امریکی ووٹر بڑھتی ہوئی قیمتوں کو ایک بڑے مسئلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں, ریچل کلن، نیو یارک
گذشتہ چند برسوں کے دوران وسط مدتی انتخابات سے قبل اخراجاتِ زندگی میں اضافہ بہت سے امریکیوں کے لیے ایک اہم مسئلہ رہا ہے، کیونکہ سال بھر کے دوران متعدد بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
لوگوں کو خاص طور پر اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ محسوس ہو رہا ہے، جو ستمبر تک کے ایک سال میں 2.5 فیصد بڑھ چکی ہیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران مجموعی افراطِ زر 3.7 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
اسی مدت میں اوسط فی گھنٹہ اجرت نسبتاً کم رفتار سے بڑھی اور اس میں 3 فیصد اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ لوگوں کی آمدنی قیمتوں میں اضافے کا پورا ساتھ نہیں دے پا رہی۔
افراطِ زر میں اضافے کی بڑی وجوہات میں امریکہ کی ایران کے ساتھ جنگ اور صدر کی جانب سے عائد کردہ محصولات شامل ہیں۔
ستمبر تک کے ایک سال میں گاڑیوں کے ایندھن کی قیمتوں میں 34.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث جنگ کے دوران عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتیں اس سال نئی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں۔