’تہران اپنی سات شرائط پر بدستور قائم‘، عباس عراقچی کی صدر اور کابینہ کو امریکہ سے بالواسطہ مذاکرات پر بریفنگ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صدر مسعود پزشکیان اور وفاقی کابینہ کو ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ ایرانی صدر کے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق، عباس عراقچی نے بدھ کو کابینہ کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے وزرا کو مذاکرات اور سفارتی رابطوں میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی پیش رفت کی امید ہے مگر متحدہ عرب امارات بدترین صورتحال کے لیے بھی تیار ہے: صدارتی مشیر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنمتحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش
متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے سفارتی حل کے لیے پُرامید ہے، تاہم وہ بدترین صورتحال سے نمٹنے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔
بحرین میں سکیورٹی کانفرنس ’منامہ ڈائیلاگ‘ سے خطاب کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ سفارتی محاذ پر کوئی پیش رفت ہوگی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’خطے کے مفاد میں نہیں کہ اسے جنگ کے ایک اور دور سے گزرنا پڑے، لیکن میرے خیال میں ہم ماضی کی طرح بدترین صورتحال کے لیے بھی تیار ہیں۔‘
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی اور ایک نئی جنگ کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس دوران سفارتی کوششوں میں بھی تیزی آئی ہے۔
قطری ثالثوں نے جمعے کو تہران میں ایرانی حکام سے تفصیلی مذاکرات کیے، جن کا سلسلہ سنیچر کو ابوظبی میں بھی جاری رہا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گذشتہ روز کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملے کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
دوسری جانب ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے فوجی کمانڈروں کو حکم دیا ہے کہ کسی بھی خطرے کا جواب ’فوری‘ اور ’جغرافیائی حدود کی پابندی کے بغیر‘ دیا جائے۔
کسی بھی جارحیت کا جواب کب اور کس حد تک دینا ہے، یہ دھمکیاں دینے والے طے نہیں کریں گے: ایرانی وزیر دفاع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران کے وزیر دفاع مہرداد اخلاقی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کے جواب کا دائرہ اور وقت دھمکیاں دینے والے طے نہیں کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی جارحیت کا متناسب، فیصلہ کن اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔‘
ایرانی وزیر دفاع کا یہ بیان ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے فوجی کمانڈروں کو کسی بھی خطرے کا ’فوری‘ اور ’جغرافیائی حدود کی پابندی کے بغیر‘ جواب دینے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔
مہرداد اخلاقی نے کہا کہ ’اس حکم پر عمل درآمد کے لیے مسلح افواج کی جنگی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’دفاعی سازوسامان اور ہتھیاروں کی تیاری، پیداوار اور فراہمی کے عمل کو تیز کرنا، صنعتی اور تکنیکی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور مسلح افواج کو مدد فراہم کرنے کی صلاحیت بہتر بنانا ان اقدامات میں شامل ہے جن پر کام کیا جا رہا ہے۔‘
خلیجِ فارس میں نامعلوم سمت سے قطری ایل این جی بردار جہاز پر پروجیکٹائل سے حملہ
قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق خلیجِ فارس کے پانیوں سے گزرنے والے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار ایک جہاز کو ’نامعلوم سمت سے‘ ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جمعے کی شام پیش آیا اور اس حملے کا نشانہ قطری گیس ٹرانسپورٹ کمپنی کا جہاز ’المعیدہ‘ بنا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملے میں جہاز کا کوئی بھی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے نتیجے میں ماحول کو کوئی نقصان پہنچا۔
قطری کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ جہاز محفوظ ہے اور بدستور کام کرنے کے قابل ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز میں آمدورفت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور ان جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں کی ہیں جنھیں وہ ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والا قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
جنگ میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے قطر نے گذشتہ چند روز کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
نئی جنگ کی صورت میں تنازع کا جغرافیہ مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا: ایرانی فوج کے ترجمان کا انتباہ
،تصویر کا ذریعہisna
ایرانی فوج کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ نئی جنگ کی صورت میں تنازع کا جغرافیہ مغربی ایشیا کے خطے تک محدود نہیں رہے گا۔
ایرانی خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ ’امریکی تنصیبات، ساز و سامان، افواج اور مفادات، جہاں کہیں بھی قابلِ رسائی ہوں، نشانہ بنائے جا سکتے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ مستقبل کی جنگ گذشتہ جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ طویل ہو سکتی ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران کے نظریے کو محض دفاعی حکمتِ عملی سے جارحانہ حکمتِ عملی میں تبدیل کرنے کا عمل ماضی میں شروع ہو چکا تھا اور حالیہ جنگ میں اس کا عملی اظہار بھی سامنے آیا ہے۔‘
مجتبیٰ خامنہ ای کی سرکاری ویب سائٹ نے گذشتہ روز رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی مسلح افواج کے کمانڈروں کے ساتھ ایک ’اجلاس‘ میں اُنھوں نے انھیں ہدایت دی کہ دشمن کی کسی بھی دھمکی پر ’فوری طور پر اور جغرافیائی حدود کی پابندی کے بغیر‘ ردِعمل دیا جائے۔
اسلامی جمہوریہ کے رہبرِ اعلیٰ کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ کسی بھی نئی فوجی یا ’دہشت گرد‘ کارروائی کی صورت میں، ایران تنازع کے خاتمے کے وقت اور شرائط کا تعین خود کرے گا۔
ایران نے برطانیہ کی رائل ایئر فورس اور بحریہ کو ’دہشت گرد تنظیمیں‘ قرار دے دیا
ایران کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانوی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس ایم آئی 6 کو ’مخالف‘ گروہوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق، یہ فیصلہ ’سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل‘ کی ایک قرارداد کی بنیاد پر اور برطانوی حکومت کے اقدامات کے ردِعمل میں کیا گیا ہے۔
وزارت نے یہ بھی اعلان کیا کہ برطانوی بحریہ اور رائل ایئر فورس کو تہران کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ اقدام ’ایران کے جوابی کارروائی کے قانون‘ کے تحت اٹھایا گیا ہے، جو امریکہ کی جانب سے ’پاسدارانِ انقلاب‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کے ردِعمل میں ہے۔
ایران نے اس فیصلے کی ایک وجہ جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ برطانیہ کا فوجی تعاون قرار دیا ہے۔
بیان کے مطابق، یہ فیصلے ’باہمی جوابی کارروائی‘ کے اصول کے تحت اور ’قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ‘ کے مقصد سے کیے گئے ہیں۔
20 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل ساڑھے تین ماہ سمندر میں رہنے کے بعد چین پہنچ گیا: ٹینکر ٹریکرز کا دعویٰ
ٹینکر ٹریکرز نامی ایک کمپنی، جو ٹینکروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہے، نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی خام تیل کے 20 لاکھ بیرل پر مشتمل ایک کھیپ ساڑھے تین ماہ سمندر میں رہنے کے بعد چین پہنچ گئی ہے۔
کمپنی نے ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے تصدیق ہوتی ہے کہ ایران سے منسلک ایک ٹینکر چینی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوا ہے، تاہم کمپنی نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے صرف رواں سال کے پہلے چھ مہینوں میں 16 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا تیل برآمد کیا ہے۔
افغانستان سے ’دہشتگردی‘ پر پاکستان کے تحفظات سنے ہیں، امریکہ تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے: امریکی وزیرِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں طالبان حکومت کے بارے میں پاکستان کے تحفظات سے آگاہ ہے اور اس حوالے سے مناسب کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
سنیچر کو اٹلانٹا میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو ان حملوں پر تشویش ہے جن کی پشت پناہی افغانستان کی سرزمین سے کی جا رہی ہے۔ پاکستان کا خیال ہے کہ طالبان نے ان حملوں کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے ہیں، اور اُنھوں نے اس کے خلاف کارروائی کی ہے۔‘
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاکستان کے یہ تحفظات سنے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان میں دہشت گردی ہو اور اسے نشانہ بنایا جائے۔ لہذا اگر ہم اس معاملے میں کوئی بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں تو ہم کریں گے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے طالبان حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات نہیں ہیں، ہم نے پاکستان کی جانب سے اُٹھائے گئے تحفظات سنے ہیں اور ایسے بعض حملے بھی دیکھے ہیں جن کی طرف پاکستان اشارہ کرتا ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں، چاہے وہ کہیں بھی ہو اور اس کا نشانہ کوئی بھی ہو۔‘
خیال رہے کہ پاکستان کا الزام رہا ہے کہ افغانستان میں پناہ لیے ہوئے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے شدت پسند پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں اور انھیں افغانستان میں طالبان حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔
لیکن افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہتے رہے ہیں کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور پاکستان کی جانب سے افغان طالبان پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔
اکتوبر میں حوثیوں کے حملوں کے باعث ریاض ایئر پورٹ پر 94 فیصد پروازیں منسوخ ہوئیں: بلوم برگ کی رپورٹ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق، 10 اکتوبر سے 27 اکتوبر کے درمیان ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والی تقریباً 94 فیصد پروازیں حوثیوں کے حملوں کے بعد منسوخ کر دی گئیں۔
سب سے مہلک حملہ 10 اکتوبر کو ہوا، جس میں 12 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور حکام کو ہوائی اڈے کے آپریشنز معطل کرنا پڑے۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے حملوں نے ایران جنگ کے بعد خطے کی ہوابازی کی صنعت میں خلل کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دریں اثنا، فلائٹ ریڈار کے ہوائی ٹریفک کے اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مشرقی سعودی شہر دمام میں کنگ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسلسل ہوائی ٹریفک میں خلل پڑتا ہے۔
جرمنی کے دارالحکومت برلن سمیت مختلف شہروں میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد مظاہرے
،تصویر کا ذریعہReuters
جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہرے پرتشدد ہو گئے ہیں۔ سنیچر کی شب فرینکفرٹ میں مشتعل مظاہرین نے ہنگامہ آرائی کے دوران کئی دکانیں لوٹ لیں۔ اس دوران مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
فرینکفرٹ جرمنی کا معاشی مرکز ہے، اس کے علاوہ برلن، کولون اور ہیمبرک میں بھی تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن استعمال کیں جنھوں نے ہنگامی امدادی کارکنوں کو آتش بازی کے سامان، پتھروں اور بوتلوں سے نشانہ بنایا۔
اس سے قبل ہزاروں افراد نے احتجاجی مہم چلانے والے گروپ Gen Z regelt (جین زی راج) کے زیرِ اہتمام مظاہروں میں شرکت کی۔ اس نام کا مطلب ہے ’جنریشن زی ذمہ داری سنبھال رہی ہے۔‘
مظاہرین سکولوں کے لیے ناکافی فنڈنگ، بڑھتے ہوئے اخراجات، سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں اور لازمی فوجی خدمات کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
جرمنی میں یہ بے امنی فرانس میں ہونے والے اسی نوعیت کے مظاہروں کے بعد ہوئی ہے، جہاں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے بڑے مظاہروں کے دوران بھی پرتشدد واقعات ہوئے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرینکفرٹ کی مرکزی تجارتی شاہراہ کا ایک بڑا حصہ پولیس نے بند کر دیا تھا۔ پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ شہر میں متعدد گرفتاریاں کی گئیں۔
حکام کے مطابق برلن، فرینکفرٹ اور میونخ میں مجموعی طور پر 18 ہزار تک مظاہرین موجود تھے، جو منتظمین کی ویب سائٹ پر دیے گئے تخمینے کے تقریباً نصف کے برابر تھے۔
’جین زی راج‘ کی ترجمان لینا فریڈرچ نے کہا کہ یہ مظاہرے ’جنگ اور جبر کے بجائے امن اور آزادی کے لیے جدوجہد‘ کے مقصد سے کیے گئے۔
اُنھوں نے کہا کہ ’ہمارے لیے سب سے اہم بات صحت اور تعلیم کے نظام کے لیے بہتر معاونت ہے۔ ہم لازمی فوجی خدمت کے خلاف ہیں اور بوجھ کی زیادہ منصفانہ تقسیم کے حامی ہیں۔‘
ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن قابلِ اعتبار نہیں: صدر ٹرمپ کا قطر مذاکرات پر بیان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت اچھی جا رہی ہے اور ایران ڈیل چاہتا ہے۔
سنیچر کو فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ وہ زیادہ قابلِ اعتبار نہیں ہیں، وہ معاہدہ کرتے ہیں اور پھر اس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔‘
قطر میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم کسی جلدی میں نہیں ہیں۔‘
ایران پر دوبارہ حملے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’یہ کیسا احمقانہ سوال ہے، فرض کریں کہ میں ایسا کرتا ہوں، تو کیا میں آپ کو بتاؤں گا؟ میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔‘
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی نیوی، ایئر فورس اور اس کی اسلحہ بنانے کی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے۔
اگر دوبارہ جنگ چھڑی تو ہم امریکہ کے سینگ توڑ دیں گے: محسن رضائی کا انتباہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ اگر دوبارہ جنگ چھڑی تو ہم امریکہ کے سینگ توڑ دیں گے۔
سنیچر کو ایرانی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ’اگر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ کو یہاں سزا نہ دی گئی تو کل کو ہر ملک یہ سوچے گا کہ اگر ہم ایران پر حملہ کریں تو اس کے کوئی نتائج نہیں ہوں گے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ہم ہم ایک ایسا خوف پیدا کریں گے تاکہ کوئی بھی ملک بلا جھجھک سر اُٹھا کر حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکے۔
محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ’اگر دوبارہ جنگ چھڑتی ہے، تو ہم امریکہ کے سینگ توڑ دیں گے تاکہ دیکھیں کہ یہ بغیر سینگوں والا بیل دنیا میں کیا کر پاتا ہے۔‘
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ ہم نے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کے خلاف اپنے بحری جہاز شکن میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔
دوحہ میں ایرانی وفد کی قطری ثالثوں سے ملاقات
مذاکرات سے باخبر ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے دوحہ میں قطری ثالثوں سے ملاقات کی، جس کا مقصد خلیج فارس میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے راستے تلاش کرنا تھا۔
ذرائع کے مطابق، یہ بات چیت واشنگٹن کے ساتھ مسلسل رابطوں کے دوران آگے بڑھی۔
سفارت کار اس کوشش میں ہیں کہ اس ہفتے ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد لڑائی کے ایک نئے سلسلے کو روکا جا سکے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے، مذکورہ ذریعے نے بتایا کہ قطر کے دارالحکومت میں سنیچر کے روز ہونے والی یہ بات چیت، جمعے کے روز تہران میں ایرانی اور قطری نمائندوں کے درمیان 12 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات کا تسلسل تھی۔
عباس عراقچی نے دوحہ میں ایرانی وفد کی موجودگی کی تصدیق کی، تاہم کہا کہ امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سنیچر کو کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ آیا ایران پر نئے حملے کیے جائیں یا نہیں، تاہم وہ اس تنازعے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
امریکہ وسط مدتی انتخابات کے دہانے پر کھڑا ہے، جن سے یہ طے ہوگا کہ آیا ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی کمزور اکثریت برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ انتخابات کے اختتام تک ایران پر حملہ کرنے سے گریز کریں گے۔
ایران نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ اگر اس پر دوبارہ حملہ کیا گیا، تو وہ پڑوسی ممالک میں موجود امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنائے گا۔
محسن رضائی کی جے ڈی وینس کا خط موصول ہونے کی تصدیق: ’ان کا لہجہ مکمل طور پر بدل چکا ہے‘
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images/AFP via Getty Images
ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے تصدیق کی
ہے کہ انھیں امریکی نائب صدر کا خط موصول ہوا ہے۔
میجر جنرل محسن رضائی نے ایرانی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے جے ڈی وینس کے خط کا مطالعہ
کر لیا ہے تاہم ابھی تک اس کا جواب نہیں دیا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ان کا
لہجہ مکمل طور پر بدل چکا ہے، جو ایک اچھی علامت ہے۔ ایرانی قوم نے اپنی فتح کو
مستحکم کر لیا ہے۔‘
محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری نظریے میں تبدیلی کے متعلق کوئی
نیا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
’حکومت میں ابھی تک کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا
گیا۔ البتہ اب یہ بحث جاری ہے کہ اگر ایک اور جنگ ہوتی ہے تو کیا ہم وہی پرانا
نظریہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں، لیکن سرکاری سطح پر یا حکومت کی جانب سے
کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا گیا۔‘
سیاسی لٹریچر اور جوہری پھیلاؤ سے متعلق امور میں جوہری نظریے پر
نظرثانی سے عموماً مراد ایسی پالیسی ہے جس کا مقصد جوہری ہتھیار حاصل کرنا ہو۔
اپنے حالیہ بیانات میں محسن رضائی نے کہا ہے کہ ’ایرانی قوم کے کچھ مطالبات ہیں۔ وہ
ایک منطق تلاش کر رہی ہے۔ آخرکار وہ دیکھتے ہیں کہ دشمن نے آ کر ہماری تمام جوہری
تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ تو دشمن نے انھیں کیوں نشانہ بنایا؟ ہم نے ایجنسی کے تمام
معائنے مثبت انداز میں مکمل کیے۔ ان کے کیمرے ہماری تمام تنصیبات پر موجود تھے۔
چنانچہ جب لوگ یہ سب دیکھتے ہیں تو وہ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ کیوں چاہتے ہیں کہ
یہ صورتحال اسی طرح جاری رہے؟‘
ایران اب تک موقف اپناتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد
کے لیے ہے، تاہم مغربی ممالک اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اس حوالے سے
شفافیت کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
مغربی حکومتوں کا کہنا ہے کہ دیگر خدشات کے علاوہ ایران کی جانب سے
یورینیم کی اعلیٰ سطح تک افزودگی تشویش کا باعث ہے، کیونکہ اسے جوہری ہتھیاروں میں
بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ابھی تک ایران پر نئے حملوں کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا: مارکو روبیو
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک ایران پر نئے حملوں کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
جی 20 کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد اٹلانٹا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اب بھی سفارت کاری کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔
’اگر ہم چاہیں تو اپنے فوجی اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔ انھوں (ٹرمپ) نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اس بارے میں آج میرے پاس آپ کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے کچھ نہیں۔ ہم ایسے معاملے کو ہلکے میں نہیں لیتے۔‘
روبیو کا مزید کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے لیے کوئی مخصوص وقت مقرر کیا گیا ہے یا نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آج تصدیق کی کہ ایرانی وفد اس وقت دوحہ میں موجود ہے تاکہ قطری ثالثوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے، تاہم انھوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی حکام کا امریکی فریق سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں۔
ایرانی وفد کے دوحہ کے دورے سے متعلق رپورٹس شائع کرنے کے بعد قطری اخبار العربی الجدید نے ثالثوں کے قریبی ذرائع کے حوالے سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاع دی، اور یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایک امریکی وفد ایران کے ساتھ ’براہ راست مذاکرات‘ کے لیے دوحہ آئے گا۔
سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر ’مسٹر پتلو‘ کی مہندی کی تقریب میں بھگدڑ مچنے سے ایک شہری ہلاک، 13 زخمی
،تصویر کا ذریعہSialkot Police
،تصویر کا کیپشنتقریب میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں شہری سٹیڈیم میں موجود تھے
پنجاب کے ضلع سیالکوٹ میں ٹکر ٹاکر عنصر المعروف ’مسٹر پتلو‘
کی مہندی کی تقریب میں بھگدڑ مچنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ 13 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی پولیس کے مطابق ٹک ٹاکر کی مہندی کی تقریب کا اہتمام ڈسکہ
روڈ پر واقع سپورٹس سٹیڈیم میں منعقد کی گئی تھی جس میں سینکڑوں افراد شریک تھے۔
مقامی حکام کے مطابق اس موقع پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود
تھی کیونکہ ٹک ٹاکر کی جانب سے شہریوں کے لیے انعامات کی تقسیم کی تقریب بھی رکھی
گئی تھی۔
ریسکیو 1122 کے حکام کے مطابق سٹیڈیم کے گیٹ وقت سے پہلے
کھلنے کے باعث شہریوں کے ہجوم میں اچانک بھگدڑ مچ گئی، جس کے نتیجے میں 14 افراد
زخمی ہوئے اور بعدازاں ایک شہری ہلاک ہو گیا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع ملنے پر چار ایمبولینسز اور ایک
موٹر بائیک ایمبولینس نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور تمام
متاثرین کو علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ ہسپتال سیالکوٹ منتقل کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق ہسپتال منتقلی کے بعد عقیل نامی 30 سال شہری
وفات پا گیا۔
سیالکوٹ پولیس ترجمان کے مطابق ڈسکہ روڈ پر شادی کی تقریب میں
بھگدڑ کی اطلاع ملنے پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ کیپٹن (ر) دوست محمد پولیس کی
بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور امدادی کارروائیوں میں شرکت کی۔ پولیس کے مطابق
بیشتر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تقریب میں
انعامی قرعہ اندازی کے لیے بڑی تعداد میں لوگ سٹیڈیم کے باہر جمع تھے اور گیٹ
کھلنے پر اچانک بھگدڑ مچ گئی۔
ڈی پی او سیالکوٹ کیپٹن (ر) دوست محمد نے کہا کہ شہریوں کی
جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ضروری
قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
صومالی قزاقوں نے ایرانی ماہی گیری کی کشتی ہائی جیک کر لی
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
صومالیہ کے شمال مشرقی ساحل کے قریب مسلح قزاقوں نے ایک ایرانی ماہی گیری کی کشتی ہائی جیک کر لی ہے۔ یورپی یونین کی بحری سکیورٹی ایجنسی اور پنٹ لینڈ کے سکیورٹی ذرائع نے سنیچر کے روز واقعے کی تصدیق کی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صومالیہ کے ساحل پر بحری قزاقی کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اپریل سے اب تک کم از کم 15 حملے رپورٹ ہو چکے ہیں، جو 2013 کے بعد ایک سال میں سامنے آنے والی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
یورپی یونین کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر کے مطابق ’ازنی‘ نامی ایرانی ماہی گیری کی کشتی کو 29 اکتوبر کی صبح صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ میں بندر بلا اور ہافون کے درمیان ساحلی علاقے سے اغوا کیا گیا۔
پنٹ لینڈ کے سکیورٹی حکام نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آٹھ مسلح افراد نے بیلہ بندرگاہ کے قریب دور دراز ساحلی علاقے میں کشتی پر قبضہ کیا۔
ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق کشتی پر دو صومالی محافظ تعینات تھے، تاہم قزاقوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث وہ مزاحمت نہ کر سکے اور حملہ آوروں نے انھیں قابو کر لیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کشتی ساحل کے قریب ماہی گیری میں مصروف تھی، جس کی وجہ سے وہ قزاقوں کا آسان ہدف بن گئی۔
روئٹرز کے مطابق ایک اور سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ دو صومالی محافظوں کے علاوہ کشتی میں عملے کے 21 افراد سوار تھے، تاہم ان کی موجودہ حالت کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
’ازنی‘ جولائی کے بعد صومالیہ کے ساحل سے ہائی جیک ہونے والی تیسری ایرانی ماہی گیری کی کشتی ہے، جس سے خطے میں بحری سلامتی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں بروقت فیصلہ نہ کرتے تو مزید نقصان ہوتا: وزیراعظم شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہAPP
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک، عوام، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر ہو گیا تھا، کیونکہ دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت فیصلہ ضروری تھا۔
اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی پیشکش کی، تاہم صوبائی حکومت نے اس پر مثبت جواب نہیں دیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2017 اور 2018 تک ملک سے دہشت گردی کا بڑی حد تک خاتمہ ہو چکا تھا، لیکن 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کی واپسی اور دوبارہ آبادکاری کے فیصلوں کے بعد صورتحال دوبارہ خراب ہوئی۔ ان کے بقول گذشتہ چند برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا اور شہریوں، پولیس اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے دوبارہ جانوں کی قربانیاں دیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں جنھیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے یاد دلایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 80 ہزار جانوں اور اربوں ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
انھوں نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 13 برسوں کے دوران ترقی، امن اور عوامی فلاح کے دعوے تو کیے گئے، تاہم عوامی مسائل کے حل، پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کی استعداد بڑھانے پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔
وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو اضافی وسائل کی مد میں اب تک تقریباً 800 ارب روپے مل چکے ہیں، تاہم یہ سوال موجود ہے کہ ان وسائل سے پولیس اور سکیورٹی کے نظام کو کس حد تک مضبوط بنایا گیا۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی اور سیاسی جماعتوں کی کمیٹیوں کے درمیان بات چیت بھی ہوئی، لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ ان کے بقول اسی وجہ سے گورنر راج اور ایمرجنسی جیسے اقدامات پر غور کرنا پڑا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی حالات اور خطے میں کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے فیول سبسڈی پروگرام شروع کیا، جس سے ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی اور صوبے میں مزید دانش سکول قائم کر کے غریب بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔
شام مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کر رہا ہے: وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہReuters
شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ دمشق مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کر رہا ہے اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔
بحرین میں منعقدہ منامہ ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ شام کی اس دفاعی اتحاد میں شمولیت کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ یہ معاہدہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان رواں سال مکہ میں طے پایا تھا۔
مکہ دفاعی معاہدے کے تحت رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب حالیہ ہفتوں میں یمن کے حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد علاقائی اور بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
شام کی موجودہ حکومت، جو دسمبر 2024 میں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد برسرِ اقتدار آئی، سعودی عرب کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی ہے۔
فرانس اور برطانیہ بھی حوثی حملوں کے مقابلے کے لیے سعودی عرب کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں، جبکہ شام کی ممکنہ شمولیت کو خطے میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی تعاون کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوحہ میں ایرانی وفد موجود، امریکی حکام سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں: عباس عراقچی
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوحہ میں ایرانی وفد کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکام کا امریکی فریق سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کے بقول ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی خبریں ’محض میڈیا کی قیاس آرائیاں‘ ہیں۔
الجزیرہ سے گفتگو میں عراقچی نے بتایا کہ ایران نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پیغام کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لیا ہے، تاہم واشنگٹن کی جانب سے ایرانی شرائط تسلیم کیے جانے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ مذاکرات براہِ راست ہوں گے یا بالواسطہ۔
دوسری جانب قطری اخبار العربی الجدید نے ثالثی عمل سے واقف ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں میں پیش رفت ہوئی ہے اور ایک امریکی وفد بھی دوحہ پہنچنے والا ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق قطری ثالث ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں میں سرگرم ہیں اور مذاکراتی کوششیں جاری ہیں۔
روس کے زیرِ قبضہ اولیشکی سے شہریوں کا انخلا، کئی رہائشی زندہ رہنے کے لیے جڑی بوٹیاں کھانے پر مجبور, جیکب فلپس، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters
روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی شہر اولیشکی سے نکالے گئے شہری بیلاروس پہنچ گئے ہیں اور حکام کے مطابق توقع ہے کہ وہ سنیچر کے روز بعد میں یوکرین واپس پہنچ جائیں گے۔
محاذِ جنگ کے قریب واقع اس شہر کے رہائشی طویل عرصے سے خوراک، پینے کے پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم تھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق حالات اس قدر خراب ہو گئے تھے کہ بعض افراد زندہ رہنے کے لیے باغات میں اُگنے والی جڑی بوٹیاں پکا کر کھانے پر مجبور تھے۔
رہائشیوں کو جمعے کے روز ایک مقامی جنگ بندی کے دوران اولیشکی سے نکالا گیا۔ یہ جنگ بندی امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کی کوششوں سے طے پائی تھی۔
بیلاروس کی سرکاری میڈیا اور ایک سینیئر یوکرینی عہدیدار کے مطابق انخلا کے بعد شہریوں کو لے جانے والے طیارے ہفتے کی صبح بیلاروس کے شہر گومیل پہنچے۔
یوکرین کے سینیئر عہدیدار ڈیوڈ آراخامیا نے بتایا کہ چوتھا اور آخری طیارہ بھی گومیل پہنچ چکا ہے اور چند گھنٹوں میں تمام انخلا کیے گئے یوکرینی شہری یوکرینی وفد کے ہمراہ اپنے ملک پہنچ جائیں گے۔
بیلاروس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بیلٹا کے مطابق اولیشکی کے رہائشیوں کو لے جانے والا بسوں کا قافلہ گومیل ایئرپورٹ سے یوکرینی سرحد کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔
منگل کو صوبہ خیرسون کے محاذ پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی نافذ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں چار سال بعد پہلی بار اس علاقے میں نسبتاً پُرامن دن دیکھنے میں آئے۔ یہ جنگ بندی روس کے فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد ہونے والی طویل لڑائی کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
اولیشکی میں حالات اس قدر سنگین ہو چکے تھے کہ نہ صرف شہر تک امدادی سامان پہنچانا انتہائی مشکل تھا بلکہ وہاں سے نکلنا بھی جان جوکھوں کا کام بن گیا تھا۔ شہر سے باہر جانے والے راستوں پر بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں جبکہ ڈرون حملوں کا بھی خطرہ موجود تھا۔
تین ہفتے قبل شہر سے فرار ہونے والے ایک شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ محفوظ مقام تک پہنچنے کے لیے اسے تقریباً 24 کلومیٹر کا سفر بارودی سرنگوں سے بھرے علاقے سے پیدل طے کرنا پڑا۔
جنگ بندی کے بعد شہر سے باہر جانے والی مرکزی سڑک کو بارودی سرنگوں سے پاک کیا گیا اور یہ جنگ بندی یکم نومبر اتوار تک برقرار رہے گی۔
رہائشیوں کو انخلا کے لیے چار گھنٹے کا وقت دیا گیا جس کے بعد 25 بسوں پر مشتمل قافلہ، جس میں 750 افراد کی گنجائش تھی، جمعے کی دوپہر شہر سے روانہ ہوا۔ محدود نقل و حرکت رکھنے والے افراد کے لیے ایمبولینسز کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔
تاہم اطلاعات کے مطابق سینکڑوں افراد نے شدید تباہی، گیس، بجلی اور پانی کی عدم دستیابی کے باوجود شہر میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔
جنگ سے قبل اولیشکی کی آبادی تقریباً 24 ہزار افراد پر مشتمل تھی، لیکن روس نے یوکرین پر مکمل حملے کے ابتدائی دنوں میں ہی اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔
یوکرین کے انسانی حقوق کے محتسب دیمترو لوبینیٹس نے کہا کہ جو لوگ شہر میں رہنے کا فیصلہ کریں گے، انھیں ضروری انسانی امداد فراہم کی جائے گی۔
اگرچہ یوکرینی فوجی مورچے اولیشکی سے صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں، تاہم انخلا کیے گئے شہریوں کو پہلے روسی کنٹرول والے علاقوں سے گزر کر جنوبی روس کے شہر اناپا جانا پڑا، جہاں سے انھیں ہوائی جہاز کے ذریعے گومیل منتقل کیا گیا۔
قریبی دریائے دنیپرو پر موجود پل تباہ ہو چکے ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق دریا کے کنارے کا بڑا حصہ بارودی سرنگوں سے آلودہ ہے اور وہاں نقل و حرکت خطرناک سمجھی جاتی ہے۔
دیمترو لوبینیٹس اور ان کی روسی ہم منصب یانا لانتراتوا جمعے کے روز مشترکہ طور پر اولیشکی پہنچے۔ وہ روس کے زیرِ قبضہ کریمیا کے شہر آرمیانسک سے روانہ ہوئے تھے۔
یوکرینی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد روسی قبضے والے علاقوں کا دورہ کرنے والے وہ پہلے اعلیٰ یوکرینی عہدیدار ہیں۔
اولیشکی میں جنگ بندی کے نفاذ کے لیے لوبینیٹس کو اپنی روسی ہم منصب کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ تعاون انسانی جانیں بچانے کے مقصد سے کیا۔
تاہم یوکرین میں بعض حلقوں نے اس پر تنقید کی ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ وہ ایسے وقت میں روسی نمائندے کے ساتھ کیوں نظر آئے جب روسی قبضے کے نتیجے میں شہر کے متعدد شہری ہلاک ہوئے اور باقیوں کی زندگی شدید مشکلات کا شکار ہوئی۔
دوسری جانب روس نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ جو لوگ اولیشکی چھوڑنا نہیں چاہتے ان کے لیے خوراک، ادویات، حفظانِ صحت کا سامان اور جنریٹروں کے لیے ایندھن سمیت ’درجنوں ٹن‘ امدادی سامان تیار کر لیا گیا ہے۔