وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی قیمتی معدنیات میں امریکہ، چین، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم کسی ملک کو نہ کوئی کان دی گئی ہے اور نہ ہی کوئی ٹھیکہ دیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ معدنیات کے شعبے میں فی الحال صرف ابتدائی سطح کی بات چیت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اپنے وسائل کے باوجود بیرونی سرمایہ کاری اور تکنیکی معاونت کے بغیر ان معدنی ذخائر سے بھرپور استفادہ نہیں کر سکتا، اس لیے ایسے شراکت داروں کے ساتھ کام کیا جائے گا جن کے ساتھ پاکستان کے مفادات محفوظ ہوں۔
سنیچر کو سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنس کی بڑی تعداد پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں جاری ہوئی جب کہ اس شعبے میں عسکری اداروں کا براہِ راست حصہ نہیں تھا۔
خواجہ آصف نے کہا ہے کہ قیام پاکستان سے 2010 تک خیبرپختونخوا میں معدنیات کے 482 لائسنس یا ٹائٹلز جاری ہوئے جب کہ 2020 تک یہ تعداد بڑھ کر ایک ہزار 762، فروری 2024 تک 3 ہزار 962 اور موجودہ وقت میں 4 ہزار 917 ہوچکی ہے، ان میں سے 4 ہزار 133 لائسنس آباد اضلاع اور 784 ضم شدہ اضلاع میں جاری کیے گئے۔
انھوں نے کہا کہ اس پورے عرصے میں عسکری ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو صرف ایک لائسنس ملا جو 2015 میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں دیا گیا تھا، ایف ڈبلیو او تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیر غور ہیں جن میں سے کوئی بھی عسکری ادارے کی جانب سے نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ فوج نے تمام محاذ پر لیڈ کیا ہے، فیلڈ مارشل نے لیڈ کیا ہے۔ سٹیل مل کو تالے لگ چکے ہیں اور قومی تحویل میں ادارے تباہ ہو چکے ہیں مگر ایسے میں فوجی فاونڈیشن نے 323 ارب روپے ٹیکس جمع کرایا۔
’معدنی وسائل صوبے کی خوشحالی کے لیے استعمال ہوں گے، امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں‘: گورنر کے پی
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ صوبے کے معدنی وسائل کو عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ایک تجربہ کار اور زیرک سیاست دان ہیں، تاہم ان کی حالیہ تقریر سے مایوسی ہوئی۔ ان کے بقول مولانا فضل الرحمان خود ماضی میں صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال کا ذکر کرتے رہے ہیں اور یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنے بعض علاقوں میں آزادانہ نقل و حرکت بھی نہیں کر سکتے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں ماضی کی حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر عزم کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بی ایل اے سمیت مختلف شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور خیبرپختونخوا میں بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے معدنی وسائل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر صوبے میں معدنیات موجود ہیں تو انھیں نکال کر مقامی آبادی کی ترقی، خوشحالی اور روزگار کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خیبرپختونخوا کے معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔
انھوں نے کہا کہ معدنی وسائل سے استفادے کے نتیجے میں صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا، تاہم بعض عناصر ایسے ہیں جو صوبے کے لوگوں کی خوشحالی نہیں چاہتے۔
مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر تنقید کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر گورنر راج کو غیر جمہوری قرار دیا جاتا ہے تو ماضی کے بعض سیاسی فیصلوں کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ کسی مخصوص جماعت کے بغیر حکومت نہیں چل سکتی، کیونکہ خیبرپختونخوا میں موجودہ حکومت قائم بھی ہے اور اپنا کام بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
انھوں نے کہا کہ صوبے کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں اور تمام سیاسی قوتوں کو اس مقصد کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ انھوں نے مولانا فضل الرحمان کو بھی دعوت دی کہ وہ صوبے کی ترقی اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کا حصہ بنیں۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ جن عناصر نے ماضی میں صوبے کے امن کو نقصان پہنچایا، ان کا باب بند ہو چکا ہے اور اب ریاست کی رٹ کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی جائے گی اور دہشت گردی سے متاثرہ 10 سے 12 اضلاع کو امن و استحکام کے حوالے سے ماڈل اضلاع بنانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ماضی میں صوبے اور وفاق کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت کے مثبت اقدامات کو جاری رکھا جائے گا، جبکہ عوامی مفاد کے خلاف پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے گی۔