یمن میں سعودی فوجی اتحاد کے حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے: حوثی ترجمان کا دعویٰ
حوثی تحریک کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے یمن میں 110 فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔ بیان کے مطابق حملوں میں دارالحکومت صنعاء کے علاوہ متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
کولکتہ میں درگا پوچا کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 17 افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہANI
انڈین ریاست مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے کہا ہے کہ کولکتہ میں درگا پوجا کے دوران بھگدڑ مچنے کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 25 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
کولکتہ پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق 17 اکتوبر کو شام تقریباً 7:40 بجے کولکتہ کے گریش پارک پولیس سٹیشن کے علاقے میں ہونے والی درگا پوجا کے خارجی دروازے پر بھگدڑ مچ گئی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت کی کوششیں جاری ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ پوجا میں شرکت کے لیے کولکتہ سے باہر مختلف اضلاع سے آئے تھے۔
واقعے کے مقام کے قریب ایک عمارت سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو کو سوشل میڈیا پر متعدد افراد شیئر کر رہے ہیں، جن میں ترنمول کانگریس کے رہنما کنال گھوش بھی شامل ہیں۔
ویڈیو کچھ دھندلی ہے لیکن اس میں کئی افراد زمین پر پڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور چیخ و پکار کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔
پولیس نے درگا پوجا کے پنڈال کو سیل کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد پنڈال میں کمیٹی کا کوئی رکن نظر نہیں آیا۔
پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کولکتہ کی تین دیگر بڑی اور معروف پوجاؤں کو بھی زائرین کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق شام کے وقت چورباغان سروجنین منڈپ پر ہزاروں افراد جمع تھے۔ جب شام تقریباً 7:30 بجے شدید بارش شروع ہوئی تو بہت سے لوگ تنگ گلیوں اور راستوں کے درمیان واقع پوجا منڈپ کے اندر پناہ لینے کے لیے دوڑ پڑے۔
،تصویر کا ذریعہFB/KunalGhosh
دوسری جانب پنڈال کے اندر موجود افراد باہر نکلنے سے قاصر تھے۔ بارش میں باہر پھنسے افراد بھی اندر داخل ہونے کے لیے دھکم پیل کرنے لگے۔ نتیجتاً عارضی سیڑھیوں پر بھگدڑ کے دوران لوگ ایک دوسرے کے اوپر گر گئے۔
پنڈال میں درگا کا مجسمہ ایک لوہے کے ڈھانچے کے نیچے رکھا گیا تھا۔ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا اس ڈھانچے کا کوئی حصہ گر گیا تھا۔
اب تک عینی شاہدین سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق پورا واقعہ ممکنہ طور پر پانچ سے سات منٹ کے اندر پیش آیا۔
واقعے کے بعد انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھی ایکس پر تعزیت کا اظہار کیا۔
ان کے دفتر نے ایکس پر اپنے ہینڈل کے ذریعے اطلاع دی ہے کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو وزیرِ اعظم کے قومی امدادی فنڈ سے فی کس دو لاکھ روپے جبکہ زخمی ہونے والوں کو فی کس 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔
فرانس میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران جھڑپیں، لوٹ مار کے واقعات اور ایک ہزار سے زیادہ گرفتاریاں
،تصویر کا ذریعہReuters
فرانس میں سنیچر کے روز سکولوں میں مشکلات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف پُرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ فرانسیسی حکومت کے مطابق تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد سڑکوں پر نکلے جبکہ کم از کم 1200 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پیرس میں شام کو پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھی گئیں اور پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ دارالحکومت اور دیگر علاقوں میں کئی عمارتیں نذر آتش کی گئیں۔ کئی شہروں میں لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔ سٹی ہالز اور کاروباری اداروں کو نشانہ بنانے سے متعلق توڑ پھوڑ کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
فرانسیسی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ بدامنی کے دوران 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
پیرس میں مرکزی مارچ دوپہر کے وقت بڑی حد تک پُرامن دکھائی دیا۔ نوجوانوں کے ایک گروپ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ’امن پسند‘ ہیں اور ’صرف چیزوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن کچھ بھی آگے نہیں بڑھ رہا۔‘
تاہم دن گزرنے کے ساتھ کچھ گروہوں نے سڑکوں پر گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا۔ دکانوں میں لوٹ مار کی گئی اور کم از کم ایک ریستوران آگ لگنے سے تباہ ہو گیا۔ بی بی سی نے بعض گروہوں کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھیں۔
پولیس کو وسطی پیرس میں ایک ہجوم پر دھاوا بولتے اور متعدد افراد کو لاٹھیوں سے مارتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
،تصویر کا ذریعہReuters
حالیہ ہفتوں کے دوران لاکھوں طلبہ نے ملک کے سکولوں میں عملے اور سہولیات کی کمی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ سنیچر کے روز ٹریڈ یونین کے ارکان اور دیگر احتجاجی گروہوں کی شرکت سے ان کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
ان گروہوں میں نام نہاد ’ییلو ویسٹ‘ تحریک بھی شامل ہے، جس نے 2018 کے دوران ایک سال سے زیادہ عرصے تک بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔ یہ فرانس کی تاریخ کی طویل ترین احتجاجی تحریکوں میں سے ایک بن گئی تھی۔
اگرچہ فرانس احتجاج اور بدامنی کے واقعات کے لیے کوئی اجنبی ملک نہیں، تاہم احتجاج کا یہ سلسلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک شدید سیاسی غیر یقینی کی ایک مدت کی طرف بڑھ رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانس میں پانچ لاکھ سے زائد افراد کی مظاہروں میں شرکت: لوٹ مار اور ہنگامی ارائی، حکام کا 400 افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
سنیچر کے روز فرانس بھر میں سکولوں میں مزید سرمایہ
کاری اور اساتذہ و دیگر عملے کی کمی کے لیے شروع ہونے والے مظاہروں میں پانچ لاکھ
سے زائد افراد نے شرکت کی ہے۔
فرانس کی وزارتِ
داخلہ کا کہنا ہے کہ پرتشدد احتجاج کے دوران سینکڑوں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا
ہے جبکہ جھڑپوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درجنوں اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل
میکخوان کا کہنا ہے کہ فرانس میں ’تشدد کے لیے کی کوئی جگہ نہیں۔‘
انھوں نے سوشل
میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ جو بھی صوبائی انتظامیہ کے دفاتر اور کاروباری
مراکز کو نقصان پہنچانے، ان پر حملوں اور بلدیاتی دفاتر میں لوٹ میں ملوث ہیں، ان کے
خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور انھیں سزا دی جائے گی۔
دوسری جانب فرانس کے وزیرِ داخلہ لوراں نونیز نے ملک بھر
میں ہونے والے مظاہروں کے بارے میں تازہ معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
فرانس بھر میں ہونے والے مظاہروں میں اندازاً پانچ لاکھ 50 ہزار
افراد نے شرکت کی، جن میں ایک لاکھ 10 ہزار افراد پیرس میں شامل تھے۔
تقریباً 400 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ نونیز کے مطابق ان میں زیادہ تر بالغ
تھے جن کا طلبہ تحریک سے کوئی تعلق نہیں۔
جھڑپوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 60 اہلکار زخمی ہوئے
ہیں، جن میں سے دو کو بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
نونیز نے تشدد کا ذمہ دار ان افراد کو قرار دیا جن کا تعلق بقول ان
کے ’انتہا پسند بائیں بازو‘ اور ’سخت گیر بائیں بازو‘ سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ
عوامی عمارتوں کو نشانہ بنانے کی ’واضح خواہش‘ موجود تھی۔
وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ لوٹ مار یا لوٹ مار کی کوششوں کے واقعات کئی
شہروں میں ریکارڈ کیے گئے، جن میں پیرس، روآن، نانت، تولوز اور مارسی بھی شامل
ہیں۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان نے گبد ریمدان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں: ایرانی حکام کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہIRIB
ایرانی حکام نے
تصدیق کی ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان گبد ریمدان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں
معطل کر دی گئی ہیں، تاہم مسافروں کی آمد و رفت جاری ہے۔
ایران کے سرکاری
نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایران کی روڈ مینٹیننس اینڈ
ٹرانسپورٹیشن آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل حسین حسینی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے گبد
ریمدان سرحدی گزرگاہ بند کر دی ہے ۔
حسینی کا کہنا تھا
کہ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مسئلے کے حل اور سرحدری گزرگاہ دوبارہ کھولنے کے
لیے مذاکرات جاری ہیں۔
دوسری جانب
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ پاک ایران بارڈر کی بندش عارضی
ہے اور اس کا مقصد سکیورٹی خدشات کا ازالہ، سمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی نظام کو
مؤثر بنانا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات شاہد رند نے کہا ہے کہ سرحد کے دونوں اطراف سکیورٹی صورتحال اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے
عارضی بندش ضروری تھی۔
شاہد رند کا مزید کہنا ہے کہ پاک
ایران بارڈر سے متعلق انتظامی مسائل کے حل کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے
درمیان مثبت پیش رفت جاری ہے اوراس تناظر میں سرحد جلد کھلنے کا امکان ہے۔
امریکی بحریہ کے پاکستانی سمندری حدود سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے دعوے ’من گھڑت‘ ہیں: وزارتِ اطلاعات
،تصویر کا ذریعہx/CENTCOM
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے امریکی بحریہ کے پاکستانی سمندری حدود سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے دعوؤں کو من گھڑت قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی امریکہ سے چلنے والے ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی جانب سے پھیلایا جانے والا یہ من گھڑت دعویٰ کہ امریکی بحریہ کسی طرح ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے پاکستانی حدود استعمال کر رہی ہے اور اسے پاکستان کی منظوری حاصل ہے، بے بنیاد ہے۔
چند گھنٹے قبل ایک ایکس اکاؤنٹ (MerruX) سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’امریکہ کی بحریہ اب ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے پاکستان کی حدود کے اندر سے کام کر رہی ہے۔ یہ دوسرا روز ہے کہ امریکی بحریہ یہاں سرگرم ہے۔‘
اس ایکس صارف کا مزید کہنا تھا کہ یہ اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب پاکستان نے ایران کے ساتھ سرحدی گزرگاہیں بند کر کے تمام تجارتی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔
خیال رہے کہ بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ سرحدی بندش عارضی ہے اور اس کا مقصد سکیورٹی خدشات کا ازالہ، سمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی نظام کو مؤثر بنانا ہے۔
چین: سینکڑوں بچوں کو زہریلی خوراک کھلانے کے الزام میں نرسری کی مالک کو عمر قید کی سزا
چین کی ایک عدالت نے ایک نرسری کی مالک اور اس کے عملے کے پانچ دیگر ارکان کو 200 سے زیادہ بچوں کو سیسے سے آلودہ خوراک دینے کے الزام میں قید کی سزائیں سنائی ہیں۔
چینی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صوبہ گانسو کے شہر تیان شوئی میں واقع ہیشی پیئشین کنڈرگارٹن چلانے والی لی ہوئی فانگ کو زہریلی اور نقصان دہ خوراک تیار کرنے اور فروخت کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
جولائی 2025 میں نرسری کے 247 بچوں اور عملے کے ارکان کے خون میں سیسے کی مقدار معمول سے کہیں زیادہ پائی گئی تھی، جس کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا۔ اس سے قبل بچوں کے بیمار ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
واقعے کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ہیشی پیئشین کے باورچی کھانوں کی ظاہری شکل بہتر بنانے اور مزید طلبہ کو متوجہ کرنے کے لیے ناقابلِ استعمال پینٹ استعمال کر رہے تھے، حالانکہ اس پر واضح طور پر درج تھا کہ اسے خوراک میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق عدالت نے سزا کے علاوہ لی ہوئی فانگ کے ذاتی اثاثوں میں سے پانچ لاکھ یوان بھی ضبط کرنے کا حکم دیا۔
نرسری کے ایگزیکٹو پرنسپل ژی جنگ لِن کو 15 سال قید اور تین لاکھ یوان جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق نرسری کے باورچی خانے میں کام کرنے والے عملے کے چار دیگر ارکان کو بھی چھ سے آٹھ سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ ان چاروں افراد نے لی ہوئی فانگ اور ژی جنگ لِن کی ہدایت پر بچوں اور عملے کو دی جانے والی خوراک میں زہریلے اور نقصان دہ اجزا شامل کیے تھے۔
پاکستانی تاجروں کی ایرانی سرحد پر تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کی مخالفت: پابندی عارضی ہے، مقصد بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنانا ہے، بلوچستان حکومت, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے صوبہ بلوچستان
اور ایران کے درمیان سرحدی گزرگاہوں سے سینیچر کے روز تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں۔
بلوچستان کی تاجر برادری
نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاکستانی تاجروں اور عوام
کو نقصان ہوگا۔ دوسری جانب صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ سرحدی بندش عارضی ہے اور اس کا مقصد بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنانا ہے۔
پاکستانی تاجروں کی ایرانی سرحد پر تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کی مخالفت
بلوچستان کے ساحلی ضلع
گوادر میں ایران اور پاکستان کے درمیان گبد ریمدان سرحدی گزرگاہ سے تجارت ہوتی ہے۔
گبد ریمدان بارڈر سے
پاکستانی تاجروں کی تنظیم کے چیئرمین عبدالغفور ہوت نے بتایا کہ سینیچر کو پاکستانی
حکام کی جانب سے تجارتی سرگرمیاں بند کردی گئیں۔
انھوں نے کہا کہ اس
سے پاکستانی تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ روزانہ کی بنیاد صرف اس بارڈر
سے پانچ سو گاڑیاں ایران سے سامان لیکر آتی ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں گاڑیاں پاکستانی
سامان لیکر ایران جاتی ہیں۔
عبدالغفور ہوت نے اس
حوالے سے پاکستانی اور ایرانی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے دو نوٹیفیکیشنز شیئر کرتے
ہوئے بتایا کہ ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تجارتی
سرگرمیوں پر ایران کی جانب سے کوئی پابندی نہیں۔
ان کے مطابق کسٹمز کے
حکام سے رابطہ کرنے پر انھیں بتایا گیا ہے کہ یہ پابندی مستقل نہیں بلکہ عارضی ہے۔
عبدالغفور ہوت کا
کہنا ہے کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ بعض تیکنیکی وجوہات کے باعث عارضی طور پر تجارتی سرگرمیاں
معطل کی گئی ہیں تاہم سوموار تک اس سلسلے میں صورتحال واضح ہوجائے گی۔
پاکستانی تاجر رہنما کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان
تجارت کی بندش سے پاکستانی تاجروں اور عوام کا بہت نقصان ہوگا اس لیے سرحدی تجارت کو
معطل یا بند نہیں ہونا چائیے۔
’پابندی کا مقصد بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنانا ہے‘
وزیر اعلیٰ بلوچستان
کے معاون برائے اطلاعات شاہد رند کا کہنا ہے کہ پاک ایران بارڈر کی بندش عارضی ہے
اور اس کا مقصد سکیورٹی خدشات کا ازالہ، سمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی نظام کو مؤثر
بنانا ہے۔
شاہد رند کا کہنا ہے کہ سرحد کے دونوں اطراف سکیورٹی صورتحال اور انتظامی
امور کو بہتر بنانے کے لیے عارضی بندش ضروری تھی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون کا کہنا
ہے کہ پاک ایران بارڈر سے متعلق انتظامی مسائل کے حل کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام
کے درمیان مثبت پیش رفت جاری ہے اوراس تناظر میں سرحد جلد کھلنے کا امکان ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ بارڈر مینجمنٹ کو مؤثر بنانے سے سرحدی علاقوں میں
بدامنی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
اس سے قبل بلوچستان کے سرحدی اضلاع
سے تعلق رکھنے والے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دونوں ملکوں
کے درمیان تجارتی سرگرمیاں سینیچر کو صرف گوادر سے نہیں بلکہ تمام اضلاع کی سرحدی گزرگاہوں
سے معطل رہیں۔
ضلع چاغی میں تفتان
بارڈر سے دونوں ممالک کے درمیان بڑے پیمانے سرحدی تجارتی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔
چاغی کے ڈپٹی کمشنر
نے سماجی رابطے ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان
سرحد کی بندش عارضی ہے جس کا مقصد بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنا کر انسداد دہشت گردی کی
کاوشوں کو مؤثر بنانا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جونہی
مؤثر اقدامات مکمل ہوجائیں گے تو سرحد کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی کی ولی باغ آمد، ایمل ولی خان سے ملاقات
،تصویر کا ذریعہ@Governor_KP
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ولی باغ کا مختصر دورہ کیا جہاں انھوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین، صوبائی جنرل سیکریٹری حسین شاہ یوسفزئی، سابق صوبائی وزیر سردار حسین بابک اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
ملاقات میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال، سیاسی معاملات، صوبے کی ترقی و خوشحالی اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صوبے میں پائیدار ترقی، امن کے قیام اور صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے سیاسی جماعتوں اور قیادت کے کردار پر بھی گفتگو ہوئی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے اور امن و ترقی کے لیے حکومت اور سیاسی جماعتوں کو مل کر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی قائدین اس سلسلے میں حکومت کی رہنمائی کریں، ان کی تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان صوبے کے اہم مسائل پر مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ریجنل نمائندگی و ترقیاتی کونسلوں کے 48 اراکین نامزد، گورنر فیصل کریم کنڈی کی مبارکباد
،تصویر کا ذریعہ@fkkundi
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے 12 اضلاع میں ریجنل نمائندگی و ترقیاتی کونسلوں کے 48 اراکین کی نامزدگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مقامی نمائندگی اور عوامی شمولیت کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں گورنر نے نوٹیفائی کیے گئے تمام اراکین کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اقدام مقامی سطح پر عوامی مسائل کے مؤثر حل، ترقیاتی منصوبوں میں عوامی شرکت اور ضلعی سطح پر بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔
انھوں نے کونسل کے چیئرپرسن شوکت اللہ خان اور وائس چیئرپرسن ملک خان مرجان سمیت تمام اراکین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ عوامی اعتماد پر پورا اتریں گے اور اپنے اپنے علاقوں میں ترقی اور خوشحالی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کونسلوں کے اراکین مقامی آبادی کی ضروریات اور ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی عمل کو مزید فعال اور شفاف بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
اگر ریاض نے درخواست کی تو مصر سعودی عرب کے دفاع کے لیے کارروائی کرے گا: عبدالفتاح السیسی
،تصویر کا ذریعہReuters
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کی جانب سے باضابطہ درخواست موصول ہوئی تو مصر مملکت کے دفاع اور سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ مصری ملٹری اکیڈمی میں کیڈٹس کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر سیسی نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی، استحکام یا خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے واضح کیا کہ مصر کسی ملک کے خلاف جارحیت کا خواہاں نہیں، تاہم اگر سعودی عرب کو خطرہ لاحق ہوا تو قاہرہ اس کے دفاع کے لیے تیار ہے۔
حوثی باغیوں نے حالیہ دنوں میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملے یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان دوبارہ شدت اختیار کرنے والی لڑائی کے بعد سامنے آئے ہیں۔
صدر سیسی نے کہا کہ مصر اس معاملے میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ قریبی مشاورت اور باہمی تعاون کے تحت فیصلے کرے گا۔ دونوں سعودی رہنماؤں نے 15 ستمبر کو قاہرہ میں صدر سیسی سے ملاقات کے دوران یمن کی صورتحال، بحیرہ احمر کی سلامتی اور جہاز رانی کے تحفظ سمیت مختلف علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
اپنی تقریر میں صدر سیسی نے یہ بھی کہا کہ کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے مصری پارلیمان کی منظوری درکار ہوگی۔ اسی مقصد کے لیے انھوں نے پارلیمان کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تاکہ ضرورت پڑنے پر حکومت کو سعودی عرب کی مدد کے لیے آئینی اختیار حاصل ہو سکے۔
صدر کے بیان کے فوراً بعد مصری پارلیمان نے اعلان کیا کہ وہ اگلے روز ایک عمومی اجلاس منعقد کرے گی، تاہم اجلاس کے ایجنڈے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
مصر اور سعودی عرب طویل عرصے سے قریبی سٹریٹجک اور اقتصادی شراکت دار ہیں۔ مصر 2015 میں حوثیوں کے خلاف یمنی حکومت کی حمایت کے لیے قائم کیے گئے سعودی قیادت والے فوجی اتحاد کا بھی حصہ رہ چکا ہے۔
بینکاری پابندیوں کے باعث ایران کی پاکستان کو برآمدات عارضی طور پر معطل، تہران چیمبر آف کامرس
،تصویر کا ذریعہEPA
تہران چیمبر آف کامرس نے کہا ہے کہ بینکاری پابندیوں کے باعث ایران کی پاکستان کو برآمدات عارضی طور پر معطل ہو گئی ہیں۔
تہران چیمبر آف کامرس کے ٹرانسپورٹیشن کمیشن کے سربراہ، پیمان سانندجی کے مطابق ایران کے بینکاری نظام پر عائد پابندیاں پاکستان کو برآمدات میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ پابندیاں برقرار رہیں اور ضروری بینکاری لین دین ممکن نہ ہو سکا تو پاکستان کو ایرانی برآمدات عملاً رک جائیں گی۔
پیمان سانندجی نے کہا کہ فی الحال پاکستان سے ایران کو درآمدات جاری رہنے کا امکان موجود ہے، تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستانی فریق اس عمل کو جاری رکھنے کے لیے کس حد تک تعاون کرتا ہے۔
فرانس میں احتجاج شدت اختیار کر گیا، ملک بھر میں 272 افراد گرفتار
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
فرانس کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ ملک بھر میں جاری مظاہروں کے دوران تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اب تک 272 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
وزارت کے تازہ بیان کے مطابق مشرقی شہر لیون میں تقریباً 20 ہزار افراد احتجاج میں شریک ہیں، جبکہ نانت میں بھی اتنی ہی تعداد میں مظاہرین موجود ہیں۔ شہر رین میں مظاہرین کی تعداد تقریباً 10 ہزار بتائی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ احتجاجی مارچوں میں نام نہاد ’بلیک بلاک‘ گروہ بھی شامل ہو گئے ہیں، جن کے بارے میں وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان میں انتہائی بائیں بازو سے وابستہ عناصر شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق متعدد مقامات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، کاروباری مراکز میں لوٹ مار یا لوٹ مار کی کوششوں کے واقعات پیش آئے، جبکہ سرکاری عمارتوں پر حملے اور توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔
فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے، جس کا مقصد پرتشدد گروہوں کو قابو میں رکھنا، سرکاری عمارتوں کا تحفظ یقینی بنانا اور لوٹ مار کے واقعات کو روکنا ہے۔
فرانس کے مشرقی شہر لیون میں احتجاجی مظاہروں کے دوران سیاحتی دفتر میں آگ بھڑک اٹھی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرین نے عمارت کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں عمارت کے اندر اور باہر شعلے بھڑک اٹھے۔
سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں مظاہرین کو دھواں اٹھتی عمارت کے باہر دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ عمارت کی کئی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مقامی پولیس کے مطابق ’پرتشدد عناصر‘ فائر فائٹرز کو محفوظ طریقے سے آگ بجھانے سے روک رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار صورتحال پر قابو پانے اور مشتعل گروہوں کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب دارالحکومت پیرس میں بھی مظاہرین اور انسدادِ ہنگامہ آرائی پولیس کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر گئی ہیں۔ سامنے آنے والی تصاویر میں پولیس کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن (پانی پھینکنے والی گاڑی) استعمال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ مظاہرین پانی کے تیز دھاروں سے خود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دن بھر مختلف مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہا، جس کے باعث متعدد علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
ایران سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سیاسی حل کا حامی، تنازع کے خاتمے میں تعاون کی پیشکش
،تصویر کا ذریعہs_a_araghchi
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان تنازع کے حل کے لیے ایک ’جامع اور ہمہ گیر سیاسی عمل‘ کی حمایت کرتا ہے، جسے وہ مسئلے کے حل کا واحد قابلِ عمل اور پائیدار راستہ سمجھتے ہیں۔
بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ 12 سالہ تنازعے کے تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ یمن کے بحران کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور پائیدار امن صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انھوں نے اجلاس کے موقع پر مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ خطے اور دنیا کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جھڑپوں کے خاتمے کے لیے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے بقول، یمن میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور سیاسی مفاہمت ناگزیر ہیں۔
عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز میں سلامتی کی صورتحال پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسے ایران پر 30 مارچ سے ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا ’براہِ راست نتیجہ‘ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایران ہمیشہ کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کے لیے پرعزم رہا ہے، تاہم امریکہ نے متعدد مواقع پر معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔‘
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے مصری ہم منصب کو ثالثوں کے ذریعے ہونے والی حالیہ سفارتی مشاورت اور رابطوں سے بھی آگاہ کیا۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی مجبوری تھی، خونریزی کا خطرہ تھا: وزیراعظم شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہVideograb
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ مجبوری کے تحت کیا گیا۔ ان کے بقول صوبے میں آئے روز دھمکیوں اور لانگ مارچ کے اعلانات سے صورتحال بدستور کشیدہ ہو رہی تھی، جبکہ بعض عناصر خونریزی کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں سنیچر کو سابق رکن قومی اسمبلی بشیر ورک کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ ڈھائی سال کے دوران خیبرپختونخوا میں سکیورٹی اور انتظامی امور پر پیش رفت کے لیے متعدد کوششیں کی گئیں اور اس سلسلے میں موجودہ اور سابق وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک سے زیادہ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔
انھوں نے کہا کہ صوبائی قیادت کو مسلسل یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ خیبرپختونخوا ایک غیور صوبہ ہے اور وفاق ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم کے مطابق افغانستان سے جڑی دہشتگردی، جو ان کے بقول 2018 سے شدت اختیار کر رہی ہے، کا مقابلہ صرف قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی سے کیا جا سکتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور عام شہری دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے مسائل کے حل کے لیے متعدد کوششیں کیں، تاہم اس دوران حکومت کو بارہا احتجاجی تحریکوں اور لانگ مارچز کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ حالیہ سیاسی بحران کے دوران مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے 48 گھنٹوں تک مشاورت کے بعد ایک متفقہ مسودہ تیار کر لیا تھا، تاہم بعد ازاں معاملات طے نہ پا سکے۔
انھوں نے کہا کہ اگر بروقت فیصلے نہ کیے جاتے تو حالات مزید خراب ہو سکتے تھے۔ وزیراعظم نے صورتحال کو ’روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بہترین مفاد میں فوری فیصلہ ناگزیر ہو گیا تھا۔
شہباز شریف نے بتایا کہ صوبے میں 11 رکنی غیر سیاسی ایڈوائزری کونسل قائم کر دی گئی ہے، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت اور اچھی شہرت کے حامل افراد شامل ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ جلد خیبرپختونخوا کا دورہ کریں گے اور وہاں اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔ ان کے مطابق ملکی معیشت، جو کچھ عرصہ قبل دباؤ کا شکار تھی، اب استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے، اگرچہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث مہنگائی کے خدشات بدستور موجود ہیں۔
فیول سبسڈی پروگرام کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ 75 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی، جس سے اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کے بقول اس پروگرام سے براہِ راست یا بالواسطہ تقریباً ساڑھے چھ کروڑ افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کا ایمرجنسی کو معدنی وسائل سے جوڑنا افسوسناک، دہشت گردی پر سیاست نہیں ہونی چاہیے: طارق فضل چوہدری
،تصویر کا ذریعہAPP
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو معدنی وسائل پر قبضے سے جوڑنا افسوسناک ہے اور دہشت گردی جیسے سنگین قومی مسئلے کو سیاسی الزامات کی نذر کرنے کے بجائے اس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی اولین ترجیح عوام کا تحفظ اور خیبر پختونخوا میں امن کا قیام ہے۔ ان کے بقول مولانا فضل الرحمٰن ایک سینیئر سیاست دان ہیں اور وہ خود بھی دہشت گردی کے نقصانات اور اس کے اثرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔
واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے قبائلی اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ اور امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد معدنی ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا اور ملکی وسائل کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کھولنا ہے۔
ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی کا نفاذ محض سکیورٹی معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معدنی وسائل پر دسترس حاصل کرنے کا مقصد بھی کارفرما دکھائی دیتا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ معاملہ صرف معدنی ذخائر تک محدود نہیں بلکہ امریکہ کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے ذریعے پاکستانی وسائل پر اثر و رسوخ بڑھانے اور امریکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اگر ان اقدامات کے بدلے حکمرانوں کو محدود مالی فوائد حاصل بھی ہوتے ہیں تو یہ قومی مفادات کی قیمت پر قابل قبول نہیں ہیں۔
انھوں نے خبردار کیا کہ ان کی جماعت ایسی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرے گی اور دعویٰ کیا کہ چین اور روس سمیت بعض اہم ممالک کو بھی ان پیش رفتوں پر تحفظات ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف قومی کوششوں کا ساتھ دیں گے اور اس معاملے پر قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں کردار ادا کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تیرہ برس حکومت کرنے والی تحریک انصاف کو اپنی کارکردگی اور صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا جواب دینا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ افواجِ پاکستان کے افسران اور جوان ملک میں امن کے قیام کے لیے جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں، اس لیے موجودہ حالات میں سیاسی الزام تراشی کے بجائے قومی اتحاد اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو سیاسی تنازعات نہیں بلکہ امن، تحفظ اور ترقی چاہیے، اور تمام سیاسی قوتوں کو اسی مقصد کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
کم عمر لڑکی کو بلیک میل کرنے کا ملزم پشاور سے گرفتار، تصاویر ایڈٹ کر کے تاوان طلب کرنے کا الزام
،تصویر کا ذریعہNCCI
،تصویر کا کیپشنڈی جی این سی سی آئی اے سید علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ بچوں کے خلاف سائبر جرائم میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں
نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) پشاور نے کارروائی کرتے ہوئے ایک کم عمر لڑکی کو مبینہ طور پر آن لائن بلیک میل کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
این سی سی آئی اے کے ترجمان کے مطابق ملزم مبینہ طور پر لڑکی کی قابلِ اعتراض تصاویر ایڈٹ کرکے واٹس ایپ کے ذریعے اسے بلیک میل کر رہا تھا اور تاوان کا مطالبہ بھی کیا جا رہا تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے ایک لیپ ٹاپ اور دو موبائل فون برآمد کیے گئے۔ برآمد شدہ ڈیوائسز کے ابتدائی تکنیکی تجزیے میں قابلِ اعتراض مواد اور مبینہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے متعلق شواہد سامنے آئے ہیں۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے تاکہ ممکنہ طور پر متاثرہ دیگر افراد اور جرم کے تمام پہلوؤں کا تعین کیا جا سکے۔
ڈی جی این سی سی آئی اے سید علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ بچوں کے خلاف سائبر جرائم میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کم عمر بچوں کو آن لائن ہراساں کرنے اور بلیک میلنگ میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
،تصویر کا ذریعہReuters
مئی کے بعد پہلی بار عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں حالیہ اضافہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث ہوا ہے۔
جمعے کو برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 3.94 ڈالر اضافے کے بعد 109.86 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 19 مئی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت بھی 3.44 ڈالر بڑھ کر 101.41 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جو 17 ستمبر کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔
سعودی پانیوں میں ایک اور آئل ٹینکر پر راکٹ حملہ
،تصویر کا ذریعہEPA
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے شمال مشرقی سعودی عرب کے ساحل کے قریب ایک اور آئل ٹینکر پر حملے کی اطلاع دی ہے۔
تنظیم کے مطابق جہاز کے کپتان نے رپورٹ کیا کہ جُبیل کے ساحل سے تقریباً 144 کلومیٹر دور ایک چھوٹی کشتی ٹینکر کے قریب آئی اور اس سے کندھے پر رکھ کر داغے جانے والے راکٹ (آر پی جی) سے فائرنگ کی گئی۔ حملے کے نتیجے میں جہاز کے بائیں عقبی حصے کو نقصان پہنچا۔
کپتان کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہوگئے، جبکہ جہاز اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کا کہنا ہے کہ واقعے میں عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب تنظیم نے محض ایک گھنٹہ قبل اسی علاقے میں ایک اور آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق جُبیل سے تقریباً 126 کلومیٹر دور ایک نامعلوم پراجیکٹائل ٹینکر سے ٹکرایا تھا، تاہم اس واقعے میں بھی کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکہ سمیت کئی ممالک پاکستانی معدنیات میں دلچسپی رکھتے ہیں: وزیر دفاع، ’معدنی وسائل صوبے کی خوشحالی کے لیے استعمال ہوں گے‘ گورنر خیبر پختونخوا
،تصویر کا ذریعہBBC/Getty Images
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی قیمتی معدنیات میں امریکہ، چین، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم کسی ملک کو نہ کوئی کان دی گئی ہے اور نہ ہی کوئی ٹھیکہ دیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ معدنیات کے شعبے میں فی الحال صرف ابتدائی سطح کی بات چیت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اپنے وسائل کے باوجود بیرونی سرمایہ کاری اور تکنیکی معاونت کے بغیر ان معدنی ذخائر سے بھرپور استفادہ نہیں کر سکتا، اس لیے ایسے شراکت داروں کے ساتھ کام کیا جائے گا جن کے ساتھ پاکستان کے مفادات محفوظ ہوں۔
سنیچر کو سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنس کی بڑی تعداد پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں جاری ہوئی جب کہ اس شعبے میں عسکری اداروں کا براہِ راست حصہ نہیں تھا۔
خواجہ آصف نے کہا ہے کہ قیام پاکستان سے 2010 تک خیبرپختونخوا میں معدنیات کے 482 لائسنس یا ٹائٹلز جاری ہوئے جب کہ 2020 تک یہ تعداد بڑھ کر ایک ہزار 762، فروری 2024 تک 3 ہزار 962 اور موجودہ وقت میں 4 ہزار 917 ہوچکی ہے، ان میں سے 4 ہزار 133 لائسنس آباد اضلاع اور 784 ضم شدہ اضلاع میں جاری کیے گئے۔
انھوں نے کہا کہ اس پورے عرصے میں عسکری ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو صرف ایک لائسنس ملا جو 2015 میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں دیا گیا تھا، ایف ڈبلیو او تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیر غور ہیں جن میں سے کوئی بھی عسکری ادارے کی جانب سے نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ فوج نے تمام محاذ پر لیڈ کیا ہے، فیلڈ مارشل نے لیڈ کیا ہے۔ سٹیل مل کو تالے لگ چکے ہیں اور قومی تحویل میں ادارے تباہ ہو چکے ہیں مگر ایسے میں فوجی فاونڈیشن نے 323 ارب روپے ٹیکس جمع کرایا۔
’معدنی وسائل صوبے کی خوشحالی کے لیے استعمال ہوں گے، امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں‘: گورنر کے پی
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ صوبے کے معدنی وسائل کو عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ایک تجربہ کار اور زیرک سیاست دان ہیں، تاہم ان کی حالیہ تقریر سے مایوسی ہوئی۔ ان کے بقول مولانا فضل الرحمان خود ماضی میں صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال کا ذکر کرتے رہے ہیں اور یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنے بعض علاقوں میں آزادانہ نقل و حرکت بھی نہیں کر سکتے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں ماضی کی حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر عزم کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بی ایل اے سمیت مختلف شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور خیبرپختونخوا میں بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے معدنی وسائل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر صوبے میں معدنیات موجود ہیں تو انھیں نکال کر مقامی آبادی کی ترقی، خوشحالی اور روزگار کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خیبرپختونخوا کے معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔
انھوں نے کہا کہ معدنی وسائل سے استفادے کے نتیجے میں صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا، تاہم بعض عناصر ایسے ہیں جو صوبے کے لوگوں کی خوشحالی نہیں چاہتے۔
مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر تنقید کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر گورنر راج کو غیر جمہوری قرار دیا جاتا ہے تو ماضی کے بعض سیاسی فیصلوں کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ کسی مخصوص جماعت کے بغیر حکومت نہیں چل سکتی، کیونکہ خیبرپختونخوا میں موجودہ حکومت قائم بھی ہے اور اپنا کام بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
انھوں نے کہا کہ صوبے کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں اور تمام سیاسی قوتوں کو اس مقصد کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ انھوں نے مولانا فضل الرحمان کو بھی دعوت دی کہ وہ صوبے کی ترقی اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کا حصہ بنیں۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ جن عناصر نے ماضی میں صوبے کے امن کو نقصان پہنچایا، ان کا باب بند ہو چکا ہے اور اب ریاست کی رٹ کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی جائے گی اور دہشت گردی سے متاثرہ 10 سے 12 اضلاع کو امن و استحکام کے حوالے سے ماڈل اضلاع بنانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ماضی میں صوبے اور وفاق کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت کے مثبت اقدامات کو جاری رکھا جائے گا، جبکہ عوامی مفاد کے خلاف پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے گی۔
خیبر پختونخوا کسی لٹیرے کے ہاتھ نہیں جانے دیں گے، سیاسی مہم جوؤں کی اب دال نہیں گلے گی: وزیر دفاع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو واپس بھی لیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے یہ ضمانت ضروری ہے کہ صوبے میں دوبارہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں جو بھی آئین اور ریاست کے خلاف کردار ادا کرے گا اس کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ ان کے بقول صوبے کو ’کسی لٹیرے کے ہاتھ نہیں جانے دیا جائے گا‘ اور سیاسی مہم جوؤں کی ’اب دال نہیں گلے گی‘۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ سیاست دان اکثر اپنی عزت خود مجروح کرتے ہیں اور ملک کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں سیاست دانوں کو اپنے کردار کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ملک ایک کے بعد دوسرے دفاعی معاہدے کر رہا ہے اور سفارتی محاذ سمیت مختلف میدانوں میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ وہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے ناقد رہے ہیں، لیکن آج یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حالیہ کامیابیوں میں فوج نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں اہم پیش رفت ہوئی۔ ان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی ایک ’صحیح ہمسفر‘ کا کردار ادا کیا اور سول و عسکری اداروں کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ فوجی فاؤنڈیشن نے گذشتہ برس 323 ارب روپے ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا، جبکہ فوجی ادارے اپنی آمدنی کا حصہ باقاعدگی سے ٹیکس کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی تحویل میں موجود کئی ادارے تباہ حالی کا شکار ہیں اور متعدد سرکاری ادارے بند ہو چکے ہیں۔