی ٹرین میں 147 مسافر سوار تھے، جبکہ دوسری تیز رفتار ٹرین میں 397 افراد موجود تھے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ آیا تیز رفتار ٹرین ایک مقام پر رکی ہوئی دوسری ٹرین کے عقب سے ٹکرائی تھی یا نہیں۔

    حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ بعض ذرائع نے ہسپانوی میڈیا کو بتایا ہے کہ یہ سانحہ گذشتہ جنوری میں پیش آنے والے آداموز حادثے سے بھی زیادہ سنگین ثابت ہو سکتا ہے، جس میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  19. ’7 اکتوبر کو اقتدار میں موجود لوگ دوبارہ اقتدار میں نہیں ہونے چاہییں‘, گیبریئیلا پومرائے

    کفار سابا میں ایک آرٹیفشل انٹیلیجنس کمپنی سے منسلک اوِیگائل لیوائن کا کہنا ہے کہ وہ اب تک سامنے آنے والے انتخابی نتائج سے مایوس ہیں۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’میں نئی قیادت کی امید کر رہی تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ ایک قوم کے طور پر ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ 7 اکتوبر کے دن اقتدار میں موجود لوگ آج دوبارہ اقتدار میں نہیں ہونے چاہیے تھے۔‘

    انھوں نے دائیں بازو کے رہنما نفتالی بینیٹ کو ووٹ دیا، جو سکیورٹی کے معاملے پر سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ بینیٹ بیاحاد نامی سیاسی اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں، جو اپوزیشن بلاک کا حصہ ہے۔

    لیوائن کا ماننا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں نے 7 اکتوبر کے حملوں کی راہ ہموار کی۔ ان کے بقول ان کے شوہر کی 88 سالہ دادی کبوتص بیئری میں اپنی وہیل چیئر پر بیٹھی ہوئی قتل کر دی گئی تھیں، جبکہ خاندان کے دیگر افراد ایک محفوظ کمرے میں خود کو بند کر کے بچ گئے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ لوگ اس بات پر غصے میں ہیں کہ نیتن یاہو نے 7 اکتوبر کے واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی انھوں نے انتہائی مذہبی یہودی برادری کو فوجی خدمت کا پابند بنایا، جو ان کے نزدیک ان لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو فوج میں خدمات انجام دیتے ہیں۔

    وہ کہتی ہیں کہ نتائج سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ’انتخابات کے بعد بھی ہم کم و بیش وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے تھے۔‘

  20. الیکشن کے نتائج اسرائیلی ’معاشرے میں تقسیم‘ کی طرف اشارہ کرتے ہیں، ماہر مشرق وسطیٰ امور

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے سینٹ اینٹونیز کالج میں مشرقِ وسطیٰ سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر یوجین روگن کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج ’اس بات کی ایک جھلک ہیں کہ اسرائیلی معاشرہ کس قدر تقسیم ہو چکا ہے۔‘

    بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے روگن نے کہا کہ بعض ووٹروں میں موجود ’تبدیلی کی خواہش‘، جسے گاڈی آئزنکوٹ کے اپوزیشن اتحاد نے اپنی سیاسی قوت بنایا، ایسے ووٹروں سے ٹکرا گئی ہے جو ’نیتن یاہو کی دائیں بازو کی پالیسیوں کو ہر قیمت پر برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں‘ اور انہیں اسرائیلی ریاست کی سلامتی کی ایک طرح سے ضمانت سمجھتے ہیں۔

    7 اکتوبر کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں کے اثرات کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر روگن نے کہا کہ اس واقعے نے بھی اسرائیلی معاشرے کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔

    انھوں نے مزہد کہا کہ ’بہت سے اسرائیلی نہ ختم ہونے والی جنگوں کی قیمت کو محسوس کر رہے ہیں، خواہ وہ اسرائیلی معیشت پر پڑنے والا دباؤ ہ، یا ان لاکھوں ریزرو فوجیوں کی تھکاوٹ جو بار بار ڈیوٹی کے لیے بلائے جا رہے ہیں، یا پھر بین الاقوامی برادری میں اسرائیل کے مقام کو پہنچنے والا نقصان۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔‘

    ’لیکن دوسری طرف کچھ لوگ پوری طرح قائل ہیں کہ فلسطینیوں کے ساتھ کبھی امن سے نہیں رہا جا سکتا۔ ان کے نزدیک فلسطین اور ایران دونوں ہی ان کے وجود کو لاحق خطرات ہیں اور ان خطرات کا مقابلہ کرنے والے واحد شخص نیتن یاہو ہیں۔‘

    روگن کے مطابق ’اسرائیلی معاشرہ منقسم ہے۔‘