امریکی ایوانِ نمائندگان پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مقابلہ
کانگریس کے ایوانِ نمائندگان، یعنی ایوانِ زیریں، میں ریپبلکن جماعت کو فی الحال حاصل اکثریت انتہائی معمولی ہے۔ اُن کے پاس 218 نشستیں ہیں، جو ایوان پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے درکار کم از کم تعداد ہے، جبکہ ایک آزاد رکن بھی اُن کے ساتھ ووٹ دیتا ہے۔
ایوانِ نمائندگان کے ارکان کی مدتِ رکنیت دو سال ہوتی ہے، چنانچہ اس لیے ہر دو سال بعد نومبر کے پہلے منگل کو ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں۔
تاہم اس کے زیادہ تر انتخابی حلقوں کو سخت مقابلے والا نہیں سمجھا جاتا کیونکہ وہاں موجود جماعت کو اتنی مضبوط حمایت حاصل ہوتی ہے کہ نتیجہ تقریباً طے شدہ تصور کیا جاتا ہے۔
انتخابی مہمات اور انتخابات کا تجزیہ کرنے والے ادارے ’کُک پولیٹیکل رپورٹ‘ کے مطابق صرف 18 حلقے ایسے ہیں جنھیں ’ٹاس اپ‘ قرار دیا گیا ہے، یعنی جہاں دونوں جماعتوں میں سے کوئی بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔
ان 18 حلقوں میں سے 14 پر اس وقت ریپبلکن اور چار پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہے۔ تاہم اگر ڈیموکریٹس ان میں سے ایک بھی نشست نہ جیتیں، تب بھی وہ ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ان 36 نشستوں میں کامیاب ہو جائیں جنھیں ڈیموکریٹس کے حق میں جھکاؤ رکھنے والی یا ان کی ممکنہ کامیابی والی نشستیں قرار دیا گیا ہے۔
تاریخی طور پر وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان میں بڑی تعداد میں نشستوں کا تبادلہ ہوتا ہے، جسے عموماً وائٹ ہاؤس کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ سنہ 1934 سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق برسرِ اقتدار صدر کی جماعت مڈٹرم میں اوسطاً 27 نشستیں کھو دیتی ہے۔ سنہ 1934 کے بعد ہونے والے 23 وسط مدتی انتخابات میں برسراقتدار صدر کی جماعت صرف تین مواقع پر اپنی نشستوں میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔