آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو , امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں ووٹنگ جاری، ٹرمپ کے صدارتی دور کو کڑے امتحان کا سامنا

امریکہ کی مختلف ریاستوں میں وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ ملک بھر میں حکومت کی مختلف سطحوں پر انتخابات ہو رہے ہیں تاہم ووٹرز کے لیے سب سے اہم مرحلہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے ارکان کا انتخاب ہے۔ اس وقت کانگریس کے دونوں ایوانوں پر صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول ہے۔ تاہم یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. امریکی ووٹر بڑھتی ہوئی قیمتوں کو ایک بڑے مسئلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں, ریچل کلن، نیو یارک

    گذشتہ چند برسوں کے دوران وسط مدتی انتخابات سے قبل اخراجاتِ زندگی میں اضافہ بہت سے امریکیوں کے لیے ایک اہم مسئلہ رہا ہے، کیونکہ سال بھر کے دوران متعدد بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    لوگوں کو خاص طور پر اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ محسوس ہو رہا ہے، جو ستمبر تک کے ایک سال میں 2.5 فیصد بڑھ چکی ہیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران مجموعی افراطِ زر 3.7 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

    اسی مدت میں اوسط فی گھنٹہ اجرت نسبتاً کم رفتار سے بڑھی اور اس میں 3 فیصد اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ لوگوں کی آمدنی قیمتوں میں اضافے کا پورا ساتھ نہیں دے پا رہی۔

    افراطِ زر میں اضافے کی بڑی وجوہات میں امریکہ کی ایران کے ساتھ جنگ اور صدر کی جانب سے عائد کردہ محصولات شامل ہیں۔

    ستمبر تک کے ایک سال میں گاڑیوں کے ایندھن کی قیمتوں میں 34.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث جنگ کے دوران عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتیں اس سال نئی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں۔

  2. اوہائیو کی ووٹر نے ریاست میں انتخابی مہم کو ’پست سطح‘ کی قرار دے دیا, ٹام بیٹمین، اوہائیو

    میں اس وقت اوہائیو کے شہر کولمبس میں ایک لوتھرن چرچ کے باہر موجود ہوں، جسے عارضی طور پر پولنگ سٹیشن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہم سورج نکلنے کے فوراً بعد یہاں پہنچے تھے اور تب سے ووٹ ڈالنے آنے والوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

    گذشتہ رات یہاں سے چند گھنٹوں کی مسافت پر واقع اوہائیو کے شہر ٹولیڈو میں نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنی انتخابی مہم کا اختتام ریپبلکن ووٹروں سے پولنگ میں بھرپور شرکت کی اپیل کے ساتھ کیا تھا۔

    انھوں نے مجمعے سے خطاب میں کہا ’غیر قانونی صومالی تارکینِ وطن کی غیر قانونی بستیاں پولنگ مراکز میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے منظم ہو رہی ہیں تاکہ آپ کے ووٹ کی اہمیت کم کر دی جائے۔‘

    تاہم انھوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور صرف اتنا کہا کہ انھوں نے یہ بات ایک ’رپورٹ‘ میں پڑھی تھی۔

    میں نے ابھی ایک خاتون ووٹر سے بات کی، جنھوں نے اوہائیو میں جاری انتخابی مہم کو ’انتہائی پست سطح کی‘ قرار دیا اور کہا کہ اسی وجہ سے وہ ووٹ ڈالنے کے لیے گھر سے نکلیں۔

    ان کا کہنا تھا ’یہ نسل پرستی ہے۔ ہماری صومالی برادری کا کاروبار ہر طرف موجود ہیں... وہ ہمارے معاشرے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔‘

  3. امریکہ کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کیلیفورنیا میں پولنگ کا آغاز, ڈیوڈ ولس، لاس اینجلس

    کچھ دیر قبل امریکہ کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کیلیفورنیا میں پولنگ کا آغاز ہوا ہے۔

    پیر کے روز سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایک ہنگامی درخواست مسترد کر دی تھی، جس میں انتظامیہ نے ہزاروں ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے بیلٹ پیپرز سے متعلق تنازع میں مداخلت کی اپیل کی تھی۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ بیلٹ ریاست میں غیر شہری افراد کو جاری کیے گئے تھے۔

    کیلیفورنیا میں تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔ یہ ریاست ڈیموکریٹس کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی ہے اور ایوانِ نمائندگان میں اس کی 52 نشستیں ہیں، جنھیں ڈیموکریٹس اپنے حق میں برقرار رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔

    گذشتہ سال بعض ریپبلکن ریاستوں میں کیے گئے اسی نوعیت کے اقدامات کے ردعمل میں، ووٹروں نے کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کی پیش کردہ ریاست گیر نئی حلقہ بندیِوں کی ایک تجویز کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد حکام نے کانگریس کے کئی حلقوں کے نقشوں میں تبدیلیاں کیں تاکہ وہ ڈیموکریٹ امیدواروں کے لیے زیادہ مسابقتی بن سکیں۔

    گیون نیوسم کے جانشین کے انتخاب اور لاس اینجلس کے میئر کے لیے سخت مقابلے کا فیصلہ کرنے کے علاوہ ووٹر ایک درجن سے زائد دیگر عوامی تجاویز پر بھی رائے دے رہے ہیں۔ ان میں ایک ایسی تجویز بھی شامل ہے، جس کے تحت صحت اور تعلیم کے شعبوں کی مالی معاونت کے لیے ارب پتی افراد پر ایک مرتبہ خصوصی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

  4. نیویارک کی ایک کاؤنٹی میں بیلٹ سکینرز میں خرابی کی اطلاعات

    نیویارک میں حکام ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی میں بیلٹ سکینرز میں خرابی کی اطلاع دے رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ووٹوں کی گنتی پھر بھی کی جائے گی۔

    ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی حکومت کے مطابق یہ مسئلہ کاغذی بیلٹ پیپرز سے متعلق ہے، جس کے باعث ’کاؤنٹی بھر کے پولنگ مراکز پر ووٹنگ مشینیں بیلٹ قبول نہیں کر پا رہیں۔‘

    تاہم حکومت نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ وہ ’ہر ووٹر کو یقین دلانا چاہتی ہے کہ آپ کا ووٹ اہم ہے، آپ کا بیلٹ محفوظ رہے گا اور آپ کا ووٹ شمار کیا جائے گا۔‘

    ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی حکومت کا مزید کہنا ہے کہ اس کا بورڈ آف الیکشنز مسئلے کے حل کے لیے نیویارک ریاستی حکام کے ساتھ ’مسلسل رابطے‘ میں ہے اور ووٹروں کو چاہیے کہ وہ پولنگ عملے کی ہدایات کے مطابق اپنے ووٹ ڈالٹے رہیں۔

  5. ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر ’مکمل کنٹرول‘ کا ایک اور دعویٰ مگر کیا یہ امریکی ووٹروں کے لیے کافی ہے؟, برنڈ ڈیبسمن جونئیر، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس میں آج صبح معمول کے برعکس غیر معمولی خاموشی ہے، جہاں اس وقت موجود چند گنے چنے صحافیوں میں ایک میں بھی شامل ہوں۔

    زیادہ تر صحافی آج بعد میں آئیں گے کیونکہ وائٹ ہاؤس پریس کور کے بہت سے ارکان انتخابی کوریج کے لیے مختلف مقامات پر موجود ہیں۔

    تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج بھی مصروف دکھائی دیتے ہیں اور ٹروتھ سوشل پر مسلسل امیدواروں کی حمایت میں پیغامات پوسٹ کر رہے ہیں۔ کچھ دیر قبل انھوں نے امریکی شہریوں کے پولنگ سٹیشنوں کا رخ کرنے کے دوران فاکس نیوز کو ایک مختصر ٹیلی فونک انٹرویو بھی دیا۔

    اس انٹرویو میں انھوں نے ایک بار پھر ووٹروں سے حمایت کی اپیل کی اور اپنی انتظامیہ کے دور میں معاشی پیش رفت کے ان نکات کا حوالہ دیا، جن میں ان کے بقول ٹپس اور اوور ٹائم پر ٹیکس کا خاتمہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے اعداد و شمار شامل ہیں۔

    انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز پر ان کا ’مکمل کنٹرول‘ ہے۔

    صدر اس نوعیت کے بیانات کثرت سے دیتے ہیں، لیکن رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا یہ پیغام بڑی حد تک امریکی ووٹروں پر اثر انداز نہیں ہوا۔

    جائزوں سے مسلسل یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ ان وسط مدتی انتخابات میں ووٹروں کے لیے معیشت سب سے اہم مسئلہ ہے اور یہ کہ بہت سے امریکی، جن میں ریپبلکن ووٹر بھی شامل ہیں، معیشت سے نمٹنے کے حکومتی طریقۂ کار سے مایوس ہو چکے ہیں۔

    بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کے لیے خاص تشویش کا باعث ہیں اور بہت سے ووٹروں نے اس کی ایک وجہ ایران کے ساتھ جنگ کو قرار دیا ہے۔

    فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے ان خدشات کو مسترد کیا اور وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بارے میں اچھی امید کا اظہار کیا۔

    انھوں نے کہا ’ہم نے واقعی امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا دیا ہے۔‘

    صدر کے آج کے شیڈول میں متعدد تقریبات شامل ہیں، جن میں وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں ایک تقریب بھی شامل ہے۔ فی الحال ان کی آج کی تمام طے شدہ تقریبات میڈیا کے لیے بند ہیں۔

  6. ایران جنگ، مہنگائی اور امیگریشن: امریکی ووٹروں کے ذہنوں پر اثر انداز ہونے والے مسائل کیا ہیں؟

    آج ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ سٹیشنوں کا رخ کرنے والے امریکی ووٹروں کے ذہنوں پر جن مسائل کے اثر انداز ہونے کا امکان ہے، ان میں یہ موضوعات شامل ہیں:

    • مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی: بہت سے امریکی ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ محصولات اور ایران کے ساتھ جنگ کے باعث جزوی طور پر بڑھنے والی یہ لاگت پٹرول اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
    • امیگریشن: ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سرحدی نگرانی سخت کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کیا ہے، کیونکہ ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امیگریشن کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم بعض لوگوں کو تشویش ہے کہ اس حوالے سے کارروائیاں حد سے زیادہ سخت ہو گئی ہیں۔
    • ایران جنگ: اس تنازع کی مقبولیت میں وقت کے ساتھ کمی آئی کیونکہ اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے گئے اور بالآخر امریکی صارفین کو مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم بعض ووٹروں نے ایران کے خلاف فیصلہ کن اقدامات پر ٹرمپ کی تعریف بھی کی۔
    • ڈیٹا سینٹرز: امریکہ کے بعض حصوں میں ڈیٹا سینٹرز کے خلاف عوامی ردِعمل نے مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے ووٹروں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا ہے اور ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس دونوں ہی ان کی مزید تعمیر کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔
    • صحت کی سہولیات: بہت سے ڈیموکریٹ امیدوار ہیلتھ انشورنس کی قیمتوں کو اپنی انتخابی مہم کا بنیادی موضوع بنا رہے ہیں۔ دوسری جانب ریپبلکنز نسخے پر ملنے والی ادویات کی قیمتیں کم کرنے کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔
  7. تمام 50 ریاستوں میں انتخابی نگران تعینات کیے گئے ہیں: امریکی محکمۂ انصاف

    امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار تقریباً 1,000 انتخابی نگرانوں اور مبصرین کو تمام 50 ریاستوں میں تعینات کیا جا رہا ہے۔

    محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ ان نگرانوں کو اس بات کی جانچ کے لیے استعمال کیا جائے گا کہ وفاقی انتخابی قوانین پر عمل درآمد ہو رہا ہے تاکہ ’آزادانہ اور منصفانہ انتخابات‘ کو یقینی بنانے میں مدد مل سکے۔

    ماضی کی حکومتیں بھی اسی نوعیت کی نگرانی کرتی رہی ہیں، تاہم یہ اقدام اس پیمانے پر پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔

    2022 کے وسط مدتی انتخابات کے دوران صدر جو بائیڈن کے دور میں محکمۂ انصاف نے 24 امریکی ریاستوں میں انتخابی نگران تعینات کیے تھے۔

  8. ڈیموکریٹ رکن کانگریس ہیلی سٹیونز اپنی جماعت کے امیداوار عبدل السیّد کی مخالفت پر قائم

    ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس ہیلی سٹیونز نے مشیگن کی اہم سینیٹ نشست کے لیے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

    عبدل السیّد کے مقابلے میں ڈیموکریٹ پارٹی سے نامزدگی حاصل کرنے میں ناکام رہنے والی سٹیونز کو اس اقدام پر اپنی جماعت کے ارکان کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    گذشتہ رات ایکس پر 890 الفاظ پر مشتمل ایک پوسٹ میں سٹیونز نے راجرز کی حمایت کی اپنی وجوہات بیان کیں، جن میں شامل ہیں:

    • سیاسی اشتہارات: سٹیونز نے مائیک راجرز کے خلاف چلنے والے تنقیدی اشتہارات، خواہ وہ غیر سرکاری ہوں یا عبدل السیّد کی انتخابی مہم کی جانب سے، کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ لوگوں کو ’ایک جگہ متحد کرنے‘ کا طریقہ نہیں ہیں۔
    • حسن پائیکر: انھوں نے عبدل السیّد کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاسی مبصر اور سٹریمر حسن پائیکر سے تعلق پر تنقید کی۔
    • ’الگ تھلگ رکھنا‘: سٹیونز کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا تھا کہ وہ عبدل السیّد کی انتخابی مہم کی تقریبات میں شرکت نہیں کر سکتیں اور ان کے مطابق اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ ’ایک ایسی پوری ریاست کی نمائندگی کیسے کر سکتے ہیں جس میں ان سے اختلاف رکھنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔‘
  9. ڈیموکریٹس کو امید ہے وہ آئیووا کو ریپبلکنز سے چھین لیں گے, سمیرا حسین، آئیووا

    آئیووا کے شہر ڈی موئنز میں پولنگ کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ وہ اس ریاست کو، جو طویل عرصے سے ریپبلکنز کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی ہے، اپنے حق میں کر لیں گے۔

    اس انتخاب کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے بارے میں عوامی رائے شماری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    اگرچہ ٹرمپ خود اس انتخاب میں امیدوار نہیں ہیں، لیکن انھوں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے ووٹ دیں جیسے وہ خود بیلٹ پر موجود ہوں۔

    تاہم، بہت سے لوگ عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کے مطابق معیشت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سب سے اہم مسائل ہیں۔

    ڈیموکریٹس ملک کی معاشی مشکلات کا ذمہ دار موجودہ انتظامیہ کو قرار دیتے رہے ہیں۔ دوسری جانب ریپبلکنز اس مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ڈیموکریٹس کو ووٹ دینا انتہا پسند اور بنیاد پرست عناصر کو ووٹ دینے کے مترادف ہے۔

    ملک بھر میں اب تک 5 کروڑ 80 لاکھ امریکی ابتدائی ووٹنگ میں اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں، جو وسط مدتی انتخابات کے لیے ریکارڈ ٹرن آؤٹ ہے۔

  10. شدید موسمی حالات کے باعث فلوریڈا میں پولنگ سٹیشن دوسرے مقامات پر منتقل

    فلوریڈا میں سیلاب کے باعث انتخابی حکام عارضی طور پر 19 پولنگ سٹیشنوں کو منتقل کر رہے ہیں۔

    پیر کے روز فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے متعدد کاؤنٹیوں میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا۔

    بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی ایس کے مطابق اس حکم نامے کے تحت انتخابی نگرانوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جب اصل پولنگ مراکز ووٹروں کے لیے غیر محفوظ یا ناقابلِ رسائی ہو جائیں تو وہ پولنگ اسٹیشنوں کا مقام تبدیل کر سکیں۔

    فلوریڈا کے محکمہ برائے ہنگامی انتظام کا کہنا ہے کہ وہ ریاست بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو پمپ، جنریٹرز اور دیگر وسائل فراہم کر رہا ہے۔

  11. وسط مدتی انتخابات اور ٹرمپ کی حکمت عملی: ’سمجھیں کہ میں خود بیلٹ پیپر پر ہوں‘, برنڈ ڈیبسمن جونیئر، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس

    وسط مدتی انتخابات کی مہم کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً ہر انتخابی جلسے میں ووٹروں کے سامنے ایک ہی اپیل دہرائی ہے: ’سمجھیں کہ میں خود بیلٹ پیپر پر موجود ہوں۔‘

    بنیادی طور پر ٹرمپ کو امید ہے کہ 2024 کے صدارتی انتخاب کا منظرنامہ دوبارہ دہرایا جائے گا، جس میں لاکھوں ووٹروں کی ذاتی وفاداری اور صدر جو بائیڈن اور ڈیموکریٹس سے عدم اطمینان نے انھیں اور ریپبلکن پارٹی کو دوبارہ وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے کنٹرول تک پہنچایا تھا۔

    تاہم صدر خود بیلٹ پر موجود نہیں ہیں اور ان کی باضابطہ سیاسی زندگی ان کی مدتِ صدارت کے اختتام پر ختم ہو جائے گی۔

    ان کی حکمتِ عملی، یعنی ہزاروں مقامی اور ریاستی انتخابات کو قومی سیاست کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش، ایک غیر معمولی حکمتِ عملی ہے۔

    واضح طور پر ان کا خیال ہے کہ ان کی ذات کے لیے ووٹروں کا جوش و خروش ریپبلکن امیدواروں کو کامیابی دلائے گا اور اس تاریخی رجحان کو روک دے گا، جس کا وہ خود بارہا اعتراف کر چکے ہیں، یعنی یہ کہ اقتدار میں موجود جماعتیں وسط مدتی انتخابات میں عموماً سخت سیاسی نقصان اٹھاتی ہیں۔

  12. امریکی سینیٹ میں برتری کا فیصلہ کرنے والی اہم ریاستیں

    ریپبلکنز اس وقت ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

    رائے عامہ کے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں نشستوں کی اکثریت حاصل کر سکتے ہیں۔

    تاہم سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی دوڑ کہیں زیادہ پیچیدہ نظر آتی ہے۔

    یہ وہ اہم ریاستیں ہیں جو یہ طے کریں گی کہ آئندہ دو برسوں میں سینیٹ کا کنٹرول کون سی جماعت جماعت کے پاس ہوگا:

    • الاسکا: ریپبلکن ڈین سلیوان، جو دوبارہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، کو اس بار ڈیموکریٹ امیدوار میری پیلٹولا اور آزاد امیدوار ڈینیئل جے سلیوان کا سامنا۔
    • مین: سوزن کولنز چھٹی مدت کے لیے انتخاب لڑ رہی ہیں، جہاں ان کا مقابلہ ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن سے ہے۔
    • ٹیکساس: اس مقابلے میں کوئی موجودہ سینیٹر شامل نہیں، جس کے باعث ڈیموکریٹ جیمز ٹالاریکو اور ریپبلکن کین پیکسٹن کے درمیان ایک انتہائی سخت مقابلہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
    • کنساس: میگا چرچ کے پادری ایڈم ہیملٹن موجودہ ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کے خلاف ڈیموکریٹ امیدوار ہیں۔ یہ غیر متوقع طور پر ایک سخت مقابلہ ہے حالانکہ یہ ریاست کئی دہائیوں سے مسلسل ریپبلکنز کو ووٹ دیتی رہی ہے۔
    • مشیگن: چونکہ اس انتخاب میں کوئی موجودہ سینیٹر امیدوار نہیں، اس لیے مشیگن میں یہ الیکشن سب سے زیادہ زیرِ نظر مقابلوں میں شامل ہے۔ یہاں ڈیموکریٹ عبدل السیّد امریکہ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن سکتے ہیں، تاہم انھیں ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے خلاف سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
  13. امریکہ میں وسط مدتی انتخابات صدر ٹرمپ کو کیسے متاثر کر سکتے ہیں؟

    امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں پولنگ شروع ہو چکی ہے۔

    کانگریس دو ایوانوں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان پر مشتمل ہے۔ انتخابی نتائج طے کریں گے کہ صدر ٹرمپ کے لیے اگلے دو سال تک حکومت کرنا آسان ہو گا یا دشوار۔

  14. کیا ٹرمپ سیاسی روایات کے برخلاف نتائج حاصل کر سکتے ہیں؟

    زیادہ تر جائزے اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں، تاہم اگر ٹرمپ اور ان کی جماعت توقعات سے زیادہ نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ پہلی بار نہیں ہو گا کہ انھوں نے رائے عامہ کے جائزوں کی پیش گوئیوں سے بہتر نتائج حاصل کیے ہوں۔

    ریپبلکن جماعت کے حق میں موجود چند عوامل میں سے ایک ان کی نمایاں مالی برتری ہے۔

    اکتوبر کے وسط تک ریپبلکن نیشنل کمیٹی اور اس سے وابستہ گروپوں کے پاس تقریباً 32 کروڑ ڈالر موجود تھے، جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس اس کے مقابلے میں تقریباً 23 کروڑ ڈالر تھے۔

    اس کے علاوہ ریپبلکنز کے پاس ٹرمپ کے میگا اِنک گروپ کے تحت 16 کروڑ ڈالرسے زائد فنڈز بھی موجود تھے، جو ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ سیاسی تحریک کے لیے چندہ جمع کرنے اور اخراجات کرنے والا مرکزی ادارہ ہے۔

    ریپبلکنز اپنی اس مالی برتری کو اشتہاری مہم پر خرچ کر رہے ہیں۔

    تحقیقی ادارے ایڈ امپیکٹ کے مطابق ستمبر میں امریکی ووٹرز کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے سیاسی اشتہارات نشر کیے گئے۔ ریپبلکنز نے ڈیموکریٹس کے مقابلے میں تقریباً 20 کروڑ ڈالر زیادہ خرچ کیے اور سینیٹ کی تقریباً تمام ان نشستوں میں ان کا اشتہاری خرچ زیادہ رہا جنھیں سخت مقابلے والی نشستیں قرار دیا گیا تھا۔

    ٹرمپ کو امید ہو گی کہ انتخاب سے قبل پیغام رسانی کی یہ بھرپور مہم زیادہ سے زیادہ ریپبلکن ووٹرز کو آج ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرے گی، جس سے ووٹر ٹرن آؤٹ میں اضافہ ہو گا اور ان کی جماعت کو ممکنہ نقصان کم کرنے میں مدد ملے گی۔

    نتیجہ جو بھی ہو، توجہ جلد ہی سنہ 2028 کے صدارتی انتخابات کی جانب منتقل ہو جائے گی۔ وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کی غیر مقبولیت ایک مرکزی موضوع رہی ہے، لیکن چونکہ آئینی طور پر وہ تیسری بار صدارتی انتخاب نہیں لڑ سکتے، اس لیے آئندہ توجہ اس بات پر مرکوز ہو گی کہ ڈیموکریٹس کن پالیسیوں اور نظریات کی نمائندگی کرتے ہیں، نہ کہ صرف اس بات پر کہ وہ کن معاملات کی مخالفت کرتے ہیں۔

  15. امریکی ووٹرز کے لیے اہم مسائل کیا ہیں؟

    ٹرمپ نے اپنی سنہ 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ’مہنگائی کا خاتمہ‘ کرنے اور امریکہ میں اخراجات زندگی کو دوبارہ قابلِ برداشت بنانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجات زندگی کی موجودہ لاگت ووٹرز کے لیے سب سے اہم مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے رواں 24 فروری کو اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں فخر کے ساتھ کہا تھا کہ بیشتر ریاستوں میں پیٹرول کی قیمت ’2.30 ڈالر فی گیلن سے بھی کم‘ ہو چکی ہے۔ تاہم چار روز بعد ایران کے ساتھ جنگ شروع ہو گئی، جس سے مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی اور امریکہ میں پیٹرول کی قیمت بڑھ کر چار ڈالر فی گیلن تک جا پہنچی۔

    جنگ کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جانے لگے اور اس کے معاشی نتائج بالآخر امریکی صارفین پر بھی پڑے، جس کے باعث یہ جنگ بتدریج غیر مقبول ہوتی گئی۔ اگست میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 63 فیصد جواب دہندگان نے اس صورتحال سے نمٹنے کے ٹرمپ کے طریقہ کار کو ناپسند کیا۔

    ووٹرز کے نزدیک دیگر اہم مسائل میں صحت کی سہولیات اور امیگریشن بھی شامل ہیں۔

    ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں امیگریشن سے متعلق اپنی پالیسیوں کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد عبور کرنے والوں کی تعداد حالیہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔

    دوسری جانب کئی ڈیموکریٹ امیدوار امریکی صحت انشورنس نظام کی بڑھتی ہوئی لاگت اور ٹرمپ کی قانون سازی کے صحت کی سہولیات تک رسائی پر پڑنے والے اثرات کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی موضوع بنا رہے ہیں۔

  16. امریکی سینیٹ پر کنٹرول کی جنگ

    ریپبلکن جماعت کی سینیٹ پر گرفت نسبتاً زیادہ مضبوط ہے۔ 100 رکنی سینیٹ میں ان کے پاس 53 نشستیں ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 45 نشستیں ہیں اور دو آزاد ارکان بھی ان کے ساتھ ووٹ دیتے ہیں۔

    سینیٹ کے ارکان چھ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں، اس لیے ہر دو سال بعد تقریباً ایک تہائی نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں۔

    نومبر 2026 میں سینیٹ کی 35 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں، تاہم کُک پولیٹیکل رپورٹ کے تجزیے کے مطابق ان میں سے صرف سات نشستیں ایسی ہیں جن پر کسی بھی جماعت کی کامیابی ممکن ہو سکتی ہے۔

    ان سات غیر یقینی نشستوں میں سے چھ اس وقت ریپبلکنز اور ایک ڈیموکریٹس کے پاس ہے۔ سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ان سات میں سے چار نشستیں جیتنا ہوں گی، ساتھ ہی ان چار نشستوں کو بھی برقرار رکھنا ہو گا جنھیں ڈیموکریٹس کے حق میں جھکاؤ رکھنے والی یا ان کی ممکنہ کامیابی والی نشستیں قرار دیا گیا ہے، تاکہ ان کی مجموعی تعداد 51 تک پہنچ سکے۔

    تاہم ڈیموکریٹس کے لیے اکثریت حاصل کرنا آسان نہیں ہو گا۔

    انھیں مشیگن میں اپنی موجودہ نشست کا دفاع بھی کرنا ہو گا، جہاں بعض سرویز کے مطابق بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نسبتاً غیر روایتی امیدوار عبدال السید اور ان کے ریپبلکن حریف مائیک راجرز، جو ٹرمپ کے اتحادی اور سابق ایف بی آئی اہلکار ہیں، کے درمیان مقابلہ ڈیموکریٹس کی توقع سے زیادہ سخت ہے۔

    اس کے علاوہ ڈیموکریٹس کو ان ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کرنا ہو گی جہاں سنہ 2024 میں ٹرمپ نے بڑی کامیابی حاصل کی تھی، جن میں الاسکا، آئیووا اور اوہائیو شامل ہیں۔

    تاہم رائے عامہ کے جائزوں سے عندیہ ملتا ہے کہ ڈیموکریٹس کے پاس مواقع موجود ہیں، حتیٰ کہ ٹیکساس میں بھی، جہاں جیمز ٹالاریکو موجودہ ریاستی اٹارنی جنرل اور ٹرمپ کے قریبی اتحادی کین پیکسٹن کو شکست دے کر 1988 کے بعد سینیٹ کی نشست جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹ بن سکتے ہیں۔

  17. امریکی ایوانِ نمائندگان پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مقابلہ

    کانگریس کے ایوانِ نمائندگان، یعنی ایوانِ زیریں، میں ریپبلکن جماعت کو فی الحال حاصل اکثریت انتہائی معمولی ہے۔ اُن کے پاس 218 نشستیں ہیں، جو ایوان پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے درکار کم از کم تعداد ہے، جبکہ ایک آزاد رکن بھی اُن کے ساتھ ووٹ دیتا ہے۔

    ایوانِ نمائندگان کے ارکان کی مدتِ رکنیت دو سال ہوتی ہے، چنانچہ اس لیے ہر دو سال بعد نومبر کے پہلے منگل کو ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں۔

    تاہم اس کے زیادہ تر انتخابی حلقوں کو سخت مقابلے والا نہیں سمجھا جاتا کیونکہ وہاں موجود جماعت کو اتنی مضبوط حمایت حاصل ہوتی ہے کہ نتیجہ تقریباً طے شدہ تصور کیا جاتا ہے۔

    انتخابی مہمات اور انتخابات کا تجزیہ کرنے والے ادارے ’کُک پولیٹیکل رپورٹ‘ کے مطابق صرف 18 حلقے ایسے ہیں جنھیں ’ٹاس اپ‘ قرار دیا گیا ہے، یعنی جہاں دونوں جماعتوں میں سے کوئی بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔

    ان 18 حلقوں میں سے 14 پر اس وقت ریپبلکن اور چار پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہے۔ تاہم اگر ڈیموکریٹس ان میں سے ایک بھی نشست نہ جیتیں، تب بھی وہ ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ان 36 نشستوں میں کامیاب ہو جائیں جنھیں ڈیموکریٹس کے حق میں جھکاؤ رکھنے والی یا ان کی ممکنہ کامیابی والی نشستیں قرار دیا گیا ہے۔

    تاریخی طور پر وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان میں بڑی تعداد میں نشستوں کا تبادلہ ہوتا ہے، جسے عموماً وائٹ ہاؤس کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ سنہ 1934 سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق برسرِ اقتدار صدر کی جماعت مڈٹرم میں اوسطاً 27 نشستیں کھو دیتی ہے۔ سنہ 1934 کے بعد ہونے والے 23 وسط مدتی انتخابات میں برسراقتدار صدر کی جماعت صرف تین مواقع پر اپنی نشستوں میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

  18. ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کی مقبولیت میں کمی آئی ہے

    اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے پاس کانگریس کا کنٹرول واپس حاصل کرنے میں ایک اہم عنصر صدر ٹرمپ کی کم ہوتی عوامی مقبولیت بھی ہے۔

    پولنگ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والی ویب سائٹ ’سلور بلیٹن‘ کے مطابق، ٹرمپ نے اپنے دور صدارت کا آغاز 50 فیصد سے کچھ زائد عوامی حمایت کے ساتھ کیا تھا، تاہم ان کے حلف اٹھانے کے کچھ عرصہ بعد یہ شرح کم ہو کر جلد ہی 40 فیصد کی سطح تک گر گئی تھی۔

    رواں سال فروری میں جب ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف فضائی حملے شروع کرنے کا فیصلہ کیا تو اُن کی عوامی مقبولیت تقریباً 42 فیصد کے قریب تھی، تاہم اس کے فوراً بعد یہ شرح 40 فیصد سے بھی نیچے چلی گئی اور اس وقت اُن کی مقبولیت تقریباً 38 فیصد کے لگ بھگ ہے۔

    آٹھ سال قبل اپنی پہلی صدارتی مدت کے اِسی مرحلے پر (یعنی مڈ ٹرم کے قریب) ٹرمپ کی مقبولیت 43 فیصد تھی، جو موجودہ شرح سے نمایاں طور پر زیادہ تھی۔ اُسی مرحلے پر جو بائیڈن کی مقبولیت 40 فیصد تھی۔

    ٹرمپ کی کم عوامی مقبولیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ ڈیموکریٹس کیوں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی کے لیے پُرامید ہیں اور کیوں انھوں نے اپنی توجہ ان ریاستوں پر مرکوز کر رکھی ہے جہاں حالیہ برسوں میں ریپبلکن جماعت مسلسل کامیاب ہوتی رہی ہے۔

  19. امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کا دن: بہت کچھ داؤ پر لگا ہے, انتھونی زرچر، نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    امریکہ میں آج بالآخر وست مدتی انتخابات ہو رہے ہیں، اور اس بار بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں، یعنی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مقابلہ ہو رہا ہے۔

    کئی ایسی ریاستوں میں، جو 2028 کے صدارتی انتخابات میں اہم انتخابی میدان بن سکتی ہیں، ووٹرز یہ بھی طے کر رہے ہیں کہ ان کی ریاستی اسمبلیوں اور گورنر کے عہدوں کا کنٹرول کس کے پاس ہو گا۔

    پانچ ریاستوں میں ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق سے متعلق معاملات پر ووٹنگ ہو رہی ہے، جبکہ کئی دیگر ریاستوں میں اسقاطِ حمل سے متعلق اقدامات بیلٹ پر موجود ہیں۔ اسی دوران کیلیفورنیا کے ووٹرز ارب پتی افراد کی دولت پر مجوزہ متنازع نئے ٹیکس پر بھی غور کر رہے ہیں۔

    ڈیموکریٹک ووٹروں کے لیے یہ پہلا موقع ہے کہ وہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں اپنی جماعت کی بھاری شکست کے بعد کسی وفاقی انتخاب میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ دوسری جانب ریپبلکنز یہ یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں اپنی مدت کے آخری دو برس کے دوران کانگریس میں موافق ماحول میسر رہے۔

    اگرچہ عوامی رائے کے جائزے اور تاریخی رجحانات یہ اشارہ دیتے ہیں کہ اقتدار سے باہر رہنے والی ڈیموکریٹک جماعت کے لیے یہ رات بہتر ثابت ہو سکتی ہے، لیکن ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک کچھ بھی یقینی نہیں کہا جا سکتا۔

    اس عمل کا آغاز آج شام ہو گا، جب مشرقی ساحل کی پہلی پولنگ بند ہو گی۔

  20. امریکی وسط مدتی انتخابات: مشرقی ساحل کی ریاستوں میں پولنگ کا آغاز

    امریکہ کے مشرقی ساحل (ایسٹ کوسٹ) پر اس وقت صبح کے 6 بجے ہیں اور اس خطے کی مختلف ریاستوں میں پولنگ کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے، جن میں نیویارک، نیو جرسی، ورجینیا، مین اور کینٹکی شامل ہیں۔

    امریکی ریاست ورمونٹ میں پولنگ ایک گھنٹہ قبل شروع ہوئی تھی، جبکہ نارتھ کیرولائنا، اوہائیو اور ویسٹ ورجینیا میں ووٹرز آدھے گھنٹے بعد ووٹنگ شروع ہو گی۔

    مزید پولنگ سٹیشن کھلنے کے ساتھ، ووٹرز ایسے اہم انتخابات میں امیدواروں کا انتخاب کر رہے ہیں جو امریکی کانگریس میں طاقت کے توازن کے ساتھ ساتھ بعض ریاستوں کے گورنر کے عہدوں کا بھی فیصلہ کریں گے۔

    آج آنے والے نتائج کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کے مضمرات اس ملک سے کہیں آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔