اسرائیلی انتخابات: اب سیاسی بیانیہ اعداد و شمار جتنی ہی اہمیت اختیار کر چکا ہے, لیز ڈوسیٹ، نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور
اسرائیلی انتخابات کی تاریخ میں ایک مشہور روایت یہ ہے کہ 1996 میں ووٹرز رات کو یہ سوچ کر سوئے تھے کہ شمعون پیریز اور ان کی لیبر پارٹی کامیاب ہو گئی ہے، مگر صبح جاگنے پر معلوم ہوا کہ بنیامین نیتن یاہو پہلی بار وزارتِ عظمیٰ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
اب تیس برس بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور نتائج مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں، لیکن ’بی بی‘ کے نام سے معروف بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور اس کے دائیں بازو کے قوم پرست اتحاد کو ایگزٹ پولز کی پیش گوئیوں سے زیادہ نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں۔
تاہم اس انتخاب میں، جسے اپوزیشن نیتن یاہو کے طویل سیاسی دور کا ممکنہ اختتام سمجھ رہی تھی، نصف سے زیادہ ووٹوں کی گنتی کے باوجود کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا۔
اب بیانیے کی اہمیت اعداد و شمار جتنی ہی بڑھ گئی ہے۔
نیتن یاہو، جنھیں طویل عرصے سے اسرائیلی سیاست کا ’جادوگر‘ کہا جاتا ہے، دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کی جماعت سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ لیکن فی الحال ان کی جماعت نے نشستیں کھوئی ہیں، جبکہ ان کے اتحادیوں کی پوزیشن اس سے بھی زیادہ کمزور ہوئی ہے۔
دوسری جانب ان کے اہم حریف اور سیاسی طور پر نسبتاً نئے چہرے گاڈی آئزنکوٹ کے لیے بھی 61 نشستوں کی مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔
آج صبح ایک اور اہم بحث بھی جاری ہے اور وہ اسرائیل کی شناخت سے متعلق ہے۔
کیا عرب اکثریتی جماعتوں کو، جو ریکارڈ تعداد میں نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیں، اقتدار میں تبدیلی کے عمل کا حصہ بننا چاہیے؟ نیتن یاہو کا اتحاد اسے یہودی ریاستِ اسرائیل کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے، جبکہ دوسرے حلقے استدلال کرتے ہیں کہ یہی جمہوری عمل کا تقاضا ہے۔