آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران سے معاہدہ کروں یا اسے دھوکہ دوں، ابھی فیصلہ نہیں کیا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور وہ مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ فاکس نیوز کے پروگرام سنڈے مارننگ میں ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا میں ایران کے ساتھ معاہدہ کروں یا اس سے کھیلوں۔ اس وقت میرے ذہن میں یہی سوال ہے۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. دو ہفتے بعد ریاض ایئرپورٹ پر پروازیں بحال، حوثیوں کی دوبارہ حملوں کی دھمکی

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے اعلان کیا ہے کہ اتوار 25 اکتوبر سے اس کے دونوں ٹرمینلز سے اندرونِ ملک اور بین الاقوامی پروازیں دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔

    ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق، ٹرمینل ون اندرونِ ملک پروازوں جبکہ ٹرمینل ٹو سعودی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے مختص ہو گا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار‘ کی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ اتوار کی صبح ریاض ایئرپورٹ سے ایک طیارہ جدہ کے لیے روانہ ہوا۔

    اکتوبر میں یمن کے حوثی جنگجوؤں کے حملوں کے باعث ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن بری طرح متاثر ہوا تھا۔ حوثیوں نے 10 اکتوبر کو ہونے والے ایک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

    پروازیں بحال کرنے کے اعلان کے باوجود حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایئرلائنز، ایئرپورٹ کے عملے اور مسافروں کو ایک بار پھر ریاض ایئرپورٹ استعمال نہ کرنے کی تنبیہ کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایئرپورٹ بدستور ’غیر محفوظ‘ ہے اور ’فوجی ہدف‘ ہے، جبکہ اس پر حوثیوں کے حملے جاری رہیں گے۔

    دوسری جانب سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے بتایا ہے کہ اتوار کی صبح قومی ہنگامی نظام کے ذریعے ریاض کے رہائشیوں کو ’ممکنہ خطرے‘ سے آگاہ کرنے کے لیے انتباہ جاری کیا گیا تھا۔

  2. ’اوباما انتہائی نااہل صدر تھے:‘ ٹرمپ کی ایران پالیسی اور سابق امریکی صدر پر کڑی تنقید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما کی تنقید کا سخت الفاظ میں جواب دیا ہے اور کہا ہے کہ ’اوباما نے اپنے دورِ صدارت میں ایران کو اربوں ڈالر دیے اور اس کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ ہموار کی۔‘

    ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’اوباما انتہائی نااہل صدر تھے۔ انھوں نے ایران کو اربوں ڈالر دیے اور اس ملک کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ ہموار کی۔‘

    امریکی صدر نے سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب میں ہیلری کلنٹن اور سنہ 2024 کے انتخاب میں کملا ہیرس کی حمایت کرنے پر بھی اوباما کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دونوں امیدواروں کو شکست ہوئی تھی۔

    اس کے بعد ٹرمپ نے ریاست مشیگن سے امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل الصیّد پر زبانی حملہ کرتے ہوئے انھیں ’اخوان المسلمون سے وابستہ جہادی‘ اور ’جعلی ڈاکٹر‘ قرار دیا۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ عبدل الصیّد یہودیوں، سیاہ فام افراد اور امریکیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ انھوں نے مشیگن کے ووٹروں پر زور دیا کہ وہ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو ووٹ دیں۔

    عبدالصیّد اس سے قبل اخوان المسلمون سے تعلقات کے الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ براک اوباما نے سنیچر کو اپنی انتخابی مہم سے متعلق تقاریر میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، بشمول ایران کے ساتھ جنگ، پر تنقید کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ کے دور میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے نے ایک بھی میزائل داغے بغیر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا تھا۔

  3. بریکنگ, ریاض میں تین دھماکوں کی آوازیں، سعودی عرب کا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، اتوار 25 اکتوبر کی صبح سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    ریاض میں اے ایف پی کے نامہ نگار کے مطابق دھماکوں سے قبل شہر کے رہائشیوں کو موبائل فون پر ’فضائی خطرے‘ سے متعلق انتباہی پیغامات موصول ہوئے، جن میں انھیں محفوظ مقام پر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔

    دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا ہے۔

    تاحال یہ واضح نہیں کہ ریاض میں سنے جانے والے دھماکے میزائل کو روکنے کے نتیجے میں ہوئے یا نہیں۔ کسی ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کی بھی اطلاع نہیں ملی۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثی جنگجوؤں نے حالیہ دنوں میں سعودی ایئرپورٹس اور تیل کی تنصیبات پر حملوں میں اضافہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ وہ یہ حملے جاری رکھیں گے۔

  4. حوثیوں کی سعودی ایئرپورٹس اور تیل تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ، ریاض ایئرپورٹ کو ’فوجی ہدف‘ قرار دے دیا

    یمن میں حوثی گروپ انصار اللہ نے ایک مرتبہ پھر سے ایئرلائنز، ایئرپورٹ کے ملازمین اور مسافروں کو سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ استعمال نہ کرنے کی تنبیہ کی ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے ریاض کے علاقے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    انصار اللہ کے ترجمان نے اتوار کی صبح کہا کہ ایئرپورٹ محفوظ نہیں اور بدستور ’فوجی ہدف‘ ہے۔ اس سے قبل ایئرپورٹ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ رواں ماہ ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے حملے رکنے کے بعد اتوار، 25 اکتوبر سے پروازیں دوبارہ شروع کر دی جائیں گی۔

    ایئرپورٹ انتظامیہ نے سنیچر کی شام بتایا تھا کہ اتوار سے پہلا ٹرمینل اندرونِ ملک پروازوں جبکہ دوسرا ٹرمینل قومی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے مختص ہو گا۔

    یہ اعلان حوثی گروپ کی جانب سے سنیچر کو سعودی عرب میں ایئرپورٹس، تیل کی تنصیبات اور ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کے دعوے کے بعد سامنے آیا۔ گروپ نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے مرکز عدن میں بھی مختلف مقامات پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    عدن اور سعودی تنصیبات پر حملے

    سنیچر کو اس سے قبل حوثی جنگجوؤں نے عدن میں النصر کیمپ اور ایک بحری اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ شہر میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کے بعد یہ دعویٰ سامنے آیا۔

    انصار اللہ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان حملوں میں دونوں مقامات پر موجود سعودی فوجی دستوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول، سعودی افسران ان دستوں کی تیاریوں کی نگرانی کر رہے تھے۔

    یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سات کارروائیاں کیں۔ ان کے مطابق، ان کارروائیوں میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو دو مرحلوں میں، دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، نجران ایئرپورٹ اور خمیس مشیط کے فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ان کارروائیوں میں ینبع میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب، رابغ آئل ریفائنری، خام تیل پمپ کرنے والے اسٹیشنز اور سعودی عرب کے مشرقی حصے سے مغربی حصے تک جانے والی تیل کی پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

  5. ہیبرون میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں، فلسطینی خاندان بے گھر، مکانات اور کاروباری مراکز مسمار

    اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے مکانات اور کاروباری مراکز مسمار کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی حکام کے مطابق سینکڑوں فلسطینی خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔

    آن لائن شیئر کی گئی ویڈیوز میں اسرائیلی بلڈوزروں سے ہونے والی تباہی دیکھی جا سکتی ہے، جہاں کم از کم ایک پوری گلی ملبے کا ڈھیر دکھائی دیتی ہے۔ فوج نے شہر کی ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے، جس کے باعث وہاں کے دو لاکھ رہائشیوں کی نقل و حرکت بری طرح محدود ہو گئی ہے۔

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعے کو ان کارروائیوں کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام ایک چوکی پر حملے کے بعد کیا گیا، جس میں دو فلسطینی مسلح افراد نے دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور تین کو زخمی کر دیا تھا۔ حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

    نیتن یاہو نے کہا تھا کہ حملے کے مقام کے آس پاس موجود عمارتوں اور دونوں حملہ آوروں کے آبائی محلوں کو ’تباہ‘ کر دیا جائے گا۔

    اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق ان کارروائیوں کے باعث تقریباً دو ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ کارروائیوں کا مرکز عین دیر بہا اور فرش الہوا کے محلے ہیں، جہاں مکانات، کاروباری مراکز، صنعتی مقامات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ درجنوں خاندانوں کو رات کھلے آسمان تلے گزارنا پڑی، جبکہ بعض لوگوں کو اپنی گاڑیاں چھوڑ کر گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ مسمار کیے جانے والے گھروں پر سپرے پینٹ سے نشانات بھی لگائے گئے ہیں۔

    اسرائیلی وزیرِ دفاع کے مطابق فوج تقریباً 0.35 مربع کلومیٹر شہری علاقے سے مجموعی طور پر ڈھائی ہزار افراد کو بے گھر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم شہر کے گورنر اور نائب میئر کا کہنا ہے کہ کم از کم 200 خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔

    بی بی سی کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر اسرائیلی فوج نے فوری جواب نہیں دیا۔ تاہم اس نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ مغربی کنارے میں اس کے اہداف کی تعداد درجنوں میں ہے اور کارروائیاں کئی روز تک جاری رہیں گی۔

    مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے ان فلسطینیوں کے مکانات مسمار کرنا عام ہے جن پر اسرائیلیوں کے خلاف حملوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہو۔ اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پالیسی کو اجتماعی سزا قرار دیتے ہوئے تنقید کرتی رہی ہیں۔

    نیتن یاہو نے ان کارروائیوں کا موازنہ مقبوضہ فلسطینی علاقے کے شمال میں واقع پناہ گزین کیمپوں میں اسرائیلی فوج کی سابقہ کارروائیوں سے کیا، جہاں 2025 میں فوج نے سینکڑوں مکانات مسمار اور دسیوں ہزار افراد کو بے گھر کیا تھا۔

  6. چین کے دورے کے بعد کم جونگ اُن کا دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے پر زور

    شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن چین کا مختصر دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

    دورے کے دوران انھوں نے سرحدی شہر ڈانڈونگ میں کوریائی جنگ کی یادگار کا دورہ کیا اور دونوں ملکوں کو ملانے والے نئے کھولے گئے پل کو عبور کیا۔

    شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کم جونگ اُن نے کہا کہ ان کے ملک کے عوام کوریائی جنگ کے دوران چینی عوام کے شانہ بشانہ لڑنے کے شاندار برسوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ انھوں نے جنگ میں شمالی کوریا کی مدد کرنے والے چینی شہریوں کے لیے اظہارِ تشکر کا جذبہ آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے پر بھی زور دیا۔

    کئی برس کی تاخیر کے بعد نئے پل کا کھلنا چین اور شمالی کوریا کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعلقات بڑھانے کی کوششوں کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

    یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ماہ خطے کا دورہ کرنے والے ہیں۔ شمالی کوریا نے گذشتہ دو برس کے دوران روس کے ساتھ بھی فوجی تعلقات مضبوط کیے ہیں اور ماسکو و بیجنگ دونوں کے ساتھ روابط میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

    کم جونگ اُن نے ستمبر 2025 میں بیجنگ میں فوجی پریڈ میں شرکت کی تھی، جبکہ چینی صدر شی جن پنگ نے رواں سال جون میں شمالی کوریا کا دورہ کیا تھا۔

    کوریائی جنگ 1953 میں جنگ بندی کے معاہدے پر ختم ہوئی تھی، تاہم دونوں کوریاؤں نے امن معاہدے پر دستخط نہیں کیے، اس لیے تکنیکی طور پر وہ اب بھی حالتِ جنگ میں ہیں۔

  7. ہم نے سفارت کاری سے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا، ایک میزائل بھی نہیں چلانا پڑا: اوباما کی ٹرمپ پر تنقید

    امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے جوہری معاہدے کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا تھا اور اس کے لیے ایک میزائل بھی نہیں چلانا پڑا تھا۔

    سنیچر کو ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں انتخابی مہم کے سلسلے میں خطاب کرتے ہوئے براک اوباما نے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے کیونکہ انھوں نے ایسا معاہدہ کیا تھا جس کے بارے میں سب متفق تھے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے ایک میزائل بھی نہیں چلانا پڑا، میں نے صرف سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا تھا۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سنہ 2015 کے جوہری معاہدے سے علیحدگی اور ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے اوباما نے کہا کہ ’انھوں نے معاہدے سے علیحدگی اختیار کی اور یہ جنگ شروع کر دی۔ اب سات ماہ گزر چکے ہیں اور انھیں فتح کا اعلان کیے بھی چھ ماہ ہو چکے ہیں۔ تو یہ جنگ کیسی جا رہی ہے؟‘

    سابق امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’امریکہ کے اتحادیوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکی شہری ہلاک ہوئے، سینکڑوں زخمی ہوئے اور امریکہ کے میزائلوں کے ذخائر میں بھی کمی آئی ہے۔‘

    اوباما نے کہا کہ ’اب آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے معاملے پر عملاً ایران کو ’ویٹو کا اختیار‘ حاصل ہو گیا ہے۔‘ ان کے مطابق اس صورتِ حال کے باعث امریکہ میں تیل، ڈیزل اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں اوباما نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ملک کے اہم مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کے بجائے معمولی معاملات میں الجھی ہوئی ہے۔

    یہ خطاب تین نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں کیا گیا۔

  8. ٹرمپ کی ایران پر دوبارہ حملے کی دھمکی، کہا معاہدہ بھی ممکن ہے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر فوجی حملے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ بھی ہو سکتا ہے۔

    ٹرمپ نے سنیچر 24 اکتوبر کو ریاست فلوریڈا میں ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ ’شاید مجھے اسے ختم کرنا پڑے، یا شاید وہ معاہدے پر راضی ہو جائیں۔ لیکن مجھے یقین نہیں۔ دونوں صورتوں میں جیت ہماری ہی ہو گی۔‘

    خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ ایران پر ممکنہ حملے کے فیصلے کے حوالے سے وہ کس مرحلے پر ہیں تو ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم اس بارے میں سوچ رہے ہیں، شاید کل ہی۔ کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ اگر میں ایسا کرنے والا ہوتا تو آپ کو بتا دیتا؟‘

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم انھوں نے تہران کی جانب سے کسی ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے شکوک کا اظہار بھی کیا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ان کا مقصد ایران کو مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے اور اس معاملے کو مستقل طور پر حل کرنا ضروری ہے۔

    ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ فوجی حملے کا عندیہ ایک بار پھر ایسے وقت میں دیا ہے جب اس سے قبل آٹھ اکتوبر کو انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر نیا حملہ نہیں کرے گا۔

    28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ جاری ہے، جبکہ تنازع ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں تاحال حتمی نتیجے تک نہیں پہنچی ہیں۔

  9. فرانس بھر میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے پھر پھوٹ پڑے، جھڑپوں کے بعد سینُکڑوں افراد گرفتار

    فرانس میں مہنگائی اور سکولوں کے خراب اور نا مناسب حالات کے خلاف لاکھوں افراد کے احتجاج کے بعد سنیچر کی شب مختلف شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں سینُکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

    فرانس کی وزارتِ داخلہ کے مطابق سنیچر کو ہونے والے مظاہروں میں اندازاً چار لاکھ 10 ہزار افراد نے شرکت کی، جبکہ مزدور یونینوں نے شرکا کی تعداد تقریباً آٹھ لاکھ بتائی ہے۔

    دن بھر جاری رہنے والے زیادہ تر پُرامن مظاہروں کے بعد پیرس سمیت کئی شہروں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ مارسیلے میں رکاوٹوں کو آگ لگا دی گئی اور بورڈو میں بعض افراد نے ایک دکان سے لکڑی کے تختے اکھاڑ دیے۔

    تاہم حکام اب تک گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے ہنگاموں اور لوٹ مار جیسے واقعات کو بڑے پیمانے پر دوبارہ ہونے سے روکنے میں کامیاب رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے واقعات کو فرانس کی جدید تاریخ میں بدامنی کے بدترین واقعات میں شمار کیا گیا تھا۔

    تازہ مظاہروں کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ کئی شہروں میں پابندیاں بھی عائد کی گئیں تاکہ مہنگائی اور سکولوں کے خراب حالات کے خلاف احتجاج گذشتہ ہفتے جیسے ہنگاموں میں تبدیل نہ ہو، جب پولیس اہلکار مظاہرین کی تعداد کے مقابلے میں کم پڑ گئے تھے، سینکڑوں کاروباری مراکز کو لوٹا گیا تھا اور عمارتوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔

    صدر ایمانوئل میکخواں نے رواں ہفتے کے آغاز میں حکم دیا تھا کہ صرف تسلیم شدہ مزدور یونینوں کے زیرِ اہتمام مظاہروں کی اجازت ہوگی۔ گذشتہ چند روز کے دوران فوری عدالتی کارروائیوں کے بعد توڑ پھوڑ، آتش زنی اور لوٹ مار کے الزام میں سینکڑوں افراد کو قید کی سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔

    سنیچر کو پیرس میں پورت دِ اٹالی سے پورت دِ ونسین تک ایک پُرامن مارچ کے اختتام پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ پولیس کی کارروائی میں ایک خصوصی یونٹ بھی شامل تھا جو عموماً منظم جرائم اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    بعض مظاہرین کو عارضی رکاوٹیں کھڑی کرتے اور پولیس اہلکاروں پر چیزیں پھینکتے دیکھا گیا، جبکہ پولیس نے نقاب پوش نوجوانوں کے ان گروہوں پر لاٹھی چارج کیا جو ایک کار ڈیلرشپ کی کھڑکیاں توڑ رہے تھے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس کے وزیرِ داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ مارچ آخری ایام میں ’کئی ہزار انتہا پسند کارکن‘ جمع ہوئے تھے، جن میں تقریباً 500 ایسے افراد شامل تھے جن کی شناخت ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے طور پر کی گئی۔

  10. ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے دفتر سے مجتبیٰ خامنہ ای کی عدلیہ کے سربراہ سے ملاقات کی خبر جاری

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی سے ملاقات کی ہے۔

    ایران کے رہبر اعلیٰ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اس ملاقات میں انصاف کے فروغ، عوامی حقوق کے تحفظ، بدعنوانی کے خلاف اقدامات، عدالتی مقدمات کو جلد نمٹانے اور عدالتی فیصلوں پر بروقت عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ سرکاری حکام کی جانب سے قانونی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کے نتیجے میں ہونے والے جرائم کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی کا دائرہ وسیع کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

    خیال رہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کسی عوامی تقریب میں نظر نہیں آئے اور نہ ہی ان کی کوئی نئی قابلِ تصدیق تصویر یا آواز منظرِ عام پر آئی ہے۔

    اس عرصے کے دوران ان سے منسوب تحریری پیغامات اور ایرانی حکام کے ساتھ ان کی ملاقاتوں سے متعلق رپورٹس ہی جاری کی جاتی رہی ہیں۔

    ایران کے رہبر کے دفتر کی جانب سے غلام حسین محسنی کے ساتھ اس ملاقات کی کوئی تصویر جاری نہیں کی اور نہ ہی اس کا وقت اور مقام بتایا گیا۔

  11. حوثیوں کا سعودی عرب کی ’ایسٹ ویسٹ‘ پائپ لائن اور اس سے منسلک تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کی ’ایسٹ ویسٹ‘ تیل پائپ لائن اور اس سے منسلک آئل پمپنگ سٹیشنوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    حوثیوں کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کی فورسز نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے تازہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں کئی اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ینبع میں آرامکو کی ایک تنصیب، رابغ آئل ریفائنری اور ریاض کا شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ شامل ہیں۔

    یحییٰ سریع کے مطابق دمام کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، نجران ایئرپورٹ اور خمیس مشیط میں واقع ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    سعودی عرب کی جانب سے تاحال حوثیوں کے ان دعوؤں کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    سنیچر کے روز سعودی عرب کے زیرِ قیادت فوجی اتحاد نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائلوں اور ایک ڈرون کو روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے دعوے کے مطابق ’سعودی عرب کے شہروں طائف اور ینبع کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کر دیے گئے ہیں۔‘

  12. سبی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہندو تاجر ہلاک

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر سبی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر ہلاک ہو گئے۔

    سبی پولیس کے ایس ایچ او عبدالرؤف نے بتایا کہ بسنت لال نامی تاجر گذشتہ شب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے۔

    ایس ایچ او عبدالرؤف نے بتایا کہ بسنت لال موٹر سائیکل پر تھے اور فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد وہ پولیس تھانے والی گلی میں آکر گر گئے۔

    پولیس کے مطابق انھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ آج زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہو گئے۔

    انھوں او نے بتایا کہ تاحال اس واقعے کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے تاہم اس حوالے سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

    مارے جانے والے تاجر کی عمر 30 سال سے زائد تھی اور ان کی سبی میں پرچون کی دکان تھی۔

  13. صنعا پر سعودی حملوں میں 11 افراد ہلاک: حوثیوں کا دعویٰ

    یمن کے حوثی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سنیچر کے روز سعودی عرب کی جانب سے دارالحکومت صنعا پر کیے گئے فضائی حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حوثیوں کے زیرِ انتظام المسیرہ ٹی وی کے مطابق صنعا پر ہونے والے حملوں میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جہاں کم از کم چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک علیحدہ حملے میں صنعا کی ایک سیمنٹ فیکٹری میں کام کرنے والوں کی رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چھ خواتین اور ایک بچہ ہلاک جبکہ تین افراد زخمی ہوئے۔

    دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے مختلف شہروں کی جانب داغے گئے دو میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا۔

    یمن میں خانہ جنگی 2022 کی جنگ بندی کے بعد بڑی حد تک تھم گئی تھی، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں جولائی سے لڑائی میں دوبارہ شدت دیکھی جا رہی ہے۔

  14. لاہور: پیٹرول پمپ کے ملازم پر تشدد کرنے والے شخص اور مدعی کے درمیان راضی نامہ، عدالت کا ملزم کو رہا کرنے کا حکم

    لاہور کی ضلع کچہری عدالت نے پیٹرول پمپ کے ملازم کو تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم سعادت انیس کا نام مقدمے سے خارج کر دیا۔

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں ایک پیٹرول پمپ کے ملازم کو سگریٹ نوشی سے منع کرنے پر تشدد کا نشانہ بننے والے شخص اور متاثرہ ملازم کے درمیان راضی نامہ ہونے کے بعد عدالت نے ملزم کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ محمد علی امجد نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ مدعی اور ملزم کے درمیان راضی نامہ ہو گیا ہے۔

    فیصلے کے مطابق مدعی نے بیان دیا کہ یہ واقعہ غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا تاہم اب فریقین کے درمیان راضی نامہ ہوچکا ہے اور وہ اس مقدمے پر مزید کاروائی نہیں چاہتے۔

    عدالت نے ملزم سعادت انیس کو مقدمے سے ڈسچارج کر کے رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس سے قبل پولیس نے ملزم سے تفتیش کے لیے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا تھا۔

    پیٹرول پمپ پر کیا ہوا تھا؟

    لاہور کے علاقے چوہنگ میں ایک پیٹرول پمپ پر ملازم کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا۔ واقعے کی ایف آئی آر تھانہ چوہنگ میں درج کی گئی تھی۔

    ایف آئی آر کے مطابق، منگل کے روز ایک شخص اپنی گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے آیا اور وہاں سگریٹ نوشی کرنے لگا۔

    پیٹرول پمپ کے ملازم نے اسے اس لیے منع کیا کہ وہاں سگریٹ پینے سے آگ لگنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

    ملازم کے مطابق سگریٹ نوشی سے منع کرنے پر مذکورہ شخص نے عملے کے ساتھ لڑائی جھگڑا اور بدتمیزی شروع کر دی۔

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ عملے کے دیگر افراد کے جمع ہونے پر ملزم مبینہ طور پر اسلحہ لہراتے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے اپنی گاڑی میں فرار ہو گیا۔

    متاثرہ ملازم کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کیں۔ پولیس کے مطابق، گاڑی کی تلاش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم نے اسے کرائے پر حاصل کیا تھا۔

    کرایہ داری کے ریکارڈ اور رسیدوں کی مدد سے اس کی شناخت کی گئی اور بعد ازاں اسے گرفتار کر لیا گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت ملزم نے مزاحمت کی کوشش کی اور اس سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

  15. فرانس میں احتجاجی مظاہرے: 135 افراد گرفتار، ملک بھر میں سکیورٹی سخت

    فرانس میں مہنگائی اور قوت خرید میں کمی کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں دسیوں ہزار افراد ایک بار پھر احتجاج کر رہے ہیں۔

    فرانسیسی وزیر داخلہ کے مطابق مظاہروں کے دوران پولیس نے اب تک 135 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

    پیرس کی پولیس کے مطابق مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران اسلحہ اور گیس ماسک ضبط کیے گئے ہیں۔

    حکام کا دعویٰ ہے کہ دارالحکومت میں صورتحال قابو میں ہے اور ’سب کچھ پُرسکون‘ ہے۔

    فرانس میں سنیچر کے روز 100 سے زیادہ مقامات پر مظاہرے ہو رہے ہیں، جبکہ گزشتہ ہفتوں میں بعض احتجاجی ریلیوں کے پُرتشدد رخ اختیار کرنے کے بعد آج ہزاروں اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    مظاہروں کا آغاز گذشتہ ماہ اُس وقت ہوا تھا جب طلبہ نے تعلیمی اداروں میں بہتر سہولیات کا مطالبہ کیا، تاہم بعد ازاں یہ احتجاج مختلف اور وسیع تر عوامی مسائل تک پھیل گیا۔

    اس ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مظاہروں میں مزدور یونینوں اور مختلف احتجاجی گروہوں کی شمولیت کے باعث شرکا کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    گزشتہ ہفتے ہونے والے احتجاج میں حکام کے مطابق 2500 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان واقعات میں تقریباً ایک ہزار پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

    حکومت اور پولیس کے خلاف نعرے

    فرانس میں حکام کی جانب سے مقرر کردہ نئے راستے پر ہزاروں مظاہرین نے مارچ شروع کر دیا ہے، جبکہ مظاہروں میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ راستے میں تبدیلی کے باوجود وہ بڑی تعداد میں احتجاج کے لیے پہنچے ہیں۔

    موقع پر موجود مظاہرین کے مطابق بینرز اور نعروں کا بڑا حصہ پولیس اور حکومت کے خلاف ہے۔

    احتجاج کے دوران حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کے ساتھ ساتھ پولیس کے رویے کے خلاف بھی نعرے بازی کی جا رہی ہے۔

    فرانس کے مختلف شہروں میں جاری یہ مظاہرے سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان ہو رہے ہیں، جہاں حکام ممکنہ بدامنی سے نمٹنے کے لیے اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے ہوئے ہیں۔

  16. اردن چرچ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد نو ہو گئی، شہریوں کی سلامتی سرخ لکیر ہے: شاہ عبداللہ

    اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے کرک کے گاؤں حمود میں ایک چرچ پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردن کے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے معاملے پر کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں۔

    یاد رہے کہ جمعے کے روز ہونے والے اس حملے میں نو افراد ہلاک جبکہ 25 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

    اردن کی شاہی عدالت کے مطابق شاہ عبداللہ دوم نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی، جہاں انھیں چار مسلح افراد کی جانب سے کیے گئے حملے کے بارے میں سکیورٹی بریفنگ دی گئی۔

    شاہ عبداللہ دوم نے واقعے کو شرمناک دہشت گردانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اردن کی رواداری، یکجہتی اور قومی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اردن کے شہریوں کی سلامتی اور تحفظ ایک سرخ لکیر ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’انصاف کا ہاتھ ہر دہشت گرد تک پہنچے گا، ایسی بزدلانہ کارروائیاں نہ تو اردن کو خوفزدہ کر سکتی ہیں اور نہ ہی ملک کے قومی اتحاد کو کمزور کر سکتی ہیں۔‘

    اردنی حکام نے تاحال چرچ میں جنازے کی تقریب کے دوران ہونے والے اس حملے میں ملوث افراد کی گرفتاری کا اعلان نہیں کیا ہے۔

    اردن کے وزیر اعظم جعفر حسن نے جمعے سے مملکت بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا جس دوران پرچم سرنگوں رہیں گے۔

  17. صنعا اور موخا پر سعودی حملوں میں ہلاکتوں کی اطلاعات

    حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعا اور مغربی ساحلی شہر موخا پر سعودی فوجی اتحاد کے فضائی حملوں میں ہلاکتیں اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    المسیرہ کے مطابق صنعا پر ایک حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی یہ تعداد ابتدائی بتائی گئی ہے۔

    یاد رہے چند گھنٹوں قبل ہم نے یمن کے دو خبر رساں اداروں ’سبا‘ اور ’یمن پریس ایجنسی‘ کے حوالے سے خبر دی تھی کہ سنیچر کے روز سعودی جنگی طیاروں نے یمن کے صوبوں تعز اور صعدہ کے مختلف علاقوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔

    حوثی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ صنعا کے مغرب میں واقع عسیر کے علاقے میں ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ضلع ہمدان میں ہونے والے ایک اور حملے میں بھی جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق مغربی یمن کے شہر موخا پر بھی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہا جہاں تقریباً 20 حملے کیے گئے۔

    المسیرہ ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ اس دوران جنگی طیارے مسلسل علاقے کی فضاؤں میں پرواز کرتے رہے۔

    سعودی فوجی اتحاد نے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

    یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی قیادت والے اتحاد اور حوثی گروپ کے درمیان میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

  18. ایران سے سفارت کاروں اور ماہرین کے انخلا کی اطلاعات درست نہیں:روسی سفارتخانہ

    تہران میں موجود روسی سفارتخانے نے ایران سے اپنے سفارت کاروں اور ماہرین کے انخلا سے متعلق خبروں کی تردید کر دی ہے۔

    سفارتخانے نے سنیچر کے روز اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں بوشہر جوہری پاور پلانٹ سے روسی سفارت کاروں اور ماہرین کے انخلا کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’نہ سفارتخانے کے عملے کو واپس بلایا جا رہا ہے اور نہ ہی بوشہر جوہری پاور پلانٹ پر تعینات روسی ماہرین کے انخلا کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔ ‘

    تہران میں روسی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ایران میں اس کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

  19. اسرائیل کے انتخابات اور ایران سے نمٹنے کے معاملے پر سیاسی کشمکش, جمال الدین موسوی، بی بی سی، تل ابیب

    اسرائیل میں انتخابی مہم ان دنوں اپنے عروج پر ہے اور اس دوران دو بڑے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔

    ایک طرف موجودہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو ہیں، جبکہ دوسری جانب حزب اختلاف کے رہنما گاڈی آئزن کوٹ میدان میں ہیں۔

    اس کے ساتھ دیگر سیاسی رہنما بھی زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے اور آئندہ حکومت کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔

    انتخابی فضا اس قدر گرم ہے کہ ایک مقامی صحافی نے اس مقابلے کو ’سیاسی خونریزی‘ سے تشبیہ دی ہے۔ دوسرے لفظوں میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر سخت تنقید کر رہی ہیں اور انتخابی معرکہ غیر معمولی شدت اختیار کر گیا ہے۔

    تاہم اس تمام سیاسی کشمکش کے باوجود تقریباً تمام بڑی جماعتوں کے لیے ایک موضوع مشترک ہے اور وہ ہے ایران۔

    اس انتخابی مہم کے دوران امیدواروں سے بار بار ایک ہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے کیا پالیسی اپنائیں گے۔

    اس سوال کے جواب میں تقریباً سب کا مؤقف ایک جیسا ہے کہ ایران کا مقابلہ کیا جانا چاہیے، لیکن ہر جماعت کے نزدیک اس کا طریقۂ کار مختلف ہے۔

    اگرچہ تمام جماعتیں ایران سے نمٹنے کی ضرورت پر متفق دکھائی دیتی ہیں لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے پیش کی جانے والی حکمتِ عملیوں، شرائط اور ترجیحات میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔

  20. ریاض، طائف اور ینبع کی جانب داغے گئے میزائل فضا میں روک کر تباہ، سعودی فوجی اتحاد کا دعویٰ

    سعودی عرب کے زیرِ قیادت فوجی اتحاد نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائلوں اور ایک ڈرون کو روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے دعوے کے مطابق ’سعودی عرب کے شہروں طائف اور ینبع کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کر دیے گئے ہیں۔‘

    اس سے قبل سعودی سول ڈیفنس نے جدہ، مکہ مکرمہ، طائف اور ینبع کے رہائشیوں کو ممکنہ خطرے سے متعلق الرٹ جاری کیا تھا اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم چند منٹ بعد حکام نے اعلان کیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔

    سعودی عرب پر حالیہ ہفتوں کے دوران (مبینہ طور پر) یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کی کوششوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    اسی تناظر میں سعودی سول ڈیفنس نے ریاض، نجران اور وادی الدواسر میں بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری کی تھی اور ابتدائی انتباہی نظام کو فعال کیا گیا تھا۔ بعد ازاں حکام نے اعلان کیا کہ ان علاقوں میں بھی خطرہ ختم ہو گیا ہے۔

    اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے انصار اللہ کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو بھی روک کر تباہ کر دیا۔

    المالکی کے مطابق ’مشرقی علاقے میں حوثیوں کی جانب سے بھیجے گئے ایک ڈرون کو بھی سنیچر کی صبح ناکارہ بنا دیا گیا۔

    حوثیوں کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔