آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو , ایران جنگ، مہنگائی اور امیگریشن: امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹروں کے ذہنوں میں کیا ہے؟

امریکہ کی مختلف ریاستوں میں وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ ملک بھر میں حکومت کی مختلف سطحوں پر انتخابات ہو رہے ہیں تاہم ووٹرز کے لیے سب سے اہم مرحلہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے ارکان کا انتخاب ہے۔ اس وقت کانگریس کے دونوں ایوانوں پر صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول ہے۔ تاہم یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. امریکی ایوانِ نمائندگان پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مقابلہ

    کانگریس کے ایوانِ نمائندگان، یعنی ایوانِ زیریں، میں ریپبلکن جماعت کو فی الحال حاصل اکثریت انتہائی معمولی ہے۔ اُن کے پاس 218 نشستیں ہیں، جو ایوان پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے درکار کم از کم تعداد ہے، جبکہ ایک آزاد رکن بھی اُن کے ساتھ ووٹ دیتا ہے۔

    ایوانِ نمائندگان کے ارکان کی مدتِ رکنیت دو سال ہوتی ہے، چنانچہ اس لیے ہر دو سال بعد نومبر کے پہلے منگل کو ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں۔

    تاہم اس کے زیادہ تر انتخابی حلقوں کو سخت مقابلے والا نہیں سمجھا جاتا کیونکہ وہاں موجود جماعت کو اتنی مضبوط حمایت حاصل ہوتی ہے کہ نتیجہ تقریباً طے شدہ تصور کیا جاتا ہے۔

    انتخابی مہمات اور انتخابات کا تجزیہ کرنے والے ادارے ’کُک پولیٹیکل رپورٹ‘ کے مطابق صرف 18 حلقے ایسے ہیں جنھیں ’ٹاس اپ‘ قرار دیا گیا ہے، یعنی جہاں دونوں جماعتوں میں سے کوئی بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔

    ان 18 حلقوں میں سے 14 پر اس وقت ریپبلکن اور چار پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہے۔ تاہم اگر ڈیموکریٹس ان میں سے ایک بھی نشست نہ جیتیں، تب بھی وہ ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ان 36 نشستوں میں کامیاب ہو جائیں جنھیں ڈیموکریٹس کے حق میں جھکاؤ رکھنے والی یا ان کی ممکنہ کامیابی والی نشستیں قرار دیا گیا ہے۔

    تاریخی طور پر وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان میں بڑی تعداد میں نشستوں کا تبادلہ ہوتا ہے، جسے عموماً وائٹ ہاؤس کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ سنہ 1934 سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق برسرِ اقتدار صدر کی جماعت مڈٹرم میں اوسطاً 27 نشستیں کھو دیتی ہے۔ سنہ 1934 کے بعد ہونے والے 23 وسط مدتی انتخابات میں برسراقتدار صدر کی جماعت صرف تین مواقع پر اپنی نشستوں میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

  2. ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کی مقبولیت میں کمی آئی ہے

    اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے پاس کانگریس کا کنٹرول واپس حاصل کرنے میں ایک اہم عنصر صدر ٹرمپ کی کم ہوتی عوامی مقبولیت بھی ہے۔

    پولنگ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والی ویب سائٹ ’سلور بلیٹن‘ کے مطابق، ٹرمپ نے اپنے دور صدارت کا آغاز 50 فیصد سے کچھ زائد عوامی حمایت کے ساتھ کیا تھا، تاہم ان کے حلف اٹھانے کے کچھ عرصہ بعد یہ شرح کم ہو کر جلد ہی 40 فیصد کی سطح تک گر گئی تھی۔

    رواں سال فروری میں جب ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف فضائی حملے شروع کرنے کا فیصلہ کیا تو اُن کی عوامی مقبولیت تقریباً 42 فیصد کے قریب تھی، تاہم اس کے فوراً بعد یہ شرح 40 فیصد سے بھی نیچے چلی گئی اور اس وقت اُن کی مقبولیت تقریباً 38 فیصد کے لگ بھگ ہے۔

    آٹھ سال قبل اپنی پہلی صدارتی مدت کے اِسی مرحلے پر (یعنی مڈ ٹرم کے قریب) ٹرمپ کی مقبولیت 43 فیصد تھی، جو موجودہ شرح سے نمایاں طور پر زیادہ تھی۔ اُسی مرحلے پر جو بائیڈن کی مقبولیت 40 فیصد تھی۔

    ٹرمپ کی کم عوامی مقبولیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ ڈیموکریٹس کیوں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی کے لیے پُرامید ہیں اور کیوں انھوں نے اپنی توجہ ان ریاستوں پر مرکوز کر رکھی ہے جہاں حالیہ برسوں میں ریپبلکن جماعت مسلسل کامیاب ہوتی رہی ہے۔

  3. امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کا دن: بہت کچھ داؤ پر لگا ہے, انتھونی زرچر، نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    امریکہ میں آج بالآخر وست مدتی انتخابات ہو رہے ہیں، اور اس بار بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں، یعنی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مقابلہ ہو رہا ہے۔

    کئی ایسی ریاستوں میں، جو 2028 کے صدارتی انتخابات میں اہم انتخابی میدان بن سکتی ہیں، ووٹرز یہ بھی طے کر رہے ہیں کہ ان کی ریاستی اسمبلیوں اور گورنر کے عہدوں کا کنٹرول کس کے پاس ہو گا۔

    پانچ ریاستوں میں ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق سے متعلق معاملات پر ووٹنگ ہو رہی ہے، جبکہ کئی دیگر ریاستوں میں اسقاطِ حمل سے متعلق اقدامات بیلٹ پر موجود ہیں۔ اسی دوران کیلیفورنیا کے ووٹرز ارب پتی افراد کی دولت پر مجوزہ متنازع نئے ٹیکس پر بھی غور کر رہے ہیں۔

    ڈیموکریٹک ووٹروں کے لیے یہ پہلا موقع ہے کہ وہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں اپنی جماعت کی بھاری شکست کے بعد کسی وفاقی انتخاب میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ دوسری جانب ریپبلکنز یہ یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں اپنی مدت کے آخری دو برس کے دوران کانگریس میں موافق ماحول میسر رہے۔

    اگرچہ عوامی رائے کے جائزے اور تاریخی رجحانات یہ اشارہ دیتے ہیں کہ اقتدار سے باہر رہنے والی ڈیموکریٹک جماعت کے لیے یہ رات بہتر ثابت ہو سکتی ہے، لیکن ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک کچھ بھی یقینی نہیں کہا جا سکتا۔

    اس عمل کا آغاز آج شام ہو گا، جب مشرقی ساحل کی پہلی پولنگ بند ہو گی۔

  4. امریکی وسط مدتی انتخابات: مشرقی ساحل کی ریاستوں میں پولنگ کا آغاز

    امریکہ کے مشرقی ساحل (ایسٹ کوسٹ) پر اس وقت صبح کے 6 بجے ہیں اور اس خطے کی مختلف ریاستوں میں پولنگ کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے، جن میں نیویارک، نیو جرسی، ورجینیا، مین اور کینٹکی شامل ہیں۔

    امریکی ریاست ورمونٹ میں پولنگ ایک گھنٹہ قبل شروع ہوئی تھی، جبکہ نارتھ کیرولائنا، اوہائیو اور ویسٹ ورجینیا میں ووٹرز آدھے گھنٹے بعد ووٹنگ شروع ہو گی۔

    مزید پولنگ سٹیشن کھلنے کے ساتھ، ووٹرز ایسے اہم انتخابات میں امیدواروں کا انتخاب کر رہے ہیں جو امریکی کانگریس میں طاقت کے توازن کے ساتھ ساتھ بعض ریاستوں کے گورنر کے عہدوں کا بھی فیصلہ کریں گے۔

    آج آنے والے نتائج کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کے مضمرات اس ملک سے کہیں آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔

  5. امریکہ میں وسط انتخابات آج ہو رہے ہیں

    امریکہ میں آج (تین نومبر) ووٹرز پولنگ سٹیشنوں کا رُخ کر رہے ہیں تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کا باقی دور کس طرح گزرے گا۔

    امریکہ بھر میں حکومت کے مختلف سطحوں پر انتخابات ہو رہے ہیں، تاہم ووٹرز کے لیے سب سے اہم مرحلہ ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) اور سینیٹ کے ارکان کا انتخاب ہو گا۔ ایوان نمائندگان اور سینیٹ مل کر کانگریس تشکیل دیتے ہیں۔

    اس وقت کانگریس کے دونوں ایوانوں پر صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول ہے۔ ٹرمپ کے اقتدار کے رہ جانے والے آخری دو برسوں کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار اِن وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر ہو سکتا ہے۔

  6. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے متعلق اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔