یمن میں سعودی فوجی اتحاد کے حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے: حوثی ترجمان کا دعویٰ
حوثی تحریک کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے یمن میں 110 فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔ بیان کے مطابق حملوں میں دارالحکومت صنعاء کے علاوہ متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
خطے میں کسی بھی محاذ پر لڑائی جاری رہنے کا مطلب جنگ کا جاری رہنا ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہIRNA
،تصویر کا کیپشنایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ
ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ’خطے میں امن کے لیے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے اور کسی بھی محاذ پر لڑائی جاری رہنے کا مطلب ہے کہ جنگ پورے خطے میں جاری ہے۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق لبنان کے ٹی وی نیٹ ورک المیادین کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایران لبنان پر اسرائیلی حملے ختم کرانے کے لیے پُرعزم ہے اور اس مقصد کو ایران اور امریکہ کے درمیان جون میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں شامل کیا گیا تھا۔‘
ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ایران اور لبنان پر حملوں کے ذریعے اسلام آباد مفاہمت کی خلاف ورزی کی، جبکہ اسرائیل پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرے گا۔
سعید خطیب زادہ نے امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے کی تجویز بھی دی تھی۔‘
او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی وزیر خارجہ بغداد پہنچ گئے
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک سفارتی وفد کی سربراہی میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس میں شرکت کے لیے عراق کے دارالحکومت بغداد پہنچ گئے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عراقچی سنیچر کی صبح بغداد ایئرپورٹ پہنچے، جہاں عراق کے نائب وزیر خارجہ نے ان کا استقبال کیا۔
اجلاس 17 اور 18 اکتوبر کو بغداد میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس کا موضوع ’مکالمہ اور یکجہتی: امن اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے دو بنیادی ستون‘ ہے۔
دورے کے دوران عباس عراقچی وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کریں گے اور اسلامی ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
بغداد ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد عراقچی نے اس مقام پر لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کو خراجِ عقیدت پیش کیا جہاں وہ ہلاک ہوئے تھے۔
چھ ماہ میں پہلی بار خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
خام تیل کی قیمت مئی کے بعد پہلی بار 110 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات ہیں۔
جمعے کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 3.94 ڈالر اضافے کے بعد 109.86 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جو 19 مئی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت بھی 3.44 ڈالر اضافے کے بعد 101.41 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 17 ستمبر کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
سعودی عرب کے ساحل کے قریب تیل بردار جہاز پر پروجیکٹائل حملہ
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق سعودی عرب کے شہر جبیل کے ساحل کے قریب ایک تیل بردار جہاز پر حملہ ہوا ہے۔
تنظیم کے مطابق جہاز کو گذشتہ روز سعودی عرب کے شمال مشرقی علاقے میں جبیل سے 126 کلومیٹر دور ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔
یو کے ایم ٹی او نے مزید بتایا کہ جہاز کے عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور انھیں جہاز سے نکال کر ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی پنجاب کا مختلف کارروائیوں میں آٹھ مبینہ ’دہشت گردوں‘ کی گرفتاری کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پنجاب نے صوبے کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے آٹھ مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے 465 گرام دھماکہ خیز مواد، دو ہینڈ گرنیڈ، ڈیٹونیٹرز، سیفٹی فیوز وائر اور کالعدم تنظیموں کا لٹریچر سمیت دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کا تعلق گوجرانوالہ، بہاولپور، چنیوٹ، راولپنڈی، بھکر اور سرگودھا سے ہے، جبکہ ان کے خلاف سات مقدمات درج کرکے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق صوبے میں انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر 91 کارروائیاں کی گئیں، جبکہ پولیس اور سکیورٹی اداروں کے تعاون سے 1,484 کومبنگ آپریشنز بھی کیے گئے۔ ان آپریشنز کے دوران 50 ہزار سے زائد افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی پابندیوں اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے سائے میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس، عباس عراقچی شرکت کے لیے تہران سے بغداد روانہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے عراق کے دارالحکومت بغداد کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ اجلاس 17 اور 18 اکتوبر یعنی آج اور کل منعقد ہوگا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اجلاس کا 52واں دور ’مکالمہ اور یکجہتی: امن اور پائیدار ترقی کے فروغ کے دو بنیادی ستون‘ کے موضوع پر ہو رہا ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر پابندیوں اور سعودی عرب کے ٹھکانوں پر حوثیوں کے حملوں نے تنظیم کے رکن ممالک کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے تازہ بیان میں سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی کارروائیوں میں ایران کے کردار کی تردید کی ہے۔
دوسری جانب عراق کے وزیرِ خارجہ فواد حسین نے چند گھنٹے قبل کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران عراق کو ہونے والا نقصان تقریباً 60 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
ٹرمپ کا روس پر نئی پابندیوں کا بڑا حصہ معطل کرنے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے منصوبے کے بڑے حصے کو معطل کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے روس کے حوالے سے نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا ہے اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر کھلے عام تنقید بھی کی ہے۔
روس پر پابندیوں کے مجوزہ منصوبے کے تحت امریکہ کو روس سے درآمد کی جانے والی تمام اشیا، بشمول خام تیل اور گیس، پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار دیا جانا تھا۔ اس منصوبے کے اہم حامی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم تھے، جن کی حال ہی میں وفات ہوئی۔
مجوزہ قانون کے تحت امریکہ ان ممالک کے خلاف بھی کارروائی کر سکتا تھا جو قانون کے نفاذ کے 30 دن کے اندر روس سے جان بوجھ کر تیل یا گیس خریدتے یا پابندیوں سے بچنے میں روس کی مدد کرنے والے پانچ بڑے ممالک میں شامل ہوتے۔
روس پر پابندیوں کو معطل کرنے کا یہ فیصلہ ٹرمپ کے اس اعلان کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں کم کرنے کے لیے امریکہ نے روس سے ڈیزل خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔
ٹرمپ نے ستمبر کے وسط میں روس اور ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے ’لنڈسے گراہم ایکٹ‘ کے نام سے ایک بل پر دستخط کیے تھے۔
بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بلوچستان کے اضلاع قلات اور مستونگ کے درمیان سفر کرنے والے 20 پولیس اہلکاروں کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ ایک الگ واقعے میں ضلع قلعہ عبداللہ میں پولیس کی ایک خالی چوکی بھی مسمار کر دی گئی ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق مغوی پولیس اہلکار قلات سے نوشکی جا رہے تھے کہ راستے میں انھیں اغوا کر لیا گیا۔
ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مغوی اہلکاروں کا تعلق رخشان ڈویژن کے چار اضلاع واشک، چاغی، خاران اور نوشکی سے ہے۔ یہ اہلکار قلات پولیس ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کر رہے تھے۔
اہلکار کے مطابق پولیس اہلکار چھٹی پر ایک نجی وین میں قلات سے نوشکی جا رہے تھے۔ انھوں نے سربند کا راستہ اختیار کیا تھا، جو دونوں اضلاع کے درمیان مختصر راستہ ہے۔
سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں کو ضلع قلات کے کسی مقام سے اغوا کرنے کے بعد ضلع مستونگ کی حدود میں منتقل کیا اور پھر انھیں نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔
ان کے مطابق مسلح افراد نے کچھ فاصلے پر گاڑی کے ڈرائیور اور دو سے تین دیگر مسافروں کو چھوڑ دیا، تاہم پولیس اہلکاروں کو اپنے ساتھ لے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ تاحال کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران سرکاری اہلکاروں کے اغوا کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
گذشتہ جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے کمشنر قلات ڈویژن اسداللہ کاکڑ اور ان کے ڈرائیور کو اغوا کر لیا تھا۔ تاحال دونوں کی بازیابی نہیں ہو سکی۔
اس سے قبل 20 ستمبر کو ڈپٹی کمشنر خاران اور اس کے بعد ایڈیشنل سیشن جج پنجگور کو بھی اغوا کیا گیا تھا، تاہم بعد میں دونوں کو رہا کر دیا گیا۔
دوسری جانب ضلع قلعہ عبداللہ میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کی ایک خالی چوکی مسمار کر دی ہے۔
کوئٹہ میں محکمہ پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق یہ واقعہ ضلع کے علاقے پنکئی میں پیش آیا۔
انھوں نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور سکیورٹی فورسز نے مسلح افراد کے خلاف کارروائی شروع کی، جس کے بعد وہ پنجپائی کی جانب فرار ہو گئے۔
آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں ممنوعہ علاقے سے گزرنے کی کوشش کرنے والا آئل ٹینکر پر آگ لگنے کی اطلاع: ایرانی بحریہ
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایرانی بحریہ کے مطابق اس کی نگرانی کرنے والی ٹیموں نے ایک آئل ٹینکر کی نشاندہی کی ہے جس میں آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں ممنوعہ علاقے سے گزرنے کی کوشش کے دوران آگ لگ گئی۔
خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی بحریہ نے جمعے کی سب بتایا کہ ٹینکر نے اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر رکھے تھے اور وہ ممنوعہ علاقے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ایرانی بحریہ نے خبردار کیا کہ ممنوعہ سمندری راستوں اور علاقوں میں متعلقہ حکام سے رابطے اور ہم آہنگی کے بغیر نقل و حرکت سے سکیورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور دیگر بحری جہازوں کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ سے یورپی شہریوں پر 100 ارب یورو سے زیادہ کا بوجھ پڑا: ہسپانوی وزیراعظم
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز
سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اب تک یورپی شہریوں کو 100 ارب یورو سے زیادہ کا نقصان پہنچا چکی ہے اور اس کے معاشی اثرات عام لوگوں پر بھاری پڑ رہے ہیں۔
ایکس پر ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’جنگ کی مخالفت کرنے والے یورپی رہنما درست تھے اور انھوں نے جنگ کو ’نہ‘ کہہ کر صحیح فیصلہ کیا تھا۔‘
ان کے بقول، انھیں معلوم تھا کہ بالآخر اس جنگ کی قیمت عام لوگوں کو چکانا پڑے گی۔
سانچیز نے جمعے کو برسلز میں یورپی کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ ’جنگ کی مخالفت کرنے والوں کا مؤقف درست ثابت ہوا ہے۔‘ ان کے مطابق اس کی تصدیق نہ صرف بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے احترام کے تناظر میں ہوئی ہے بلکہ جنگ کے ان معاشی اور سماجی اثرات سے بھی ہوتی ہے جن کا شہری ایک بار پھر سامنا کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’سپین کی پارلیمان نے 12 ارب یورو سے زیادہ کے امدادی پیکج کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد متاثرہ شعبوں اور اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال کرنے والے شہریوں کی مدد کرنا ہے۔‘
ہسپانوی وزیراعظم نے زور دیا کہ اب سب سے اہم بات اس تباہی کو جلد از جلد ختم کرنا ہے۔
ہم ایرانی رہنماؤں کی تمام باتیں سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے پاس اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام اور رہنماؤں کی تمام باتیں سننے کی صلاحیت موجود ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’یقیناً یہ خفیہ اور راز کی بات ہے، لیکن میں نے اب اسے ظاہر کر دیا ہے۔‘
اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جنگ کو ’ایک فوجی مشق‘ قرار دیا۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے ’آبنائے ٹرمپ‘ رکھ دیا جائے تو عرب ممالک کو کیسا محسوس ہوگا؟ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ کام ہم ’آسانی سے کر سکتے ہیں۔‘
یمن کے عدن ایئرپورٹ کے قریب دو میزائل گرنے کی اطلاعات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یمن کے جنوبی شہر عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب دو میزائل گرنے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد قاہرہ جانے والے ایک طیارے کے مسافروں کو باہر نکال لیا گیا۔
عدن کے حکام کے مطابق دونوں میزائل اس وقت طیارے سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر گرے جب وہ پرواز کے لیے تیار تھا۔
حکام نے ہوائی اڈے پر ان حملوں کو ’بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام مسافر اور عملے کے ارکان اس حملے میں محفوظ رہے۔
تقریباً دس روز کے دوران عدن ایئرپورٹ پر یہ دوسرا میزائل حملہ ہے۔
یوکرین کے لیے ’سٹار شیلڈ انٹرنیٹ‘ کی رفتار محدود کرنے کی ٹرمپ نے تردید کر دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے لیے ’سٹار شیلڈ سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس‘ محدود کرنے کے فیصلے میں اپنے کردار کی تردید کی ہے، جبکہ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس سے یوکرین کے لیے اس سروس کی رفتار محدود کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ انھوں نے کیا اور نہ ہی ان کے خیال میں سپیس ایکس کے مالک ایلون مسک نے ایسا کیا ہے۔
واضح رہے کہ یوکرینی فوج سٹار شیلڈ سروس کو میدانِ جنگ میں رابطوں اور ڈرون آپریشنز کے لیے استعمال کرتی ہے۔
یوکرین کی وزارتِ دفاع کے ایک عہدیدار کے مطابق اس سروس کے ریسیورز اب صرف 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار پر کام کر رہے ہیں، جس سے تیز رفتار ڈرونز کی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ یوکرین پر روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ دوسری جانب یوکرین کو منگل کو روس کے متعدد مہلک حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حوثیوں کے حملوں کے بعد برطانیہ کی اپنے شہریوں کو سعودی عرب کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت
برطانیہ نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ضروری سفر کے علاوہ سعودی عرب جانے سے گریز کریں۔
برطانوی دفتر خارجہ نے جمعے کو یہ ہدایت یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے تناظر میں جاری کی۔
اس سے قبل بھی کئی ممالک اپنے شہریوں کو سعودی عرب کا سفر نہ کرنے کی ہدایات جاری کر چکے ہیں۔
سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے بھی سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں کے پیشِ نظر، سعودی عرب آنے یا وہاں سے روانہ ہونے کے لیے فضائی سفر کے بجائے نجی گاڑی، ٹرین یا بس کے استعمال پر غور کریں۔
جرمنی میں مبینہ حملوں کی سازش کیس: ایرانی سفارت خانے نے ہیمبرگ عدالت کا فیصلہ مسترد کر دیا
جرمنی میں ایرانی سفارت خانے نے ہیمبرگ کی عدالت کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے جس میں جرمنی میں یہودی اور اسرائیل نواز شخصیات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ایرانی انٹیلیجنس سروس کے تعلق کا ذکر کیا گیا تھا۔ سفارت خانے نے فیصلے کو غیر معتبر قرار دیا ہے۔
ایرانی سفارت خانے نے تہران کے خلاف الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے مغرب کے اس طرزِ عمل پر تنقید کی جسے اس نے ’دوہرا معیار‘ قرار دیا۔ سفارت خانے کے مطابق یہ فیصلہ ایران کے خلاف سیاسی مہم کا حصہ ہے۔
جمعرات، 13 اکتوبر کو ہیمبرگ کی اعلیٰ علاقائی عدالت نے ایران کے لیے جاسوسی کی سرگرمیوں اور جرمنی میں یہودی اور اسرائیل نواز شخصیات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں شرکت کے الزام میں دو افراد کو قید کی سزائیں سنائیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
عدالتی فیصلے کے مطابق ڈنمارک کے شہری علی ایس کو آٹھ سال اور چھ ماہ جبکہ افغان شہری تواب ایم کو چار سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
ججوں نے کہا کہ علی ایس کو ایرانی انٹیلیجنس سروس نے بھرتی کیا تھا اور وہ جرمنی میں پُرتشدد کارروائیوں کے لیے اس کی ہدایات پر کام کر رہے تھے۔
منصوبے کے ممکنہ اہداف میں جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی کونسل کے صدر جوزف شوسٹر اور جرمن اسرائیلی ایسوسی ایشن کے صدر فولکر بیک شامل تھے۔
جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈے فُل نے بھی جمعے کو ہیمبرگ کی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یورپ ایران کے نشانے پر ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ جرمنی یہودیوں اور ملک کے دیگر شہریوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔
ایران کی سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں ملوث ہونے کی تردید، ریاض اور حوثیوں میں ثالثی کی پیشکش
،تصویر کا ذریعہReuters
ایران نے جمعے کو سعودی عرب کے اس الزام کو مسترد کر دیا کہ وہ سعودی عرب پر انصار اللہ (حوثیوں) کے حملوں میں ملوث ہے، نہ صرف یہ بلکہ تہران نے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران اس دعوے کو مسترد کرتا ہے کہ یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں میں ایران کا کوئی کردار ہے۔‘
انھوں نے حوثیوں اور ریاض کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی تہران کی پیشکش کا بھی اعادہ کیا۔
جمعے کی شام سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اعلان کیا کہ اس نے مملکت کے مختلف علاقوں اور بحیرہ احمر کے اوپر چار ڈرونز اور تین میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب یمن میں انصار اللہ گروپ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ملک کے وسطی صوبے مأرب میں سعودی عرب کے ایک مسلح جاسوس طیارے کو مار گرایا ہے۔
اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیانات میں کہا کہ اتحادی افواج نے جنوبی علاقے اور ریاض کے علاقے میں تین ڈرونز، بحیرہ احمر کے اوپر دو کروز میزائل اور مملکت کے مغرب میں واقع شہر ینبع کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کیا۔
اتحاد نے جمعے کی صبح اس سے قبل بھی اعلان کیا تھا کہ اس نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے کی جانب بھیجے گئے ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا ہے۔
تعیناتی کے چند ہی روز بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیٹی زکریا عہدے سے الگ ہو رہی ہیں
،تصویر کا ذریعہCQ-Roll Call, Inc via Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی مقرر کردہ پریس سیکریٹری کیٹی زکریا اپنی تعیناتی کے محض چند ہی دن بعد عہدہ چھوڑ رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس منصب سے ’منتقل ہو رہی ہیں‘، تاہم ان کی روانگی کی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ شاید وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا عہدہ کیٹی زکریا کے لیے موزوں نہیں۔
صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا: ’میں نے کیٹی سے کہا کہ اگر آپ نہیں چاہتیں تو آپ کو یہ کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو ایک بار پھر غور کرتا۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں میڈیا نے کیٹی کے ساتھ ’بہت برا سلوک‘ کیا ہے۔ اس کے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت بعد وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ زکریا اپنا منصب چھوڑ رہی ہیں۔
کیٹی زکریا نے عہدہ سنبھالنے کے چند دن بعد جو پہلی پریس بریفنگ دی تھی، میڈیا میں اسے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بی بی سی کی مدیر برائے شمالی امریکہ سارہ سمتھکے مطابق بریفنگ تقریباً 14 منٹ بعد اچانک ختم ہو گئی، جس کے بعد صحافیوں میں ان کے مستقبل کے بارے میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔
بعد ازاں ان کی قانونی اہلیت کے بارے میں بھی سوالات اٹھے۔ رپورٹس کے مطابق کیٹی زکریا کو صدر ٹرمپ نے ایک ’اٹارنی‘ کے طور پر متعارف کروایا تھا، تاہم انھوں نے امریکہ میں بار کا امتحان پاس نہیں کیا تھا۔ اس معاملے پر کیلیفورنیا سٹیٹ بار ایسوسی ایشن میں شکایت بھی درج کرائی گئی۔
جمعہ کی صبح فاکس نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے زکریا نے کہا تھا کہ وہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں اب بھی صدر کا اعتماد حاصل ہے، تو انھوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔
42 سالہ کیٹی زکریا ایک سیاسی مبصر رہ چکی ہیں اور امریکی ٹی وی چینلز فاکس نیوز اور نیوز میکس پر باقاعدگی سے نمودار ہوتی رہی ہیں۔
ان کے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق وہ ماضی میں امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی (ہوم لینڈ سکیورٹی) میں مختصر عرصے کے لیے ترجمان رہ چکی ہیں اور ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمٹروتھ سوشل کے لیے بھی کام کر چکی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ان کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے انھیں ’وفادار‘ اور ’میگا (میک امریکہ گریٹ اگین) تحریک کی پُر جوش حامی‘ قرار دیا تھا۔
کیٹی زکریا کو نو اکتوبر کو وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری نامزد کیا گیا تھا۔
آبنائے ہرمز کی بحالی امریکی انخلا سے مشروط ہے: ایرانی فوج
،تصویر کا ذریعہISNA
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے
کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنا خطے سے امریکی انخلا سے مشروط
ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی افواج خطے میں موجود رہیں تو انھیں وہاں سے
نکال دیا جائے گا۔
جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم
ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا: ’اگر امریکہ خطہ چھوڑ دے تو آبنائے ہرمز
کھول دی جائے گی، خطے کے ممالک کی شراکت سے اجتماعی سلامتی قائم ہو گی اور عالمی
معیشت بہتر ہو گی۔ اگر امریکہ نہ گیا تو ہم اسے نکال دیں گے۔‘
ایرانی فوج کے ترجمان نے امریکہ کو
آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا اور جہاز مالکان سے
کہا کہ وہ اس آبی گزر گاہ سے گزرتے وقت ایرانی مسلح افواج کے مقرر کردہ راستے
استعمال کریں۔
ان کا دعویٰ تھا کہ اس راستے سے
گزرنے والے جہاز محفوظ رہیں گے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے
ہیں جب آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور
اس اہم آبی گزر گاہ سے جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے
والی کمپنی کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ہفتے کے اختتام پر سنیچر کے روز صرف
پانچ سامان بردار جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی، جبکہ اتوار کو کسی جہاز کی
آمد و رفت ریکارڈ نہیں ہوئی۔ اس سے ایک ہفتہ قبل یہ تعداد 31 تھی۔
دوسری جانب امریکہ ایران کی تیل
برآمدات کے خلاف اپنی بحری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے
توانائی کے شعبے کی معلومات فراہم کرنے والی کمپنی ورٹیکسا کے حوالے سے رپورٹ کیا
ہے کہ اکتوبر میں سمندری راستے سے ایرانی خام تیل کی برآمدات، رپورٹ شائع ہونے تک،
صفر تک پہنچ گئی تھیں۔
تہران اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ
آبنائے ہرمز کی بحالی کا انحصار امریکہ کے ساتھ تنازع ختم کرنے کے لیے ایران کی
شرائط پوری ہونے پر ہے۔ ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز
نہیں کھولی جائے گی۔
آبنائے
ہرمز کا شمار توانائی کے لیے دنیا کی اہم ترین گزر گاہوں میں ہوتا ہے۔ رواں سال
فروری میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا بھر
میں سمندری راستے سے ہونے والی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت کا تقریباً
پانچواں حصہ اسی آبی گزر گاہ سے گزرتا تھا۔
دورۂ بیروت میں قطر کے وزیر اعظم کا لبنان کی حمایت کا عزم
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنلبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام (دائیں) قطر کے وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کے ساتھ
قطر کے وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمن
آل ثانی نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب نہ صرف لبنان بلکہ پورا خطہ بحران کا شکار
ہے، قطر لبنان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
محمد بن عبدالرحمن لبنان کے دورے پر
ہیں۔ اس دورے کو انھوں نے ’لبنان کے لیے قطر کی مسلسل حمایت‘ کی علامت قرار دیتے
ہوئے ’لبنان کی خود مختاری اور استحکام کے لیے اپنے ملک کے واضح مؤقف‘ کا اعادہ
کیا۔
قطر کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ لبنان
میں ہونے والی ملاقاتوں سے ’باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں، مستقبل کے
مواقع اور علاقائی و عالمی صورتحال میں ہونے والی پیش رفت‘ پر تبادلۂ خیال کا
موقع ملا۔
انھوں نے مزید کہا کہ لبنانی حکام کے
ساتھ لبنان میں مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی اور لبنان کی سر زمین کے اندر اسرائیل کی
جانب سے ملکی خود مختاری کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے حملے، فلسطینی اور ایک امریکی صحافی زخمی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی
چنائی کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی آباد کاروں نے حملے کیے ہیں اور گاڑیوں اور
زیتون کے درختوں کو آگ لگا دی ہے۔
بی بی سی کی ایک ٹیم نے فلسطینی گاؤں
ابو فلاح کے قریب زرعی زمینوں میں ہونے والے ایسے ہی کئی حملوں میں سے ایک کا
مشاہدہ کیا۔
ایک مقامی عہدے دار کے مطابق ان
حملوں میں 12 فلسطینی زخمی ہوئے، جن میں فلسطینی اور امریکی شہریت رکھنے والے چار
افراد شامل تھے۔ ایک غیر ملکی صحافی بھی زخمیوں میں شامل تھے۔
صبح سویرے علاقے میں داخل ہوتے ہوئے
ہمیں تشدد کے ابتدائی آثار دکھائی دیے: زخمی فلسطینی زیتون چننے والے کسان تنگ اور
پتھریلے راستے سے گاڑیوں میں سوار ہو کر تیزی سے نکل رہے تھے، گاڑیوں میں زیتون
چننے کا سامان بھرا ہوا تھا جبکہ قریب ہی سے کئی مقامات پر دھواں اٹھ رہا تھا۔
ان ہی گاڑیوں میں سے ایک کی پچھلی
نشست پر بیٹھے مجدی فہید کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا۔
انھوں نے کہا: ’ہم اپنے زیتون کے
درختوں سے پھل چن رہے تھے کہ تقریباً 15 اسرائیلی افراد نے ہم پر حملہ کر دیا۔ ان
کے پاس بندوقیں، پتھر اور دوسرے ہتھیار تھے۔ انھوں نے میرے سر اور گردن پر وار
کیے۔ دیکھیے، میں خون میں لت پت ہوں۔‘
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
قریبی گاؤں ترمسعیا کی کونسل کے رکن
یاسر الکم نے بتایا کہ امریکی شہری مجدی پر آباد کاروں نے کیلوں والے ڈنڈوں سے
حملہ کیا جس کے باعث ان کے سر پر گہرے زخم آئے اور انھیں علاج کی ضرورت پڑی۔ ان کی
معمر والدہ بھی زخمی ہوئیں۔
زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے والے ایک
اور شخص نے بتایا کہ آباد کاروں نے زیتون کی چنائی کے دوران ان پر ڈنڈوں سے حملہ
کیا اور تین گاڑیوں کو آگ لگا دی، جن میں ان کی اپنی گاڑی بھی شامل تھی۔
ان کے ساتھ کھڑی ایک خاتون نے کہا: ’جیسے
ہی ہم زمین پر پہنچے اور اپنا سامان رکھا، وہ آنے لگے، اس لیے ہم وہاں سے بھاگ
گئے۔‘
اس حملے کے نتیجے میں فلسطینی نژاد
کئی امریکی شہریوں اور ایک غیر ملکی صحافی کو بھی چوٹیں آئیں۔
اس واقعے کے بارے میں سوال کیے جانے
پر امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ ان اطلاعات سے آگاہ ہیں۔
ترجمان کے مطابق: ’ہم مغربی کنارے
میں کسی بھی فریق کی جانب سے ہونے والے مجرمانہ تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور ذمہ دار
افراد کے خلاف تحقیقات، گرفتاریوں اور سزاؤں کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘
اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا کہ
اسے علاقے میں ’پُر تشدد جھڑپ‘ کی اطلاع ملنے پر اہلکاروں کو وہاں بھیجا گیا تھا۔
فوج کے مطابق ایک خاتون صحافی زخمی ہوئیں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا
جائے گا۔
اقوام متحدہ کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں
کے دوران پُر تشدد اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کی تعداد گذشتہ سال زیتون کی چنائی
کے موسم کے دوران ہونے والے حملوں سے زیادہ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں
سال زیتون کی چنائی کے دوران آباد کاروں کے حملوں میں اب تک ایک فلسطینی ہلاک اور
مغربی کنارے میں 120 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
مغربی
کنارے میں زیتون چننا اب وقت کے خلاف ایک دوڑ بن چکا ہے۔ سورج طلوع ہونے کے فوراً
بعد درختوں سے جلد از جلد زیتون اتار لیے جاتے ہیں، اس سے پہلے کہ پُر تشدد
اسرائیلی آباد کار حملہ کر دیں۔