مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی
چنائی کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی آباد کاروں نے حملے کیے ہیں اور گاڑیوں اور
زیتون کے درختوں کو آگ لگا دی ہے۔
بی بی سی کی ایک ٹیم نے فلسطینی گاؤں
ابو فلاح کے قریب زرعی زمینوں میں ہونے والے ایسے ہی کئی حملوں میں سے ایک کا
مشاہدہ کیا۔
ایک مقامی عہدے دار کے مطابق ان
حملوں میں 12 فلسطینی زخمی ہوئے، جن میں فلسطینی اور امریکی شہریت رکھنے والے چار
افراد شامل تھے۔ ایک غیر ملکی صحافی بھی زخمیوں میں شامل تھے۔
صبح سویرے علاقے میں داخل ہوتے ہوئے
ہمیں تشدد کے ابتدائی آثار دکھائی دیے: زخمی فلسطینی زیتون چننے والے کسان تنگ اور
پتھریلے راستے سے گاڑیوں میں سوار ہو کر تیزی سے نکل رہے تھے، گاڑیوں میں زیتون
چننے کا سامان بھرا ہوا تھا جبکہ قریب ہی سے کئی مقامات پر دھواں اٹھ رہا تھا۔
ان ہی گاڑیوں میں سے ایک کی پچھلی
نشست پر بیٹھے مجدی فہید کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا۔
انھوں نے کہا: ’ہم اپنے زیتون کے
درختوں سے پھل چن رہے تھے کہ تقریباً 15 اسرائیلی افراد نے ہم پر حملہ کر دیا۔ ان
کے پاس بندوقیں، پتھر اور دوسرے ہتھیار تھے۔ انھوں نے میرے سر اور گردن پر وار
کیے۔ دیکھیے، میں خون میں لت پت ہوں۔‘
قریبی گاؤں ترمسعیا کی کونسل کے رکن
یاسر الکم نے بتایا کہ امریکی شہری مجدی پر آباد کاروں نے کیلوں والے ڈنڈوں سے
حملہ کیا جس کے باعث ان کے سر پر گہرے زخم آئے اور انھیں علاج کی ضرورت پڑی۔ ان کی
معمر والدہ بھی زخمی ہوئیں۔
زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے والے ایک
اور شخص نے بتایا کہ آباد کاروں نے زیتون کی چنائی کے دوران ان پر ڈنڈوں سے حملہ
کیا اور تین گاڑیوں کو آگ لگا دی، جن میں ان کی اپنی گاڑی بھی شامل تھی۔
ان کے ساتھ کھڑی ایک خاتون نے کہا: ’جیسے
ہی ہم زمین پر پہنچے اور اپنا سامان رکھا، وہ آنے لگے، اس لیے ہم وہاں سے بھاگ
گئے۔‘
اس حملے کے نتیجے میں فلسطینی نژاد
کئی امریکی شہریوں اور ایک غیر ملکی صحافی کو بھی چوٹیں آئیں۔
اس واقعے کے بارے میں سوال کیے جانے
پر امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ ان اطلاعات سے آگاہ ہیں۔
ترجمان کے مطابق: ’ہم مغربی کنارے
میں کسی بھی فریق کی جانب سے ہونے والے مجرمانہ تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور ذمہ دار
افراد کے خلاف تحقیقات، گرفتاریوں اور سزاؤں کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘
اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا کہ
اسے علاقے میں ’پُر تشدد جھڑپ‘ کی اطلاع ملنے پر اہلکاروں کو وہاں بھیجا گیا تھا۔
فوج کے مطابق ایک خاتون صحافی زخمی ہوئیں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا
جائے گا۔
اقوام متحدہ کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں
کے دوران پُر تشدد اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کی تعداد گذشتہ سال زیتون کی چنائی
کے موسم کے دوران ہونے والے حملوں سے زیادہ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں
سال زیتون کی چنائی کے دوران آباد کاروں کے حملوں میں اب تک ایک فلسطینی ہلاک اور
مغربی کنارے میں 120 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
مغربی
کنارے میں زیتون چننا اب وقت کے خلاف ایک دوڑ بن چکا ہے۔ سورج طلوع ہونے کے فوراً
بعد درختوں سے جلد از جلد زیتون اتار لیے جاتے ہیں، اس سے پہلے کہ پُر تشدد
اسرائیلی آباد کار حملہ کر دیں۔