’تہران اپنی سات شرائط پر بدستور قائم‘، عباس عراقچی کی صدر اور کابینہ کو امریکہ سے بالواسطہ مذاکرات پر بریفنگ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صدر مسعود پزشکیان اور وفاقی کابینہ کو ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ ایرانی صدر کے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق، عباس عراقچی نے بدھ کو کابینہ کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے وزرا کو مذاکرات اور سفارتی رابطوں میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ایران۔امریکہ محاذ آرائی کا نیا دور خطے کے لیے زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے: مصری وزیر خارجہ

    Egypt

    مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ یا محاذ آرائی کا نیا مرحلہ خطے کے لیے زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

    بحرین میں منعقدہ سکیورٹی کانفرنس ’منامہ ڈائیلاگ‘ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات پر ’شدید تشویش‘ ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے سنگین اور دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔

    دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمنیہ نے ایران پر کسی نئے امریکی حملے کے امکان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو تنازع کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا اور جنگ کا جغرافیہ پھیل جائے گا۔

  2. سکیورٹی تجزیہ کار عامر رانا پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز سے مستعفی

    Facebook/Amir Rana

    پاکستان کے معروف سکیورٹی تجزیہ کار، محقق اور مصنف محمد عامر رانا نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز (پپس) سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے وہ بانی بھی ہیں۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں عامر رانا نے کہا کہ ان کی تحریروں، وی لاگز اور سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کا اب اس ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور مستقبل میں پیش کیے جانے والے خیالات مکمل طور پر ان کی ذاتی آرا ہوں گی۔ انھوں نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ اس ادارے کے بانی ہیں، تاہم ان کے انفرادی خیالات کو اب ادارے کا مؤقف نہ سمجھا جائے۔

    عامر رانا گذشتہ دو دہائیوں سے پاکستان میں دہشت گردی، انتہا پسندی، داخلی سلامتی اور علاقائی سیاست کے موضوعات پر تحقیق اور تجزیے کے حوالے سے نمایاں آواز سمجھے جاتے ہیں۔ وہ متعدد تحقیقی رپورٹس، کتابوں اور اخباری مضامین کے مصنف ہیں اور قومی سلامتی، عسکریت پسندی اور پالیسی امور پر حکومتی، سفارتی اور علمی حلقوں میں ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی رہی ہے۔

    پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز (پپس) اسلام آباد میں قائم ایک آزاد تحقیقی اور پالیسی ادارہ ہے جس نے گذشتہ برسوں میں امن، سلامتی، دہشت گردی، انتہا پسندی، سرحدی امور، افغانستان، جنوبی ایشیا اور خارجہ پالیسی جیسے موضوعات پر وسیع پیمانے پر تحقیق کی ہے۔

    Facebook/Amir Rana

    ادارہ مختلف تحقیقی جرائد، پالیسی رپورٹس، سروے اور تجزیاتی اشاعتیں شائع کرتا رہا ہے۔ ان میں پاکستان میں دہشت گردی کے رجحانات، عسکریت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں، مذہبی انتہا پسندی، داخلی سلامتی اور علاقائی جیوپولیٹیکل صورتحال سے متعلق سالانہ اور خصوصی رپورٹس خاص طور پر نمایاں رہی ہیں۔

    پپس نے گذشتہ کئی برسوں کے دوران قومی اور علاقائی سطح پر متعدد سیمینارز، مکالمے، ورکشاپس اور کانفرنسوں کا بھی انعقاد کیا۔ ان پروگراموں میں پاکستانی اور غیر ملکی سفارت کاروں، سکیورٹی ماہرین، محققین، صحافیوں، سابق فوجی حکام اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ ادارے کا مقصد مختلف نقطہ ہائے نظر رکھنے والے فریقوں کے درمیان مکالمے اور پالیسی مباحثے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنا رہا ہے۔

    خصوصاً افغانستان، پاکستان۔انڈیا تعلقات، انسدادِ انتہا پسندی، بارڈر مینجمنٹ، علاقائی روابط اور قومی سلامتی کے موضوعات پر پپس کی سرگرمیوں کو پاکستان کے پالیسی اور تحقیقی حلقوں میں اہم تصور کیا جاتا رہا ہے۔

    استعفے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد صحافیوں، محققین اور پالیسی ماہرین نے عامر رانا کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا، جبکہ بعض صارفین نے استعفے کے پس منظر اور حالیہ تنازعات پر بھی سوالات اٹھائے۔

    سکیورٹی اور دفاعی امور کے نامہ نگار باقر سجاد نے کہا کہ اگرچہ عامر رانا کی پپس کے ساتھ وابستگی ختم ہو گئی ہے، تاہم تنازعات، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف تحقیق کے میدان میں ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔ انھوں نے عامر رانا کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

    صحافی اعزاز سید نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ عامر رانا نے پاکستان کے معتبر ترین سکیورٹی تھنک ٹینکس میں سے ایک کی بنیاد رکھی اور اس کی قیادت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ استعفے کے پس منظر میں ایک بڑی کہانی موجود ہے، جس میں گذشتہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کی منسوخی بھی شامل ہے۔

    @AmirRana

    محقق اور سماجی کارکن خادم حسین نے لکھا کہ ’پپس کے پلیٹ فارم سے عامر رانا کا کام غیر معمولی اور قابلِ اعتبار رہا ہے۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ انھوں نے اپنے ہی قائم کردہ اور پروان چڑھائے گئے ادارے سے خود کو الگ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا، تاہم یہ پیش رفت اچھی علامت نہیں لگتی۔‘

    سینیئر صحافی سبوخ سید نے لکھا کہ محمد عامر رانا کا پیپس سے الگ ہونا حیران کن اور افسوسناک خبر ہے۔ جس ادارے کی بنیاد انھوں نے رکھی، اسی سے ان کا الگ ہونا ایک اہم پیش رفت ہے۔

    ان کے مطابق ’ممکن ہے انھوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہو کہ ان کی ذاتی آرا یا مؤقف ادارے کے لیے بوجھ نہ بنیں اور پیپس اپنا کام بلا رکاوٹ جاری رکھ سکے۔ وجوہات کچھ بھی ہوں، اس فیصلے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔‘

    سبوخ سید کے مطابق پپس انتہاپسندی کے تدارک، امن کے فروغ، نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے اور مکالمے کی فضا قائم کرنے میں قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔ اس سفر میں محمد عامر رانا کی قیادت اور فکری رہنمائی نمایاں رہی ہے۔‘

  3. انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کر لی

    Kashmir

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹیلی ویژن صحافی ندھی رازدان سے نئی دہلی میں شادی کر لی ہے۔

    56 سالہ عمر عبداللہ نے سنیچر کے روز سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا، ’کل ایک نئے سفر کا آغاز ہوا اور اس پوسٹ میں ندھی رازدان کو بھی ٹیگ کیا۔ انھوں نے اپنی اور ندھی رازدان کی چار تصاویر بھی شیئر کیں۔

    Omer Abdullah

    ذرائع کے مطابق یہ شادی جمعہ کو نئی دہلی میں سپیشل میرج ایکٹ کے تحت انجام پائی، جس میں دونوں خاندانوں کے افراد بطور گواہ شریک ہوئے۔

    عمر عبداللہ کی اپنی پہلی اہلیہ پائل عبداللہ سے شادی رواں سال جولائی میں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ختم ہوئی تھی، جب دونوں فریقین کے درمیان باہمی تصفیہ ہو گیا تھا۔

    @OmarAbdullah

    49 سالہ ندھی رازدان کی بھی یہ دوسری شادی ہے۔

    شادی کی تقریبات سری نگر اور نئی دہلی میں منعقد ہوئیں جن میں دونوں خاندانوں کے قریبی رشتہ دار شریک ہوئے۔ ان تقریبات میں عمر عبداللہ کے والد فاروق عبداللہ، والدہ مولی عبداللہ، ان کی تین بہنیں اور دیگر قریبی عزیزوں کے علاوہ ندھی رازدان کے والد، سینیئر صحافی ایم کے رازدان اور والدہ سرلہ رازدان بھی موجود تھیں۔

  4. باغ کے گاؤں پندی دھماکے میں استعمال بارودی مواد مکان کے اندر موجود تھا، پولیس کا دعویٰ, نصیر چوہدری، صحافی

    Kashmir

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع باغ کے گاؤں پندی میں 29 اکتوبر کو ہونے والے دھماکے کے بعد سپرنٹنڈنٹ پولیس باغ امیرالدین نے واقعے سے متعلق اہم تفصیلات بیان کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ کے معائنے کے بعد بظاہر یہ امکان ظاہر ہوتا ہے کہ بارودی مواد مکان کے اندر رکھا گیا تھا، نہ کہ باہر سے کوئی چیز پھینکی گئی تھی۔

    پولیس کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد گھر کے اندر باہر سے پھینکا گیا تھا۔

    ایس پی امیرالدین کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں دو خواتین اور دو بچوں سمیت چار افراد جان کی بازی ہار گئے۔ انھوں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کو اس طرح نشانہ بنانا غیر قانونی اور وحشیانہ عمل ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی اور مبینہ طور پر گرینیڈ لانچر بھی استعمال کیا گیا۔

    ایس پی امیرالدین نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ مکان کی دیواروں پر دھماکے کے واضح نشانات موجود ہیں، تاہم فرش پر کوئی گڑھا نہیں بنا۔ ان کے بقول جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بارودی مواد مکان کے اندر رکھا گیا تھا، نہ کہ باہر سے پھینکا گیا تھا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ابتدائی شواہد سے یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ بعض شرپسند عناصر مبینہ طور پر عام شہریوں کے گھروں کو اپنی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

    ایس پی نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ شرپسند عناصر نے سوشل میڈیا کے مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے ایک منظم مہم چلائی اور دھماکے کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنے کی کوشش کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان تصادم کی فضا پیدا کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور من گھڑت بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دلائی جائے گی۔

    متاثرہ خاندان کا مؤقف

    پندی دھماکے سے متاثرہ خاندان نے واقعے کی مکمل تحقیقات اور تمام شواہد عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    دھماکے میں تباہ ہونے والے مکان کے مالک شیکدر کے بھتیجے باسط نے بتایا کہ واقعے کے وقت ان کے چچا گاؤں میں موجود نہیں تھے بلکہ روزگار کے سلسلے میں پاکستان میں تھے۔ گھر میں ان کی والدہ، اہلیہ اور بچے موجود تھے۔

    باسط کے مطابق اگر پولیس کا مؤقف یہ ہے کہ دھماکہ گھر کے اندر سے ہوا تو ان کا سوال ہے کہ بارودی مواد گھر کے اندر کیسے پہنچا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ دھماکے کے بعد گھر سے ملنے والے مبینہ بارودی آلے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور یہ بتایا جائے کہ وہ کس ملک کا بنا ہوا ہے اور اسے کون استعمال کرتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جس فریق کے زیرِ استعمال ایسا اسلحہ آتا ہو، اس سے بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

    باسط نے بتایا کہ دھماکے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور اس کے بعد بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے مطابق تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق خاندان کی جانب سے پولیس کے کام میں کبھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔

    انھوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والی بچی انیقہ اس سے قبل ایک احتجاج کے دوران شیلنگ سے زخمی ہوئی تھی۔ ان کے مطابق دھماکے والے روز علاقے میں کوئی احتجاج نہیں ہو رہا تھا، حالات پُرامن تھے اور شام کے وقت اچانک یہ واقعہ پیش آیا۔

    باسط کے مطابق پولیس اور انتظامیہ نے اہلِ خانہ سے لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے بارے میں بات کی تھی، تاہم خاندان نے اس کی اجازت نہیں دی کیونکہ ان کے بقول لاشوں کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ پوسٹ مارٹم کے لیے رضامند ہو سکتے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ خاندان نے تھانے میں کوئی درخواست یا ایف آئی آر درج نہیں کرائی، تاہم پولیس اپنی تحقیقات کے لیے مسلسل موقع پر آتی رہی ہے اور خاندان نے کبھی بھی اس کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔

  5. کسی بھی خطرے کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے، ایرانی رہبر اعلیٰ خامنہ ای کی مسلح افواج کو ہدایت

    Iran, USA

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈروں سے ملاقات میں کہا ہے کہ دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج کی مکمل تیاری اور جنگی آمادگی ناگزیر ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کو درپیش کسی بھی خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے مسلح افواج کو ہر وقت تیار رہنا چاہیے اور اس سلسلے میں جغرافیائی حدود کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

    خامنہ ای نے خبردار کیا کہ اگر دشمن دوبارہ فوجی یا دہشت گردانہ کارروائی کرتے ہیں تو ایران ان کے جواب کا وقت، نوعیت اور طریقۂ کار خود طے کرے گا۔

    انھوں نے فوج کی دفاعی صلاحیت، انٹیلی جنس نظام اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج کی ضروریات پوری کرنے اور انھیں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔

    ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے لاحق خطرات کے پیشِ نظر دفاعی حکمتِ عملی اور اہداف کا مسلسل جائزہ لے کر انھیں بہتر بنانا ضروری ہے۔ ان کے بقول عوامی حمایت ملک کی دفاعی طاقت کا ایک اہم ستون ہے۔

    ملاقات کے دوران ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ حکام نے ملکی سلامتی، سرحدی صورتحال اور دفاعی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔

  6. دوحہ میں پیش رفت، ایران اور امریکہ کے براہِ راست مذاکرات کی بحالی کا امکان

    IRAN, USA

    خبر رساں ادارے العربی الجدید کے مطابق دوحہ میں ایرانی نمائندوں اور قطری ثالثوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت سامنے آئی ہے، اور اطلاعات ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی پر اتفاقِ رائے پیدا ہو گیا ہے۔

    رپورٹ میں ثالثوں کے قریبی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک امریکی وفد بھی ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچے گا۔

    یہ پیش رفت قطری ثالثوں اور ایرانی حکام کے درمیان تقریباً 12 گھنٹے طویل بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے۔ دوسری جانب ایگزیوس کے مطابق دوحہ میں مذاکراتی عمل جاری ہے اور قطری ثالث اس دوران مسلسل وائٹ ہاؤس سے رابطے میں رہے۔

    ایگزیوس کے نامہ نگار بارک راوید نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم قطری ثالثوں کے ہمراہ دوحہ واپس روانہ ہوئی ہے۔

  7. اوگرا کی مقررہ قیمت 294 روپے فی کلو، مارکیٹ میں ایل پی جی 580 روپے سے زائد میں فروخت, تنویر ملک، صحافی

    BBC World Service

    پاکستان میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی سرکاری اور مارکیٹ قیمتوں میں نمایاں فرق برقرار ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نومبر کے لیے 11.8 کلوگرام گھریلو سلنڈر کی قیمت 3470 روپے مقرر کی ہے، جو اکتوبر کے مقابلے میں 173.86 روپے زیادہ ہے۔ اکتوبر میں اسی سلنڈر کی قیمت 3296 روپے تھی۔

    اوگرا کے مقررہ نرخ کے مطابق نومبر میں ایل پی جی کی فی کلو قیمت 294 روپے بنتی ہے، جبکہ اکتوبر میں یہ 279 روپے فی کلو تھی۔

    تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں ایل پی جی اوگرا کی قیمت سے کہیں زیادہ نرخوں پر فروخت ہو رہی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے تازہ ہفتہ وار جائزے کے مطابق 11.8 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر کی اوسط قیمت 6264 روپے تک پہنچ چکی ہے، جو فی کلو تقریباً 531 روپے بنتی ہے۔ کئی شہروں میں یہ قیمت 580 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر رہی ہے۔

    بیورو آف شماریات کے مطابق اسلام آباد میں 11.8 کلوگرام سلنڈر 6600 روپے، راولپنڈی میں 6500 روپے، لاہور اور کراچی میں 6185 روپے، فیصل آباد میں 6400 روپے، پشاور میں 6788 روپے، حیدرآباد میں 6185 روپے جبکہ کوئٹہ میں 6700 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں قیمتیں اس سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہیں۔

    اوگرا کی ترجمان کے مطابق قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی بڑی وجہ درآمدی سپلائی میں تعطل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی تقریباً 70 فیصد ایل پی جی درآمد کی جاتی ہے جبکہ صرف 30 فیصد مقامی پیداوار سے حاصل ہوتی ہے۔

    حالیہ ہفتوں میں پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی بندش کے باعث ایران سے ایل پی جی کی درآمد متاثر ہوئی، جس سے ملکی مارکیٹ میں رسد کم ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں درآمد ہونے والی ایل پی جی کا بڑا حصہ ایران سے آتا ہے۔

    حکومت نے گذشتہ ہفتے عمان سے ایل پی جی کی ایک کھیپ درآمد کی، تاہم مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ طلب اور رسد کے درمیان اب بھی نمایاں فرق موجود ہے، جس کے باعث قیمتیں سرکاری نرخوں کے بجائے کھلی مارکیٹ کی بنیاد پر برقرار ہیں۔

    توانائی شعبے کے ماہرین کے مطابق اگر درآمدات معمول پر نہ آئیں اور رسد میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو تو آئندہ ہفتوں میں ایل پی جی کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

  8. امریکہ نے مہم جوئی کی تو جنگ کا دائرہ وسیع ہو جائے گا: ایرانی فوج کے ترجمان

    ایران پر امریکہ کے ایک اور ممکنہ حملے کے حوالے سے ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ’اگر ایسا حملہ ہوا تو جنگ کا دائرہ وسیع ہو جائے گا۔‘

    ایکس پر اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ’امریکی صدر کی جانب سے سفارت کاری سے دھوکہ کرنے کے سابقہ ریکارڈ کے پیشِ نظر، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج دشمن کی کارروائیوں پر بھروسا کیے بغیر اور ان سے بے پروا رہتے ہوئے اپنی جنگی تیاریوں کو مسلسل بہتر بنا رہی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر امریکی صدر نے ایک بار پھر خطے میں دھمکیوں اور اسرائیل کو اکسانے کے ذریعے کوئی نئی مہم جوئی کی تو جنگ کی آگ یقیناً وسیع علاقے تک پھیل جائے گی اور جنگ کب ختم ہو گی، اس کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں نہیں ہو گا۔‘

    یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے معاہدے کے لیے قطری ثالثوں کی کوششیں سنیچر کو دوحہ میں بھی جاری رہیں گی۔‘

  9. بریکنگ, سعودی فوجی اتحاد کا دارالحکومت ریاض میں ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    @anadoluagency
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے دارالحکومت ریاض میں ایک ڈرون کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔

    ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر لکھا کہ فضائی دفاعی نظام نے ریاض کے علاقے میں ایک ’دشمن ڈرون‘ کو روک کر تباہ کیا۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ ڈرون کا ملبہ تباہ کیے جانے کے بعد علاقے میں گرا، تاہم اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔

    ترکی المالکی نے اس سے چند گھنٹے قبل سعودی عرب کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بھی دو دیگر ڈرونز مار گرائے جانے کا اعلان کیا تھا۔

  10. عراقچی کا جرمن چانسلر کو جواب: ’اب کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہی‘

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اب کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہی۔‘

    عراقچی نے ایکس پر جرمن چانسلر کے بیان کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ گذشتہ سال جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر بمباری شروع کی تو مرز نے اس کا خیرمقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ ’وہ یورپ کا گندا کام کر رہے ہیں۔‘

    عراقچی نے مزید کہا کہ ’100 ارب یورو اس تباہ کن نقصان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو ایران کی طاقتور مسلح افواج ان لوگوں کو پہنچائیں گی جو ہمارے عوام کو نقصان پہنچانے کی جرات کریں گے۔‘

    انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’اب کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہی۔‘

    دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے جمعے کو جنوبی کوریا کا دورہ مکمل ہونے پر کہا تھا کہ ’وہ تنازع میں شامل تمام فریقوں سے صرف یہی درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ تسلیم کریں کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جرمنی کے معاشی مفاد میں بھی یہی ہے کہ جنگ جلد ختم ہو، کیونکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث یورپ کو پہلے ہی 100 ارب یورو سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔‘

  11. یمن کا حوثی جنگجوؤں پر ایران کی مدد سے اسلحہ اور جدید فوجی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا الزام، عدن ایئرپورٹ پر حملوں کی مذمت کا مطالبہ

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ میں یمن کے مستقل مندوب سفیر عبداللہ السعدی

    یمن کی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثی انصار اللہ گروپ کے بار بار حملوں کی مذمت کرے اور شہریوں و شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ حکومت نے اسلحے کی پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    یہ مطالبہ اقوام متحدہ میں یمن کے مستقل مندوب سفیر عبداللہ السعدی نے سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں کیا۔

    السعدی کے مطابق، حوثی جنگجوؤں نے 28 اکتوبر کو عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں ماہ ہوائی اڈے پر یہ چھٹا حملہ تھا۔ ان حملوں سے مسافروں اور ہوائی اڈے کے عملے کی زندگیاں خطرے میں پڑیں جبکہ متعدد پروازوں کا رخ بھی تبدیل کرنا پڑا۔

    یمنی حکومت نے شہری ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کو ’جنگی جرم اور مسافروں، پروازوں کے عملے اور ہوائی اڈے کے کارکنوں کی زندگیوں کے لیے براہِ راست خطرہ‘ قرار دیا۔

    حکومت کا کہنا تھا کہ شہری تنصیبات کو بار بار نشانہ بنائے جانے پر عالمی برادری کو محض تشویش اور مذمت کے بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ شہری ہوائی اڈوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور حملوں کے ذمہ داروں کا احتساب ہو۔

    Reuters
    ،تصویر کا کیپشنحوثی جنگجوؤں کے حملے کے بعد سعودی عرب کی تیل کی تنصیب سے دھواں اٹھ رہا ہے۔

    سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں یمن نے خبردار کیا کہ حوثی جنگجو سمگلنگ کے نیٹ ورکس اور ایران کی مدد سے جدید ہتھیار اور فوجی ٹیکنالوجی حاصل کر رہے ہیں، جس سے بین الاقوامی پابندیوں کے نظام کی مؤثریت کو سنگین چیلنج درپیش ہے۔

    یمنی حکومت نے ایران پر حوثی جنگجوؤں کو فوجی مدد فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ اس کے مطابق، ایرانی مدد کے باعث حوثی جنگجو بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور دھماکہ خیز مواد سے بھری کشتیوں کے ذریعے حملے کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیج عدن میں بحری آمدورفت کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

    یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں بھی عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاستی اداروں کی بحالی اور سلامتی و استحکام کے قیام میں مدد کرے۔ اس مقصد کے لیے طے شدہ اصولوں، بالخصوص سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر عملدرآمد پر زور دیا گیا۔

    حکومت نے چار ملین آبادی والے شہر تعز کے مسلسل محاصرے پر بھی تشویش ظاہر کی اور اس کے سنگین انسانی نتائج سے خبردار کیا۔

  12. بریکنگ, سعودی فوجی اتحاد کا مشرقی علاقے میں ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی فوج نے سنیچر کی صبح ملک کے تیل سے مالا مال مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    سعودی عرب کا مشرقی علاقہ ملک کا اہم معاشی مرکز سمجھا جاتا ہے اور حالیہ ہفتوں میں حوثی جنگجوؤں کی جانب سے اسے متعدد بار نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اس علاقے میں سعودی عرب کے تیل اور گیس کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جبکہ تیل کی بڑی کمپنی آرامکو کا صدر دفتر بھی یہیں واقع ہے۔ اکتوبر کے اوائل میں ہونے والے ایک حملے میں آرامکو کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔

    ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ کے دوران سعودی قیادت میں قائم اتحادی فوج اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان تنازع بھی شدت اختیار کر گیا ہے، جس سے خطے میں ایک اور محاذ کھل گیا ہے۔

  13. ڈیزل کی قیمت میں دو روپے 29 پیسے فی لیٹر اضافہ، پیٹرول کی قیمت برقرار

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    حکومت نے جمعے کو ڈیزل کی قیمت میں دو روپے 29 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، تاہم پیٹرول کی قیمت 377 روپے 91 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہے۔

    قیمتوں میں اضافے کے بعد ڈیزل کی قیمت 400 روپے 67 پیسے سے بڑھ کر 402 روپے 96 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت 377 روپے 91 پیسے فی لیٹر پر برقرار ہے۔

    آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 31 اکتوبر (سنیچر) سے 2 نومبر (پیر) تک ہو گا۔

  14. پوتن کا یورپ کو انتباہ: ’روس جنگ نہیں چاہتا، لیکن تصادم ہوا تو کوئی فاتح نہیں ہو گا‘

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنروسی صدر ولادیمیر پوتن

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ’ماسکو یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے کسی بھی اقدام کی حمایت کرتا ہے، تاہم اگر یورپ کے ساتھ جنگ چھڑی تو اس کا کوئی فاتح نہیں ہو گا۔‘

    جمعرات کو افریقی رہنماؤں کے ساتھ سربراہی اجلاس کی میزبانی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ ’روس یورپ کے ساتھ ممکنہ جنگ کے لیے تیار ہے، لیکن وہ ایسا کوئی تنازع نہیں چاہتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم یورپی ممالک کے ساتھ مکمل اور بامعنی تعلقات بحال کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے ہر اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔‘

    پوتن کا کہنا تھا کہ ’ہم تیار ہیں، لیکن یورپ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔ اگر کوئی جنگ چاہتا ہے تو اسے تیاری کرنی چاہیے، لیکن اب تک وہ روس کو سٹریٹجیک میدان میں شکست دینے کا اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے۔ اگر معاملات بہت آگے بڑھ گئے تو کوئی بھی فاتح نہیں ہو گا، اس بات کو کسی کو نہیں بھولنا چاہیے۔‘

    روسی صدر نے رواں ہفتے فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب اور ناروے کے وزیرِاعظم یوناس گار سٹورے کے ساتھ اپنی ٹیلی فون پر گفتگو کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ماسکو سے رابطہ کر کے درست فیصلہ کیا، اگرچہ بعض یورپی دارالحکومتوں کی جانب سے اس اقدام پر تنقید کی گئی تھی۔

    پوتن نے مزید کہا کہ ’روس بحیرۂ بالٹک میں جہاز رانی کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں چاہتا۔‘ ان کے مطابق رابطوں اور مواصلات پر پابندیاں ایسی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں جیسی فروری میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں دیکھی گئی۔

    انھوں نے سوال کیا کہ ’کیا کوئی خلیج یا آبنائے ہرمز جیسی صورتحال بحیرۂ بالٹک میں بھی چاہتا ہے؟ میں نہیں جانتا۔ ہم ایسا نہیں چاہتے، لیکن کسی بھی چیلنج کا جواب دیں گے۔‘

  15. امریکہ کی یوکرین کو 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری

    Reuters

    امریکہ نے یوکرین کو روسی فضائی حملوں سے دفاع کے لیے 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاہم یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ ان میزائلوں کی ترسیل میں ’کئی سال‘ لگ سکتے ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق جدید ’پی اے سی تھری انٹرسیپٹر‘ میزائلوں کی مالیت 2.1 ارب ڈالر ہو گی اور ان کی پوری ادائیگی یورپ اور کینیڈا میں یوکرین کے اتحادی کریں گے۔

    زیلنسکی نے جمعے کی شب ایک بار پھر امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی تیز کرے۔ ان کے مطابق یہ واحد مؤثر دفاعی نظام ہے جو روس کے تباہ کن بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    یہ پیش رفت رواں ماہ کے آغاز میں زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کشیدگی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس وقت امریکہ نے روسی ڈیزل کی خریداری کے ایک معاہدے کے تحت روس پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کی تھی۔

    ٹرمپ نے اس دوران کہا تھا کہ روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرنے کی غرض سے یوکرین کو نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملہ شروع کیا تھا، جبکہ اس سے پہلے وہ کریمیا اور مشرقی یوکرین کے علاقے ڈونباس کے بعض حصوں پر قبضہ کر چکا تھا۔

    تاہم 20 اکتوبر کو اوسلو میں زیلنسکی کی امریکی نمائندوں سے ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس مجوزہ فروخت سے یوکرین کے دفاع کو بہتر بنانے اور یورپ میں سیاسی و معاشی استحکام کو مضبوط کرنے کے امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کو تقویت ملے گی۔

    بیان کے مطابق میزائلوں کی خریداری کے لیے کینیڈا، جرمنی اور ناروے کے عطیات، جَمپ سٹارٹ پروگرام اور یورپی یونین کے یوکرین سپورٹ لون کے تحت فراہم کردہ رقوم استعمال کی جائیں گی۔

    امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن اس معاہدے کی مرکزی ٹھیکیدار ہو گی۔ محکمہ خارجہ کے مطابق اس فروخت کے لیے امریکی حکومت کی کوئی رقم استعمال نہیں کی جائے گی۔

    میزائلوں کی فراہمی میں تاخیر کیوں؟

    یوکرین کو ان میزائلوں کی فوری ضرورت ہے، تاہم دنیا بھر میں پیٹریاٹ میزائلوں کی قلت پائی جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی جانب سے ان میزائلوں کا استعمال بھی ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع کے مطابق پیٹریاٹ میزائلوں کی سالانہ پیداوار تقریباً 600 ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ نئے میزائلوں کی تیاری اور ترسیل کا شیڈول کیا ہو گا، تاہم اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ پہلے سے تیار میزائلوں کے بجائے نئے میزائلوں کی تیاری سے متعلق ہے، جس کے باعث فوری فراہمی کا امکان کم ہے۔

    BBC

    زیلنسکی نے رواں ہفتے کہا تھا کہ یوکرین اہم میزائلوں کی فراہمی کی امریکی منظوری کے لیے تقریباً ایک ماہ سے انتظار کر رہا تھا اور اس کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    انھوں نے جمعے کی شب ایکس پر امریکی فیصلے کا خیرمقدم کیا، تاہم کہا کہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائلوں کی ضرورت ’ابھی‘ ہے۔

    زیلنسکی کے مطابق موسمِ سرما سے قبل روس نے یوکرین کے اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے تیز کر دیے ہیں اور گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ملک کے بجلی کے نظام کے اہم حصوں پر 30 سے زائد حملے کیے ہیں۔

    جی 20 اجلاس میں روسی وزیر خارجہ کے خلاف احتجاج

    دوسری جانب امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران یورپی سفارت کاروں نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی موجودگی پر احتجاجاً سرکاری گروپ تصویر کے لیے کھڑے ہونے سے انکار کر دیا۔

    اجلاس کی میزبانی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کر رہے ہیں۔

    برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اجلاس کے دوران لاوروف سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’میں روسی وزیر خارجہ سے براہِ راست کہنا چاہتا ہوں کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس جنگ میں جارح کون ہے۔‘

    انھوں نے روسی حکومت پر یوکرین میں بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

    یاد رہے کہ جولائی میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل خود تیار کرنے کا لائسنس دینے پر اتفاق نہیں کیا، حالانکہ اس سے تین ہفتے قبل انھوں نے یوکرین کو یہ حق دینے کی پیشکش کی تھی۔

  16. سعودی اور امریکی وزرائے خارجہ کی ملاقات، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت محفوظ بنانے پر تبادلۂ خیال

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنسعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو

    سعودی عرب اور امریکہ کے وزرائے خارجہ نے اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کی ہے، جس میں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ملاقات میں آبنائے ہرمز اور باب المندب سے گزرنے والے بحری جہازوں کی آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے طریقوں پر بھی گفتگو ہوئی۔

    اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے، جس کے تحت امریکہ 2030 میں ریاض میں ہونے والی عالمی نمائش (ایکسپو 2030) میں شرکت کرے گا۔

  17. ترکی اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات، ایران اور غزہ سمیت علاقائی صورتحال پر گفتگو

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنترکی کے وزیرِ خارجہ حاکان فیدان اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو

    ترکی کے وزیرِ خارجہ حاکان فیدان نے امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی ہے۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات، غزہ کی صورتحال، روس اور یوکرین کی جنگ اور دیگر علاقائی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔

    یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حال ہی میں ترک صدر رجب طیب اردوغان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بھی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی، جس میں دوطرفہ تعلقات، ایران اور دیگر علاقائی و عالمی امور زیرِ بحث آئے تھے۔

    اس گفتگو کے دوران اردوغان نے کہا تھا کہ ترکی روس اور یوکرین کے درمیان سفارتی عمل کی بحالی اور اسی کے ذریعے جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔

  18. ایران کے ساتھ مذاکرات جاری، تہران بات چیت چاہتا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

    Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور تہران بات چیت کا خواہش مند ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ بات کرنا چاہتے ہیں اور بات کر بھی رہے ہیں۔ سچ پوچھیں تو ہمارے پاس ایک موقع موجود ہے۔‘

    ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کو ایک غیر معمولی صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر امریکی ٹیکس دہندگان کے بہت کم اخراجات آ رہے ہیں۔

    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ امریکی تجویز پر امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے قطری ثالثوں اور ایرانی حکام کے درمیان تہران میں طویل بات چیت ہوئی ہے۔

  19. جنگ اور ہتھیاروں کی منتقلی کے خلاف 22 ممالک میں بندرگاہوں کے کارکنوں کی ہڑتال

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشن30 اکتوبر 2026 کو یونان کی بندرگاہ پیرائس میں 24 گھنٹے کی ہڑتال کے دوران بحری جہازوں کے عملے اور بندرگاہ کے کارکنوں نے ایک بینر اٹھا رکھا ہے جس پر درج ہے ’مزدور جنگ کے لیے کام نہیں کرتے۔‘

    دنیا کے 22 ممالک کی 113 بندرگاہوں پر جمعے کو بندرگاہوں کے کارکنوں اور بحری جہازوں کے عملے نے ہڑتال کی، جس کے باعث بعض بندرگاہوں اور شپنگ کمپنیوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ ہڑتال بندرگاہوں کے ذریعے ہتھیاروں کی منتقلی اور مشرقِ وسطیٰ اور بحیرۂ اسود میں جاری جنگوں کے دوران بحری جہازوں کے عملے کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات کے خلاف کی گئی۔

    اس ہڑتال کی حمایت 25 سے زائد مزدور یونینز نے کی ہے۔ ہڑتال میں یونان، فرانس، اٹلی، سپین، ترکی، مراکش اور انڈیا کی بڑی بندرگاہیں بھی شامل ہیں۔

    یونان کی سی فیئررز یونین کے ایک رہنما نے بندرگاہ پیرائس میں ایک احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ان کی جنگوں کے لیے کام نہیں کرتے اور نہ ہی توپوں کے آگے قربانی کا بکرا بنیں گے۔‘

    یونان کی سی فیئررز یونین کے مطابق اکتوبر کے پہلے 21 دنوں کے دوران خلیجِ فارس میں بحری جہازوں پر حملوں کے 28 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ یونین کا کہنا ہے کہ رواں سال بحیرۂ اسود میں ہونے والے حملوں میں بھی 40 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

    ہڑتال کرنے والے کارکنوں کے دیگر مطالبات میں تنخواہوں میں اضافہ، کام کے حالات بہتر بنانا اور جنگ زدہ علاقوں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ڈاکٹروں کی موجودگی یقینی بنانا شامل ہیں۔

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنیہ ہڑتال بندرگاہوں کے ذریعے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی ترسیل کے خلاف عالمی احتجاجی مہم کا حصہ تھی۔
    Getty Images
  20. بعض ’طاقت ور عناصر‘ جنگ کے تسلسل کو اپنے مفاد میں سمجھتے ہیں: پاکستان فوج

    پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

    پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے ’پُر امید مگر محتاط‘ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ تاہم، بعض ’طاقت ور عناصر‘ بھی موجود ہیں جو جنگ کے تسلسل کو اپنے مفاد میں سمجھتے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں احمد شریف چوہدری نے ان قوتوں کی نشان دہی نہیں کی، تاہم کہا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورۂ تہران مثبت پیش رفت کی علامت ہے۔

    عاصم منیر اکتوبر کے دوران دو مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں۔ پیر کے روز انھوں نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن کے ہمراہ ایرانی حکام سے ملاقات کی تھی۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا، ’اگر کوئی مثبت اشارہ نہ ہوتا تو فیلڈ مارشل دو مرتبہ تہران کیوں جاتے؟‘

    تاہم انھوں نے تہران میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور یہ بھی واضح نہیں کیا کہ آیا امریکہ ان سفارتی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے یا نہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے میں نئے اراکین کی شمولیت کے لیے کوئی رکاوٹ موجود نہیں۔

    ان کے مطابق جو بھی ملک اجتماعی دفاع اور علاقائی امن کے بارے میں مشترکہ مؤقف رکھتا ہو، اس کی شمولیت کا خیر مقدم کیا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ معاہدے میں ایران کی ممکنہ رکنیت کا حتمی فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی سیاسی قیادت کرے گی۔

    یاد رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے سات اگست کو ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    داخلی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پاکستان فوج نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے خلاف کارروائیاں انٹیلیجنس بنیادوں پر جاری ہیں اور ایسے آپریشنز کی رفتار مزید بڑھائی جائے گی۔