پاکستان نے زلمے خلیل زاد کے افغان شہریوں کو مسلح کرنے کے الزامات کو مسترد کر دیا
پاکستان نے امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد کے ان الزامات کو مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان سابق افغان شہریوں کو طالبان اور ان کے حامی گروہوں کے خلاف لڑنے کے لیے مسلح کر رہا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں زلمے خلیل زاد کے الزامات کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو افغان شہریوں کی بھرتی یا افغانستان کے اندر مسلح گروہوں کی حمایت سے جوڑنا درست نہیں۔
یاد رہے کہ 23 اکتوبر کو زلمے خلیل زاد نے ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑائی کے لیے افغانوں کو مسلح کیے جانے کی متعدد اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
ان کے مطابق اب ایسی رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوج پاکستان مخالف مسلح گروہوں کے خلاف لڑنے کے لیے افغان شہریوں کو بھرتی کر رہی ہے۔ زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ موجودہ صورتحال میں افغانستان اور پاکستان کے تعلقات مزید خراب ہونے کا امکان ہے۔
اس بیان کے جواب میں وزارتِ اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں ان گروہوں کے خلاف ہیں جو افغان طالبان کے زیرِ انتظام علاقوں سے سرگرم ہیں اور پاکستان کے لیے سکیورٹی خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں پیش پیش رہا ہے اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے بڑی قربانیاں دے چکا ہے۔
اس میں مزید کہا گیا کہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی سے متعلق متعدد رپورٹس میں افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں، جن میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ شامل ہیں، کی موجودگی اور سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق یہ الزامات افغان طالبان حکومت کی اس ذمہ داری سے توجہ ہٹاتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ زلمے خلیل زاد کی جانب سے ایسے غیر مصدقہ الزامات کو دہرانا ان کے نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔